انہوں نے اپنے نام کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سعودی عرب میں عوامی سہولیات کے لیے شریعت سے متصادم ناموں پر ہے اور یہ نئا قانون نکل رہا ہے جس کی پابندی تمام سرکاری اداروں پر لازم ہے۔
شریعت سے متصادم ناموں پر پابندی عائد کرنے کے بعد سعودی عرب نے عوامی سہولیات کے لیے ایسے ناموں کو اجازت دیا ہے جو شریعت میں موجود ہیں اور ان میں سے الاول، النور، الحق، الشہید، السلام، العدل، الملک اور اللہ تعالیٰ کے اسماء کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
شریعت سے متصادم ناموں پر پابندی عائد کرنے کا یہ فیصلہ سعودی عرب کی حکومت کے نام کے ساتھ متعلقہ اداروں کو نہیں دیا گیا ہے، لیکن اس کے مطابق تمام سرکاری اداروں کو اپنی حدود میں موجود عوامی سہولیات کے ناموں کا مکمل ڈیٹا بیس قائم کرنا ہوگا اور سالانہ بنیادوں پر جنرل اتھارٹی فار سروے اینڈ جیو اسپیشل انفارمیشن کو فراہم کیا جائے گا۔
یہ واضح ہے کہ سعودی عرب میں عوامی سہولیات کی پابندی کس حد تک ہوگی، یہ فیصلہ کیسے لگایا گیا اور اس کے بعد کیا ہوگا؟
شریعت سے متصادم ناموں پر پابندی عائد کرنے کے بعد، سعودی عرب نے عوامی سہولیات کی طرف سے ایسے ناموں کو اجازت دیا ہے جو شریعت میں موجود ہیں۔ لیکن یہ問شہ کیا تمام سرکاری ادارے اس فیصلے پر عمل درآمد کرن گے؟
اس نئے قانون کی پابندی کس حد تک ضروری ہوگی، کیا کسی بھی شعبے میں ایسا لگا سکتا ہے جہاں اس پر عمل درآمد کرنا مشکل ہو؟
عہدِใหมں کی اس نئی پالیسی سے آپ تمہیں یہ سوچنے پر مجبور کریگی کہ شریعت سے متصادم ناموں کو کبھی بھی نہیں دیکھا گیا، تو اب اس پر پابندی عائد ہوئی ہے اور عوامی سہولیات کے لیے صرف شریعت میں موجود نامستقیم ہونے والے نام استعمال کرنا ہوگا، یہی نہیں بلکہ اب تمام سرکاری اداروں کو اپنے ڈیٹا بیس میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا ہے تو آپ کی بھی یہ پابندی کس عرصے سے لگ رہی ہو؟
ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب میں عوامی سہولیات کی جانب سے جاننے والوں کو ایک نئا قانون مل گیا ہے جس کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اور اب عوامی سہولیات کی جانب سے اپنے نام کو متعین کرنے والوں کو ایک نئی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ یہ بات یقینی بنانے کے لیے کہ عوامی سہولیات کی جانب سے شریعت میں موجود ناموں کو استعمال کیا جا سکے، انہیں اپنے ناموڰ کا مکمل ڈیٹا بیس قائم کرنا ہوگا جو عام لوگوں کی رہنمائی کرے۔ اس سے عوامی سہولیات کی جانب سے کوئی بھی نام متعین کرنے والا اپنی ایسی پابندی لگائے گا جس کے تحت وہ نئی صورتحال میں آ جائیں گے۔
آج کی سرگرمیاں کتنی ہی ماحولیاتی نقصان پہنچائیں آخری چیلنج شریعت سے متصادم ناموں پر ہے، اب یہ قانون نکل رہا ہے جس کے تحت عوامی سہولیات کو ایسے نام کی اجازت دی گئی ہے جو شریعت میں موجود ہیں۔ واضح طور پر اس قانون نے الاول، النور، الحق، الشہید، السلام، العدل، الملک اور اللہ تعالیٰ کا نام لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ حالانکہ government کے متعلقہ اداروں کو اس قانون کے ساتھ منسلک نہیں ہونا پڑا، لیکن تمام سرکاری اداروں کو اپنی حدود میں موجود عوامی سہولیات کے نام کی مکمل تاریخ قائم کرنا ہوگی اور سالانہ بنیادوں پر جنرل اتھارٹی فار سروے اینڈ جیو اسپیشل انفارمیشن فراہم کیا جائے گا۔ یہ قانون ایک نئا سرگرمی ہے جو ایسی شخصیات کے لیے منصوبہ بنایا گیا ہے جو اپنے نام کی پابندی عائد کرنے کو چاہتی ہیں।
سعودی عرب کی نئی پالیسی کا معنيٰ ہوتا ہے کہ عوامی سہولیات میں استعمال ہونے والے ناموں پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن اس پر ایسی پالیسی کا تعین ہوتا ہے جو آپ کے نام سے متصادم ہو۔ میرے خیال میں یہ پالیسی عوامی رہائش گاہوں میں ایک نئی سرگرمی کا آغاز کر رہی ہے، اس میں آپ کی شناخت اور سہولت کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
سعودی عرب نے عوامی سہولیات کے لیے شریعت سے متصادم ناموں پر پابندی عائد کرنے کے بعد، ان لوگوں کی صورت حال میں تبدیلی آئی ہے جو اس قانون کو نہیں پسند کرتے... :/
انھوں نے اپنا نام بدلنا پڑا اور اب وہ عوامی سہولیات استعمال کرنے کے لیے انھیں ایسے نام جو شریعت میں موجود ہیں استعمال کرنا ہو گا...
