سینیٹ کا ایک اور اجلاس ہوا جس کے دوران سینیٹر شیری رحمان نے اپنے خطاب میں پی ٹی آئی رہنما فلک ناز چترالی کی کوشش پر توجہ دی تھی جو دو ماہ سے بانی پی ٹی آئی تک کسی کی رسائی نہیں کر سکے ہیں، جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حکومت کا کنٹرول اس معاملے پر نہیں ہے۔
انہوں نے ایکسپریس نیوز کو دھماکوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر خاموشی اختیار کی گئی تھی، جو ان کے لیے اپنے حوالے سے بہت پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ یہ معاملہ عدالت اور جیل حکام کے مابین ہے، حکومت کا کنٹرول اس معاملے پر نہیں ہے۔ وہ اپنے خطاب میں یہ بات ان پر ایک بار اور تھوڑی سادہ بات کرتے ہوئے کہتے ہیں.
سینیٹر عابد شیر علی نے بھی حلف اٹھایا جس کے بعد انہوں نے خود کو ایک نئے دور میں منتقل کرنے کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ساتھ حکومت کی ناکام پالیسیوں اور ان کے نتیجوں پر بھی ان کی نظر گری ہوئی تھی۔
یہ ایک بڑا مسئلہ ہے، جس سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ پی ٹی آئی کے ملازمین پر حکومت کی ناکام پالیسیوں اور ان کے توجہ سے بھگتے ہوئے معاملات پر یہ کنٹرول نہیں رکھتی۔ شیری رحمان کی باتوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حکومت کو ان معاملات پر توجہ دینا چاہیے، خاص طور پر جب اس پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے تو۔ فلک ناز کی کوشش میں یہ بات واضح ہورہی ہے کہ حکومت کو اپنی ناکام پالیسیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جب تک میں نہیں سمجھا یہ بات، پی ٹی آئی رہنما فلک کو دو ماہ سے کبھی بھی رسائی نہیں کر سکے ہیں اور اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حکومت کا کنٹرول اس معاملے پر نہیں ہے؟ اس کی گھبراہت ایکسپریس نیوز کو دھماکوں میں انسانوں کی جانوں کے ضیاع پر خاموشی اختیار کرنے پر ہوئی ہے، ان کے لیے یہ بہت پریشانی کی بات ہے؟
بھیڑ میں بیٹھ رہی ہیں، سینیٹر شیری رحمان کو جو پی ٹی آئی کا رہنما فلک ناز چترالی پر جوش تھا وہ اب جیسے ہی ان کی باتوں سے دور ہوا، اور یہ جاننا میں بہت مشق ہے کہ یہ معاملہ کس پر کنٹرول ہے؟ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دھمکاوں میں انسانوں کی جانوں پر خاموشی کی بات کی، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو بھی جانتے ہیں، اور وہ بھی نہیں سکتے کہ وہ جو کی گئی ہے اس پر چیلنج کریں?
اس معاملے میں وہ لوگ جو دھماکوں سے متاثر ہوئے ہیں، ان کے کس طرح کا تعرض اور شقص ہوا ہے اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لوگ جو رہنما فلک ناز چترالی کی جانب سے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ان دھماکوں کی سرگرمی کی ہوئی یہ بات بھی کیسے سکھا سکتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر حکومت کا کنٹرول نہیں رکھتے۔
میری رائے، یہ معاملہ بہت پریشان کن ہے. پی ٹی آئی کے ساتھ حکومت کی ناکام پالیسیاں تو ہیں لیکن اس معاملے میں ان کے کنٹرول پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو نہیں بناتے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان کا خطاب ان کی پریشانی کا ایک نئے دور میں بھی ہوا ہے، حالانکہ وہ اپنی پریشانیوں پر زور دیتے ہوئے سینیٹر فلک ناز چترالی کی کوششوں پر توجہ دی ہے۔ یہ معاملہ کس سے لڑنا پڑتا ہے۔ اچھا واضع کچھ نہیں کرتے تو دھماکوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر خاموشی اختیار کر گئی، اس لیے یہ معاملہ عدالت اور جیل حکام کے مابین ہے۔
میری رائے، یہ معاملہ بہت پریشان کن ہے. پی ٹی آئی کے ساتھ حکومت کی ناکام پالیسیاں تو ہیں لیکن اس معاملے میں ان کے کنٹرول پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو نہیں بناتے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان کا خطاب ان کی پریشانی کا ایک نئے دور میں بھی ہوا ہے، حالانکہ وہ اپنی پریشانیوں پر زور دیتے ہوئے سینیٹر فلک ناز چترالی کی کوششوں پر توجہ دی ہے۔ یہ معاملہ کس سے لڑنا پڑتا ہے۔ اچھا واضع کچھ نہیں کرتے تو دھماکوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر خاموشی اختیار کر گئی، اس لیے یہ معاملہ عدالت اور جیل حکام کۑے مابین ہے۔
