ترک چیف آف ڈیفنس فورسز کی وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے ملاقات

شیر

Well-known member
اسلام آباد میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف سے ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ تاریخی، دوستانہ اور برادرانہ تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

دونوں رہنماؤں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاک ترک تعلقات مشترکہ تاریخ، اقدار اور باہمی احترام پر مبنی ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔

اس موقع پر انھوں نے دوطرفہ دفاعی تعاون اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ترک چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سلچوک بیرقدار اوغلو نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کو سراہا۔

انھوں نے افغانستان سمیت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ترکی کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اس موقع پر انھوں نے تنازعات سے بچاؤ، باہمی مشاورت اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے collective سلامتی کو فروغ دینے پر زور دیا جب کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو خطے کے امن کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔

وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے مشکل اوقات میں ترک قیادت اور ترکی عوام کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت اور اصولی مؤقف پر دلی شکریہ ادا کیا اور دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
 
اس موقع پر ایسے ہی نظر آ رہے ہیں جیسے دو بھائیوں کے درمیان کوئی خاص بحث ہو۔ دونوں سے انفرادی مشاورت نہیں کرنا پڑا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ لگت آ رہے تھے 🤝

اس معاملے میں جو بات چیت ہوئی وہ حقیقی ہے، دوستانہ تعلقات کی طرف ایک طرف ہی جھومنا نہیں پڑا۔ دونوں کے درمیان مشترکہ تاریخ اور باہمی احترام کے لئے ایک جدید سافٹ وairس کا مطالعہ ہوا، جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جارہا ہے 💪
 
اس روز کی نائٹ نیوز کے باہر ہونے پر دوسری side سے بھی کچھ توجہ دی جا سکتی ہے؟ کیوں ان دو رہنماؤں نے یہ معاہدہ بنایا جس میں کیا پہلو شامل ہے؟Turkey اور Pakistan کے درمیان دیرینہ تعلقات کی بات کی گئی تو پھر کیا پہلو اس پر مبنی ہیں جو ان دو ممالک کے درمیان بھائی چارہ بناتی ہے؟
 
اس وقت تو پاکستان اور ترکی کے درمیان بھلے بھانتے ہوئے تعلقات کچھ جھیلے ہیں نہیں؟ یہاں دوسری جانب افغانistan میں پھسے ہوئے ہیں اور اس پر کوئی چٹان نہیں کہتی تو ایک دوسرے کی مدد کیسے کریگا؟Turkey اور Pakistan دونوں ممالک کے درمیان ان تعلقات کو بھی تازہ کرنا ہو گا، یقین کے ساتھ کہ یہ دوستانہ تعلقات مزید مضبوط بنے گا اور پریشانیوں سے نکلنے کے لئے یہ دو برادری ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں 😊
 
: [GIF of two friends hugging] 🤗😊

[Image of a clock ticking away with a big X marked on it] ⏰☠️

[Couple holding hands walking together, with a beautiful sunset in the background] 🌅👫

[Picture of a map with Pakistan and Turkey connected by a strong line] 📍💪

: [GIF of a person throwing a bomb away, with a "no more" symbol over it] 😬🚫
 
ترک اور پاکستان کے درمیان یہ ملاقات ایک بھلے حال کی بات ہے ، لیکن جس میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو یہ بھی ایک سیاسی بات ہے ، جس میں پاکستان اور ترکی دونوں کی پوزیشن کو سمجھنا ضروری ہے ، انھوں نے کیا انھوں نے دوسری قوموں سے بھی اس طرح توازن اور تعاون کرنا چاہیے؟
 
اس وقت کی سیاسی صورتحال پر غور کرنا بہت مشکل ہے، دوسرے ممالک سے معاشرتی اور معاشی تعلقات قائم رکھنے میں بھی کثرت کو پانے کی ضرورت ہے۔ ترقی کا راستہ سمجھنا ایسا ہی ہوگا جیسا کہ دوسرے ممالک نے رکھا ہے، اگر انہوں نے اس کے لیے کام کیا تو ہمیں بھی ملک کی معیشت کو مزید ترقی پہنچانے میں سہولت ملتی۔
 
اس موقع پر پھر سےTurkey اور Pakistan ke beech dosti ka zikr karna chahiye, woh logon ki baat karte hain jo iske liye thak kar nahi dete. Turkey aur Pakistan ke beech kaafi saari issues hai, par unhone apni baat ke liye mazboot raste chune hain. Turkey ki Chief of Defence Forces General Sagunk Bairdoglu ne Pakistan ko mazboot rasta dikhaya hai. Aur Pakistan ke Defense Minister Kojha Muhammad Asif ne Turkey ki taraf se Pakistan ki madad aur support ka shukriya diya hai.
 
