صوبائی حکومت ناکام ہوچکی، عوام مایوسی کا شکار ہیں، حقیقی نمائندوں کو اقتدار سونپا جائے: جمعیت علمائے اسلام - Daily Qudrat

صوبائی حکومت کے ناکام ہونے پر عوام کی مایوسی، حکومت کی ناقص کارکردگی اور بلوچستان کی بحرانی کیفیت پر شدید تشویش ہوئی۔ اس طرح کے اجلاس میں حقیقت پسند و عوامی نمائندوں کو اقتدار سونپنا صرف ایک آئینी اور جمہوری راستہ سمجھا گیا۔

آج کوئٹہ میں منعقد ہونے والے یہ اجلاس صوبائی حکومت کی ناکام ہونے، عوامی مایوسی اور انتظامی ناکامیوں پر مبنی تھا۔ اس موقع پر مقبولیت کے حامل سٹیوڈنٹس اور عوامی نمائندوں نے اپنے مسائل کی پیش کش کی اور عوام کے بہت سے مسائل کو حل کرنے کا عزم کیا ہے۔

پاکستان کی ملکی تاریخ میں اس طرح کے ایسے اجلاس کے نہیں ہوئے جہاں عوامی نمائندوں کو اقتدار سنبھالنا ہوتا تھا۔ یہ اقدامات صرف ایک جمہوری اور آئینی راستہ سمجھے گئے ہیں۔

اجلاس میں ایسے فیصلے کیے گئے جو عوامی مایوسی کو ختم کرنے اور حکومت کے ناکام ہونے پر انحصار کرنے سے باہر کھیلے گئے ہیں۔

آج اجلاس میں ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ حکومت کی ناکام ہونے پر عوام کو مایوسی اور اضطراب کا شکار ہوا ہے۔

حالیہ ایسے اجلاس میں جس میں عوامی نمائندوں کو اقتدار سنبھالنا ہوتا تھا، اس نے عوام کے اعتماد کو ختم کر دیا تھا۔

اس طرح کے اجلاس میں حقیقتی طور پر عوامی نمائندوں کو اقتدار سونپنا صرف ایک آئینی اور جمہوری راستہ سمجھا گیا ہے۔

آج کوئٹہ میں منعقد ہونے والے یہ اجلاس حکومت کے ناکام ہونے، عوامی مایوسی اور انتظامی ناکامیوں پر مبنی تھا۔

آج کوئٹہ میں منعقد ہونے والے یہ اجلاس صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی اور بلوچستان کی بحرانی کیفیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس طرح کے اجلاس میں عوامی نمائندوں کو اقتدار سونپنا صرف ایک آئینی اور جمہوری راستہ سمجھا گیا ہے۔
 
میری رائے یہ ہے کہ اس اجلاس نے عوام کی مایوسی اور حکومت کی ناکام ہونے پر تشویش کو حل کرنے میں ایک اہم قدم پیش kiya hai.

[diagram: ایک سب سے بڑا کلب جو مختلف لوگ جمع ہوتے ہیں اور ایک صغیر کلب جس میں صرف few لوگ ہوتے ہیں ]


آج کے اجلاس میں عوامی نمائندوں کو اقتدار سنبھالنا صرف ایک آئینی اور جمہوری راستہ سمجھا گیا ہے، ایک یہ رہے کہ وہ اپنی مایوسی اور حکومت کی ناکام ہونے پر تشویش کو حل کرنے کے لئے کام کیا کروں گے.

[diagram: ایک آئین جو عوامی نمائندوں کو اقتدار سنبھالنا سمجھتا ہے ]

اس طرح کے اجلاس میں حقیقتی طور پر عوامی نمائندوں کو اقتدار سونپنا صرف ایک آئینی اور جمہوری راستہ سمجھا گیا ہے۔
 
چلے آئیں، یہ انفرادی ریکارڈنگس تھرڈ پارٹی کا سیزن شروع کر رہی ہے!

