طالبان نے افغانستان میں علم دشمنی کو مزید بے نقاب کیا ہے، جس سے اس ملک کی تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ طالبان نے اپنی حکومت میں یونیورسٹیوں کی نصابی کتب اور بڑی تعداد میں عوامی کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جس سے ملک میں تعلیم کی سرگرمیاں تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔
طالبان نے اسے یہ کہا ہے کہ انہوں نے انسانی حقوق، جمہوریت اور آئینی قانون جیسی مضامین پر پابندی عائد کی ہے، جس سے ملک میں تعلیمی ماحول کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ بھی بات کہی جا رہی ہے کہ طالبان نے خواتین مصنفین اور ایرانی لکھاریوں کی کتب پر بھی پابندی عائد کر دی ہے، جس سے اسے علم و ادب کو تیزی سے کمزور کیا جا رہا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں اس صورتحال نے لڑکیوں پر بھی خاص طور پر اثر ڈالا ہے، کیونکہ 21 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچے اسکول سے باہر رہے ہیں، جن میں تقریباً 60 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔
طالبان کی تعلیمی پابندیاں نے افغانستان کی سماجی و فکری ترقی کو متاثر کیا ہے اور نوجوانوں میں انتہاپسندی کے رجحانات کو بھی بڑھا سکتے ہیں، جس کے اثرات ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
طالبان نے اسے یہ کہا ہے کہ انہوں نے انسانی حقوق، جمہوریت اور آئینی قانون جیسی مضامین پر پابندی عائد کی ہے، جس سے ملک میں تعلیمی ماحول کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ بھی بات کہی جا رہی ہے کہ طالبان نے خواتین مصنفین اور ایرانی لکھاریوں کی کتب پر بھی پابندی عائد کر دی ہے، جس سے اسے علم و ادب کو تیزی سے کمزور کیا جا رہا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں اس صورتحال نے لڑکیوں پر بھی خاص طور پر اثر ڈالا ہے، کیونکہ 21 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچے اسکول سے باہر رہے ہیں، جن میں تقریباً 60 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔
طالبان کی تعلیمی پابندیاں نے افغانستان کی سماجی و فکری ترقی کو متاثر کیا ہے اور نوجوانوں میں انتہاپسندی کے رجحانات کو بھی بڑھا سکتے ہیں، جس کے اثرات ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