سونے کی کان کنی کامنصوبہ عوام کا شدید ردعمل شدید جھڑپیں

سیاح

Well-known member
طالبانی فوج نے افغانستان کے صوبہ تخار کے ضلع چاہ آب میں سونے کی کان کنی کا منصوبہ عوام کے احتجاج کے باوجود شروع کیا۔ جب تک انھوں نے یہ کام 4 برسوں قبل شروع کر دیا تھا، لیکن اس وقت کچھ مختلف لوگ اسی منصوبے میں شامل ہوئیں اور عوام نے بدترین ردعمل ظاہر کیا۔

دوسری جانب، سونے کی تلاش اور کان کنی کے منصوبے نے علاقائی آبادی کو مایوس کر دیا ہے جس کے لوگ اپنی آبادیوں اور ان کے تاریخی مقامات کے لیے لڑ رہے تھے۔

شاہدین کے مطابق، اس منصوبے کی شروعات مقامی آبادی کی مرضی سے بلاواسطہ طور پر ہوئی اور لوگوں نے احتجاج کیا تھا۔ انھوں نے غلطی کا مظاہرہ کیا، اس صورتحال کو مزید بدلنے میں مددگار ہوئے جب حال ہی میں گاؤں پہنچنے والے نے ہجوم کا منظر بنایا۔ ان کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک زخمی ہوا تھا، اور مظاہرین نے طالبان جنگجوؤں کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔

صوبہ تخار میں سونے کی کان کنی کے منصوبے پر طالبان اور مقامی آبادیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جو گزرے 4 برسوں میں طالiban کی افغانستان میں قبضے کے بعد بڑھتے ہوئے تھے۔

صوبہ تخار سونے کی کان کنی کے منصوبے پر عوام کا شدید ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔
 
بھرپور وغیرت اس منصوبے کو متاثر کر رہا ہے، لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ سونے کی کان کنی کے لیے ایک شہید جانے کا کیا مطلب تھا؟

اس منصوبے کی پہلی بار 4 سال قبل شروع ہوئی تھی اور اب عوام نے اس پر بڑا ناکام ہونے کا مظاہرہ کیا ہے، پھر بھی طالبان کے ہاتھ میں یہ منصوبہ بھی کچل دے گا تاکہ عوام کو اچھا لگے؟

کوئی ایسی معیشت نہیں جس کی وہ رکاوٹ بنائیں، یہ مقامی آبادیاں ہیں جو اپنے تاریخی مقامات کے لیے لڑ رہی ہیں اور انھیں ناکام کیا جا رہا ہے؟
 
یہ گھریلو اور ملکی سرگرمیوں سے بھی متاثر ہوتی ہے، جب لوگ اپنے پچھلے ہی رہائش گاہ کے ساتھ ساتھ علاقائی مقامات کی بھی کہانی کرنے لگتے ہیں۔ اس منصوبے نے عوام کے احتجاج کو مزید تیز کیا، جو اب تک افغانستان میں موجودہ صورتحال کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔
 
اسٹریٹجیکلی طور پر، طالiban کی طرف سے سونے کی کان کنی کے منصوبے کو شروع کرنا ایک خطرناک خطط تھا۔ عوام نے پوری طاقت اور جذبہ ظاہر کیا ہے، جس کے نتیجے میں شہروں میں بڑے ہوجاؤں ہوئی ہیں۔ اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے، طالiban کی طرف سے منصوبے میں کسی بھی تبدیلی یا معاونت کی ضرورت ہوگی، نا کہ انھوں نے ایسا ہی شروع کر دیا تھا۔
 
🤕 یہ نھیرنا بھی کچھ کم نہیں تھا کہ لوگ اپنی آبادیوں اور تاریخی مقامات پر لڑ رہے تھے اور اب ایسے منصوبے میں شامل ہوئے جس سے ان کے لئے فائدہ نہیں ہوگا। عوام کی طرف سے احتجاج کیا گیا تھا، لیکن گاؤں پہنچنے والے نے وہی بدتازگی کی بھرپور اہمیت لائے، جس کی وجہ سے عوام نے کچھ نئی جانے پر غصہ کیا ہوگا
 
اس صوبہ میں طالiban نے یہ سونے کی کان کنی کا منصوبہ شروع کر دیا جو ابھی تک عوام کے احتجاج کی وجہ سے چل رہا ہے। پہلے بھی اسے 4 برسوں قبل شروع کر دیا گیا تھا لیکن اب مختلف لوگ شامل ہو گئے اور عوام نے بدترین رد عمل ظاہر کیا ہے۔ یہ بات غلط نہیں کہ مقامی آبادی کے لوگ اپنے تاریخی مقامات اور ان کے لیے لڑ رہے ہیں۔

اس صورتحال کی وجوہت کو سمجھنا بہت مشکل ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ مقامی آبادی نے یہ منصوبہ اپنی مرضی سے شروع کر دیا ہے اور غلطی کا مظاہرہ کیا ہے۔ حال ہی میں گاؤں پہنچنے والوں نے ہجوم کا منظر بنایا، جس کے نتیجے میں ایک زخمی ہوا تھا اور مظاہرین نے طالبان جنگجوؤں کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا ہے۔

اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے، ضروری ہے کہ اسے سمجھنا جاری رکھیں اور عوام کی مرضی کو سمجھا جائے۔ مقامی آبادی کو اپنے حقوق سے بھرپور طور پر لطف اندوز کرنا ہोगا۔
 
واپس
Top