وینزویلا کے بعد کون؟ آئی ایس کی جانب سے پریشانی
وہ ایک ملک تھا جس کی ناکام فوجی کارروائی سے دuniya کو اس کے بارے میں علم ہوا ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوج نے نیو یارک لے کر جیل میں رکھ دیا ہے، جس پر دنیا بھر میں شانہ دUSHنی نہیں دیکھی گئی ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کی تصدیق کی اور کہا کہ وینزویلا کو انصاف کے کٹھرے میں لانے کے لیے امریکی فوجی کارروائی کی گئی تھی۔ اس نے کہا کہ جب تک وینزویلا مین ہٹن نیو یارک میں براہ راست دیکھای گئی، اس نے دنیا کو ایسا نظرنہ دیا کہ ان کے بعد ہم اُس پر ہماپ چلائیں گے۔
امریکی فوج نے وینزویلا پر حملہ کرکے اس کے صدر کو اٹھای لیا تھا، جس نے دنیا کی ان پہلی کارروائیوں میں سے ایک کی ہوئی تھی جس کا یہ تعلق تھا۔ اس طرح کے اقدامات کے بعد وینزویلا کے صدر کو آگے بڑھنے کا امکان نہ رہ گیا۔
ویتنام جیسے ملک پر اس طرح کا کٹھرہی ملاحظہ نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ویتنام میں دوسری جنگ عظیم نہ ہوئی۔
جب تک وینزویلا کے صدر کو اٹھایا گیا، انھوں نے مین ہٹن نیو یارک میں پابندی لگائی رکھی تھی۔ اس کے بعد اس کے ساتھ نیو یارک لیٹھل جیل کی جانب بڑھا دیا گیا ہے۔ وینزویلا پر ایسا حملہ آنے سے پہلے کتنے افراد جانیں گے، اس کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔
یہ کٹھرہی کتنے لوگوں کی جان لیے گی اور وہ ان کی کتنی عادیں گا؟ سچائی کے حوالے سے اگر وینزویلا میں ایسے ہونے والی کارروائیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا تو اسے دنیا بھر میں سمجھنا پڑے گا کہ وینزویلا سے اس طرح کی دوسری کارروائی کیسے ممکن ہو سکتی ہے اور اس جسے وہ اپنے لئے مٹا رہے ہیں، وہ کتنے لوگوں کی جان لے گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کولمبیا میں منشیات اور اسلحے کے کارٹلز کے خلاف چل رہے تھے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی تک اس ملک کو ایسے لیٹھل جیل سے چھوڑ دیتے گئے۔
اس طرح کی کارروائیوں کی وجہ سے وینزویلا میں لاکھوں افراد کا زندگی جارہی ہے۔ وہ لوگ جو اپنے لیے یہ مٹانے کے لئے ہمیشہ زبردست اور بدقسمتی سے ہوتے رہتے ہیں وہ جب یہاں پہنچتے ہیں، انھیں بہت پریشانی اٹھانے کی پڑتی ہے اور وہ کتنے لوگ اسی طرح کے اقدامات سے ملاتے رہتے ہیں ان کی جان لینے میں بھی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔
جسے یہ وینزویلا کے صدر کو اٹھانے کا نتیجہ تھا اس کی فوج نے ایک کارروائی کے لئے اس ملک کو ایسی حالت میں ڈالا ہے کہ اس پر پوری دنیا کے سامنے ایسا ہونا بھی ممکن تھا اور وہی ہوا۔
وینزویلا کے صدر کو اٹھانے کی وہ کارروائی جو अमریکی فوج نے ہمایات کرکے کی، اس نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی اور وینزویلا کے لئے یہ ایک کٹھرہی ہوئی۔
ویتنام جیسے ملک پر اس طرح کا کٹھرہی ملاحظہ نہیں کیا گیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم نہ ہونے کی وجہ اس بات ہی تھی کہ ویتنام میں ایسا کٹھرہی بڑھتے رہے اور یہوں کچھ نہ کچھ ہوا، جیسا کہ وینزویلا میں ہوا تھی اور ابھی بھی ویتنام میں یہ سے کوئی ایسی صورت حال نہیں ہوئی۔
وہ ملک جس پر اس طرح کا حملہ کرنا اس کے اور کسی دوسرے ملک کے لئے بھی ممکن نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ایسے ہونے والی کارروائیوں کا جس سے دنیا کو علم ہوا، وہ ہمیشہ دھمکدت رہتی ہے اور اس کے نتیجے میں ملک تباہ ہوتا ہے اور اس پر اپنے لئے جس سے ابھی بھی کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے، وہ اور اس کے لوگ اپنی زندگی جاری رکھتے رہتے ہیں۔
ان کی جان لینے سے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک بھی تباہ ہو جاتا ہے اور اس پر وہاں ایسے حملے کی پڑتال ہوتی ہے، جو کبھی اس طرح کے نہیں ہوتے۔
مگر وینزویلا کو امریکی فوج نے نیو یارک لے کر جیل میں رکھ دیا تھا اور اب وہاں ایسے حملے کی پڑتال ہوتے رہتے ہیں، جو کچھ نہ ہو سکے اسے دنیا میں یہی سمجھ دیا گیا تھا اور ابھی بھی یہی صورتحال ہے۔
