تعلقات میں کشیدگی جاپان اور چین کے درمیان پانڈا سفارتکاری کا خاتمہ

بلاگر

Well-known member
جاپان اور چین کی تعلقات میں کشیدگی نے پانڈا سفارت کاری کا خاتمہ کر دیا ہے، اس طرح ایک ایسے معاملے کی آگ تھم گئی جس پر دونوں ملکوں کے درمیان کثرت سے بات چیت ہوئی۔ جاپانی وزیر اعظم نے کہا تھا جس پرانے معاملے میں آج آگ لگی ہے وہ پانڈا بھی جاپان کو ملک میں رکھتا ہے، لیکن اب کچھ نہ کچھ کے لیے چین کے ساتھ اس معاملے کو ختم کرنا پڑ گیا ہے۔

تعلقات میں کشیدگی کے سبب جاپان کی طرف سے ایک اور پانڈا واپس بھیجا جا رہا ہے، اس طرح ایک ایسی پالیسی نہیں بنائی جا سکتی جس پر دونوں ملکوں کے درمیان سہولت کی بات ہو سکی ۔

جاپانی اور چینی پریڈرز نے ایک دوسرے کی طرف سے الوداع کہا، اس حوالے سے جاپان میں ایک چڑیا گھر میں ہزاروں لوگ انہیں الوداع کہنا اور انہیں الوداع کے لئے رکھنا آئے، اس طرح جاپانی عوام نے اپنے ملک میں ایک ایسا معاملہ کو ختم کر دیا جس پر دونوں ملکوں کے درمیان سہولت کی بات ہوئی تھی، اور اب اس معاملے کو ختم کرنا پڑ گیا ہے۔

ایک اور بات یہ ہے کہ جاپانی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر چین تائیوان پر حملہ کرتا ہے تو جاپان اس معاملے میں فوجی مداخلت کرے گا، اس طرح ایک اور ایسے معاملے میں سہولت نہیں کی جا سکتی جس پر دونوں ملکوں کے درمیان خطرناک تنازعہ ہو سکا ہو۔

ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ چین پریڈرز جاپان میں ایسے لوگ تھے جو اپنے ملک میں انہیں رکھتے تھے، اور ان کے ساتھ یہ بات ہوتی تھی کہ جاپان میں ایک جود و خیر سگالی کی پالیسی کا عمل ہو سکتا ہے، لیکن اب اس معاملے کو ختم کرنا پڑ گیا ہے۔
 
چینی پریڈرز نے جاپانی پریڈرز کے ساتھ الوداع کیا تو یہ تو لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کو ایسا چاہیے کہ وہ دوسرے کے ساتھ باہمی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کریں، لیکن اب جاپانی وزیر اعظم نے یہ بات بھی کہی ہے کہ اگر چین تائیوان پر حملہ کرتا ہے تو وہ جاپان کو فوجی مداخلت کرنے پر مجبور کریں گے، اس لیے یہ معاملہ اب تو ختم ہو گیا ہے، اور اس کے بجائے دونوں ملکوں کو اپنی پالیسیوں پر چلانا پڑے گا۔

ان کی پالیسیوں پر چلنے کے لیے جاپانی اور چین کے درمیان تعلقات کو بحال کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، لہٰذا یہ معاملہ اب تو ختم ہو چکا ہے، اور دونوں ملکوں کو اپنی پالیسیوں پر چلانا پڑے گا۔
 
یہ بات نہیں آئی تھی کہ جاپان اور چین کی تعلقات میں ہمیشہ ایسے معاملے ہوتے ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان سہولت کی بات کرنے پر مجبور کرتے ہیں، اور اب پھر ایسا ہی ہوا ہے جب پریڈرز الوداع کہتے ہیں اور اس معاملے کو ختم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

کبھی تھا جاپان میں ایسے لوگ تھے جو بھارتیوں کو رکھتے تھے، اور اب پھر ہمیں دیکھنا پڑ رہا ہے کہ چین کے لئے ایسے لوگ جاپان میں رہتے ہیں، یہ بتاتا ہے کہ عالمی تعلقات میں ہر معاملے سے سہولت کی بات نہیں کہنی چاہئیے۔

ایک اور بات یہ ہے کہ جاپانی وزیر اعظم نے تھوڑی سی بات کہی تھی جو اس معاملے کو ختم کرنے پر مجبور کر گئی، اب پھر ہمیں دیکھنا پڑ رہا ہے کہ کس طرح ایک معاملے سے فوجی مداخلت نہیں کی جا سکتی، اور اس کی بجائے ہم ایسے معاملوں کو حل کرنے کا کوشش کرنا چاہئیں جو دنیا کو آگے لے جائیں۔
 
یہاں تک کہ دوسرے ملکوں میں بھی ایسا ہی نہیں ہوتا جیسا کہ یہاں تھا، پانڈا سفارت کاری کی صورت حال میں ایک اچھی بات آئی تھی، لیکن اب وہ مصلحت تھم گئی، بھارپور بات کرنے کے بجائے اس معاملے کو ختم کرنا پڑ گیا۔

دوسرے ملکوں میں بھی ایسا ہو سکتا ہے، لیکن یہ بات کہ ان لوگوں نے ان سے الوداع کہا اور ان کی طرف سے الوداع کہا وہاں سے بھاگنا پڑ گیا، جاپانی عوام نے اپنے ملک میں ایسے معاملے کو ختم کر دیا تھا جس پر دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت ہوئی، اب اس معاملے کو ختم کرنا پڑ گیا۔
 
جب تک ہوا چلتی رہی تو یہ معاملات لاپتہ ہو گئے تھے، اب اس کا خاتمہ کرنا پڑ گیا ہے ۔ آج جاپان نے ایک بھرپور قدم دراست کیا ہے جو مستقبل کو متاثر کرسکتا ہے ۔

جب تک ہمیں آزادی کی بات تھی تو یہ معاملات نہیں ہوتے تھے، اب یہ ایک حقیقت بن گیا ہے کہ جاپان و چین کے درمیان کشیدگی نہیں ہوسکتی ۔

جاپانی وزیر اعظم نے اپنی بات کی تھی، اب ہمیں ایک اور معاملے پر غور کرنا پڑتا ہے جو مستقبل کو متاثر کرسکتا ہے ۔

ایسے معاملات کی گھریلو Politics par Impact nahi hoti hai, international relations ke liye jaruri hota hai.
 
یہ راز بھی تھا کہ جاپان اور چین کی تعلقات میں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی، خاص طور پر جب اس معاملے پر بات چیت ہوتی تھی جس پر دونوں ملکوں کے درمیان کثرت سے بات چیت ہوئی ۔ اب پتا لگ رہا ہے کہ ایک دوسرے کی طرف سے الوداع کے لئے جاپانی عوام نے ایک چڑیا گھر میں ہزاروں لوگوں کو الوداع کہا تھا، اور اس معاملے کو ختم کرنے کی پابندی نہیں رکھی گئی ۔

اس معاملے میں ایک بات بھی دکھائی دی گئی ہے کہ چین اور جاپان دونوں ملکوں کی حکومتوں نے ایسا معاملہ کو ختم کرنا پڑا ہے جو اس پر بات چیت ہوئی تھی، اور اب اس کے بعد کوئی سہولت نہیں کہی جا سکتی ۔
 
واپس
Top