39 سال کی لچک کو برطرف کرنے والا فیصلہ
اتوار 30 نومبر 2025 میں راولپنڈی میں ایڈمن سول جج نندیم اصغر ندیم نے 1986 میں زیتون بی بی کو اپنی زمین سے محروم کرنے والے سول عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کیا، اور ان کی وارثیں کو ملکیت حاصل کرنے کا موقع دیا ۔
انصاف پانے کے بعد جھگڑے کب ہو گئے؟
زیتون بی بی کے خاندان کی زمین پر سول عدالت میں دباو
1986 میں زیتون بی بی کو اپنی زمین سے محروم کر دیا گیا تھا، اس وقت وہ ان کی ایک عورت تھیں۔ نومبر 2025 میں انہوں نے اپنا قانونی حق دوبارہ حاصل کیا۔ وہ اپنی زمین کے جعلی میوٹیشنز کی منسوخی کے لیے سول عدالت گئی تھیں، اور دوسرے جانب بھی وارثوں نے اپنے حق کا دعوی کیا تھا۔
تین سال قبل اس کیس میں ایڈمن سول جج نندیم اصغر ندیم کے ملاپ سے بعد ازاں ہی فیصلہ جاری ہوا۔ انہوں نے اپنے احکامات پر عمل نہ کرنے پر سخت نوٹس لیے اور 8 اعلیٰ افسران کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیئے تھے۔
زیتون بی بی کا ایک بیچا کیس، جو ان کی 25 سالوں سے لڑائی میں بھرپور رہا۔ اس کے بعد وہ محفوظ طور پر اپنے حق کو حاصل کر لیں گئیں۔
زیتون بی بی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، وہ 39 سال بعد انصاف پا کر بے حد خوش ہیں۔ اس دوران انہوں اور ان کے بچوں نے بار بار عدالتوں کے چکرکاٹے لیکن امید کبھی نہیں چھوڑی۔
اتوار 30 نومبر 2025 میں راولپنڈی میں ایڈمن سول جج نندیم اصغر ندیم نے 1986 میں زیتون بی بی کو اپنی زمین سے محروم کرنے والے سول عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کیا، اور ان کی وارثیں کو ملکیت حاصل کرنے کا موقع دیا ۔
انصاف پانے کے بعد جھگڑے کب ہو گئے؟
زیتون بی بی کے خاندان کی زمین پر سول عدالت میں دباو
1986 میں زیتون بی بی کو اپنی زمین سے محروم کر دیا گیا تھا، اس وقت وہ ان کی ایک عورت تھیں۔ نومبر 2025 میں انہوں نے اپنا قانونی حق دوبارہ حاصل کیا۔ وہ اپنی زمین کے جعلی میوٹیشنز کی منسوخی کے لیے سول عدالت گئی تھیں، اور دوسرے جانب بھی وارثوں نے اپنے حق کا دعوی کیا تھا۔
تین سال قبل اس کیس میں ایڈمن سول جج نندیم اصغر ندیم کے ملاپ سے بعد ازاں ہی فیصلہ جاری ہوا۔ انہوں نے اپنے احکامات پر عمل نہ کرنے پر سخت نوٹس لیے اور 8 اعلیٰ افسران کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیئے تھے۔
زیتون بی بی کا ایک بیچا کیس، جو ان کی 25 سالوں سے لڑائی میں بھرپور رہا۔ اس کے بعد وہ محفوظ طور پر اپنے حق کو حاصل کر لیں گئیں۔
زیتون بی بی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، وہ 39 سال بعد انصاف پا کر بے حد خوش ہیں۔ اس دوران انہوں اور ان کے بچوں نے بار بار عدالتوں کے چکرکاٹے لیکن امید کبھی نہیں چھوڑی۔