تیراہ میں سیکیورٹی صورتحال پر واضح کرنے کے بعد، سیکیورٹی ذرائع نے بھرپور مطلع کیا ہے کہ یہاں کسی بھی فوجی آپریشن کے بارے میں خبروں کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا گیا ہے، اس سے پہلے کچھ دیر سے یہی سلسلہ جاری رہ رہا ہے۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز سے ملک بھر میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گے۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر جاری ہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ عمل جاری رہے گا۔
اس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان مضبوط رشتہ ہے، اس سے ان کی کوئی منفی بیانیہ یا پروپی گنڈہ کا جواب نہیں مل سکتا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، فتنہ الہندوستان عوامی سہولتوں، ترقی اور امن کا دشمن ہے، اور احساسِ محرومی کا نعرہ لگاکر دہشت گردی کرنے والے عناصر کو بلوچستان کے عوام کو بھی پہچانا جاتا ہے جس سے انہیں کسی قسم کی عوامی حمایت حاصل نہیں۔
بہت دیر سے یہ بات سنائی دے رہی ہے کہ دہشت گردوں کا یہ خیل پاکستان میں اپنا گھر ہی ہے اور ان کے خلاف کارروائیاں اس لیے ضروری ہیں کہ وہ ایسا سچ دکھائی دے کہ وہ جو لاحقات کی جگہ لے رہے ہیں وہ بھی پاکستان کے حقدار ہیں۔
اس وقت تک یہ چل پڑتا رہے گا جتنی طاقت دہشت گردوں کو کچلے جائیں، اور اس لیے ہمیں ان کی موجودگی کا بھی خلاصہ نہیں لینا چاہئے۔
یہ بات تو واضع ہو چکی ہے کہ فتنہ الہندوستانی کو صرف عوامی سہولتوں، ترقی اور امن کا دشمن قرار دیا جاتا ہے، بلکہ انہیں عوام کی حمایت نہیں ملنی چاہتی۔ یہ بھی تو یقینی ہے کہ اس بات پر کوئی مبصر کچھ دیر سے بات کر رہا تھا، لیکن یہ بات نہیں سبقت ہے کہ جس صورتحال میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی واضح گواہی دی گئی ہے وہ بھی صحیح ہے یا نہیں؟ میری یہ question ہے کہ اس صورتحال کو کیسے پورا کرنا ہوگا؟
بھائے یہ واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ سیکیورٹی ذرائع نے فتنہ الہندوستان کو عام عوام کی سب سے بڑی خطرہ قرار دیا ہے اور اسے بلوچستان میں دہشت گردی کے لئے ذمہ دار سمجھنا بھی اچھا نہیں ہے، یہ بات تو واضح ہے لیکن اس پر بات کرتےSametimeی فتنہ الہندوستان کی جانب سے دوسری طرف جو لوگ انہیں طاقت بھرنے کا منصوبہ بنانے اور ان کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان پر بھی فوج اور عوام کے درمیان اچھی نوعیت کی سلوک کی ضرورت ہوگی
اس صورتحال کی ایسی بات کھلی طور پر نہیں کی جا سکتی جو یہاں کے لوگوں کو فتنہ الہندوستان سے متعلق اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی واضح نشاندہی پر مبنی ہو، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی ملک بھر میں لوگ ان چیلنجس سے نمٹنے کے لیے اپنی قوتوں کو ایک دوسرے کی طرف مڑاتے ہیں، نا تو پوری صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں اور نا ہی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے بھی نتیجے کو یقینی بنایا جا سکتا ہو گا۔
ایسے معاملات میں تازہ ترین معلومات تک پہنچنے کے لیے ایٹی ٹی اینیوں کو بھی اپنی فوج کا اہم ذریعہ بننے کی ضرورت ہے، نہیں تو وہ صرف فیکس ڈیٹا پر رہتے ہیں اور واضح ہوتے ہیں کہ یہ بات کیوں نہیں۔
پشینے لگے لوگوں کو جانتے ہوئے، دھمکیاں دینے والوں کو ایسے معاملات سے پرہیز کرنا چاہیے جب کچھ نہیں جانیا جائے اور اس طرح کی بات کرنے والوں پر ڈرامائی مزاج کو کم کرنا پڑتا ہے۔
