t20 world cup we should stand with bangladesh prime minister shehbaz sharif | Express News

فطرت عاشق

Well-known member
پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت سے جو کھیلنے والے ووٹوں کی نمائش کرنے کا فیصلہ نہیں لیا، بلکہ اس حوالے سے اس پر پوری طرح موقوف ہونے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس فیصلے میں سیاست اور کھیل کے دو عالمی زمرے کو ایک ساتھ نہ لے کر، اس حوالے سے بنگلہ دیش کے ساتھ موافقت حاصل کی گئی ہے۔

اس فیصلے پر وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان میں کھیل کے میدان میں سیاست کی مداخلت ہوتی، تو اس سے دنیا کو خوف اور تشدد کا مظاہرہ ہونا پڑتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کیا جس کے لیے ہم نے فٹبال کے اہل قائد اعظم کھیل رہا تھا، اس حوالے سے بھی ہم نے پوری طرح موقف بھرایا تھا لیکن اس کے بعد ہوا نہیں کی جائے گی اور اس لیے ہمیں ٹی20 ورلڈ کپ میں اس حوالے سے موافقت حاصل کرنا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک بار جب کھیل کی دنیا politics se alag ho jati hai, تو اس وقت تک ہمیں Politics ke samne khade hona chahiye kyun ki politics sirf galtiyon aur galat vyavhar par aakarshit hoti hai.
 
بےشبہ یہ حقیقت کہ ایسے وقت بھی آتے ہیں جب سیاست اور کھیل میں موافقت حاصل کرنا کچھ اور بھی اہم ہوتا ہے۔ یہ دیکھنا ہی مشق ہے کہ پاکستان کی حکومت ٹی20 ورلڈ کپ میں نہیں پھنس گیا اور بنگلہ دیش سے موافقت حاصل کر لیا ہے۔

اس فیصلے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہPolitics ke saath khel mein samadhan nahi mil sakta, kyonki yeh dono alag-alag cheezain hain. Politics sirf galtiyon aur galat vyavhar par aakarshit hoti hai, agar khel ki duniya politics se alag ho jati hai toh humein politics ke samne khade hona chahiye۔
 
پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت سے ووٹوں کی نمائش کرنے کا فیصلہ نہ لیا تو کیا اس کو وہی ذمہ دار سمجھتے ہیں جو انہوں نے ٹریڈ ایس سے دوسرے ممالک سے ملنے کے لیے ایسی ہی پابندیاں لگا دیں ہیں؟
 
یہ فیصلہ آسان ہے، politics ko sports se alag rakھنا اور پوری طرح موقف بھرنا سب سے بڑا حقدار ہے
 
ابھی ٹی20 ورلڈ کپ کا موضوع آئیا تو میں اس وقت اچھا لگ رہا ہوں جب پکی طرح بات چیت نہ ہونے کی صورت میں ان کا فیصلہ نکلتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ politics aur khel dono hi alag-alag cheezen hain. politics ko ek saath lekar nahi jaa sakta, kyunki woh sirf galtiyon par aakarshit hota hai.

میں بتاؤ یہ کہ میں بھی اسی طرح کی صورتحال سے گذر چکا ہوں جس پر وزیراعظم نے بات کیا ہے.جب politics aur khel dono ek saath lekar nahi jate, تو ہمیں politics ke samne khade hona chahiye اور kisi bhi galat vyavhar ko toler nahi karna چاہیے۔

میں نہیں چاہتا کہ ہم ایسی صورتحال میں پھنس جائیں جس سے ہماری zindagi ka maza khoya jaye.

میں یہ محض اپنی رाय ہی نہیں بٹو کا یہ بھی بات کی جا سکتی ہے کہ ہم ہماری زبانیں بھی اچھی طرح سوچ کر بتانہ چاہتے ہیں.
 
یہ فیصلے میرا بھی صاف موافق تھا۔ ووٹنگ سسٹم میں کسی بھی دوسری دھال کا شامل ہونا نہیں چاہئیے، اس کی واضح رہنما بنائی گئی ہے۔

مگر ووٹنگ سسٹم کو بھی ایک نقطہ پر رکھنا چاہئے، کہ ہر معاملے میں ایک اور معاملے کی طرح دیکھا جائے اور کسی نہ کسی صورتحال کو بھی ایک اور صورتحال سمجھ لیا جائے۔

مگر یہ بات واضح ہے کہ پاکستان میں سیاست کی رہنما ہونے کی بجائے، کھیلوں پر توجہ دی جانی چاہئیے۔
 
بھارت کے ساتھ ٹی20 ورلڈ کپ میں موافقت حاصل کرنا تو ایک بات ہے لیکن اس پر پاکستان نے پوری طرح موقف بھرایا ہو گا… کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے کی بات سے مجھے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے صرف ایک چھوٹا مسئلہ ہے… مگر وہ بات بھی کوئی بات نہیں ہے کہ یہ فیصلہ پورے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا…
 
ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان نے بھارت سے موافقت حاصل کرنے کی اور ایک بار جب سیاست اور کھیل کے دو عالمی زمرے politics se alag hote hain تو ہمیں Politics ke samne khade hona chahiye kyun ki politics sirf galtiyon aur galat vyavhar par aakarshit hoti hai. وہ بھی کوئی نہیں ہے کہ پاکستان میںPolitics میں sports ka matlab kya hota hai?Politics اور sports dono hi apne siwa hain, politics ka matlab ہر decision ki ہوتی ہے، sports bhi apni decision per chalta hai.
 
جی وہ فیصلہ پاکستان کے لئے بہت اچھا ہو گا تاکہ ٹی20 ورلڈ کپ میں اس پر انحصار نہ کیا جائے اور پاکستان کے کرکٹ کھلاڑیوں کو اپنی فٹبال کی پیداواری تاریخ سے Inspiration Lenaa chahiye to apne ٹیم کے لیے kuch naya taya karein.
 
یوں کھیل اور سیاست دونوں کے درمیان جو ساتھ نہیں لیا گیا ہے وہی اس وقت کی حقیقت ہے جب بھیPolitics ko galat vyavhar ka peechha banaya jata hai، یوں پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ سے الگ رہنا شروع کر دیا اور یہ تو آپ کو لگتا ہی نہیں کہ یہ کھیل میں کسی بھی صورتحال کی جگہ ٹوٹ گیا ہو۔
 
اس فیصلے پر بھارت کا جوااب کیوں نہیں دیا؟ ہمیں لگتا ہے کہ وہ بھی اس اہم مقام پر موقوف ہونے سے انکار کرنے والے ہیں کیوں؟ یہ ٹی20 ورلڈ کپ ایک عالمی تقریبا ہے، پھر بھی ہمara Pakistan بھارت سے موقوف ہونے کو چاہتا ہے؟
 
یے تو پاکستان کو بھارت کے ساتھ ایسا ہی موافقت حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو اس لئے کر رہے ہیں کہ وہ اپنی فٹبال ٹیم نہیں مایوس ہو سکتی۔
کھیل اور سیاست کے مابین ایسا حلقہ بنانے کی ضرورت ہے جس سے دونوں کو अलग رہنے کا موقع ملے اور نتیجے میں وہاں بھی ہمیں کسی قسم کی گalt یا تشدد کی بات نہ ہو سکتی۔
 
واپس
Top