یوپی اسٹیٹ وقف ٹریبونل نے UMEED پورٹل پر وقف - Latest News | Breaking

آرٹسٹ

Well-known member
پورے اترپردیش میں ہزاروں وقف املاک کی انتظامیہ کو ایک اور مہلت دی گئی ہے۔ یوپی اسٹیٹ وقف ټریبونل نے یوپی سنی وقف بورڈ کی طرف سے دائر advertize پر UMEED سنٹرل پورٹل پر رجسٹریشن کے لیے چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دی ہے۔

اس حکم میں انشورنس ٹیبل ، سرور کی عدم استحکام اور پی ایچ پی خرابیوں کی وجہ سے ناکام ہونے والے ڈیڈ لائن کو روکنا شامل ہے، جو کہ 6 دسمبر کی ڈیڈ لائن کو بہت سے اسٹیک ہولڈرز لیبرز پر ناممکن بنا رہا تھا۔

ٹریبونل کی بنچ نے یوپی سنی senetral وقف بورڈ کی طرف سے دائر کردہ درخواست کو روKN اور 6 دسمبر سے 5 جون، 2026 تک بڑھانے کا حکم دیا ہے۔

یہ فیصلہ اس سیکشن 3B(1) کی شرط پر منظم ہے جو UMEED ایکٹ،1995 کو 2025 میں ترمیم کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، تقریباً 40,000 وقف کے رجسٹریشن کی ناکام ہونے والی حالات بھر پور ہیں۔ یہاں تک کہ تقریباً 86،000 UMEED پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی صورت میں بھی 1.26 لاکھ وقف کو رجسٹرڈ نہیں کیا گیا ہے۔

یومہی ایکٹ کے نئے داخل کردہ سیکشن 3B کے مطابق، پورٹل اور ڈیٹا بیس پر پھیلنے والی وقف کی تفصیلات کو چھ ماہ کی مدت میں اپ لوڈ کرنا لازمی ہے۔
 
بہت زیادہ وقت کیا گیا، یہ توسیع بھی ناکام ہوگئی 🙄. پورے اترپردیش میں وقف املاک کی انتظامیہ کو ایک اور مہلت دی گئی ہے اور اب بھی تقریباً 40,000 سے زائد رجسٹریشن کی ناکام ہونے والی حالات ہیں، یہ کیسے ممکن ہوگا? پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی صورت میں بھی صرف 1.26 لاکھ وقف کو رجسٹرڈ نہیں کیا گیا، یہ تو کمال نقصان دہ ہے! اور اب یہ توسیع بھی روکنے پر مبنی ہے، اس سے پوری صورتحال بدतर ہوگی...
 
بہت سے اتر پردیش کی نوکریوں پر پابندیاں ڈالنے کا یہ فیصلہ تو ٹھیک ہیں، لیکن 6 جون کو پوری دنیا میں وقف املاک کی رجسٹریشن کرنے سے پہلے چھ ماہ کی دیر نہیں چلی گئی ۔ اس طرح کے درمیانی معیار پر قائم رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے، ابھی چھ ماہ کا وقت بھی لینا پوری دنیا میں وقف املاک کی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے دیر کا معاملہ نہ ہونا چاہیے.
 
😊 اچھی گالری سے بھرپور نئی ایکٹ کا یہ حکم اچھا لگ رہا ہے۔ ابھی تو وقف کی انتظامیہ کو انتہائی کم مہلت دی جاتی ہے، اور اب وہ چار ماہ میں اپنے کام کو مکمل کرنا پڑ رہا ہے، یہ تو بہت ایسے حالات میں ناکام رہنا آسان ہو جائے گا...
 
یہ بتایا گئا ہے کہ وقف املاک کی انتظامیہ کو پوری دھارہ وادی میں تقریباً 40,000 سے زیادہ اسٹیک ہولڈرز لیبرز کو مہلک چوکوروں میں لگا رہی تھی، جو کہ وہی بھی سال 2025 ہوا جب یہ بات سامنے آئی کہ انہیں دوسرا مہلت دی گئی۔ یہ دیکھنا تو خوش کن نہیں لیکن یہ بات ضروری ہے کہ اس وقت بھی اس پورٹل پر لوگ اپنے وقف کو رجسٹرڈ کر رہے ہیں اور وہاں کی سیکورٹی کی صلاحیتوں میں کمی تھی تو بھی ایک سال کے اندر انہیں بھی سلاپ کے حوالے کرنا پڑ گا؟ یہ ایک بڑا خطرہ ہے اور اس پر کوئی نہیں سمجھتا، لیکن اب تو یہ بات صاف آچکی ہے کہ اگر ڈیڈ لائن میں بھی پکڑتا ہے تو اس کس کے لئے؟
 