یہ تو آج تک سے حقیقت کے سامنے لانے کے لئے ایک بڑا قدم ہے اس صورت حال کو حل کرنے کے لئے ضرور ایسے گفتگو کی ضرورت ہے جو کسی بھی ایsi بات پر زور نہیں دیتی جس سے لوگ ایک-دوسرے پر گریوز کرنا پئے ۔ بلوچستان کی صورتحال کو حل کرنے کے لئے یہ بات بھی ضروری ہے کہ عوام اور فوج دونوں ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیں گے اور ان کی سہولتوں میں فرق نہیں رہنا چاہیے۔
یہ بات واضح ہے کہ بلوچستان میں حالات انتہائی غمازوں سے بھری ہوئی ہیں اور یہاں کی عوام کو بھاگتے پھرتیے محسوس ہوتا رہا ہے یہ سب سے زیادہ گماشدہ لوگوں کے لیے مشکل ہے اور ان کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا چاہیے، اس وقت کو ایک فرصت نہیں سمجھنا چاہیے اور اس میں بھی ہر سے معاونت کے لیے تیار رہنا چاہیے
اب یہ بات تو واضع ہو چکی ہے کہ فتنہ الہندوستان کو لوگ اس بات سے پراہیز کر رہے ہیں کہ یہ کیا کرتا ہے؟ وہ عوامی سہولتوں اور ترقی کے نام پر ایسا مظالم پھیلاتا ہے جو اسے واضع کر دیتا ہے کہ وہ کیا ہے؟ اس کو جانتے ہی لوگ اس سے پراہیز نہیں کریں گے۔ یہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی جانب سے ایک اچھی بات ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی فتنہ خواہشوں کی بات کرنے پر روک دیا جائے تو، اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
بلوچستان میں ایسی صورتحال ہونے پر بھی اس بات کا کوئیProof نہیں کہ سیکیورٹی آپریشنز جاری نہیں، فتنہ الہندوستان کے بارے میں بھی اس طرح کے بیان تو ہی کیا جا رہے ہیں، یہاں پر انٹیلی جنس کی ایسی رپورٹس جاری نہیں کی جا سکتی، آپریشنز صرف فیکٹUALائزیشن کے لیے ہی ہو سکتے ہیں۔
mere lie yeh logon ko bhi apni zindagi main ek aur zikr karte hain, ki government kya kar rahi hai? ab to security sources ne bhi bola hai ki koi bhi military operation ke bare me news kafi galat aur galat hi. yeh sab kuch to phir se utha kar dekha ja raha hai... yeh toh ek hi pattern hai, jismein har waqt kuch naya aur kuch aisa hota hai jisase logon ko galat faisla karne ki zaroorat hoti hai.
بilkul, ایسے میڈیا کے جو فوجی آپریشنز کے بارے میں غلط معلومات دیتے ہیں، وہ صرف ان کے پھینک کر رہے ہیں... سیکیورٹی ذرائع کو یہ سب سے پہلے بتا چوکیں ہیں. اور اس بات پر بھی توجہ دی جائے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں فتنہ الہندوستان کو ایک بڑا خطرہ سمجھنا مشکل ہوگا...
میں یہ بات سے متفق ہوں کہ فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیوں میں عوام کی حمایت اور فوج کی توسیع ضروری ہے، لیکن یہ بات بھی تازہ ہے کہ اس صورتحال میں کوئی گمراہ کن خبروں نہیں چلوگی اور عوام سے پہلے سے ہی بات چیت کرنا ضروری ہے۔
یہ تو بڑی بات ہے کہ اب سیکیورٹی ذرائع کو خود کو یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے کون سی گالھیں کی ہیں؟ انہوں نے فوج اور عوام کے درمیان کوئی منفی رشتہ بنایا ہو یا تو وہ کیا بات کرتے ہیں، اس میں کوئی شکایت ہونے کی بات نہیں ، پھر انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر بات کر رکھی اور کہا کہ فتنہ الہندوستان عوامی سہولتوں اور امن کا دشمن ہے، یہ تو واضع ہوا کہ اس نے عوام کو ایسا محسوس کرایا ہے کہ بلوچستان کی عوام کو بھی دہشت گردی کرنے والے عناصر سے جڑا ہوا ہے، یہ تو بہت خطرناک بات ہے کہ عوام کو ایسا محسوس کیا جائے کہ ان کے خلاف کارروائیں جاری رہیں گی
اس صورتحال میں ایک بات بھی نہیں کرنی چاہئے کہ فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیں تو ضرور جاری رہیں گیں لیکن ان سے پہلے بھی عوام کو اس کے خلاف آواز ہونی چاہئی، اور عوامی سہولتوں کی یہ بات کو یقینی بنانی چاہئی کہ وہ لوگ جو فتنہ الہندوستان کے خلاف لڑ رہے ہیں وہ ایک اچھی چیز کر رہے ہیں…
