terrorist and their facilitators field marshal will be spared under any circumstances field marshal | Express News

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردوں کی ایک لامپ اٹھانے پر پاک فوج اور ہور سیکوریٹی فورسز کے کارکنان کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال میں کسی بھی دہشت گرد یا اس کی سہولت کو نہیں بخشنے دیتے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بتایا کہ وہ بلوچستان میں مفرور اور پشت پناہی سے سرگرم بین الاقوامی سطح پر نامزد دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان کی جانب سے تعینات ہونے والی دہشت گردی میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے حملوں پر مؤثر رد عمل دینے کے بعد انہوں نے اپنے سہولت کار کو نہیں بخشایا اور وہی دھمکی دیتے رہے گئے، جیسا کہ وہ دہشت گردی کی پھپھڑیوں کو روکنے میں ناکام ہوئے تھے اور وہ ان کی دھمکیوں پر بھاگتے رہے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل کو کوئٹہ میں بلوچستان کے پلیٹفارم پر جانے سے ان کی اہمیت، لچک اور بہادری کا شکر غڑار ہوا جس نے دہشت گردی کو روکنے میں ناکام ہونے کے بجائے انہیں منہ سے جواب دیا اور ایک مؤثر رد عمل پیش کیا۔
 
بھائی، اس صورتحال کو سمجھنا بہت چیلنج ہے... دہشت گردی کی ناکاموں پر توجہ دینا اور انہیں روکنا مشکل ہے... مگر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا جو کہنا ہوا ہے وہ ہماری راہ میں آئے ہیں... انھوں نے دہشت گردی کی ایک لامپ ہٹانے پر ہر کوئی سراہ رہا اور انہیں واضح کیا کہ انھیں کسی بھی دہشت گرد یا اس کی سہولت کو نہیں بخشنے دینا چاہئے...
 
سے پوچھنا ہوتا ہے کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یہ سہولت نہیں بخشنے کی واضح رائے ہے یا نہیں؟ آج بھی دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کے ساتھ کوئٹہ میں جائے تو وہ پھر ایک نئی پالسی تیار کریں گے؟
 
اس صورتحال کی جھڑپوں میں فیلڈ مارشل کو بھاگتے ہوئے دہشت گردوں کو سراہتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جو کہ غلطی ہے، یہ کہنے کے بجائے کہ وہ اس وقت ان کی سہولت کو نہیں دیتے۔ فیلڈ مارشل اپنی باتوں سے ایک بڑا پیغام دینے لگے ہیں کہ وہ اس صورتحال میں کسی بھی دہشت گرد کو نہیں بخشنے دیتے، یہ تو صحیح بات ہے لیکن انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر نامزد دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان کی جانب سے تعینات ہونے والی دہشت گردی میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فیلڈ مارشل کو وہی سہولت مل گئی ہوگی جو انہیں دہشت گردی کی پھپھڑیوں کو روکنے میں ناکام ہونے کے بعد ملا تھا، اس پر وہ کیسے جواب دیں گے؟
 
🤔 یہ واضح ہو چکا ہے کہ دہشت گردی کو روکنے کی قیادت کرتے وقت کسی بھی صورتحال میں پچھتھے لگنے سے بھی ناходت پیدا ہوسکتی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ہونے والے ایسی صورتحالوں میں توڑ پھوڑ نہا کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ اپنی ہر اہمیت کو اس وقت تک محفوظ رکھتے ہیں جب تک ان کے منہ سے جواب دیا جاسکتا ہو۔ اگر دہشت گردی کی پھپھڑیوں کو روکنے میں ناکام ہونے پر ان کی ہر دھمکی میں پچتھے لگنے کے بجائے وہ اپنی بہادری اور لچک کو ظاہر کرتے تو کامیابی مل جاتی۔
 
اس صورتحال میں دھمکی دیتے رہنے والے دہشت گردوں کو بھی ایسا ہی سامنا کروانا پڈتا ہے، جیسے ان کی دھمکیوں پر ان کے سہولت کار نہیں مل رہے ۔ اس میں کچھ چاقلے ہیں جو وہاں موجود سیکیورٹی فورسز کو دھمکی دیتے رہتے ہیں تاکہ ان کو دھمکی لگنے کی اجازت نہ مل سکے اور انہیں اپنی سرگرمیوں پر چلنا پڈتا ہو۔
 
