T20 world cup after bangladesh india concerns over scotland | Express News

ہاکی پلیئر

Well-known member
ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کھلاڑیوں کو ویزے کی کمی سے گھبرا رہی ہے، ایک بار پھر کرکٹ کے شہرت مند پاکستانی نژاد فاسٹ بولر صفیان شریف کے ویزے کے حوالے سے ایسا ہوا ہے جیسا ابھی بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں 2026ء کا شیڈول ٹی20 ورلڈ کپ تھا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اسکاٹ لینڈ کو بنگلہ دیش کی جگہ ورلڈ کپ میں شامل کر دیا ہے اور ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو ویزے کے حصول پر یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہوئے بھارت میں پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ویزا اور دیگر سفری انتظامات پر دباؤ بھی ہوا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی ٹیم نے کرکٹ اسکاٹ لینڈ کے چیف ایگزیکٹو ٹروڈی لینڈبلیڈ سے بات کی ہے تاکہ ٹورنامنٹ کے لیے ویزا کا حصول اس وقت انتظامیہ کی اولین ترجیح ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ ویزے کا حصول ہمیشہ کسی حد تک غیر متوقع ہوتا ہے، اس لیے اس وقت کی یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہوئے ان کا فوری عمل شروع کیا ہے۔

بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں 2026ء کا ٹی20 ورلڈ کپ بھی یہی سلسلہ ہے جس میں بھرپور تگ و دو ہوئی ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کے کھلاڑیوں نے بھارت اور سری لنکا کی ٹیموں سے ویزے کی تگ و دو کے بعد وہاں جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کے ساتھ ہی اسکاٹ لینڈ کی ٹیم میں شامل صفيان شریف کے والد پاکستانی نژاد اور والدہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں، جو 7 سال کی عمر میں اسکاٹ لینڈ منتقل ہوگئے تھے اور بعد ازاں وہاں کی قومی کرکٹ ٹیم کے مرکزی کھلاڑی بن گئے۔
 
یہ بات تو سچ ہے اسکاٹ لینڈ نے ٹی20 ورلڈ کپ میں ویزے کی کمی سے گھبرائی ہوئی ہے، لیکن بہت دیر سے کر رہا ہے، میں نہیں سمجھتا کیا انھوں نے وقت پر کام نہیں کیا، یہ تو ٹیم کی خلافت ہے لیکن ٹرولپین کس کا ساتھ دیتا ہے؟
 
اس لیے یہ ہوا کیا ہو رہا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم بھارت اور سری لنکا جیسے ممالک میں کھلاڑیوں کو ویزے دینے پر دباؤ پڑ رہا ہے، یہ تو سمجھا نہیں جاتا کہ کس کی ضرورت ہے اور کس کی نہیں کروڈ کی گئی؟
 
اس سچائی کو یقینی بنانے کے لئے ہمیں اپنے منظر عام پر آ کر خود سے چیلنج کرنا پڑتا ہے۔ جب اسکاٹ لینڈ کی ٹیم نے بنگلہ دیش کی جگہ ورلڈ کپ میں شامل ہونے کا ایسا ہی رخ دیا جیسا ابھی ہوا تھا، تو اس کے ساتھ ہی وہ اپنے ملک کی حکومت کو یقینی بنانے کے لئے دباؤ پڑے ہوئے تھے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس سچائی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن وہ اس میں کامیاب ہو سکتی ہے؟

اسکاٹ لینڈ کی ٹیم نے اپنے چیف ایگزیکٹو ٹروڈی کے ساتھ بات کی ہے اور ویزا کو اس وقت کی ترجیح کے طور پر مہیا کیا ہے تاکہ وہ یقینی بن سکیں، لیکن ایک حقیقت ہے کہ ویزا حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کی کوئی گارंटی نہیں ہے۔

ان سب کی storiaوں سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ جب ہم اپنے لئے اور اپنے ملک کے لئے کھیلتے ہیں تو وہاں ایسی ہی سچائیوں کو اپنا لینا پڑتا ہے جو ہمیں نہیں لگتی ہیں۔ لیکن اگر ہم ان سچائیوں پر کام کرتے ہیں اور اپنے لئے اور اپنے ملک کے لئے کھیلتے ہیں تو وہاں ایسا نہ ہونا چاہیے۔
 
اسکرٹ نے بنگلہ دیش سے کچھ چیلنجز سائیز پہنائیں ہیں اور اب وہ اسکاٹ لینڈ کی ویزا کوماں ناکام ہو گئی ہیں، یہ بھارتی اور سری لنکی میزبانی کرنے والے ٹورنامنٹ سے ہوا ہے جس میں انہوں نے کچھ تگ و دو کی۔ ابلے کچھ اور ناکام ہونے کا یہ دباؤ اسکاٹ لینڈ کو نہیں لگے گا… 😬
 
