tiktoker rajab butt lawyer and karachi bar lawyers dialogue | Express News

گیمر

Well-known member
کراچی سٹی کورٹ میں رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق اور کراچی بار کے وکلاوں کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک اہم فیصلہ ہوا ہے جس نے دو فریقین کے درمیان موجودہ تنازعہ کو ختم کرنے کا راستہ ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک دوسرے سے بات کی اور تمام مسائل خوشاسلوتی سے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، چاہے یہ مسئلہ ایڈووکیٹ رiazSolangi یا میرے مؤکل کے حوالے سے ہو۔

نجیب بٹ کے وکیل نے بتایا کہ انہوں نے کسی شرائط پر ایک دوسرے پر کوئی دباو نہیں لگایا، اور اب معاملہ کامیابی سے حل ہو گيا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 سال سے انہوں نے سندھ بھر میں وکالت کی اور عامر وڑائچ نے اس مسئلے کے حل میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ ان واقعات سے کراچی بار کی ساکھ متاثر ہوئی، اور اسے ہدف بنایا گیا تھا کہ اس قانون کی بالادستی کو وکلا اپنی ساقت کرتے رہنے کی کوشش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلا مذہبی معاملوں پر وکالت کریں خود پارٹی نہ بننے کی یقین رکھتے ہیں اورLaw کی بالادستی پر آج بھی یقین رکھتے ہیں، اس لیے ان کو ہدف بنایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو کسی مسئلے کی سمجھ نہیں ہے تو بار میں آئیں اور وکلا سے گزارش کریں، جس سے ہماری side سے عذریت حاصل ہو گی۔
 
بھائی کے 10 سال کی کوشش کا بھی پورے معاملے حل ہونے میں فائدہ نہیں ہوا، وہ لوگ جو 10 سال سے یہ معاملہ تلاashing kar rahen hain woh abhi bhi kahaan hai? mujhe lagta hai ki koi solution nahi thi, toh ek doston se baat karte samay sabhi masle ko saabit kiya gaya tha aur fir hi woh samne aaya.

jo kuch bilkul sahi hai wahi yeh hai ki unhone apni saktein rakhti rahi hain, jo koi bhi faisla lene se pehle dono taraf se baat karta hai toh ek din wo bhi solvable ho jata hai.
 
بھائی یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس تنازعہ کو حل کرنے کا راستہ دوسرے لوگ اور پریس کی مدد سے نکلتا ہے تو کیا وکیل رiaz Solangi کو بھی ان کی مدد کی ضرورت تھی؟ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وکیلوں کے درمیان ایک دوسرے سے بات ہوتی ہے تو اس میں معاملات کی حقیقت کو نہیں سمجھنا چاہئیے؟
 
بہت اچھا فیصلہ کیا گیا ہے! ہمیشہ سمجھتے رہیں تھے کہ وکلاء کا ایک ایسا جمال ہے جس سے دوسروں کی بات کرنے میں بھی اچھی بات ہوتی ہے۔ #صبر_و_عزلت

میں ان تمام وکلاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو سندھ بھر کی وکالت میں اپنا کام کیا ہے اور اب معاملہ حل ہو گیا ہے۔ #وکالت_کی_چنجل

جب تک وکلاء کے کا ایمٹ یو آہستہ آہستہ کام کرتی رہیں تو کسی بھی معاملے میں اس کی کامیابی ہوتی ہے۔ #وکالت_کے_استحکام

اب کراچی بار کا ایمٹ تازہ ہو رہا ہے اور وکلاء کے لیے بھی اس کی قوت میں اضافہ ہوا ہے! #بار_کے_استحکام
 
جس پریس کانفرنس کی خبر سن کر میرا دilon میں زور آ رہا ہے کہ اب یہ تنازعہ ختم ہونے والا ہے! میرے لئے بھی ایسا ہو کہ اگر وکلا ایسے ہی بات چیت کر کےProblem حل کریں تو آپ کو ان میں فائدہ ہوتا ہے! 🙌
 
