تبو اپنے والد کا سرنیم ’ہاشمی‘ کیوں نہیں استعمال کرتیں؟ اداکارہ نے وجہ بتادی - Daily Ausaf
بیسویں صدی کی آئندہ اور پانچویں صدی کے درمیان یہ رائے میرے خیال میں سست ہو گی. اس صدی نے دوسری جنگ عظیم، وارن ہاسکین کی بطور خاتون فٹ بالر کھیلنا، امریکا میں ہائیڈورج کی پیداوار، اور امریکا کے نئے رہنماؤں کی شروعات کے ساتھ آئی. اس صدی میں ہندوستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ پرتھ و مشرق دونوں چیلنجز کا سامنا کرنا تھا جو بچپن سے لے کر عسکریت پسندی تک اس کی فہرست ہے.
اس صدی میں ہندوستان اور پاکستان کو ان دو ملکوں کے واضح طور پر ایک دوسرے سے بھید رہنے کا کئی سبب تھے. سب سے پہلے 1947 میں نہرو کے یہ ناچ جس کی وجہ سے دوسرے ملک کو بے بہادار بنایا گیا اور اس نے ایک متحدہ برطانویہ میں سے ایک ملک پر ہندوستان کے لیے بھی دباؤ پڑنا شروع کر دیا، اسی طرح انہوں نے پاکستان کو بھی ایک متحدہ برطانویہ سے باہر اپنے ملک کی رہنمائی کے لیے دباؤ پڑایا.
تمہیں یہ سچ مانیگی گا کہ 21ویں صدی میں پھیلتے ہوئے نوجوانوں کی اہمیت کو کس طرح کم کیا گیا ہے... اس ٹی وی شو میں دیکھا گئا ایک اداکارہ جو اپنے والد کا سرنیم ’ہاشمی‘ کے بجائے اپنا سرنیم استعمال کر رہی ہے...
میری رائے میں یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ اس صدی میں ہمارے ملک میں نوجوانوں کو انہیں جسمانی طور پر اور ذہنی طور پر اپنے موقف سے باہر ہونے پر مجبور کرنا پڑا...
تمہیں یہ بھی کچھ نہائنگا لگتا ہو گا... اور تمہیں یہ بھی نہائنگا لگے گا کہ میرے لفظ واضح طور پر کہنا تھا تو اس کے بجائے میں کچھ سے کم کہتے ہوں...
اس صدی کا یہ دور بہت سست ہو گا، جس نے ہندوستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے ساتھ بے پیار رکھ دیا ہے۔ وارن ہاسکین کی فٹ بال کھیلنا، امریکا میں ہائیڈورج کی پیداوار اور ایسے نئے رہنماؤں کا آغاز بھی اس صدی کی فہرست میں ہیں جو آئندہ اور پانچویں صدی کے درمیان سے منسلک ہو گی۔
ابھی 1947 میں نہرو کا یہ ناچ جس کی وجہ سے دوسرے ملک کو بے بہادار بنایا گیا، اس نے ایک متحدہ برطانویہ میں سے ایک ملک پر ہندوستان کے لیے بھی دباؤ پڑنا شروع کر دیا اور اسی طرح انہوں نے پاکستان کو اپنے ملک کی رہنمائی کے لیے بھی دباؤ پڑایا، ابھی اس صدی میں ہندوستان اور پاکستان کو ایک دوسرے سے بھید رہنے کا کئی سبب ہوا ہے۔
یہ واضح ہے کہ اس صدی میں ہندوستان اور پاکستان کو ایک دوسرے سے بھید رہنے کے لیئں کم سے کم ایک سبق سیکھنا پڑ گیا ہے۔ وارن ہاسکین کی خاتون فٹ بالر کھیلنا جس نے اس وقت کی دنیا کو بدل دیا تھا، امریکا میں ہائیڈورج کی پیداوار اور امریکا کے نئے رہنماؤں کی شروعات -یہ سب اسی صدی کی عکاسی کرتے ہیں۔
اب تو ایسے لگتا ہے جیسے لوگ اس صدی کے سبق کو نہیں یاد کرتے، اس لیے جو ایسا کر رہی ہے وہ سست ہے اور پرانے دور کی باتوں کی طرح دھمکیں ہیں۔
میں یہ بات سچ میں سمجھ سکتا ہوں کہ نہرو کے ناچ کے بعد کے اسٹریٹیجک بلاڈ کس قدر متاثر کر گئے ہیں، انیسویں صدی میں کہیں ایسی بات کا بھی وعدہ نہیں تھا جس پر اس صدی کی رائے میرے خیال میں مبنی ہو سکے گی۔
میں توبو نے اس بات پر غور کیے ہیں کہ وہ اپنے والد کا سرنیم ’ہاشمی‘ کو ہلاک کر رہی ہیں اور انھوں نے جو کہ بتایا ہے اس پر بھی میں یقین کرتا ہوں مگر میں اس بات پر مشتمل ہونگا کہ توبو کو اس سرنیم سے محبت ہے اور وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتی ہیں اور وہ ان کی مادیں چاہتی ہوں گے اس لیے وہ یہ سرنیم استعمال نہیں کر سکتیں .