وہ ایک ملک تھا جس کی ناکام فوجی کارروائی سے دuniya کو اس کے بارے میں علم ہوا ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوج نے نیو یارک لے کر جیل میں رکھ دیا ہے، جس پر دنیا بھر میں شانہ دUSHنی نہیں دیکھی گئی ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کی تصدیق کی اور کہا کہ وینزویلا کو انصاف کے کٹھرے میں لانے کے لیے امریکی فوجی کارروائی کی گئی تھی۔ اس نے کہا کہ جب تک وینزویلا مین ہٹن نیو یارک میں براہ راست دیکھای گئی، اس نے دنیا کو ایسا نظرنہ دیا کہ ان کے بعد ہم اُس پر ہماپ چلائیں گے۔
امریکی فوج نے وینزویلا پر حملہ کرکے اس کے صدر کو اٹھای لیا تھا، جس نے دنیا کی ان پہلی کارروائیوں میں سے ایک کی ہوئی تھی جس کا یہ تعلق تھا۔ اس طرح کے اقدامات کے بعد وینزویلا کے صدر کو آگے بڑھنے کا امکان نہ رہ گیا۔
ویتنام جیسے ملک پر اس طرح کا کٹھرہی ملاحظہ نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ویتنام میں دوسری جنگ عظیم نہ ہوئی۔
جب تک وینزویلا کے صدر کو اٹھایا گیا، انھوں نے مین ہٹن نیو یارک میں پابندی لگائی رکھی تھی۔ اس کے بعد اس کے ساتھ نیو یارک لیٹھل جیل کی جانب بڑھا دیا گیا ہے۔ وینزویلا پر ایسا حملہ آنے سے پہلے کتنے افراد جانیں گے، اس کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔
یہ کٹھرہی کتنے لوگوں کی جان لیے گی اور وہ ان کی کتنی عادیں گا؟ سچائی کے حوالے سے اگر وینزویلا میں ایسے ہونے والی کارروائیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا تو اسے دنیا بھر میں سمجھنا پڑے گا کہ وینزویلا سے اس طرح کی دوسری کارروائی کیسے ممکن ہو سکتی ہے اور اس جسے وہ اپنے لئے مٹا رہے ہیں، وہ کتنے لوگوں کی جان لے گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کولمبیا میں منشیات اور اسلحے کے کارٹلز کے خلاف چل رہے تھے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی تک اس ملک کو ایسے لیٹھل جیل سے چھوڑ دیتے گئے۔
اس طرح کی کارروائیوں کی وجہ سے وینزویلا میں لاکھوں افراد کا زندگی جارہی ہے۔ وہ لوگ جو اپنے لیے یہ مٹانے کے لئے ہمیشہ زبردست اور بدقسمتی سے ہوتے رہتے ہیں وہ جب یہاں پہنچتے ہیں، انھیں بہت پریشانی اٹھانے کی پڑتی ہے اور وہ کتنے لوگ اسی طرح کے اقدامات سے ملاتے رہتے ہیں ان کی جان لینے میں بھی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔
جسے یہ وینزویلا کے صدر کو اٹھانے کا نتیجہ تھا اس کی فوج نے ایک کارروائی کے لئے اس ملک کو ایسی حالت میں ڈالا ہے کہ اس پر پوری دنیا کے سامنے ایسا ہونا بھی ممکن تھا اور وہی ہوا۔
وینزویلا کے صدر کو اٹھانے کی وہ کارروائی جو अमریکی فوج نے ہمایات کرکے کی، اس نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی اور وینزویلا کے لئے یہ ایک کٹھرہی ہوئی۔
ویتنام جیسے ملک پر اس طرح کا کٹھرہی ملاحظہ نہیں کیا گیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم نہ ہونے کی وجہ اس بات ہی تھی کہ ویتنام میں ایسا کٹھرہی بڑھتے رہے اور یہوں کچھ نہ کچھ ہوا، جیسا کہ وینزویلا میں ہوا تھی اور ابھی بھی ویتنام میں یہ سے کوئی ایسی صورت حال نہیں ہوئی۔
وہ ملک جس پر اس طرح کا حملہ کرنا اس کے اور کسی دوسرے ملک کے لئے بھی ممکن نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ایسے ہونے والی کارروائیوں کا جس سے دنیا کو علم ہوا، وہ ہمیشہ دھمکدت رہتی ہے اور اس کے نتیجے میں ملک تباہ ہوتا ہے اور اس پر اپنے لئے جس سے ابھی بھی کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے، وہ اور اس کے لوگ اپنی زندگی جاری رکھتے رہتے ہیں۔
ان کی جان لینے سے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک بھی تباہ ہو جاتا ہے اور اس پر وہاں ایسے حملے کی پڑتال ہوتی ہے، جو کبھی اس طرح کے نہیں ہوتے۔
مگر وینزویلا کو امریکی فوج نے نیو یارک لے کر جیل میں رکھ دیا تھا اور اب وہاں ایسے حملے کی پڑتال ہوتے رہتے ہیں، جو کچھ نہ ہو سکے اسے دنیا میں یہی سمجھ دیا گیا تھا اور ابھی بھی یہی صورتحال ہے۔