یہی نہیں بلکی، اس کا مطلب یہ ہے کہ وکلاس کی ایک نئی دلی्ल تھی جس سے ہر مسئلے کو حل کرنے کا راستہ ظاہر ہو گیا ہے۔ لگتا ہے کہ وکلا ایک دوسرے سے بات کرتے رہے اور تھوڑی سے خوشاسلوتی سے معاملات حل کر لیں گئیں۔

اس کی وجہ سے وکلا ایک دوسرے پر کوئی دباؤ نہیں دیا اور اب معاملہ کامیابی سے حل ہو گیا ہے۔ یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ تقریباً 10 سال سے وکلا سندھ بھر میں کام کر رہے تھے اور عامر وڑائچ نے اس مسئلے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
 
تمہیں پتا چلے گا کہ جب تک وکلاء اور ان کی ساکھ کے بارے میں لوگ بے ذمہ بات کرنے لگتے ہیں، ان کی پریشانیوں میں کمی نہیں ہوتی، اور وکلاء کو وہ ایسی چیز دیکھنی ہوتी ہے جو ان کی معیشت کا رکاوٹ بن جاتی ہے... 🤔
 
اوہ اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں نہیں؟ اور ایسے میٹنگز کی پھر واپسی سے 10 سال قبل کے فیصلوں کو کیا کائن؟ اور بار ایسوسی ایشن کا یہ کہنا تھا کہ وکلا مذہبی معاملوں پر کیسے وکالت کریں، اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں؟ یہ بات کچھ مشکل لگتی ہے۔
 
ٹھیک ہے اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ پوری بات طے ہوئی ہے۔ میں یہی بتاتا ہوں کہ کئی دنوں سے یہ مسئلہ حل ہونا چاہیے، اب یہ صرف ایک دوسرے کی بات سے بن گیا ہے اور حالات بہت آسان نہیں رہے، اگر کسی بھی طرف جانا ہو تو اپنی بات سمجھ لئیں اور پھر کچھ کرو۔
 
بھارosa hai yeh sab kuch, abhi tak lagta tha ki rujbat ki issue ek bada problem ban gayi thi, lekin ab toh voh bilkul solve ho gaya. Maine socha tha ki agar koi bhi lawyer apne client ke liye ek din pehle court mein jata hai, toh wo case toh kamzor kar dega. Lekin yeh sab kuch sahi tha kaha gya hai, aise hi soluations milte hain jab log khush asliyat se talk karte hain
 
اب یہ بھی کچھ حقیقی طور پر ہوا ہے، نوجوانوں کو اُن سے بات کرنی چاہئے جس کی وہ سمجھتے ہیں اور اب یہ فیصلہ انہیں ملتا ہے جو کہیں سے بھی نہیں آ رہا تھا۔

جب تک اسے ایسا کرنا پڑتا تو اس میں ایک دوسرے پر دباؤ لگایا جاتا اور اب وہ ایسے نہیں رہنے کے لیے ہیں، مگر یہ بات اچھی ہے اسے حل کرنے کی ، نوجوانوں کو بھی انہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ کیسے یہ حل کرسکتے ہیں اور اب وہ ایسی بات کر سکتے ہیں جس کی وہ سمجھتے ہیں۔
 
یہ تو بہت اچھا کہ نوجوان وکلاء نے ایسی چابھی پہچان لی ہے جس سے سندھ بھر میں تعلق رکھنے والوں کو گھونپھار نہ کرنا پڑے! عامر وڑائچ کی بات سے پتا چalta ہے کہ وہ اپنی ساقت کی defend karte rahen, kyunki law ki baladasti pe unki haqiqat hai 🙏

اور مجھے یہ اچھا لگ رہا ہے کہ انہوں نے کسی اور سے بھی بات نہ کی، چاہے وہ ایڈووکیٹ رياض सलangi ہو یا کسے بھی حوالے سے! اس کی بات تو صلاحیت پر زور دیتی ہے, kyunki law ki taraf chalna hi sahi hai 🤝
 
