اسلام آباد میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف سے ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ تاریخی، دوستانہ اور برادرانہ تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاک ترک تعلقات مشترکہ تاریخ، اقدار اور باہمی احترام پر مبنی ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔
اس موقع پر انھوں نے دوطرفہ دفاعی تعاون اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ترک چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سلچوک بیرقدار اوغلو نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کو سراہا۔
انھوں نے افغانستان سمیت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ترکی کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اس موقع پر انھوں نے تنازعات سے بچاؤ، باہمی مشاورت اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے collective سلامتی کو فروغ دینے پر زور دیا جب کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو خطے کے امن کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔
وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے مشکل اوقات میں ترک قیادت اور ترکی عوام کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت اور اصولی مؤقف پر دلی شکریہ ادا کیا اور دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاک ترک تعلقات مشترکہ تاریخ، اقدار اور باہمی احترام پر مبنی ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔
اس موقع پر انھوں نے دوطرفہ دفاعی تعاون اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ترک چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سلچوک بیرقدار اوغلو نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کو سراہا۔
انھوں نے افغانستان سمیت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ترکی کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اس موقع پر انھوں نے تنازعات سے بچاؤ، باہمی مشاورت اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے collective سلامتی کو فروغ دینے پر زور دیا جب کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو خطے کے امن کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔
وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے مشکل اوقات میں ترک قیادت اور ترکی عوام کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت اور اصولی مؤقف پر دلی شکریہ ادا کیا اور دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