تمام اس وقت بے چینی محسوس کرتے ہیں؟ یہ سب کی ناکامی اور پھر ایک نیا رول آتے ہیں کہ اب تو ساری مہمات واضح نہیں ہوتیں۔ میں تھوڑا سا وقت اپنے بچوں کے اسکول کے پینٹنگ کی تعلیم میں دھیان دیا اور اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اگر آپ ملازمت کے لئے آگے بڑھتے ہیں تو پینٹنگ کی شروعات نہیں کر سکتیں۔ اب دیکھو وقف املاک کی ناکامی بھی ایسا ہی ہے۔ چھ ماہ کے لئے ڈیٹا بیس پر اپ لوڈ کرنا اور پھر چھ ماہ کی مدت میں واضح نہیں ہوتا؟ یہ کس قدر بے چینی اور کس قدر ناکام کہابادیوں کی ناکامی کا ایک ہی exemple ہے۔
 
امید کرتا ہوں کہ یومہی ایکٹ میں شامل نئی دباؤں سے قومی وقف نظام کو بھرپور طور پر ترقی حاصل ہوگی اور تقریباً 40,000_REGسٹریشن کی صورت میں بھی ان کے رجسٹروشن کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ یہ سیکشن ایکٹ میں شامل دباؤں سے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے لازمی بنایا گیا ہے۔
 
ایسے میں، یہ فیصلہ ناکام وقف رجسٹریشن کا ایک بڑا حل ہوگا۔ 40 ہزار سے زیادہ حالات ہیں جبکہ تقریباً 86 ہزار UMEED پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی صورت میں بھی 1.26 لاکھ کو رجسٹرڈ نہیں کیا گیا۔ یہ صرف ایک سال سے کئی ماہ اور سالوں سے چل رہے اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر دیکھنے والے نہیں تھے، حالانکہ یہ ایسا لگ رہا ہے جیسے حکومت نے اس سلسلے میں کیا ہے۔
 
پوری دنیا جانتا ہوگا کہ یوپی سنی ٹریبونل نے UMEED پورٹل پر دیکھا ہے کہ تقریباً 40,000 وقف اپ لوڈ کرنے کی صورت میں بھی ناکام رہ گئے۔ یہ توسیع کی منظوری دی جائے تو 50,000 سے زیادہ آئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مگر یومہی ایکٹ میں نئے داخل کردہ سیکشن 3B کو 100% لागو دیا جائے گا۔
 
اس فیصلے سے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پورے اترپردیش میں وقف املاک کی انتظامیہ کو اس کے کام میں کمی کی صورت میں بھی مہلت دی جا سکتی ہے۔ یہ ایک بڑا Relief ہے اور یہ سیکشن 3B(1) کی شرط پر منظم ہونے کے ناطے اس میں کوئی Problem نہیں ہے.

جبکہ 40,000 وقف کے رجسٹریشن کی ناکام ہونے والی حالات بھر پور ہیں، تو یہاں تک کہ تقریباً 86،000 UMEED پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی صورت میں بھی 1.26 لاکھ وقف کو رجسٹرڈ نہیں کیا گیا ہے یہ واضح طور پر بتاتے ہیں کہ تقریباً اچھی سے بھی ایک دہائی قبل تک تمام وقف رجسٹرڈ نہیں ہوئے!
 
ایک بڑی مہم کے بعد بھی ناکام ہو رہا ہے یہ دیکھنا ایسا ہی اچھا ہے کہ سارے پیروانہ اس کو سمجھ لیں ۔ اب تک 40,000 ناکام ہو چکے ہیں تو یہ بھی ایک ہی بات ہی رہی ہے کہ یہ ناکام ہو کر کس کی فائدہ ہوئی؟ یہ پتہ چلتا ہے کہ بے ایملی ڈیپارٹمنٹ بھی ڈراپ نہیں آ رہی ہے، اور مینو تھنکنگ اس پر یہ دیکھتا ہوں گا کہ جب یہ فیصلہ 6 جون کو چلے گا تو پوری بھرپور ناکام ہونے والی مہم مکمل طور پر دھلی جائے گی
 
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ تبادلہ ہونے والی بات کیا اور پوری ٹرول نہیں کرنی چاہئے کہ ایک ماہ کے بعد بھی یومہی سیکشن 3B(1) پر دائر کردہ ایک پوزیشن کے لیے میٹنگ کا منظر پیش نہیں کیا گیا اور پوری تاریخ تک کوئی تبدیلی نہیں آئی 🤦‍♂️

میں یہ سوچتا ہوں گا کہ انشورنس ٹیبل کو بھی تیز کرنا چاہئے اور پوری دیر سے ناکام رہنے والی لائسنسز کی لازمی تجدید کی جائے اور یہ چنگا اور مقبول طریقہ نہیں کہ ڈیڈ لائن کو ایک ماہ کے بعد روکنا ، اس لیے پوری دیر سے ناکام رہنے والوں کے لیے بھی مایوس کرنا چاہئے 😐
 
واپس
Top