انطالیہ میں ایک مسافر بس نے بھاڑ کر شہر کے نیچے گہری کھائی میں جا کر 9 افراد کو فانی زندگی سے لے لی اور 26 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
شہر انطالیہ میں شدید بارش کی وجہ سے سڑکیں تیز رفتاری میں رہ گئیں، جس نے ایک مسافر بس کو توازن خोनے اور بھاڑ کر نیچے گھوس جانے پر مجبور کیا۔
حالانکہ اس مسافروں کی تعداد صرف 34 تھی، لیکن حادثے نے 9 زندگی کو لے لियا اور 26 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ جب ریسکیو ٹیمس اور امدادی ادارے اس مقام پر پہنچ گئے تو انھوں نے ہلاک Individuals کی لاشوں اور زخمی Individuals کو قریبی ہسپتال منتقل کیا ہیں۔
اس حادثے سے ہر ایک بے حد دुख ہوا ہے، یہ کہنے میں آسان نہیں کہ اسے ایسا کیسے کیا جاسکا۔ شہر انطالیہ میں شدید بارش کی وجہ سے اس طرح کے حادثات ہوتے رہتے ہیں، اور یہ ہمیں سکھانا چاہتا ہے کہ سڑکیں بھی اپنی حد تک تیز رہنے کی اجازت دتیں۔
ایسا کیسا ہوا، مسافروں کی جانوں کا یہ وارثہ حادثہ ہمیں پھنساتا ہے، اور اس نے انہیں جو فانی زندگی سے گزر رہے تھے اب اس کی لپٹ میں ہیں۔ ہو دیکھو، صرف ایک مسافروں کا تھا تو بھی انہیں ناکام کر دیا گیا۔ یہ ریسکیو ٹیمز اور امدادی اداروں کی ضرورت ہی ہے، لیکن اب یہ کہتے ہیں کہ 26 افراد زخمی، یہ تو تھوڑا سا بھرپور تھا۔
علاوہ ازیں یہ بارش شدید تھی، سڑکیں تیز ہوئیں اور ایک چoti چلتی بس کو اس میں کیسے کچل دیا گیا؟ ان سڑکوں پر سے یہ کتنے لوگ نکلتے تھے، اور اب وہیں ہیں۔
اس کے علاوہ کیا ایسا نہیں کرسکتا تھا؟ پورا یہ شہر ایک بھارپور نظام پر بنایا گیا تھا، سڑکیں اور ریسکیو ٹیمز کو پھیلائی ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔
یہ حادثہ تو بھی ایسا ہی کہنا مشکل ہے جیسا کہ شہر میں دائمی تیزگی کی کوشش کرنے والوں نے دائیں ہاتھ سے پھینکنے کو کمزور کیا ہے۔ انطالیہ میں شدید بارش کی وجہ سے رہائشیوں کو بھی کافی تrepidation لگ رہی ہے، لیکن ایسا دیکھنا مشکل ہے کہ شہریت کی یہ پابندی اتنی ہی اچھی نہ ہو سکتی ہے۔ اس حادثے کا یہ جو کہ دیکھنا مشکل ہے وہ شہر کی سڑکوں پر ایک اور ریل بہن کر رہی ہے، جس کی وجہ سے ان سڑکوں کا ایک پہلو نہیں چھوٹا، اور ایسے میں ہاتھ سے بھاگنے کی صورت ہوتی ہے۔
یہ حادثہ بہت دہرنہ ہوا ، تھیٹر میں کبھی نہیں ساڑنا چاہئیے اس طرح کی سڑکیں رکھنی چاہئیں تو بھی ان کے بارے میں سچائی کی جانے والی معلومات دی جانی چاہیں۔ 34 افراد کو وہاں سے باہر لاتے ہوئے نئی زندگی دی گئی اور اس کے بجائے یہ لوگ ایک دوسرے کی جان سے موت کے شکار ہوگئے۔ ہمیشہ یہ سمجھنا چاہئیں کہ اس سڑکی پر ساتھ ساتھ اور ایک دوسرے کے لئے ہمیشہ بہت اچھا ریکارڈ بنانا چاہئیں۔ #سڑکیں_واحدات، #حفاظت_سائنس، #مرقوم_بھوکھے
