تحریک تحفظ آئین پاکستان نے قومی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے، جو نیشنل ڈائیالگ کمیٹی کی جانب سے منعقد ہونے والی تھی۔ نیشنل ڈائیالگ کمیٹی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان سے رابطہ کیا اور انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی، لیکن تحریک نے اس دعوت کوacceptable کرنے سے انکار کردیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے سابق رہنماؤں سے اظہارِ لاتعلقی کرتے ہوئے تحریک انصاف کی جانب سے کانفرنس میں شرکت کی دعوت کو مسترد کر دیا تھا، جس سے اس بات یقینی ہو گئی ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے قومی کانفرنس میں شرکت ممکن نہیں ہوسکتی ہے۔
اقوام متحدہ نے اپنے قومی مظاہرے کے منظر نامے کی جانب سے تحریک تحفظ آئین پاکستان کو کچھ انعامات اور مالی امدادی मदद دی تھی، لیکن اس بات پر یقین نہیں ہوسکتی ہے کہ انڈIAN اور ملائش برادریوں سے تعلق رکھنے والی تحریک انصاف کی جانب سے قومی کانفرنس میں شرکت کی یقین دلی ہو سکتی ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اگست 2023 کو اپنا آغاز کیا تھا، اور اس وقت تک وہ ایک بڑی سیاسی جماعت بن چکی ہے جو قومی سطح پر اپنی طاقت کی نشاندہی کر رہی ہے۔
عوام کو یہ بات بتائی جانی چاہیے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے نیشنل ڈائیالگ کمیٹی کی قومی کانفرنس میں شرکت سے انکار کرنا ایک بڑا غلطی ہے! یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے انھیں کچھ انعامات اور مالی امدادی मदद دی تھی، حالانکہ اس کی یہ معیار کوڈ کرنا کافی نا کافی ہے۔ جب سے تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اپنا آغاز کیا تھا تو لوگ انھیں ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، لیکن اب یہ وہی جماعت بن چکی ہے جو کسی بھی تحریک کو تنگ کر سکتی ہے!
عجیب بات یہ ہوگی کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ایسا decision لے لیا کہ وہ قومی کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا ہو گا، جبکہ وہ اپنی طاقت کی نشاندہی کرنے اور اپنی political ideology کے حوالے کرنے والی تمام parties کے ساتھ بھی ایسا decision لیتی ہو گی۔ یہاں تک کہ انہیں اقوام متحدہ نے کچھ انعامات اور مالی امدادی मदद دی، لیکن وہ اسے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یہ political situation ہمیں کہیں بھی ناایmandگی کی طرف لے جائے گا۔
یہ کچھ نا صحت مند ہوا، تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا، مگر یہ سچ ہے کہ وہ ایک بڑی جماعت بن رہی ہیں۔ اگر وہ اپنی طاقت کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے تو انہیں اس طرح کے معاملات میں خود کو شامل کرنا ضروری ہے۔ لیکن اور یہ بات بھی اچھی نہیں، کہ وہ اپنے سابق رہنماؤں سے اظہارِ لاتعلقی کرتے ہوئے تحریک انصاف کی جانب سے دعوت کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ بھی دیکھنا تھا کہ اقوام متحدہ نے اس جماعت کو کچھ انعامات اور مالی امدادی मदद دی ہے، لیکن یہ بات یقینی نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنی طاقت کی نشاندہی کر سکیں گے۔
یہ بات سے محو احترام ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے قومی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے، لیکن اس کی جانب سے کوئی غیر معروفی کا عمل نہیں ہوا ہو گا؟ یہ بات بھی یقینی ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے کانفرنس میں شرکت کی دعوت کو مسترد کر دیا گیا، لیکن اس کے بعد اس کو بھی اچھا نہ سمجھنا چاہئیے? تحریک تحفظ آئین پاکستان کو اپنی جدوجہد کی پوری کوشش کرنے کو یقین دیا جائے اور اس پر یہ بھی یقین دیا جائے کہ وہ اپنی طاقت کی نشاندہی کررہی ہے۔
جنوروں میں تھا، اس کونفیڈرنس میں انڈین اور ملائش برادریوں سے تعلق رکھنے والی تحریک انصاف کی شرکت ہوسکتی ہی نہیں؟ ایسا بھی محض ایک خیال تھا، لیکن آج یقین ہو گیا کہ اس بات پر کوئی شک نہیں رہ سکتا۔
اس کونفیڈرنس میں انڈین اور ملائش برادریوں کی شرکت کی واضح گنجائش تھی، لیکن تھیڈن ہل نے اپنی پچھی سے اس بات کو دور کیا اور اب وہاں اس سے محروم ہونا بھی جائز نہیں ہوتا۔
اس کونفیڰرنس کے منظر نامے سے تھیڈن ہل کو یہ فائدہ حاصل ہوسکتا تھا کہ وہ اپنی سیاسی صلاحیتوں اور جماعتی قوتوں کی نشاندہی کر سکے، اور اب اسے اس فرصت سے محروم ہونے کا شکر کرنا پڑ رہا ہے۔
اس بات سے پوری پاکستان کا ماحول آگ لگ رہا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت کو مسترد کر دیا ہے، یہ سچ ہو یا نہیں؟ ایک ساتھ کیسے ہوسکتا ہے جب کوئی سیاسی جماعت اپنے معاشرے کی ضرورتوں کی جانب اشارہ کر رہی ہے لیکن اس کی یہ عمدہ تجویز کو مسترد کرتا ہے؟ یہ واضح نہیں ہوتا کہ انڈین اور ملائش برادریوں سے تعلق رکھنے والی تحریک انصاف کی جانب سے قومی کانفرنس میں شرکت کی یقین دلی ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اس بات پر سوال اٹھانا ضروری ہے کہ جس وطنیں کی تحریک تحفظ آئین پاکستان اپنے معاشرے میں پیدا ہوئی ہے، انہوں نے اس وقت یہ مطالعہ کیا تھا کہ وہ قومی کانفرنس میں شرکت کی یقین دلی کیسے کر سکتے ہیں؟