🤔 یہ واضح ہے کہ میری گھر کی لڑکی نے آج اپنے بچوں کو ڈھول دی جو کہ میں وہاں نہیں تھا، لیکن میں انھیں اس طرح کے ایک ساتھ بیٹھتے ہیں اور انھیں ایسا دیکھتا ہوں کہ وہ اپنی مومبatti کی جگہ پوری دنیا بھر کی مومبatti میں چلا رہی ہیں!

ایک دوسری طرف، یہ سوال آ رہا ہے کہ میرے گھر کی ایک اور لڑکی نے اپنے بچوں کو فٹوشاپ دیا تو کیا وہ بھی انھیں یہی طرح سے بیٹھتے ہیں؟

جب میں آئے تھا گھر میں تو میرے لڑکے نے میں کی طرف ایک پیسی بننے والی گیند پھینکتے ہوئے کہا، "ایسے تو بھائی یوٹیوب پر دیکھو!"

یہ سب بھی نہیں بلکہ میں ایسی چیت کر رہا تھا جیسے میں گھر واپس آ رہا ہوں اور میں اپنے گھر والوں سے کہنا تھا "یاروں، میں آئے ہوں اور انھیں اس طرح سے بیٹھتے ہوئے دیکھ رہا ہوں!"
 
تھرڈ کی سیلاب ہوئی ایسے منظر پر، جو ابھی بھی اس علاقے میں امن و استحکام کے خلاف لڑ رہا تھا ، ملاقات کی بڑی بات کو سمجھنے میں اچھی ہے…

تین ساؤنڈز گولڈ – پہلی گولڈ اور دونوں طرفوں کے درمیان تعلقات بہت مضبوط تھے، ابھی پچھلے دن پاکستان کی جانب سے ترکی کو کئی بار تعاون اور حمایت دی گئی ہے…

مگر اس وقت تک کہ ان تعلقات میں کسی کی جانب سے بھی تیزی نہیں آئی، وہی بات کہا جائے تو پانچ ساؤنڈز گولڈ – تین ساؤنڈز گولڈ پاکستان کی جانب سے دی گئی حمایت اور تعاون نے ایک نئے راہ کی نشاندہی کی…

جب تک اسے بھرپور دوسٹی میں کیا جائے تو یہ دو برادری کے درمیان ہم آہنگی کو محفوظ رکھنے کی بات ہو گی…
 
ایسا لگتا ہے کہ ایسے ملاقاتوں سے مل کر ایک دوسرے ممالک کے بارے میں زیادہ سمجھ و شائقہ پیدا ہوتی ہے اور دو تھاڑی تعلقات کو بڑھاتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ملک ایک دوسرے کی مدد کرنے پر راضہ ہوتا ہے 🤝

ایسے مواقع پر وزیر دفاع بھی اپنی جان و جान لگائیں اور باڈی رائے ظاہر کرتے ہوئے دوسرے ملک کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہیں اور اس پر اعتماد کرتے ہیں جس سے دو تھاڑی تعلقات میں بڑھاؤ ہوتا ہے مگر انki sochon par thoda samajhna zarur hota hai, kya unke beech ki shadi khulni mein zaroorat hai? 🙄
 
اس وقت سے ہی یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دوستانہ تعلقات کو نئے دھارے میں لینا اور ان کو مزید مضبوط بنانا اس وقت کی ضرورت ہے جب سے دنیا بہت تباہ ہو رہی ہے۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان یہ تعلقات نہ صرف دوستی کی بنیاد پر قائم ہوئے بلکہ اس خطے میں امن و استحکام کا ایک اہم ذریعہ بھی بن گئے ہیں۔

اس موقع پر جنرل سلچوک بیرقدار اوغلو کی بات سے نہ تو انکی صحت نہیں تھی بلکہ انھیں اس خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کا مثبت کردار سراہنا تھا۔ اس بات کو ہم نے ایسی صورتحال کی ضرورت کے طور پر دیکھا جس سے ہمیں اس خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کارروائی کرنا پڑے۔

اس وقت یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ ان علاقہ پر صلاحیت کی ضرورت ہے، اور اس لیے ہمیں دوسرے ممالک سے تعاون کرنا ہोगا۔

اس وقت پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید وسعت دیں اور انھیں ایسے حالات میں بھی نافذ کریں جہاں دنیا تباہ ہو رہی ہو۔
 