یہ پوری بات تو بالکل ٹھیک نہیں ہے کہ فیلڈ مارشل کو دہشت گردی کی پھپھڑیوں سے منہ سے جواب دیا ہے 🙄 یہ صرف ایک پلیٹ فارم پر جانے کی بات ہے نہیں، اس کے بعد کی کارروائی کا کوئی منفصل نہیں ہے جس سے وہ دہشت گردوں کی پھپھڑیوں کو روک سکیں گے اور ان پر مؤثر رد عمل دیا جا سکے گا 🤔
 
بھائیو، یہ دیکھنا ہی ناکام ہوتا ہے، بلوچستان میں دہشت گردوں کو روکنے کی وعدوں کی جیسے کوئٹہ کا پلیٹفارم جانا اور فیلڈ مارشل بھی نکل پڑتے ہیں تو بھی دہشت گردی نہیں روتی। میرا خیال ہے کہ پچاس سالوں سے ہو کر یہ صورتحال اٹھنی نہیں چلی، اور ایسی ہی وضاحت سے ہر بار یہRepeat ہونے کی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ دہشت گردی کو روکنے کی کوشش ہمیشہ سے ہو رہی ہے، اور یہ بھی نہیں بھولتا کہ اس صورتحال میں کسی بھی دہشت گرد کو ان کی مصلحت کا فائدہ برہم کیا جائے تو ہمیں کیا حاصل ہوگا؟
 
ایسا نہیں ہو سکتا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بلوچستان میں دہشت گردی کی پھپھڑیوں پر رکاوٹ لگ کر دیکھا جائے 🤔 اور انہوں نے اپنے سہولت کار کو نہیں بخشایا، اس کا مطلب یہ ہو گیا کہ وہ پہلے تو دھمکی دیتے رہے گئے اور اب وہ فری ہن ہیں 🤣

لیکن یہ تو ایک جسمانی کارروائی نہیں ہوتی، بلکہ اس صورتحال کو حل کرنے کا ایک ذہنی قدم بھی ہوتا ہے اور اگر انہوں نے اس صورتحال میں کسی دہشت گرد کو بخشنے کی کوشش نہیں کی تو وہ یقیناً پہلے ہی اپنی دھمکیوں پر چلا گیا اور اب وہ فری ہن ہیں

لگتا ہے کہ اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے ایک بہت سا جوش پزگ رہہ گیا ہے اور وہ لوگ جو دہشت گردی کی پھپھڑیوں پر چلے آئے ان کا خاتمہ کرنا بھی ضروری ہو گا، لیکن یہ سچ ہی بات ہے کہ اس صورتحال کو حل کرنے کی ایک اچھیStrategy ہوگی.
 
اس دھمکیوں پر بھاگنا اور ہر وہ شخص کو دھمکی دیتے رہنے سے کچھ نتیجہ نہیں ہوتا اور ان کے اس ماحول میں سرگرم بین الاقوامی سطح پر نامزد فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی بھی ابھی بھی جاری ہے 🤔
 
عصر پاکستان کی اس دیرہ دیرہ صورتحال میں یہی واضح ہوتا ہے کہ ہم سب کو ایسے لوگ سے ملنے والا ہوتا ہے جو وبا پر ہار کر نہیں جاتے اور یہاں تک کی صبر کرتے رہتے جب تک انھوں نے کوئٹہ کی پلیٹفارم سے جواب دیا اور ایک مؤثر رد عمل پیش کیا ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یہ جانب سے بھرپور تحریک و مشاورت ہے جس پر انھیں بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف ایک اہم کردار ادا کرنے کی اجازت دی گئی ۔
 
بھائی یہ بات تو بھی صراطِ معقولیت پر چلتی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بیانیہ میں کوئٹہ پلیٹ فارم پر جانے سے وہاں کے لوگوں کی جانب سے سہولت ملے گی یا نہیں؟ یہ ایک تیز ہلچل میں جھگڑا دیتا ہے کہ فیلڈ مارشل کو ان لوگوں کی جانب سے سہولت ملتی ہے یا نہیں؟
 
