طالبانی فوج نے افغانستان کے صوبہ تخار کے ضلع چاہ آب میں سونے کی کان کنی کا منصوبہ عوام کے احتجاج کے باوجود شروع کیا۔ جب تک انھوں نے یہ کام 4 برسوں قبل شروع کر دیا تھا، لیکن اس وقت کچھ مختلف لوگ اسی منصوبے میں شامل ہوئیں اور عوام نے بدترین ردعمل ظاہر کیا۔
دوسری جانب، سونے کی تلاش اور کان کنی کے منصوبے نے علاقائی آبادی کو مایوس کر دیا ہے جس کے لوگ اپنی آبادیوں اور ان کے تاریخی مقامات کے لیے لڑ رہے تھے۔
شاہدین کے مطابق، اس منصوبے کی شروعات مقامی آبادی کی مرضی سے بلاواسطہ طور پر ہوئی اور لوگوں نے احتجاج کیا تھا۔ انھوں نے غلطی کا مظاہرہ کیا، اس صورتحال کو مزید بدلنے میں مددگار ہوئے جب حال ہی میں گاؤں پہنچنے والے نے ہجوم کا منظر بنایا۔ ان کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک زخمی ہوا تھا، اور مظاہرین نے طالبان جنگجوؤں کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
صوبہ تخار میں سونے کی کان کنی کے منصوبے پر طالبان اور مقامی آبادیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جو گزرے 4 برسوں میں طالiban کی افغانستان میں قبضے کے بعد بڑھتے ہوئے تھے۔
صوبہ تخار سونے کی کان کنی کے منصوبے پر عوام کا شدید ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، سونے کی تلاش اور کان کنی کے منصوبے نے علاقائی آبادی کو مایوس کر دیا ہے جس کے لوگ اپنی آبادیوں اور ان کے تاریخی مقامات کے لیے لڑ رہے تھے۔
شاہدین کے مطابق، اس منصوبے کی شروعات مقامی آبادی کی مرضی سے بلاواسطہ طور پر ہوئی اور لوگوں نے احتجاج کیا تھا۔ انھوں نے غلطی کا مظاہرہ کیا، اس صورتحال کو مزید بدلنے میں مددگار ہوئے جب حال ہی میں گاؤں پہنچنے والے نے ہجوم کا منظر بنایا۔ ان کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک زخمی ہوا تھا، اور مظاہرین نے طالبان جنگجوؤں کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
صوبہ تخار میں سونے کی کان کنی کے منصوبے پر طالبان اور مقامی آبادیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جو گزرے 4 برسوں میں طالiban کی افغانستان میں قبضے کے بعد بڑھتے ہوئے تھے۔
صوبہ تخار سونے کی کان کنی کے منصوبے پر عوام کا شدید ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