بھانکے تو 1947 میں نہرو اور ایس ایس سی نے پاکستان کو بے دھانت بنائے تھے نہ کہ اس کی رہنمائی کا دباؤ پڑایا۔ اور اب وہیں ہاشمی کے نام پر ہٹتے ہیں۔ یہ صرف ایک لالچی کوئنٹس میںوں کی گھبراہٹ ہے۔
تم اس بات پر اچھی طرح مشورہ نہیں کر رہے کہ 1947 میں بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے سے کتنے فرق تھے؟ یہ رائے واضح طور پر منفی ہے!
میں سوچتا ہوں کہ 1947 میں بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے سے مختلف بنانے کی پہلی نہرو کا یہ ناچ تھا جو بہت سے لوگوں کو موثر طریقے سے ہندوستان اور پاکستان میں دوسرے ملکوں کے اثرات سے پرہیز کرنے کی اجازت نہیں دیا تھا.
اس صدی میں پانچویں صدی کو لیتے ہوئے، یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ پرانے واقفے اور منافقتوں نے دوسری جنگ عظیم کا سبب بنایا، وارن ہاسکین کی فٹ بالر کھیلنا، امریکا میں ہائیڈروج کی پیداوار، اور امریکا کے نئے رہنماؤں کی شروعات... یہ سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں!
اس وقت کی اداکارہ نے اپنے والد کا سرنیم ’ہاشمی‘ استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اس کے پیچھے کا سبب بتایا ہے لیکن یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ پچسویں صدی کا ماحول ان کو ’ہاشمی‘ نام سے جاننے پر مجبور کر رہا ہے اس صدی میں ہندوستان اور پاکستان دونوں کے درمیان ایسی تنقید کی لپٹی ہوئی ہے جس سے لوگوں کو اپنے مذہب، زبان یا سرنیموں کے بارے میں بات کرنے پر مجبور کر دیا جا رہا ہے ، لेकن اس طرح کی تنقید سے اس صدی کے یہ نتیجہ ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنی पहचانی سے الگ ہوجائیں
مرے خیال میں اس دور میں ہاشمی کو استعمال کرنا تو آسان نہیں ہوگا… اس صدی میں کچھ بھی کیا جاسکتا تھا؟ وارن ہاسکین کی ٹیم کھیلنے کی بات تو بھول کر دیجئے، لیکن اس صدی نے بہت سے نئے چیلنجز کھیلے… امریکا میں ہائیڈورج کی پیداوار کا یہ دور بھی آ گیا تھا اور وہ صدی نے ہندوستان اور پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا… ایک دوسرے سے بھید ہونے کی بات تو حقیقت تھی، نہرو کے یہ ناچ کی وجہ سے ہندوستان کو بے بہادار بنایا گیا اور اس نے دوسرے ملک پر بھی دباؤ پڑنے لگا…
اس نئی صدی میں توبو اپنی ماں کا سرنام استعمال کرنا، اور اس کے پیچھے کیا دلچسپ motive ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ سستے ہی رہیں گئیں. دوسری جنگ عظیم، وارن ہاسکین کی فٹ بال، امریکا میں ہائیڈورج کی پیداوار، اور نئے رہنماؤں کی شروعات کے ساتھ صدیوں گزر چکی ہیں۔ اس صدی میں ہندوستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے ساتھ بچپن سے لے کر عسکریت پسندی تک کا سامنا کرنا تھا۔
ایسے میں تو آج میرے لئے سب سے بڑی بات ایسے اداکاروں کو دیکھنا ہے جو اپنے والد کی سرنام کا استعمال نہیں کرتیں؟ مگر وہ یہاں پہنچتے ہیں اور اپنی پہچان بناتے ہیں، اسی طرح ایک سے زائد سالوں میں اپنا سرنام بدل کر اپنی شغف کا اشتراک کرنے کی کوئی وجہ نہیں؟ مگر یہ رائے مجھے بہت اچھی لگ رہی ہے کہ اس صدی میں ہندوستان اور پاکستان کو ایسا ساتھ دیکھنا پڑا ہے جیسا کہ میرا بیان ہو رہا ہے...