کوئٹہ میں ایسا اجلاس منعقد ہوا جو وہاں کی آبادی کے لیے ایسا نہیں تھا جس پر ذمہ داریوں کا پہلا ٹریننگ سیشن منعقیل ہوتا۔ مجھے لگتا ہے وہاں کی آبادی کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ پچاس سالوں میں کیا ہوا۔

اب بھی ان لوگوں نے جو حقیقت پسند اور عوامی نمائندوں تھے وہ اپنے مسائل کی پیش کش کر رہے ہیں جس سے یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس وقت تک اس ملک میں مقیم ہو سکتے ہیں جو ان کی پوری دھومڑ پر چلتا ہے۔

آج کوئٹہ میں منعقد ہونے والے اس اجلاس کے بعد میرے خیال میں ایک سہولت مل گئی کہ وہ لوگ جو پچاس سالوں سے وہاں رہتے ہیں ان کی زندگی میں کوئی بھی تبدیلی نہیں دیکھ سکتی۔
 
مگر یہ بات بھی تھی کہ اگر عام لोग اپنے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں خود کچھ اقدامات کرنا پڑتے۔ government کے ناکام ہونے پر عوام کی مایوسی ہو سکتी ہے لیکن یہ بات بھی ہمیشہ تھی کہ اگر عام لोग اپنے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں خود کچھ اقدامات کرنا پڑتے۔ governments کی ناکام ہونے سے کئی دفعہ ہو چکا ہے اور اس پر عوام کی مایوسی بھی ہوتی رہی ہے، لیکن اب تو ایسا ہوا کہ عوامی نمائندوں نے اپنے مسائل کو حل کرنا شروع کیا ہے. 🤔
 
یہ واضح تھا کہ اس اجلاس میں حقیقت پسندوں نے عوام کی مایوسی کو نظر انداز نہیں کیا تھا۔ انھوں نے اپنے مسائل پیش کیے اور عوامی نمائندوں کو ایسا کہا تھا کہ وہ حکومت کی ناکام ہونے پر عوام کے اعتماد کو ختم کر دیں گے۔ یہ سب ایک جمہوری اور آئینی راستہ ہی سمجھایا گیا تھا۔

آپ لوگوں کے بے بسویت کو یہاں اس طرح حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟ یا صرف اچھی نہیں تھی؟
 
اجلاس کا جو انحصار حکومت کے ناکام ہونے پر تھا وہی ان کے ناقص کردار کی وجہ سے ہوتا ہے اور بلوچستان کی بحرانی کیفیت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا 🤔۔ عوام کو یہ لگ رہا تھا کہ ان لوگوں کو جو وہ تعین کررہے ہیں ان کی معیاریں تو کمزور ہیں لیکن انہیں اس کا سہرا نہیں دیکھتے اور عوام کو یہ لگ رہا تھا کہ وہ ان کی معیاریں تو کمزور ہیں لیکن انہیں اس کا سہرا نہیں دیکھتے اور عوام کو یہ لگ رہا تھا کہ وہ ان کی معیاریں تو کمزور ہیں لیکن انہیں اس کا سہرا نہیں دیکھتے اور عوام کو یہ لگ رہا تھا کہ وہ ان کی معیاریں تو کمزور ہیں لیکن انہیں اس کا سہرا نہیں دیکھتے اہم بات یہ ہوگئی ہے کہ عوام کو وہ معیار بننے پر زور دیا گیا جو ان کی ذمہ داریاں نہیں تھیں 🙏
 
اجلاس نے عوام کے لئے کسی بھی قسم کی امید کو جگا دیا ہے، حالانکہ اس کے بعد اچھا نتیجہ نہیں سامنے آیا ہے۔

اگلے کچھ دنوں میں اٹھنا آسان ہوگا؟
 
ago se ye aayta hai ki koi bhi platform pe issues ko hal karne ka koi real solution nahi milta, sab log apni personal opinions ke saath aate hain. isliye agar koi solution dena chahenge toh koi real solution hi na honi chahiye.

maine socha ki yeh platform kuch aur improvements ki zarurat hai, jaise ki user ko usse connect karne ka option milta ho. tab users ki opinions aur issues ko hal karne mein asani hogi.
 