یہ معاملہ تو عام لوگوں کے لیے نئی چیلنج بن گیا ہے، اور ابھی یہ سچنہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ اس قانون کو کیسے اپنایا جائے گا...
شायद وہ لوگ جو اس قانون کو نہیں پسند کرتے انھیں ابھی بھی نئی صورتحال میں سہارا دینے کی ضرورت ہوگی...
اس نئے قانون سے قبل کچھ سمجھے بغیر یہ سوچتے ہیں کہ ایسے نام کیسے آئے جن میں شریعت کی حوالے دی گئی ہیں? نئا قانون ہی سے عوامی سہولیات میں کوئی فرق نہیں دیکھتے ہیں، صرف اس سے یہ کہ ملک میں نئے نام ملاتے ہیں، اور سچائی کی کہانی نہیں ہوگا۔
یہ ایسے نئے قانون سے لگتا ہے جو سعودی عرب کی حکومت کے نام پر بھی لوگ اپنے نام کو بدل رہے ہیں، شریعت سے متصادم ناموں کو پابندی عائد کرنا بھی ایسا ہی ہے! یہ کہا گیا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے شریعت میں موجود ناموں پر صرف اور صرف اس معیار پر ہی اجازت دی جائے گی جو سعودی عرب کی حکومت کے نام پر بھی ایسی ہی ہے، یہ تو ایک معیار بن رہا ہے!
یہ سب کچھ بہت ہی مقبول قرار دیا گیا ہے کہ کس نام سے عوامی سہولیات کی جائیں، لیکن یہ بات کچھ دیر سے چل رہی ہے کہ کیا ان ناموں پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے جو شریعت سے متصادم ہیں؟ مینے سمجھا ہے کہ یہ ایک اچھی بات ہے، لیکن ایسے سے جس کی پابندی تمام سرکاری اداروں پر لازم ہو، نہ تو ان ناموں کو ایک دوسرے کے ساتھ کمرشل کرنا چاہیے، نہ ہی ان میں سے کسی کی ترجیح دی جائی۔
اس لئے یہ فیصلہ اچھا تھا کہ ان ناموں کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن اس سے پہلے کہ یہ ایسے ناموں پر پابندی عائد کر دی جائے تھے اور اب اس کو اچھا منے گا، حالانکہ یہ بھی بات چیت ہو گی کہ نئے قانون میں ان ناموں کی ترجیح کس طرح دی جائے گی؟
اس نئے قانون سے ہمیشہ سے اچھی فلموں کی فہرست بنائی رہتی ہوں تو اب یہ لگتا ہے کہ ایسی فہرست بھی بنائی جائے گی کہ اس میں سے کیسے نئے نام شامل ہوںगے؟ پانی کی گنجائش اور سیلاب کی وارستہ، میرا ذہن سوچ رہا ہے کہ ایک نئی فلم بنائی جا سکتی ہے جس میں سیلابی افسردگی کی غم سے بھرپور شہر کے ذہن اور جسم پر عارضہ پڑتا ہو
عوام کی بہت سی دیکھ بھالوں پر یہ نئا قانون ہر وقت کام کرنا ہوگا، جیسا کہ عوامی سہولیات میں ایسے نام استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہیں جو شریعت میں موجود ہیں اس سے لوگوں کو اچھا لگے گا، مگر کیا یہ سارے عوام تک پہنچتا ہے؟
یہ واضح ہے کہ سعودی عرب نے عوامی سہولیات کی جانب سے شریعت سے متصادم ناموں پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اب ایسے ناموں کو اجازت دی گئی ہے جو شریعت میں موجود ہیں
مگر یہ سوال ہے کہ یہ نئا قانون کس لیے بنایا گیا اور اس پر پابندی کیسے نکل رہی ہے ؟
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہSaudi govnt کی جانب سے ایک نئی پالیسی ہے جس کا مقصد عوام کو بے آسانی سے اپنے ناموں میں شامل کرنا ہوگا
لیکن یہ بات بالکل سچ ہے کہ عوامی سہولیات کی جانب سے پابندی شریعت سے متصادم ناموں پر عائد کرنے سے بھی زیادہ ہے اور اب ایسے ناموں کو اجازت دی گئی ہے جو شریعت میں موجود ہیں
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگ جو اپنے ناموں کو عوامی سہولیات میں شامل کرنا چاہتے ہیں، اب ایسے کھیلنے کے لیے مجروح نہیں ہوگئے ہیں
