Tax Collection in pakistan fbr | Express News

جذباتی

Well-known member
فریڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) رواں ماہ کی ٹیکس وصولی میں ایک ناکام ماحول بن گیا ہے جب کہ انہوں نے مارچ 2025 سے اگست 2025 تک مجموعی طور پر صرف 4730 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں حاصل کی ہیں جو کہ مقررہ ہدف 5045 ارب روپے سے صرف 315 ارب روپے کم ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو ایف بی آر نے جاننے دیا ہے کہ اس ٹرینڈ میں انہوں نے نومبر اور دسمبر میں بھی بڑی کمی کی ہے جس سے اس نے آئے سال کا ٹیکس وصولی ہدف حاصل کرنے کا بھی منصوبہ نہیں بنایا ہو گا۔
ایف بی آر کو اگلا ایسٹر تک چار ماہ کے لئے ٹیکس وصولی میں بہت زیادہ صعوبتیاں کا سامنا کرنا پڑے گی جو کہ کیا ان کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا۔
فریڈرل بورڈ آف ریونیو کی سیکرٹری ایس ایچ عطا میں کہتے ہوئے کہ فریڈرل بورڈ آف ریونیو نے اس ٹرینڈ کو دیکھا ہے تو یہ پوری کارروائی ایک چیلنج بن جاتی ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے انہوں نے اپنے کیریئر کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔
اس کے علاوہ اگلی ایسٹر تک چار ماہ تک کے ٹیکس وصولی میں بھی ان سے زیادہ ناکامی کی پوری کوشش کی جائے گی تو یہاں ان کے لئے کوئی hopes ہیں۔
فریڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اگلے چار ماہ تک اپنی پوری صلاحیتوں کو ظاہر کرنا پڑے گا جس کے علاوہ ان سے ان کے کارمک لینڈ این ڈی پی کی پوری اور طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا۔
 
ایسا محض سیکڑ ارب روپے ٹیکس وصولی نہیں ہوتا، انھوں نے اگست میں تو کمائی کی ہی 4730 ارب روپے اور مارچ اور دسمبر میں بھی ایسی ہی کمائی کی ہوگی تو کیا وہ انھوں نے چیلنج بنایا ہوگا؟ انھیں اس کا سامنا کرنا پڑے گا اور انھوں نے اپنی تعلیم حاصل کی ہے تو یہ کیا وہ اپنے کیریئر میں بہتر بنائیں گے؟ 🤔
 
ایسٹر کے بعد ٹیکس وصولی میں بھی یہی problem rahi jayegi? 🤔 toh kya yehi solution chalne ki jarurat hai? agar FBR apni gati badhayein aur apne employees ko motivate karain toh baki sab kuch easy ho jayega. abhi tax wala people lagta hai ki unhe problem hai toh unki bari aadat kyun nahi badal sakti? 🤑
 
اس ٹرینڈ کو دیکھتے ہی میرا دماغا بھی تھک گیا ہے… جس سے انہوں نے مارچ سے اگست تک صرف 4730 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں حاصل کی ہیں جب کہ مقررہ ہدف کو پورا کرنے کا بھی منصوبہ نہیں بنایا… اگلی ایسٹر تک چار ماہ کے لئے ٹیکس وصولی میں انہیں بھی کامیابی حاصل کرنے کی توفیق ملنی ہوگی یا نہیں… 🤔
 
سپٹمبر 2024 میں ایف بی آر نے ٹیکس وصولی میں انھوں نے تین ماہ میں صرف 8000 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں حاصل کی تھیں… اب اگلا ایسٹر تک چار ماہ میں صرف 4730 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں حاصل کرنے کا یہ ماحول بن گیا ہے تو یہ سچا ہی مقصد نہیں ہوگا… اگلی ایسٹر تک ایف بی آر کو بھی انہی ناکام ماحلوں میں پڑنا پڑے گا جبکہ مارچ 2024 سے اگست 2025 تک ٹیکس وصولی کا منصوبہ اس وقت تک تھوڑا تو اچھا لگ رہا تھا جو اب پھٹ گیا ہے…
 
ماحول بہت چیلنج ہے، ٹیکس وصولی سے ناکام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پی ایس این کو اپنی کارکردگی کی جانب دھیان دینا پڑے گا اور انہوں نے ابھی بھی ٹیکس وصولی میں کمی ہونے پر جواب دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پی ایس این کو اپنی جگہ سے باہر کر دیا جائے گا اور ان کے لئے کوئی hopes ہیں؟ 😐

جیسا کہ میرے والدین نے بتایا ہے ٹیکس وصولی میں کمی تو اس سے یہی نتیجہ اٹھتا ہے کہ پی ایس این کو اپنی کارکردگی پر عمل کرنا پڑتا ہے جیسا کہ میرے والدین نے بتایا ہے، میں ابھی بھی اس کو کچھ نہ سمجھ رہا ہوں... 😕
 
ایس اور فریڈرل بورڈ آف ریونیو کی پوری کوشش کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ لگتا ہے کہ ان کے پاس چیلنجز ہیں بلکہ آپسی معراجوں کی طرف بھی جانا ہے
 