جب تک یہ آئین اس وقت تک قائم رہتا ہے تو عوام کو اپنی گنجائش کے مطابق بٹوں میں لگنا پڑega 😏. ناقص کارکردگی اور مایوسی کی صورتحال کو حل کرنے کے لیے یہ اجلاس صرف ایک سہولت ہی ہوا، جس میں عوامی نمائندوں کے مسائل پر انحصار کروائیں گے. اس طرح سے یہ اعلان کیا جا سکتا ہے کہ حکومت نے اپنے ناکام ہونے کی صورتحال کو پھیلانے کے لیے ایک اچھی راز تلاش کر لئی ہے.
 
اجلاس کی جانب سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ عوامی نمائندوں کو اقتدار سنبھالنا صرف ایک آئینی اور جمہوری راستہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس پر توجہ دی جانا چاہئے تاکہ عوام کا اعتماد ختم نہ ہو۔ ان ایسے فیصلوں پر کام کیا جا رہا ہے جو بلوچستان کی بحرانی کیفیت اور انتظامی ناکامیوں کو حل کرنے میں مددگار proving out ho jaaye. 📝💡
 
یہ ایک بھرپور چٹان ہے کہ عوامی نمائندوں نے انہیں اقتدار سنبھالنا ہوتا تھا اور اب یہی نہیں بلکہ انہیں حکومت کی ناقص کارکردگی پر حل کرنے کا عزم کیا ہے. مجھے لگتا ہے کہ اس جیسے اجلاس کی بہت سی گہری مسائل ہیں جو کبھی نہیں حل ہوئیں اور اس لیے مجھے یہ سوچنے میں Problem ہی ہے کہ انہیں توڑنا پڑ سکتا ہے.

😐
 
آج کوئٹہ میں منعقد ہونے والے یہ اجلاس کچھ کام کرتا ہے اس لیے کہ عوامی نمائندوں نے اپنے مسائل کی پیشکش کی اور حکومت کو اپنی ناکامیوں پر توجہ دینے کی عمدت کی۔ میرے خیال میں یہ ایک بہترین شروعات ہے۔
 
😊 مینے بھی سوچا تھا کہ یہ اجلاس کیوٹہ میں منعقد ہونے والا تھا لیکن نہیں، اور اب تک یہ پہلا تھا جہاں عوامی نمائندوں کو اقتدار سنبھالنا ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ حکومت کی ناکام ہونے اور بلوچستان کی بحرانی کیفیت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ عوامی نمائندوں کو اقتدار سنبھالنا صرف ایک آئینی اور جمہوری راستہ سمجھا گیا ہے۔ اب کچھ سوچ کر دیکھنا ہے کہ اس اجلاس سے عوام میں بہت تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور یہ بھی واضح ہوا ہے کہ حکومت کی ناکام ہونے پر عوام کو مایوسی اور اضطراب کا شکار ہوا ہے۔
 
اجلاس نے دکھایا ہے کہ عوام کی مایوسی کو حل کرنے کے لئے اچھی طرح سے کام کیا جانا چاہیے، حکومت ہی نہیں بلوچستان کی صحت مند حکومت یا عوام کے نمائندوں کو ہی ایسا کامیابی دینا چاہئیے۔
 
آج کوئٹہ میں منعقد ہونے والے یہ اجلاس، میرے خیال میں، ایک اچھی بات ہے۔ یہ ناکام ہونے کا موقع دے کر عوام کی مایوسی کو ختم کرتا ہے اور حکومت کی ناقص کارکردگی پر توجہ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اس کے بعد بھی اس کو ایک آئینی اور جمہوری راستہ سمجھنا چاہیے۔ میرے خیال میں، عوامی نمائندوں کو اقتدار سنبھालनے کی بات کو کچھ دیر پہلے سے شروع کر دی جانی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
 
یہ بات بھی دیکھنی پڑی کہ عوام کی مایوسی کو حل کرنے کے لئے صرف ایک اچھا طریقہ ہوتا ہے؟ آج اس سے پہلے بھی ہم نے دیکھا کہ عوام کی مایوسی کو حل کرنے کے لئے کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا k 💭
 
واپس
Top