ایسے سیریلز کو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک بڑا نقطہ نظر پیش کیا ہے؟ وہ دہشت گردی سے لڑتے رہنے والوں کی جانب سے ایسے خطاب جیسے "دہشت گرد یا اس کی سہولت کو نہیں بخشنے دیتے" کے ساتھ اٹھتے ہوئے، مگر وہ ان لوگوں کی صحت کس طرح بچائی گئی؟ کیا انہوں نے اس وقت پہچان لیا تو کہ فیلڈ مارشل کا ایک چھپا ہوا جواب اچھا نہیں تھا؟
 
عاصم منیر کی باتوں کا بھل کھانے والا وہیڈی تھاک ہوا۔ دہشت گردوں پر دباؤ پڑنا اور ان کے کارروائیوں پر مؤثر رد عمل دینا ایک چیلنج ہے، لیکن وہ اس میں بھی ناکام ہوئے۔ فیلڈ مارشل کو تو دہشت گردوں کے سامنے سر پر ہونے کی ہمت ملی اور انہوں نے ان کی اہمیت کو اس میں بھی منا لیا۔ وہ تو پوری دuniya جانتے ہوں گے کہ انہوں نے بلوچستان میں دہشت گردوں کی ایک لامپ اٹھانے پر سراہتے ہوئے کیا کہیں? یہ تھاک کرنے والے والوں کو بھی چالاک ہونا ہوتا ہے۔
 
اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے، میری رائے یہ ہے کہ دہشت گردی ایسے دھندلوں کی بلاطفتی ہے جس پر ہر لوگ نظر نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے ان کی سرگرمیوں کو روکنے میں بھیProblem ہوتا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ہم ان دہشت گردوں کو روکنے کی کیوں نہیں کوشش کر رہے گئے؟ اگر ہم ان پر چار جھاد کروڈی نہیں کرتے تو وہ مزید تیز رفتار سے کام نہیں کرتا لیکن یہ بھی ایک بات ہے کہ دہشت گردی ایک جڑی مرض ہے جو اس کی وجہ سے ان کی سرگرمیوں کو روکنے میں بھیProblem ہوتا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ہم کو اس صورتحال پر ایک اچھی Strategy بنانے کی ضرورت ہے۔
 
سچ کی بات یہ ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کی صورتحال بہت Serious ہے اور اس کو دور کرنے کے لیے Pak Army aur security forces ko ek saath mil kr karya karna chahiye
 
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یہ پھر منظر بن رہی ہے جو سے ناکام ہونے پر ان کو تھوڑا بھی پچتا ہے
 
عسکریت پسندی سے نمٹنے کی Strategy بھی چیلنجنگ ہے, یہ کہ فیلڈ مارشل کو کیسے منہ سے جواب دیا جائے؟ وہاں پر دھمکیاں دی گئیں، تو اب وہاں پھر سے دھمکیاں دی گئیں، کیا یہ ایسا ہونا چاہیے؟ میں سہولت کی طرف بھگتنا نہیں چاہتا, بلکہ فیلڈ مارشل کی بات کو سمجھنے کی کوشिश کرنی چاہیے, کیا وہ پھر سے دھمکیاں دینا چاہتے ہیں؟
 
عاصم منیر کو بھی بھرپور ستایا جائے گا اس نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے تعینات دہشت گردوں کو ایک لامپ اٹھانے پر وہ بھی ان کے مقابلے میں آئے ۔

مگر یہ سوال ہے کہ وہ اس صورتحال میں ہر دہشت گرد کو پکڑ سکتے ہیں اور ان کی ایسی دھمکیوں پر جواب کس طرح دیجے گا؟
 
یہ تو لالچ کی دھمکیوں پر ان کا جواب دے رہے ہیں، بلوچستان میں سیرار بے پناہ ہو رہا ہے اور اس کو روکنے کے لئے ان کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں؟ فیلڈ مارشل کی جانب سے ان دہشت گردوں کو روکنے کی طاقت کیسے محسوس ہوئی؟ یہ بات بھی نہیں کہ وہ بلوچستان میں ایسی سہولت کی پالیسی کیوں چاہتے ہیں جو ان دہشت گردوں کو ایک اہم کردار ادا کرنے کے لئے مل جائے؟ یہ بات تو بھی نہیں کہ وہ پلیٹفارم پر جانے سے ان کی اہمیت، لچک اور بہادری کا شکر غڑار ہوا جس نے دہشت گردی کو روکنے میں ناکام ہونے کے بجائے انہیں منہ سے جواب دیا؟
 
واپس
Top