بہت سوچا ہوا یہ بات کہ سعودی عرب کی سرکاری اداروں میں بھی اس نئے قانون کا علاج ہونا چاہیے یا نہیں، پھر بھی تو کیا ہو سکتا ہے کہ یہ وہاں پہلے کے نام کو مینو نہیں کرنے کی پابندی دے رہی ہے؟ لگتا ہے کہ اس کا فائدہ ان لوگوں پر ہو گا جو عوامی سہولیات میں یہ نام استعمال کرنے پر مجبور ہوتے رہے، آسان اور متعرضہ ہونے کی بات نہیں تھی اور اب تو ان کا فائدہ ہو گا، بالکل ٹھیک ہے۔
عمرہ کوئی بھی نام نہیں ہوتا جو اس کے لئے معذور ہو! سعودی عرب نے عوامی سہولیات کے لیے شریعت سے متصادم ناموں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب اسے عوام کی چیٹ بھی نہیں ہو گی! یہ قانون تو کچھ متعلقہ اداروں سے بچا رہا ہے، مگر اس کے باوجود ابھی ان کے لئے بھی ایسے نام نہیں ہونگے جو شریعت میں موجود ہوں گے! اور یہ سچ میں ہے کہ اس قانون کو پालनے کے لئے انھیں سالانہ بنیادوں پر سرورس منصوبہ بھی مل گیا ہے!
سعودی عرب نے شریعت سے متصادم ناموں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہی کیا تو یہ لگتا ہے کہ انہوں نے ایسی بات کی ہی تھی. اب لوگ عوامی سہولیات کے لیے ہر نام استعمال کر سکتے ہیں جیسا کہ الاول، النور اور اللہ تعالیٰ جیسے اسمارٹ فون کی کمپنیوں نے اس نئے قانون میں اچھی ہی کامیابی حاصل کر لی ہے.
لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ شریعت سے متصادم ناموں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ صرف ایسے اداروں کو لگ رہا ہے جو عوامی سہولیات کی فراہمی کرتے ہیں. باقی تمام سرکاری ادارے اپنی حدود میں موجود عوامی سہولیات کے ناموں کو ملکیت کرنا پڑ رہے ہیں.
اس نئے قانون کے تحت ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت صرف اس بات پرFocus کر رہی ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے انھوں نے کیا نام استعمال کیا ہے، اور وہ جانتے ہیں کہ انھیں پابندی عائد کرنے میں کس سے مدد مل رہی ہے.
اس نئے قانون سے سعودی عرب نے عوامی سہولیات میں ایسے نام کی اجازت دی ہے جو شریعت میں موجود ہیں، لیکن یہ کافی دلچسپ ہے کہ حکومت کے نہیں یہ نئا قانون بنایا گیا ہے… یا تو اسے ملک بھر میں ناقدین کی جانب سے بھی پوچھا جائے گا…. ایسے نام کیسے لگے گئے تھے جو شریعت سے متصادم، اور اب ان کو اجازت دی گئی ہے؟
اس نئے قانون سے متعلق ہوا ہے تو میں ہلچل میں ہو گیا ہوں ، میرا لگتا ہے کہ یہ قانون Saudi Arabia میں کتنی ہی تیز رفتار نئی پہچان ہے۔ اور ایسی ہی ہی کہ لوگوں کو ملک میں عوامی سہولیات میں ایسے ناموں کی اجازت دی گئی ہے جو شریعت میں موجود ہیں، اس پر میرا خیال ہے کہ نئے معیار کو متعین کرنے اور عوامی سہولیات کے لیے مناسب نام فراہم کرنے میں Government کو بھی ہمت ہو گی۔
عمر کی بات سے تو بہت متاثر ہوتا ہے اس نے اپنی زندگی میں اس قدر جدوجہد کی ہے اور اب بھی وہ ایسے نام کے ساتھ کام کر رہا ہے جس پر شریعت سے متصادم ہے، یہ تو ان کی عزمت سے نہیں بلکہ اس وقت کی دuniya میں ایسی شرائطوں کے ساتھ نہیں آئی ہوتی جو ان کو بھلائی ہو سکتی ہیں، ان کی وہ صبر اور قوت ہمیشہ کی یاد دلاتی ہے
اس نئے قانون سے عوامی سہولیات کی سرورائی پر بہت سی اچھی باتوں ہیں، لیکن ایک بات تو یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے ناموں میں شریعت سے متصادم ہوتے ہیں انہیں اب بھی کچھ تکلیف پہنچائی دے گا۔ وہ لوگ جو اپنی اسماء میں الاول، النور، الحق اور نازل کرنے والا اللہ تعالیٰ کی فخر کرتے تھے اب ان پر پابندی ہی نہیں لی گئی تو وہ کیسے محسوس کریں گے؟