میری رائە، یہ معاملہ بہت پریشان کن ہے. پی ٹی آئی کے ساتھ حکومت کی ناکام پالیسیاں تو ہیں لیکن اس معاملے میں ان کے کنٹرول پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو نہیں بناتے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان کا خطاب ان کی پریشانی کا ایک نئے دور میں بھی ہوا ہے، حالانکہ وہ اپنی پریشانیوں پر زور دیتے ہوئے سینیٹر فلک ناز چترالی کی کوششوں پر توجہ دی ہے۔ یہ معاملہ کس سے لڑنا پڑتا ہے. اچھا واضع کچھ نہیں کرتے تو دھماکوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر خاموشی اختیار کر گئی، اس لیے یہ معاملہ عدالت اور جیل حکام کۑے مابین ہے۔
میری رائے، یہ معاملہ بہت پریشان کن ہے. پی ٹی آئی کے ساتھ حکومت کی ناکام پالیسیاں تو ہیں لیکن اس معاملے میں ان کے کنٹرول پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو نہیں بناتے ہیں. سینیٹر شیری رحمان کا خطاب ان کی پریشانی کا ایک نئے دور میں بھی ہوا ہے، حالانکہ وہ اپنی پریشانیوں پر زور دیتے ہوئے سینیٹر فلک ناز چترالی کی کوششوں پر توجہ دی ہے۔
اس معاملے میں ایسا لگتا ہے جیسے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹر فلک ناز چترالی کو ایسی پلیٹ فارم دی ہوئی ہے جس پر انہوں نے اپنی کوششوں کی تجدید کرنے اور ان کی ایک بار فائنڈنگ سے قیمتی lesson لینے کی کوشش کی ہے۔
اس معاملے پر حکومت کا کنٹرول نہیں ہے، لیکن وفاقی وزیر قانون اعظم نے ایسا کہنا ہے جو معاملے کو حل کرنے میں مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان کی یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ حکومت کا کنٹرول اس معاملے پر نہیڰے، لیکن اس میں معاملے کو حل کرنے کا ایک منظر پیش کیا ہے۔
ایک بات واضح ہے یہ معاملہ پی ٹی آئی سے بہت زیادہ اچھا نہیں ہو رہا ہے، پہلے بھی جو ہوا تو اس پر حکومت کا کنٹرول نہیں تھا اور اب واضع طور پر بات چیت کی گئی ہے۔ یہ بھی بات واضح ہے کہ حکومت نے ایسے معاملات میں دھماکوں میں خاموشی اختیار کرنی چاہیے جہاں لوگ اپنے حقوق کی رکاوٹ کا شکار ہو رہے ہیں، نہ تو یہ بات واضح ہو سکتی ہے کہ حکومت کون سا معاملہ حل کرتی ہے اور کون ساتھ ساتھ نہیں ۔
اس معاملے پر لوگ کتنا خاموش ہو رہے ہیں؟ سینیٹر شیری رحمان نے جو کہہا، وہی حکومت کی کچھ سالوں سے چلی گئی ہے اور اب وہ کہتے ہیں کہ یہ معاملہ عدالت اور جیل حکام کے مابین ہے؟ لگتا ہے انھوں نے ایسا کہا ہے تاکہ وہ اپنے حوالے سے بھی نہیں ہوں۔ اور وہ فوری عمل نہیں کرنا چاہتے؟ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیز ہوئی تھا، لیکن جب وہ لوگ جو یہ معاملہ دیکھتے ہیں تو وہ خاموش رہتے ہیں؟ نہیں تو ایک بار انھوں نے بھی سوشل میڈیا پر کہا تھا اور اب انھیں یہ کہنا پڑ رہا ہے؟ ہم لوگ اس معاملے سے بات کرنے کی بہت سارے مظاہرے کرتے ہیں لیکن وہی بات یہ ہوتی ہے جو شیری رحمان نے کہی ہے، جس سے وہ اپنے حوالے سے زیادہ فخر کرتے ہیں.
نہیں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حکومت کو اس معاملے میں اچھا کردار ادا کرنا چاہیے بلکہ انہیں اس معاملے پر کنٹرول رکھنا چاہیے کیونکہ یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حکومت کو اس معاملے میں اچھی طرح جانتا ہے۔ اگر انہوں نے کنٹرول رکھا تو یہ معاملہ حل ہوجاتا۔
میں یہ بات سے انچاراج ہو رہا ہوں کہ وہ مظالم جو پی ٹی آئی کے خلاف لگائے گئے ہیں وہ حقیقی طور پر پھیل گئے ہیں؟ جب تک سینیٹر شیری رحمان نے ان کی باری میں توجہ دی، تو سب کو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ان کی باتوں پر یقین کرتے ہیں اور ان کی جانب سے ہٹنے والے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن اب جب وہ مجھے نہیں دیکھتے تو میں اس پر شک کر رہا ہوں