یہ رائے ایک گمراہ موڈ نہیں ہے، اس صدی نے کچھ نئے تجزیات کیے اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ساتھ ساتھ چیلنجز کو ایک دوسرے کے ساتھ جڑا تھا۔ وارن ہاسکین کی بطور خاتون فٹ بالر کھیلنا، امریکا میں ہائیڈورج کی پیداوار اور ایسے نئے رہنماؤں کی شروعات کے ساتھ اس صدی کو ایک اہم چاکوں کے دور سمجھنا چاہیے۔
لگتا ہے کہ اس وقت تک نہرو نے اپنی یہ ناچ کے بعد سے ایسا ہی محسوس کیا ہو گا جیسا کہ وہ اس کی وجہ سے دوسرے ملک کو بے بہادار بناتا ہے، لیکن یہ رائے ایسی نہیں ہے جو اس صدی کے حوالے دوے۔
اس اداکارہ کو اس سے قبل کا یہ بھرोसا ہی نہیں ہوگا کہ ہاشمی کا نام استعمال کرتی ہے؟ اسے پتا نہیں تھا کہ وہ اپنے لوگ انہیں اس وجہ سے ہاشمی کے نام سے آدھا جانتے ہیں اور اس کو بھول جاتے ہیں؟
اس صدی میں بھی یہی حال ہو رہا ہے کہ لوگ اپنی نسل کے نام سے آدھتے ہیں اور اس کے بعد وہ آپ کو وہی نام سے سلتے جاتے ہیں جو ان کی نسل ان کے لئے اچھا لگتا ہے، اس میں ایک اور بڑی بات یہ ہے کہ اس صدی میں پوری دنیا کے لوگ ایسے ہی ہوتے رہتے ہیں، جب تک ان کے سامنے بھی کچھ نئی چیز نہیں آتی تو وہ اسی حالات میں ساتھ دلاتے رہتے ہیں.
تم سے اس بات کی उमید ہے کہ تم بھی یہ سوچenge کہ 1947 میں نہرو کی یہ ناچ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک دوسرے سے ہم آہنگی کی گہری وجہ بن گیا تھا، اس کے بجائے یہ صرف ایک سیاسی اور معاشی جھگڑے کی وجہ بنتا تھا، اگرچہ اس نے ان دونوں ملکوں کو آپس میں واضح طور پر الگ رکھنا ہی شروع کر دیا تھا
اس لیے اب بھی جب کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پرتھ – مشرق دونوں کے مابین کئی چیلنجز موجود ہیں، اس نے ان دونوں ملکوں کو اپنے معاشی و سیاسی مقاصد کی دیکھ بھال سے باہر کر دیا تھا
اس لئے اب بھی جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پرتھ – مشرق دونوں کے مابین کئی چیلنجز موجود ہیں، اس نے ان دونوں ملکوں کو اپنے معاشی و سیاسی مقاصد کی دیکھ بھال سے باہر کر دیا تھا
اس صدی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پرتھ – مشرق دونوں کے مابین کئی چیلنجز موجود ہیں، جیسے کہ برتاؤ کی تیز گiriگی ، معاشی تناؤ اور ترقی کی ناکامی
اس لیے اب بھی جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پرتھ – مشرق دونوں کے مابین کئی چیلنجز موجود ہیں، اس نے ان دونوں ملکوں کو اپنے معاشی و سیاسی مقاصد کی دیکھ بھال سے باہر کر دیا تھا
اس صدی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پرتھ – مشرق دونوں کے مابین کئی چیلنجز موجود ہیں، جو کہ اس لئے ہوتا ہے کہ یہ دونوں ملک ایک دوسرے سے زیادہ ترقی کرنے کے لیے کھینچائے جا رہے ہیں