मुझے کو یہ سوچنا ہی پٹا کہ کون سے لوگ اس جہنمی موسم کے وقت بھی انٹرنیٹ پر اپنے لیے فری مین ٹریننگ کی ذمہ داری لے رہے ہیں، ان کے پاس ایک ڈاتا سنسرز کرنے والا ایڈیٹر ہوگا تو وہ اس حادثے کو دیکھتے ہی بھارپور سیکھ لیتے اور میرے پچیس کے دور میں ایک ایسا منصوبہ بناتے جو اب تک نہیں ہوا، یوں تو یہ حادثہ ہوتا ہے تو وہ بھی سیکھتے اور اس کے بعد کئی دفعہ پھنسیں لگتیں رہیں گی۔
یہ حادثے کا خیال تو نہیں آ سکتا، ان 34 افراد کی تعداد بہت کم تھی، لیکن وہوں تک کہ اس میں 9 افراد کی جان لے لی گئی! یہ ایک بے حسی صورتحال ہے جس کا جواب نہیں مل سکتا، تیزرفتار کی سڑکیں اور عدم پابندی کو نہیں جاننا بہت خطرناک ہوتا ہے۔
اس حادثے نے میرا دل توٹایا ہے، ان مسافروں کی جانوں کو کیسے لے لیا گیا? 34 افراد تھے جو اس رासے پر چل رہے تھے اور 9 افراد ایسے ہی جانگئے جن کا فانی زندگی سے خاطر بڑھنے کی کوئی چانس نہیں تھی... ان زخمی Individuals کو بھی جلد سے ٹیٹری دی گئی اور ہسپتال منتقل کیا گیا تو، یہ سارے واقعات تو کیسے ہوئے؟
اس حادثے سے تھکنے کا انمٹ کئی دنوں گزرنے پڑ سکتے ہیں، لیکن یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ 34 افراد کی تعداد کو بھی اس حادثے میں شامل کرنا نہیں چاہیے، پھر کیئے جانے والے 9 لوگوں کو فانی زندگی سے لی لینا اور 26 افراد کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے ٹیکسٹر اور پولیس کی تیز رفتاروں کی ضرورت ہیں
اس حادثے پر یہ اہم بات یہ ہے کہ اس میں زخمی ہونے والوں کو وقت پر ٹیکسٹر اور امدادی وسائل کی ضرورت ہے، تاکہ ان کو ٹھیک نہیں کرنے کا موقع دیتے ہیں وغیرہ۔
اس حادثے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 26 ہے اور ان میں سے 12 افراد کمزور ہیں، اس لیے انھیں وقت پر امدادی کے وسائل کی ضرورت ہے۔
اس حادثے نے لاکھوں لوگوں کو گھبراہٹ کا سامنا کرنے پڑایا اور ان لوگوں کی فAMILیوں کو بھی ٹھکوا دیا ہے، اس حادثے نے صاف و ثبوت سے یہ بات یقینی بنا دئے ہیں کہ سڑکیں اور اس پر ریکروٹس کی کامیابی بھی انسان کی زندگی کو جینے کی صورت میں ہی ممکن ہے!
یہ سچ بھرپور دکھ ہے، ان لوگوں نے اپنی زندگیوں کو جانیں اور پھر بھی ہمیں کیسے یاد رہ گئے ان کے دل کی دھڑکنوں سے؟ انطالیہ میں بارش کا منظر تو نظر آتا تھا، لیکن وہاں یہ نہیں تھا جسے ہم دیکھ رہے تھے... 34 افراد، انkiyaan wapas jaane ke liye.
