اسلام آباد میں تنخواہ دار طبقے نے ملک کے دباؤ کی وجہ سے 315 ارب روپے تک انکم ٹیکس ادا کر دیا ہے جو رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران وصول ہونے والی رقم سے 10 فیصد زیادہ ہے۔
تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانے والے انکم ٹیکس میں مزید اضافہ ہوگئا ہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں وصول ہونے والی رقم کے مقابلے میں 30 ارب روپے یا 10.5 فیصد زیادہ ہے۔
اسلام آباد میں ایف بی آر کے مطابق سرکاری و نجی شعبے کے تنخواہ دار افراد کی ٹیکس ادائیگیاں اسی مدت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ادا کردہ ٹیکس سے دگنا سے زیادہ رہیں ہیں۔
تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانے والے انکم ٹیکس میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو 315 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں اور یہ رقم بک ایڈجسٹمنٹ کے بغیر ہے اور اس میں وہ ادائیگیاں بھی شامل نہیں جو بعض کنٹریکٹ ملازمتین نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 153-بی کے تحت کیں۔
تنخواہ دار طبقہ بدستور غیر متناسب ٹیکس بوجھ کا شکار ہے اور حکومت کی سست روی کی پالیسی کا خمیازہ بھگت رہا ہے، حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے دعوے محض زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں، جس کے نتیجے میں ہنرمند، انتہائی ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق گزشتہ کیلنڈر سال میں ملک چھوڑنے والے 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانیوں میں سے 2 لاکھ 54 ہزار 180 افراد ہنرمند، انتہائی ہنرمند یا اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ سے بچا ہوا ہے۔
اس ایسے ہفتے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالر آئی ٹی برآمدات سے کما رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں اب بھی ہنرمند افراد کام کر رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس حقیقت کو نظرانداز کیا جاتا ہے کہ حکومت نے ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے محض 1 فیصد کر دی ہے، لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کی بعض پابندیوں کے باعث زیادہ آمدن والے افراد کے لیے ٹیکس میں کمی ممکن نہیں ہو سکے گی۔
تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانے والے انکم ٹیکس میں مزید اضافہ ہوگئا ہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں وصول ہونے والی رقم کے مقابلے میں 30 ارب روپے یا 10.5 فیصد زیادہ ہے۔
اسلام آباد میں ایف بی آر کے مطابق سرکاری و نجی شعبے کے تنخواہ دار افراد کی ٹیکس ادائیگیاں اسی مدت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ادا کردہ ٹیکس سے دگنا سے زیادہ رہیں ہیں۔
تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانے والے انکم ٹیکس میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو 315 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں اور یہ رقم بک ایڈجسٹمنٹ کے بغیر ہے اور اس میں وہ ادائیگیاں بھی شامل نہیں جو بعض کنٹریکٹ ملازمتین نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 153-بی کے تحت کیں۔
تنخواہ دار طبقہ بدستور غیر متناسب ٹیکس بوجھ کا شکار ہے اور حکومت کی سست روی کی پالیسی کا خمیازہ بھگت رہا ہے، حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے دعوے محض زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں، جس کے نتیجے میں ہنرمند، انتہائی ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق گزشتہ کیلنڈر سال میں ملک چھوڑنے والے 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانیوں میں سے 2 لاکھ 54 ہزار 180 افراد ہنرمند، انتہائی ہنرمند یا اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ سے بچا ہوا ہے۔
اس ایسے ہفتے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالر آئی ٹی برآمدات سے کما رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں اب بھی ہنرمند افراد کام کر رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس حقیقت کو نظرانداز کیا جاتا ہے کہ حکومت نے ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے محض 1 فیصد کر دی ہے، لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کی بعض پابندیوں کے باعث زیادہ آمدن والے افراد کے لیے ٹیکس میں کمی ممکن نہیں ہو سکے گی۔