یہ بات تو پورے ملک میں ایک طرف پر رہی ہے کہ فتنہ الہندوستان دوسرے نہیں ہے، اور ابھی بھی سیکیورٹی ذرائع نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ یہ فتنہ الہندوستان بلوچستان میں دہشت گردوں کی بھی نہیں ہے، یہ ایسا لگتا ہے جیسے وہ لوگ جو انٹیلی جنس رپورٹس پر کھڑے ہیں وہ فتنہ الہندوستان کے نتیجے میں دہشت گردی کی وجہ سے بلوچستان میں آئے ہوئے تھے، اور ابھی بھی یہ بات کو تصدیق دی جائ رہی ہے کہ ان دہشت گردوں کا کوئی تعلق فتنہ الہندوستان سے نہیں ہے۔
جبکہ یہ بات تو تھوڑی اچھی ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز نے ملک بھر میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں، لیکن ابھی بھی اس بات کو پورا توازن نہیں مل رہا ہے کہ یہ فتنہ الہندوستان دوسرے کون سے فتنے ہیں جو ملک میں موجود ہیں، اور ابھی بھی یہ بات کو تصدیق دی جائ رہی ہے کہ ان دہشت گردوں کا کوئی تعلق فتنہ الہندوستان سے نہیں ہے، یہ ایسا لگتا ہے جیسے ان میں کوئی ذہنی صحت کے نقصان پر تعلق رکھنے والے بھی ہیں جو دوسرے فتنوں کی طرح اسے دھمکی دیتے ہیں۔
عمر سے متعلق یہ رپورٹ بہت مشابہ لگ رہی ہے، توسیع اور ترقی کے نام پر سچائی کو جھوٹا پکڑنا ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ یہ رپورٹ کہتے ہوئے ہے، فتنہ الہندوستان کی بات بھی نہ تو واضح ہے اور نہ ہی اس کا جواب پڑھنا آسان ہے۔
جبکہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر زور دیا جاتا ہے تو یہ بات بھی نہایت سنجیدگی سے نہیں کہی جاتی، عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش تو کئی بار دکھائی دیتے ہیں، اور یہ رپورٹ بھی ان کے اس رواج کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔
اس وقت سیکھنا ہوتا ہے کہ ان لوگوں پر کون سا اثر پڑتا ہے جو ان کی نافذ کردہ دیکھتے ہیں اور ان کی باتوں سے متاثر ہوتے ہیں، اور یہ رپورٹ کے مطابق فوج اور عوام کے درمیان مضبوط رشتہ تو ہے لیکن اس کی بھرپور دیکھभال نہیں کیا جاسکتا۔
اس نئی رپورٹ سے منسلک ہونے والی باتوں پر کچھThinking karne ke baad mujhe lagta hai ki انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو سوشل میڈیا par bhi بھر پور attention mil raha hai.
اس میں ایک reality check milna zaroori hai. ہمیشہ لوگ ان فوجی آپریشنوں کا topic chota karte hain, lekin unhein samajhna zaroori hai ki woh kitna important hai dushman ke khilaf. اور دوسری baat, فتنہ الہندوستان کے بارے میں بھی zyada talk nahi karni chahiye, kyun ki usse humein apne own problems se zyada problem milta hai.
یہ security measures ko samajhna bhi zaroori hai. kuch dino mein to ye samay aaya tha jab fujjo ka samna karne ke liye humein khud ko tayyar karna padta tha. ab woh samay ayega, toh humein ek baar phir se us samne khada hona zaroori hai.
security measures ko samajhne ke saath hi humein apni own security bhi think karni chahiye. Agar humein pata nahi hota ki mujhe koi danger hain, toh mere liye yeh risk bilkul zero hai.
یہ سب توھت ہی ہے، کوئی بھی فوجی آپریشن کے بارے میں جھوٹا بولتا ہے تو یہ صرف ملوث افراد کی ساتھ داری ہی ہوگی۔ آج تک کچھ لافانی باتوں پر مبنی رپورٹس پر فوج کی کارروائیں ہوئیں تو ان میں بھی کیا فائدہ ہوا؟ اور دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے نہ صرف انٹیلی جنس رپورٹس پر اور،
بھائی یہ بات تو چھپا ہوا ہے کہ کیسے اٹھارہ میں سیکیورٹی کے بہت سی گیلات کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے؟ یہ تو پوری دنیا کے سامنے ایک عجیب بات ہے، یقیناً انساف کے عمل میں کچھ نئی باتें سامنے آ رہی ہیں... ~~~