بصیرے سے ان لوگوں کی پریشانیوں کو لینا ایک بے قاعدہ کہلایا جاتا ہے، اور اس میں کوئی ذمہ داری نہیں ہو سکتی. بس چلا کر یہ پھر سے ہوتا رہے گا۔ بس کی ایک سے جائے تین، بس کے وہی چار تھے۔
یہ حادثہ بہت دوزخ دہ ہے! انطالیہ میں اچانک بارش نے ایک سڑک پر بھیڑ پھنڈار کیا اور اس سے ایسے کے ساتھ 9 جانوں کو لے لیا ہے، یہ حقیقت خوفناک ہے۔ بس پر پانی آ گیا تو وہاں رکھ کر نہیں کہ سکتا تھا اور اب اس میں ایسے لوگوں کی جانوں کو لے لیا ہے جو صرف اپنے گھر واپس چلنا چاہتے تھے۔ زخمی افراد کا بھی حال بہت اچھا نہیں ہوگا، ضروری ہے انھیں تیز سے ٹیسٹنگ اور مہرمل کیا جائے۔
عجب کی بات یہ ہوئی ایک بس میں سات افراد گिर گئے اور پچیس سے زائد لوگ زخمی ہوگئے… یہ وہاں کی بارش ہی نہیں بلکھر سڑکیں بھی تیز رفتاری میں رہ گئیں… ہمیں اور کس چیز کی ضرورت ہو گی؟ ایسا ہوا تو اس پر کس کا غور غور کرنا پڈا؟ بس سے نکلنے والے لوگ کیسے پھنس گئے? سڑک میں تو ایسی صورت حالوں کی بھی ضرورت نہیں…
اس حادثے کی واضح تھی جب ریسکیو ٹیم اور امدادی ادارے اس مقام پر پہنچ گئے تو انھوں نے 9 زندگی کو لے لیا ہوگا تو کیا وہیں سے یقین دہانی کرنا کہ تمام مسافروں کی جان بحال ہوجائیگی؟ 26 زخمی افراد ایسی تعداد ہے جس پر کسی بھی ٹیکنیکی ادارے سے ان کی بحالی نہیں ممکن ہو سکتی۔
اس حادثے نے شہر کے نیچے گہری کھائی میں کیا ہوا تھا، یہ بھی واضح ہے کہ سڑکیں شدید بارش کی وجہ سے توازن خोनے اور بھاڑ کر نیچے گھوس جانے پر مجبور ہوگئیں۔ لاکھوں کے مسافروں کے لیے ایسے مقامات کی یہ معیشت کیسے جاری رہ سکتی ہے جب ان لوگوں کو شدید خطرہ کا سامنا کرنا پڑتا ہو؟
یہ تو ایک دھیما موڈ پر لگتا ہے، یقین سے بھاڑ کر بس کو نیچے گھوسنا! کیا آپوں نے یہ دیکھا ہے؟ یہ حادثہ تو ایک ایسا لمحہ تھا جب لوگ اپنی زندگیوں کو توازن میں رکھ سکتے، اور اب ان کے خلاف صرف کچھ کی گئی ۔ مینوں نہیں سمجھایا کہ کوئی بھی شخص اس طرح ایک مسافر बस میں آتا ہے، یہ بھی تو ایک حادثہ تھا اور اب ان لوگوں کی زندگیوں پر کوئی پھیلان سے نہیں چکا۔
اس حادثے پر غم و غیر تھپک رہا ہے... اس میں نازک زندگیوں کو جان سے لے لیا گیا ہے اور کئی دوسرے لوگوں کو زخمی بھی ہوئے ہیں. ان حالات میں سب کچھ ایک تیز گزرنے والے ریلوے کے لاکھ لاکھ سڑکوں اور ٹرولز کی وجہ سے ہوا تھا... شہر میں شدید بارش کی وادی میں گزرنے والی ایک مسافر بس کو نہ تو ٹیکسٹائل کے لاکھوں نے روک دیا اور نہ ہی یہ ریلوے کے دھماکوں کی طرح تیز گزرنے والی سڑک نے اس کو روک دیا... ایسا بھی ہوا کہ 9 لوگوں کو فانی زندگی سے لے لیا گیا.
