تحریک انصاف کی پالیسی میں ایک بڑا نقطہ تو ہے کہ وہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ میز پر بیٹھنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ اور اب بھی یہی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ملنے یا بات کرنے میں مجبور نہیں ہوتا۔
جیسا کہ جب تحریک انصاف اقتدار میں تھی تو بانی تحریک انصاف اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے اور مل کر کام کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، اسی طرح اب بھی یہی ہے۔
جنڈی پلیٹ پر اپوزیشن کی ایک پارٹی سے بات کرنے والے ملازمت والے فوجی اس وقت موجود تھے جب تحریک انصاف کا بانی وزیر اعظم تھے۔ اور وہ بھی اپوزیشن کے ساتھ نہیں ملتا تھا، بلکہ اس کی بجائے اس کے خلاف ڈبل ایجنٹ بنایا گیا۔
حال ہی میں تحریک انصاف کے رکن نے انھوں نے ڈبلیو اے اے کی ورکشاپ میں شرکت پر غدار کہہ دیا تھا، جو بھی Politics ہے۔
اب یہ پالیسی یہی نہیں رہی بلکہ اب تحریک انصاف کے لئے ایک نئی پالیسی تیار کی گئی ہے جس میں وہ سیاسی جماعتوں سے مل کر بات کرنے اور میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہونے کا عمل شروع کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بانی تحریک انصاف سے ملاقات کی تین بار دعوت دی ہے۔ لेकिन اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ اب یہی نہیں بلکہ انھوں نے ان کی ملاقات کیا تھا اور اچکزئی کو بھی خط لکھ کر سیکڑے ہی چلی گئے تھے۔
کیا یہ معاملہPolitics ہے، یا کیا اس میں کسی کی جان یا دلچسپی نہیں ہے؟ کیا کوئی جانتا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی کی پہلی بھی یہی رہی، اور اب وہ اس میں ایک نئی پہچان لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
politicist
جیسا کہ جب تحریک انصاف اقتدار میں تھی تو بانی تحریک انصاف اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے اور مل کر کام کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، اسی طرح اب بھی یہی ہے۔
جنڈی پلیٹ پر اپوزیشن کی ایک پارٹی سے بات کرنے والے ملازمت والے فوجی اس وقت موجود تھے جب تحریک انصاف کا بانی وزیر اعظم تھے۔ اور وہ بھی اپوزیشن کے ساتھ نہیں ملتا تھا، بلکہ اس کی بجائے اس کے خلاف ڈبل ایجنٹ بنایا گیا۔
حال ہی میں تحریک انصاف کے رکن نے انھوں نے ڈبلیو اے اے کی ورکشاپ میں شرکت پر غدار کہہ دیا تھا، جو بھی Politics ہے۔
اب یہ پالیسی یہی نہیں رہی بلکہ اب تحریک انصاف کے لئے ایک نئی پالیسی تیار کی گئی ہے جس میں وہ سیاسی جماعتوں سے مل کر بات کرنے اور میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہونے کا عمل شروع کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بانی تحریک انصاف سے ملاقات کی تین بار دعوت دی ہے۔ لेकिन اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ اب یہی نہیں بلکہ انھوں نے ان کی ملاقات کیا تھا اور اچکزئی کو بھی خط لکھ کر سیکڑے ہی چلی گئے تھے۔
کیا یہ معاملہPolitics ہے، یا کیا اس میں کسی کی جان یا دلچسپی نہیں ہے؟ کیا کوئی جانتا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی کی پہلی بھی یہی رہی، اور اب وہ اس میں ایک نئی پہچان لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
politicist