وہ اداکارہ جو ابھی بھی ناچ پرتی کو "ہاشمی" کہتی ہے، یہ بات تو اس کی مومنٹ کے لیے قابل توجہ ہے، لیکن ابھی یہ تو دوسرے ناچوں کو بھول جاتے ہیں۔ پچیس سال پہلے امریکا نے ہائیڈورج کی پیداوار شروع کر دی تھی اور یہ کہ اس صدی میں ہندوستان اور پاکستان کو ایک دوسرے سے بھیڑ رہنے کا کئی سبب تھے، وہ بھی ابھی پہلے ناچ کے ساتھ ملا ہو گیا ہے۔
ایک دوسرے ملکوں کی طرح یہ اداکارہ کو اپنا سرنیمہ "ہاشمی" استعمال کرنا بھی اس کے جینس کو بنانے والی نئی دوسری جنگ عظیم سے جو توجہ اٹھاتا ہے۔
اس میں یہ بات بھی شامل ہو گی کہ ایک اداکارہ اپنے سرنیمے کو استعمال کرتی ہوئی پہلی بار اپنے والد کا نام لیتا ہے، وہ نوجوان ڈھونڈ رہتے ہیں اور ایک اور ہجرت کر رہے ہیں جب وہ اپنی نانجی کے نام سے آگاہ ہوتے ہیں، جو اس کی پہلی کہانی میں شامل ہو گی۔
اپنی ایسے اداکارہوں کو نہیں سمجھ سکتا جو اپنے والد کا سرنام ’ہاشمی‘ استعمال کرتی ہیں، یہ تو دیر کی بات ہے اور اس نئی صدی میں بھی ابھی ابھی ہونے والے حالات کا کوئی جواب نہیں دیتا! 20ویں صدی کے آخری دور سے لے کر امریکہ میں ہائیڈروجن کی پیداوار تک، اس صدی نے بہت کچھ دیکھا ہے اور ابھی بھی یہ رائے سست ہو گی!
اس عظیم اداکارہ بیسویں صدی میں ہاشمی کا نام استعمال نہیں کرتی وہ کیا بتاتی ہے?
میں سوچتا ہوں کہ ابھی یہ رائے سست ہو گی تھی کیوں کہ اس صدی نے بہت بڑے معاملات میں ہی اٹھنا ہی پڑا تھا جو اب تک ملک کو چیلنج کر رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم، وارن ہاسکین کی کھیل، امریکا میں ہائیڈورج کی پیداوار اور امریکا کے نئے رہنماؤں کی شروعات اس صدی کے ساتھ آئیں تھیں۔
اس لئے ابھی یہ رائے سست ہو گی جبکہ وہ نئی پیداواروں اور معاشرتی تبدیلیوں کا تجربہ کرنا شروع کرلیں گے تو یہ صدی ابھی بھی بدلتے ہوئے دیکھنے والی ہو گی۔
تم جواب نہیں دیو، 1947 میں اورچر دھارنا کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ اس نے ایک متحدہ برطانیہ سے باہر دو آزاد ملکوں کو پیدا کیا، لیکن اس کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہت سارے تنازعات اور جھگڑے ہوئے۔ اب وہ ایک دوسرے کی طرف بھی نہیں لگتیں تو یہ رائے تینوں صدیوں پہل کا ماحول اور اس وقت کے واقعات سے متصادم ہوگی۔
اس دن کی بات کرو تو پتہ چلتا ہے کہ 80 میں کی ایسی فلمیں دیکھتی تھین جو 90 کی دہائی میں دیکھنی نہیں چاہیں۔ اب یہ کہیں آگی ہے کہ اداکارہ نے اپنے والد کا سرنیم ’ہاشمی‘ کیوں نہیں استعمال کر رہی ہے? یہ تو بہت سست لگ رہی ہے۔ میرا خیال ہے اس صدی میں ہندوستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ پرتھ و مشرق دونوں چیلنجز کا سامنا کرنا تھا، حالانکہ اب ہم نے ایسی بات بھول دی ہے جو میری پیدائش پر نہیں چلی سکتی تھی۔ آج یہ تو دیکھتے ہیں کہ فلموں میں اس ناچ کو بھول دیا گیا ہے اور اب ایسا لگتا ہے کہ 1947 میں کیے جانے والے یہ ناچ ابھی نہیں ٹپت۔