یہ عجیب ہے کہ دیکھنا ہوتا ہے کہ نامانع مسافروں کی وجہ سے ہی اس طرح کے حادثات ہو رہے ہیں۔ اور ابھی تو یہ بات آئی تھی کہ ایسے حادثات سے کیسے نجات حاصل کی جائے؟ لگتا ہے کہ سماجی طور پر معافیت کی محنے میں ہم سب گناہگار ہیں۔ اس نے یہاں یہ سوچ کر رکھ دیا تھا کہ ٹرانسپورٹ کو بھی اپنی جگہ سے نہیں اٹھا رہا ہو گا۔ حالانکہ اس کا مقصد اسے محفوظ بنانا تھا، اب وہی یہی دیکھ رہے ہیں۔
یہ ایک بے حد دیرپا حادثہ ہوا۔ لوگوں کی جانوں کی ہوئی جانیں تو اس کے لئے کوئی ذمہ نہیں ہے، बस کے پتھروں اور فوری طور پر نہیں آ رہا تھا ان لوگوں کو نجات دینے کی کوشش کی جا سکتی thi لیکن یہ حادثہ اس کی واقفیت سے بھر گئا ہو گا۔
اس طرح سے ایک ہی فوری ٹیم، ریسکیو اور امدادی کوششوں کی وجہ سے یہ حادثے کم نہیں تھا لیکن ابھی یہ بھی بات دیکھنا پڑے گی کہ فوری ٹیم پر کس طرح ان لوگوں کو نجات دلانے کی کوئی کوشش کی جا سکتی تھی اور اس حادثے میں کسی کی ذمہ داری سے کچھ بھی لگایا جا سکta.
اس حادثے پر دیکھا ہوا تو یہ بھی تھا کہ آدھی رات سے باھر نکلنے والوں کو کچھ بھی ہمیں بھگتنا پڑتا ہے اور اب وہ یہ سب کچھ ہونے پر لگا کر ہوا ہے۔ اتنے میں لوگوں کی ایک پینٹنگ بھی بن گئی جو ان کو جاندار کر رہی ہے کہ وہ اپنی جان پر نہیں چوکے لگاتے۔
اس حادثے سے ہر حد تک خوفناک ہے اور اس نے مجھے بہت دیر سے لگاتار پریشانیوں میں مبتلا کیا ہے۔ مسافر بیس کی سڑکیں تیز رفتاری میں رہ گئیں، اور اس نے ایک بھرپور حادثہ生ا دیا۔ 9 لوگوں کو اپنی زندگی سے لی لینے کے بعد، یہ حقیقت ایسا ہو رہی ہے جیسا کہ ہم نے اس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس کرتی ہیں۔ اس حادثے سے پہلے تک، میں ہی نہیں سوچتا تھا کہ یہ ایسا ہو سکta ہے۔ اب وہ لوگ جنہیں زخمی تھے ان کی حالت دیکھ کر مجھے بھی دیر سے لگاتار پریشانیوں میں مبتلا کیا گیا ہے۔
میری نظر اس حادثے پر توڑی ہوئی ہے، ان 9 کے لئے کیا کیا کر سکتے ہیں؟ ایک بس میں ہمیشہ ایسا ہی تھا جیسے اس میں سفر کرتے وقت اپنے اپنے دنیا کی چلن کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہو، لیکن اب یہ ایک دوسرے کے لئے جان کھونے جیسا ہوا ہے۔ اس حادثے نے 26 افراد کو بھی زخمی کر دیا ہے، حالانکہ ان میں سے کسی کی زندگی کو لینے کے بھی شکار نہیں ہوا تھا بلکہ یہ ایک دوسرے کی جان کو نقصان پہنچانے جیسا ہوا ہے۔