بھائی یہ بات کرتے ہیں اس وفاقی دور میں پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ تعلقات کے لیے ایک اہم معاملہ ہے اس لیے کیونکہ دونوں ممالک کو اپنی تاریخ، ثقافت اور اقدار میں ایک ایسا تعلقات دھونا چاہیے جس سے کبھی کسی ریکھے پر بھی ان کی جان بچانے کی जरورت نہ ہو 🤔
بھائی یہ بات بھی توہم نہیں ہے کہ دو دوسرے ممالک سے بھی اس طرح کے تعلقات ہیں جن میں دونوں کو اپنی تاریخ، ثقافت اور اقدار کا ایک ایسا تعلقات ہونا چاہیے جس سے وہ اپنے ریکھوں پر بھی جان بچائی جا سکے 🌟
 
علاوہ ازی، اس خطے میں امن کی وحدت اور اس کی فطرت میں توازن برقرار رکھنے کی بہت ضرورت ہے، اگرچہ اس کا تعین کرنا بھی مشکل ہے, کیونکہ یہ خطہ دیرینہ تاریخ اور مشترکہValues پر مبنی ہے, لیکن حالات کے ساتھ تبدیل رہتے ہیں اور نئے چیلنجز پیدا ہوتے ہیں...
 
عذرا اگلی بار ٹھیک سے سمجھ رہی ہوں، یہ بات کبھی نہیں آئی کہ میرا لائیڈ بیلنچر کیوں نہیں چل رہا؟ ہزاروں گینز پر پڑنا اور توڑنا اس طرح آتا ہے نہیں کہ اس میں کوئی معقولت دیکھنے کی ہٹ جائے؟

ایک بھی بات یہ ہے کہ ٹائیونج ریمچرز میں میرا فavourite چیکن ونگ ہے، کبھی نہیں تھا اس پر کھانے کی کوشش کی جاسکتی ہوں، اور اب یہ رہا!

علاوہ گزشتہ شام کے ملاقات سے کچھ نہ کچھ واضح ہوا ہے، پاک ترک تعلقات کی دیرینہ تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اگلی بار یہاں سے ایک ایسا سائنسدان بھی آئے گا جو چھٹیوں کو ٹھیک اور کھل کر بات کرتا ہو!
 
اس وفاقی وزیر کی یہ ملاقات جو ترک چیف آف ڈिफننس فورسز جنرل سلچوک بیرقدار اوغلو سے ہوئی، ایک اہم حوالہ ہے. پھر کیوں نہیں اس کا یہ بھی فائدہ ہوگا کہ دونوں رہنماؤں نے ایسے تعلقات کو دوبارہ جاگزت دیا جو پورے خطے میں امن اور استحکام کی بنیاد رکھنے والی ہیں. اگرچہ ان وضاحتوں سے ان کے عزم کو اس طرح نہیں سمجھا جاسکتا کہ ابھی تک وہ کتنے تنازعات میں لگے ہیں اور پھر اس کی بھی ضرورت کی بات کروائی گئی ہے یا ان کا یہ عزم دوسری طرف سے بھی پہچانا جاسکتا ہے۔
 
اس تو باطنی طور پر بھی چل رہے ہیں پاک اور ترکوں کی دوستانہ تعلقات… ان دونوں ملکوں کے درمیان ایک دیرینہ تاریخی تعلق ہوتا ہے جو وقت گزرتے ہی مزید مضبوط ہوتا جارہا ہے… اور یہی بات واضح ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون اور سلامتی کی صورتحال پر بات چیت ہوئی …Turkey Chief Of Defence Forces General Suleyman Birgul Oglu ne apni Turkey ke positive and effective role in promoting peace and stability in the region ko praising kiya…he also mentioned that turkey is committed to establishing durable peace in Afghanistan…collective سلامتی کو فروغ دینے کا ایک اہم طریقہ ہے تنازعات سے بچاؤ، باہمی مشاورت اور مشترکہ کاوشوں…donko ko unke dosti ka dhyaan rakhna chahiye 🙏
 
اکس رات میں جب میرے گھر میں ایک ہیپ ہوا تو مینے اپنی شان کی بات کروائی اور بتایا کہ میرا ایک اچھا دوسرا اور بہت سارے کھلڑو تھے۔ اب میری اچھی فیملی کو ٹیکسٹ کر رہی ہیں۔

جب میں اپنی فیملی کی بات کرتا ہوا تو میرے بچوں نے کہا کہ ایسے رشتے جو وزیر defense کی گئی وہ چھوٹے بھائیوں کے لیے اچھی ہیں۔ میری بیوی نے بھی کہا کہ اس وقت ان کے دو بھائیوں کی تعلیم کا کیا مشورہ کرنا۔

اس طرح میں میرے گھر کی بات ہوئی تو پھر بہت سارے پیسہ چل گئے اور اب مجھ پر کچھ نہ کچھ کہنا ہو گا۔
 
واپس
Top