کوئٹہ میں تندور مالکان نے ایک بار پھر عوام کو دگنی قیمت پر روٹی فروخت کر کے مایوسی کا باعث بن رہے ہیں، ان کا روٹی کی وزن میں بھی کمی کر کے عوام کو شدید مشقت درپیش ہو رہی ہے۔ شہر کے مختلف تندور میں 30 روپے والی روٹی آج بھی کم وزن کے ساتھ فروخت کی جارہی ہے، جو عوام کو شدید مشقت اور نا کامیابی کا باعث بن رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ تندور مالکان کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے ان سے کچھ پیسے لیکر شہر بھر میں آج تندور مالکان روٹی کم وزن کے ساتھ کھلے عام فروخت کر رہی ہے، اس سے تندور مالکان عوام کو دونوں ہاتھ سے لوٹ رہے ہیں۔
آج کل کوئٹہ شہر میں تندور مالکان نے روٹی کی وزن میں بھی کمی کر دی گئی ہے، جس سے عوام کو ایک اور مشکل سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے، اور ان کے اس طریقے نے عوام کی اعتماد و ثقافتی قیمتوں پر بھی اثر डالا ہے۔
حکومت وقت کو تندور مالکان کے خلاف کارروائی کا موقع حاصل کرنا چاہئے، اس طرح سے عوام کو نجات ملا سکتی ہے اور ان کی زندگی میں ایسے مسائل نہیں آئیں جن کے ساتھ وہ اپنی زندگی کو گزار رہے ہوں۔
تندور مالکان کی یہ کامیابی بہت گمشتا ہے جو لوگوں کی دغدغے کو کم نہیں کر سکتی ہیں، انہیں ضرور حکومت وقت پر ماحول بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو یہ کچھ مل سکا ہو، لوگ کیسے پائے نہ ہونے والے پناہ گاہیں یا روز مرہ کی ضروریات کو حاصل کر رہے ہیں وہ سب لوگ ان میں مایوس ہو رہے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگوں کی تریخ میں ہمیشہ سے ایسا ہی ہوا ہے، ان معاملات پر governments کو پورا رول ادا کرنا پڑتا ہے اور ضروری نہیں کیوں کہ لوگ یہ ہمیں محسوس نہیں کرتے لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم بھی ان کے ساتھ معذور ہیں، اس لیے کہ اس معاملے میں کوئی اور بھی نہیں ہے جو اسے حل کر سکے
toh وہ سے بھی دکھائی دیتے ہیں کہ عوام کی بیٹی کو یہ کتنا بھارosa ملتا ہے اور ان کی زندگی میں کتنے مسائل آ رہے ہیں... 30 روپے والی روٹی کم وزن کے ساتھ بھی فروخت ہو رہی ہے؟ تو یہ تو کچھ جھگڑا ہے، حالانکہ یہ بھی واضح ہے کہ عوام کو یہ مایوس کرنا چاہئے... اور اُس سے وہ ساتھ نہیں دیتے کہ عوام کی زندگی میں اس طرح کی بھرپور کچھیں نہیں آئیں?
یہ تو بہت گریجویشن کا معاملہ ہے، تندور مالکان کی ایسے کارروائی سے عوام کو بھوک میں رکھ دیا جاتا ہے اور نا کامیابی کا باعث بنتا ہے۔ اس کے باوجود، عوام کا دھمکنے کو لگتا ہے کہ کیا ان کی گریجویشن بھی ایک حقیقت ہے؟
آج کل تندور مالکان روٹی کم وزن کے ساتھ فروخت کر رہے ہیں اور عوام کو شدید مشقت پہنچ رہی ہے، یہ تو بے حقیقت نہیں۔ اس کے لیے سول سیکٹر تھیرے سے ان کو محفوظ ہونے کی اجازت دی جانی چاہئے، اور انہیں اپنی زندگیوں میں ایسا انعقاد کیا جا سکتا ہے جو عوام کو نا کامیابی سے دوچار نہیں رکھتا۔
میں یہاں تھوڑا سا کام کرنے آیا ہوں، ملک کے تندور مالکان جو لوگ عوام کو دگنی قیمت پر روٹی فروخت کر رہے ہیں ان کی یہ بے ایمانیت عوام کو اچھی نہیں لگ رہی، میرا خیال ہے کہ حکومت کو ان لوگوں سے پیسے لینا چاہئے تاکہ وہ عوام کو نا کامیابی کا شکار نہ رہن۔
ایسا کیا لگتا ہے کہ لوگوں نے کمرشل اینڈ پروفٹنگ کا استعمال اپنی نجی فائدے کے لیے اسکے ساتھ دوسروں کی مصیبت کرنے کا ایک وسیع ذریعہ بن چکا ہے؟ آج کل بھی کوئٹہ میں تندور مالکان نے عوام کو دگنی قیمت پر روٹی فروخت کرتے ہوئے مایوسی کا سبب بنا ہیں اور ان کی یہی تندور پھر سے ایک بار ٹھیک نہیں چلی پائے گی، اور حکومت کو ضروری ہے کہ وہ تندور مالکان کے خلاف کارروائی کرنے کی اور عوام کو یہاں سے معاف کرنے کی کوشش کریں۔
تندور مالکان کا یہ طریقہ بہت غضبانی ہے، عوام کو روٹی کی دگنی قیمت پر فروخت کر کے نا کامیابی کا باعث بن رہے ہیں اور انہیں شدید مشقت کا سامنا کرنے پڑ رہا ہے، یہ تو تندور مالکان کی جانب سے بھی نچتا ہوا ہے۔
جب تک عوام کو یہ مشقت نہیں ملاسکتی تو یہ طریقہ چلے گا اور عوام کے لئے ایسی صورتحال پیدا ہوگی جس سے وہ اپنی زندگی کو جینے میں آگہت نہیں رہے، اس لیے یہ حقیقی طور پر ایک اہم مصلحت ہے کہ حکومت وقت تندور مالکان کے خلاف کارروائی کرتے۔
تندور مالکان کو روٹی فروخت کرنے کی پالیسی سے انھیں 30 روپے کے ناڈر میں عوام کو دینی ہے، ایسا کیا جائے تو وہ لوٹ لینے کے لیے تندور اور روٹی کھلے عام فروخت کر رہے ہیں... نا میں ان کا یہ طریقہ عوام کو نا کامیابی اور مشقت دلاتا ہے
تندور مالکان کو پھنسائیں! یہاں تک کہ انہوں نے اپنے روٹی کی وزن میں بھی کمی کر دی ہے، تو فیک اسٹروک واضح ہے کہ انہیں کچھ پaise لینا چاہئے، حالانکہ عوام نے یہ سب سے پہلے ان سے ضرور کیے گئے تھے۔
ہر رولڈ کے لیے ایک بھرپور اور معقول قیمت ہونا چاہئے، نہیں تو عوام کو یہ لگنے دیتے ہیں کہ وہ انہیں چھوڑ کر جائیں گے۔
سچ بات یہ ہے کہ تندور مالکان کو ایک اور موقع مل رہا ہے، اسے اپنا استعمال بھرپور طور پر کرنا چاہئے۔