اس کا Meaning ہے کہ ورلڈ کپ میں شامل ہونے والی ٹیموں کو ویزے کی کمی سے کیسے نکلے، اس کی واضح رہنما ہے کہ کسی حد تک ویزے کا حصول غیر متوقع ہوتا ہے، اس لیے ٹیموں کو اس وقت کی یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور پھر وہ اپنے مقاصد کو حاصل کریں۔
 
اس دuniya mein cricket team bhi aisi situations ko handle karte hain jahan visa aur travel issues ki problem ho rahi hai. Toh Scotland team ka situation bahut challenging laga raha hai, khaaskar jab safian sharif ka visa issue aaya toh unhein bhi bahut dabav mila.

Mujhe lagta hai ki International Cricket Council (ICC) ko apne members teams ke liye visa aur travel issues ko hal karne mein madad karni chahiye. Kya ICC teamon ko yeh batana chahiye ki woh aapko visa aur travel problems se doobna chahiye? Ya sirf koi aise rules banate hain jo unki teamon ko problem de rahi hai?

Main bhi sochta hoon ki Scotland ka team captain landblyd Scottish government ko kya batane chahiye? Kya unhein apne country ki support karni chahiye?
 
یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ اسکاٹ لینڈ کو تیز رفتار سے ويزے مل جائیں، یہ ان کی سمجھ میں آگے بڑھائے گا کہ وہ اپنی ٹیم بنانے کے لیے تاکید کر رہی ہیں اور اب وہ اس سے متاثر نہیں ہونگی
 
اس نئے سلسلے میں ابھی بھی دباؤ ہے؟ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو ویزے کا حصول یقینی بنانے پر انچارج ہونا پوریا تھا، اور اب یہ اس میں تگ و دو کرتا ہوا چلا رہا ہے। اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو بھی کرکٹ اسکاٹ لینڈ سے بات کروانے کی ضرورت ہوئی، اور اب وہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں شامل ہو سکتا ہے۔ 🤝
 
اس نے مندرجہ ورلڈ کپ میں بھارتی اور سری لنکی ویزوں سے اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو کچھ اچھا ملا ہوا تھا، لیکن اب جب پاکستانی نژاد فاسٹ بولر صفیان شریف کے ویزے بھی منسلک ہوئے ہیں تو اس پر دباؤ اور تنقید کا دور شروع ہو گیا ہے۔ اس سے پتہ چل رہا ہے کہ یہ کھلاڑی وہاں سے آنے کے لیے بہت زیادہ تاخیر کر رہے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو اچھا اسکالر سے بھی انحصار کرنا پڑ رہا ہے جیسا کہ 2026ء کا ٹورنامنٹ ہوتا ہے اور یہ پتہ چلتا ہے کہ وہاں بھی اس طرح کی تنقید ہو سکتی ہے۔
 
اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو ایسا ناکام hone kaafi galat hai! انہوں نے بھی بھارت اور سری لنکا کی طرح دباؤ کا سامنا کرنا padega, ab bhi koi yeh samajh nahi aaya kyu unki team ko visa ki kami se ghabray rahi hai. to sahi tarike se planning aur coordination karne ki zarurat hai.
 
ہمیشہ سے یہ بات طے ہوتی ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم نے بنگلہ دیش کی جگہ ورلڈ کپ میں شامل ہونے کے لیے اچھی طرح تیاری کر دی ہوگی۔ لیکن یہ بات اس وقت تک طے نہیں ہوئی کہ وہ وIZA حاصل کرنے میں کس حد تک ناکام رہے ہیں؟

ان کی ٹیم کا ایک اور بھی نقطہ اچھا ہے، انہوں نے دباؤ کو کم کرنے کے لیے چیف ایگزیکٹو ٹروڈی لینڈبلیڈ سے بات کی ہوگی اور اس طرح ویزا کا حصول ان کے لیے سبسٹیٹ بھی بن گیا ہوگا۔

یہ بات تو یقینی ہو گی کہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم نے ویزا حاصل کرنے میں اچھی طرح کامیاب رہی ہوگی، لیکن یہ بھی بات طے ہو سکتی ہے کہ ان کو ابھی تک کیا لگتا ہو گا؟
 
اس کپ میں سکاٹ لینڈ کی ٹیم کو بنگلہ دیش کی جگہ رہنی ہوگی تو یہ کتنا غریب ہے؟ ایک بار پھر کرکٹ سے متعلق اس معاملے میں سکاٹ لینڈ کو ٹھکانہ بنانے کی کوئی ذمہ داری نہیں؟ انھوں نے کچھ اور کیا کرنا چاہیں گے؟
 