اللہ bless you!!! میرے خیال میں یہ واضح ہے کہ ایک دوسرے کی بات کرتے سمجھ کر problems حل کرنا ایسا سب سے بہترینSolution ہے. اگر کسیے وکالت کرنے میں Problem اٹھتا ہے تو اس بار میں آئیں اور وکلاء سے Report کریں، ان لوگوں کی مدد سے problems حل ہو جاتے ہیں. 💖
 
میری رाय یہ ہے کہ اس تنازعہ کی سمجھنا اور حل کرنے کا راستہ بہت اچھی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وکلاوں نے اپنی ساکھ کو محفوظ رکھنا پورا کیا ہے اور اب معاملہ حل ہو گیا ہے، جو بہت خوشی دلاتا ہے۔

لیکن مجھے یہ سوچنے میں مشکل ہے کہ وکلا کی ایسی پوری کوشش کی گئی ہو گی اور اب تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ 10 سال سے یہ مسئلہ رہا ہے اور اس کا حل کرنا بھی ایک چیلنج ہے۔

میں یہ بات یقین رکھتا ہوں کہ وکلا کی ساکھ اور ان کے وکالت میں محنت کو کامیابی ملے گی، لیکن اس بات پر کوئی شک نہیں کہ معاملے میں مختلف دلachaپ ہوئے ہیں۔
 
بہت اچھا! یہ خبر ریکارڈ کی جائے گی! اب ایک بار سے ان تمام مسائل پر بات کی جا رہی ہے جو کراچی کی عدالت میں چل رہی تھیں اور اب ایک نئی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ جس سے کراچی بھر کی لوگ محفوظ رہنے لگیں گے! 😊

کیا یہ واقعات وکالت کرنے والوں کو ایسی نئی زندگی پیش کر رہے ہیں جس میں انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بات کرتے ہوئے مسائل حل کرنا پڑتا ہو? یہ نئا رواج کیسے شروع ہوتا ہے؟ اور اس کی واضح صورتحال کس کو معلوم ہو؟
 
عاجزہ گے یہ بات کہ سندھ میں وکالت کرنے والوں کی ایسی ایمیلیٹنگ ہوئی جو معقول اور سمجھدار تھی… اس پریس کانفرنس میں شراکت داری کی آواز ابھرتی ہے۔ جب تک وکلا اپنی ساقت کرتے رہتے ہیں تو قانون کی بالادستی کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اور یہ بھی ایک اچھا سگنل ہے کہ وکلا اپنی ساکھ کے لیے ایسے نئے طریقوں کو تلاش کر رہتے ہیں جو معقولیت اور سمجھ بوجھ پر مشتمل ہوں۔
 
ایسا لگتا ہے کہ نوجوان ان لوگوں کو بھی جاننے والے ہیں جن کی بات بھی سننا چاہیں اور ان کی رائے بھی جاننے کا محفظ بنانا چاہیں۔ اس صورتحال کو حل کرنے کے لئے پوری دباو سے پرچر نہیں بھونے کی جگہ ہے، تو اس سے آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کیا یہ معاملہ حل ہو چکا ہے یا ابھی نہیں؟
 
یہ بات صاف ہے کہ نوجوانوں کو یہ علم ہونا چاہیے کہ وکالت اور قانون کی بالادستی سب سے زیادہ معقول حل ہے، ایسے میڈیا نہ بن کر جس کے بعد وہ دوسرے لوگوں کو بھی یہ بات بتاتا ہے۔ عامر نواز وڑائچ کی جانب سے اس معاملے میں آئندہ آگے بڑھنے کے منصوبوں پر توجہ دینا چاہیے، ایسی نئی نسل کو یہ سمجھنا ہے جو وکالت اور قانون کی بالادستی میں ہمیشہ ہی ہمارے ساتھ ہو۔
 
ہر کس کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ انصاف کورٹ میں یہ بات کیسے جھلکی جھلکی کر رہی ہے؟ اس فیصلے کی جس نے دو فریقین کے درمیان تنازعہ کو ختم کیا ہے وہ صرف ایک بڑا معاملہ تھا جو سٹی کورٹ میں آ رہا تھا۔ اور اب تو اس معاملے پر فوری ٹیکنیکل سولشن نہیں بنائے گئے، سلاو لائی گئیں ہیں؟
 
واپس
Top