فریڈرل بورڈ آف ریونیو کی ناکامی کو دیکھا جانے پر مجھے یہ کہنا ہے کہ اس کا ایک اور طریقہ مواجز ہو سکتا ہے جو انہیں اپنی ناکامی سے باہر نکلنے میں مدد فراہم کرے گا. ٹیکس وصولی کی ناکامیت کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا لیکن اگر انہیں اپنی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ ٹیکس وصولی میں ایک نئی ترقی لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں. 😐
 
یہ تھوڑی چیلنجنگ ہے...ٹیکس وصولی میں کم آئی ہے تو یہ سمجھنے کے لئے مایوس کن بھی ہے کی کہ انہوں نے یہاں تک کمپریٹنگ نہیں کی ہے…5045 ارب روپے میں صرف 315 ارب روپے...اس ماحول کو دیکھ کر کچھ لوگ بھاگنے لگتے ہوں گے تو پھر یہاں تک ناکامی ہی پھیل جائے گی...جب تک انہوں نے اپنی صلاحیت کو ظاہر کرنا نہیں کیا ہے وہ نہیں دیکھ سکتیں...
 
ایسٹر ٹرینڈ میں ایف بی آر کو بھی پوری کمی کے سامنے آنا ناجائز ہے، ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ان سے زیادہ بھی اور پوری طاقت سے استعمال کرنا چاہئے…
 
اس ٹیکس وصولی کی صورت حال میں یہ بات سچ ہے کہ بھرپور منصوبوں کے باوجود جب تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اگلی ایسٹر تک چار ماہ کی ٹیکس وصولی میں تیزگی حاصل کرنا پڑے گا تو ناکامی کی بھرپور صورتحال ہوسکتی ہے .
 
جب تک وہ اپنی صلاحیتوں کو ظاہر نہیں کرسکتے تو انہوں نے ٹیکس وصولی میں ہی تکلیف کی بھی دیتی ہیں 🤑 اور اب تک یہ نئی پالیسی کا بہترین نمونہ ہوا تو چل پو۔
 
ایسے ماحول میں کچھ hopednہ نہیں رہ سکتا 🤔 یہ وہی ٹرینڈ ہے جس نے اگست سے اکتوبر تک اسٹریٹجیک پلی وے پر تھپک دی ہے، اب ہمیں کچھ نئی تاکید کرنے کی ضرورت ہے تو ہاتھ کھلنا بھی نہیں چاہیے مگر پھر اس میں بھی یہ سبق ہے کہ اگلا ایسٹر تک اگر ان سے زیادہ ناکامی ہوتی ہے تو ان کے لئے یہی کوئی hopes ہونے کی ضرورت ہوگی ۔
 
ایسے میں یہ بھی سمجھنا چاہئیے کہ ٹیکس وصولی نہیں ایک ایسا کام ہے جس کی کوئی انشکلٹس ہوتی ہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے لئے ایسی پلیٹ فارم بنائی جائے جس پر لوگ آسانی سے اپنی ٹیکس وصولیاں کر سکhen. 😐

فریڈرل بورڈ آف ریونیو نے یہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہیں ایک اور بھی چیلنج بن گیا ہے جس سے ان کو توجہ ملی. اس نے خود کو ایک سکول برادری میں تبدیل کر لیا ہے جو کہ ٹیکس وصولی سے الگ ہے، لیکن یہ راز یہ ہے کہ جب تک انہوں نے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کئی ایسے چیلنجوں سے نمٹ رہے ہیں تو وہ اس میں بھی کام کر سکتے ہیں. 🤔
 
یہ بھی ہوا ہو گیا ہے، ایف بی آر کو ٹیکس وصولی میں ناکامی دکھانے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ شخص تھے بلکہ پالیسی اور منصوبوں کا معیار ہے۔ ٹیکس وصولی میں ان کے لئے بڑی صعوبتیاں آ رہی ہیں جو سے ان کے کارمک لینڈ این ڈی پی کو بھی اچھا نہیں بنایا گیا ہو گا
 
یہ ٹیکس وصولی کی صورتحال بھی ایسی ہی ہو رہی ہے جیسا کہ 2019 میں اور اس سے قبل بھی ہوا ہوتا ہے تو انہیں یقین ہونا چاہیے کہ ایسے ماحول کو تبدیل کرنا مشکل ہوگا اور اس میں انہیں زیادہ وقت لگے گا
 
ایسٹر کے بعد ٹیکس وصولی میں بھی یوں ہی تھام کیا جائے گا؟ ایف بی آر کو لگتا ہے کہ ان کی کارکردگی تو بہتر نہیں ہوسکتی ہے، اور اس لیے ٹیکس وصولی میں مزید تھام کرنا پڑے گا... 😐
 
ایسے ٹیکس وصولی میں بھی ناکامی آئے تو پھر چار ماہ تک اس ناکامی کی کوئی حد نہیں؟ ایسے میں کچھ بات تو ہے، یہ ٹیکس وصولی سسٹم تو انتہائی مشکل ہے، لیکن اگلا چار ماہ تک بھی ناکامی کی پوری کوئی hopedنہیں 🤔
 
ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ہم سب واپس بیٹھ جائیں اور ایک ہی ٹرینڈ پر ہی رہتے رہیں. ہمیں ہمیں ساتھ لیتے ہوئے اپنی فوریشن اور ایپلی کشن کو بھی دیکھنا چاہئیے. ایف بی آر کو اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لیے پوری کوشش کرنی ہوگی لیکن یہ کہ کہیں نہ کہیں اپنی کارکردگی کو دیکھنا چاہئیے.
 
واپس
Top