اس ورلڈ کپ میں سکاٹ لینڈ کو بنگلہ دیش کے بجائے شامل ہونا ایک بدحالی ہے، یہ کھلاڑیوں کے لیے بھی problematic ہے اور ٹیم کو ویزا کے حصول پر یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے تو اس نے یہاں تک دباؤ پھیلایا ہے جس سے وہاں جانے میں بھی کوئی مشکل ہو گی اور ٹیم کے لیے اس ورلڈ کپ کا فائدہ نہ مل سکے۔
 
اس سلسلے میں اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو ڈراپ کرنا بہت ایسا ہو گیا ہے، وہ اور ان کے کھلاڑیوں کو اب تو ویزے کو حاصل کرنے میں ہی ناکام رہ گئے تھے ۔ لگتا ہے انہیں ایک ہفتے یا دو ہفتوں کا اٹھنا پڑے گا اور 2026ء کا ٹی20 ورلڈ کپ ان کی ناکامگی کا ہی ریکارڈ بن جائے گا…
 
بھلے بھانت، اس سے پہلے بھی اسکاٹ لینڈ کی ٹیم نے ورلڈ کپ میں حصہ لینے کا عزاز حاصل کیا تھا... اور اب اس کی جگہ کسی نہ کسی ملک کو دی گئی ہے؟ یہ بھی اس سلسلے میں ایک بڑا پہلو ہو گیا ہے، تو اس کا مطلب کیا ہوگا؟ ٹیم کی قوت اور ماحول کو یقینی بنانے کے لئے ویزے کی کمی نہیں رکھنی چاہیے... لیکن اس سے پہلے بھی اسے کیسے ہرپہلو پر دیکھنا پڑتا تھا؟
 
اسکاٹ لینڈ کو کچھ نتیجے نہ مل پائے ہیں اور اب ان کی جگہ بنگلہ دیش گی چکی ہے تو وہی دوسرے معاملات میں ہو رہا ہے، اسکاٹ لینڈ کی ٹیم نے اپنی جانب سے کھلاڑیوں کو بھارت یا سری لنکا جانے کے لیے ترجیح دی ہے اور اب ان میں سے کچھ کرکٹ اسکاٹ لینڈ کے لئے ویزا حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، یہ بات سب جانتے ہیں کہ اس سلسلے میں دباؤ بھی ہوا ہے اور اب وہ ویزا حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیڰ۔
 
ارے یہ بھی کیا ہوا? پھر یہ ٹی20 ورلڈ کپ میں اسکاٹ لینڈ کی جگہ دوسری بار ہو رہا ہے؟ کون سی نوجوان Cricket team England me aane ja rahi hai? Yeh bhi kya ho raha hai cricket ka trend? Agar yah Scotland ko wapas kar deta toh kaisa hoga? Aur sab se zyada main sochta hoon ki yahan ke players ko visa aur safri rules ko kaisi samajhna padega? Kya unhe apne countries ki bhi madad chahiye hai?
 
بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ بھی کھالرائی وہاں جانے کا ایسا تکرار ہو رہا ہے جو سب کو دھمکاوٹ دی رہا ہے، میری خیال ہے اس میں کرکٹ کی عادت کی بات نہیں ہو سکتی، چاہے وہ بھارت یا سری لنکا ہو جس کے لیے ٹورنامنٹ بھی بنایا گیا ہو۔ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو یہی معلوم ہونا چاہیے کہ وہاں جانے کے لیے ان سے پہلے اور بعد میں جائے گا، نہ تو انھوں نے اپنی پوری مہارت کو تیار نہیں کیا ہوگا اور نہ ہی وہاں کی ٹیم ان سے جیتنے والی ہے گی۔
 
اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو ابھی بھی اپنے لیے یقینی بنانے کی محنت کرنا پڑ رہی ہے کہ وہ 2026ء کے ٹی20 ورلڈ کپ میں حصہ لے سکیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایسے کرکٹ پلیسر کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے انھوں نے پہلے بھی تجربہ حاصل کیا ہوتا، بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے لیے ایک فوری فریپ کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ انھیں ٹورنامنٹ سے باہر نہ ہونے کی کوشش کر سکے.

اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کا یہ موڑ بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں 2026ء کے ٹی20 ورلڈ کپ سے شروع ہوتا ہے جس میں وہ اپنی پوری طاقت دکھائی سکتی ہے اور ٹورنامنٹ میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے। اس لئے کہ ابھی ہی بھارت اور سری لنکا کی و ـیموں سے ویزے کی تگ و دو ہوئی ہے، اور اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو اپنے لیے یقینی بنانے کی محنت کرنا پڑ رہی ہے۔
 
واپس
Top