روسی فہرست کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وینزویلا پر امریکی حملوں کے جواز کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے اور اس پر ایک سلامتی کونسل کا اجلاس ضروری ہے جس میں اس صورتحال کو حل تلاش کرنے کے لیے ان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
روسی فہرست کی وزارتِ خارجہ نے کہا، امریکی وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت ایک قابل مذمت اور تشویش کا باعث ہے اور اس پر یہ معیار استعمال کیا گیا ہے جو ایسی صورتحال کو حل تلاش کرنے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
روس کے ترجمان نے کہا، یہ دکھائی دیتا ہے کہ امریکی طرف پر نظریاتی دشمنی کی پالیسی اس وقت تک اپنی طاقت کو ظاہر کر رہی ہے جب تک کہ وہ اپنے مفادوں کے لیے اپنی طاقت کا استعمال نہیں کر سکیں۔
روس کے ترجمان نے مزید کہا، انھیں یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ وینزویلا کی تحفظ اور خودمختاری کو اس صورتحال میں حل تلاش کرنے پر توجہ دی جائے۔
روس کے ترجمان نے یہ بھی کہا، ہمارا موقف ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف تحفظات یا شکایات رکھنے والے تمام فریقین کو مذاکرات پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے۔
روس کے ترجمان نے یہ بھی کہا، وینزویلا کو اس حق کا تعلق ہونا چاہیے کہ وہ اپنی تقدیر کو خود فیصلہ کرے جس کی پالیسی یوں لاطینی امریکہ نے کہی تھی جو یہ بناتا ہے کہ یہ خطہ امن اور ثبوت میں برقرار رہے۔
روس کے ترجمان نے مزید کہا، وینزویلا کی قومی بولیویرین حکومت کو اس حقیقت پر اعتبار دیا جائے کہ یہ ملک اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کی تحفظ کر رہا ہے۔
اس نئی صورتحال سے پہلے سے وینزویلا کے ماحول میں توسیع کا مواقع مل گئے ہیں اور یہ محسوس کرنا مشکل ہوگا کہ اس کونسل کی تقریریں کیسے آئیں گی، وینزویلا کو ایک دوسرے کے حوالے کرنے والے تمام فریق کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی انہی ماحولیات سے بچنے کے لیے ایک معاون طریقہ عمل بننا چاہیے۔
venzuela ki situation thik nahi hai. america uss par musal jaraahat ke kaarano ko dur karne mein asafal rahi hai. rusi foreign ministry ne kaha hai ki america uski polity tak ke baadbaaz aadmi hain. woh apne hamle aik salamat council mein batayein gi jahan iss muddhe ko hal karne ka mkaam ho .
یہ دیکھنا نئے ہی ہے کہ وینزویلا پر امریکی حملوں کے جواز کو روس اناجام کے طور پر لے رہا ہے... لیکن یہ سچ بھی ہے کہ یہ امریکی پالیسی ایک خطرناک بات ہے کیوں کہ اس سے وینزویلا کو خودمختاری کا احساس ہوا کرنا شروع ہوگا... وہ اس صورتحال میں حل تلاش کرنے پر توجہ دی جائے گی تو یہ بھی سچ ہے لیکن یہ بات پتہ چلے گی کہ یہ معیار ایسا ہے جس کے بغیر کوئی حل نہیں ہو سکتا...
یہ بھی نہیں سنی تھی کہ وینزویلا پر امریکی حملوں کے جواز کی بات ہوئی ہے… یہ بہت غم کن ہے۔ اس صورتحال کو حل تلاش کرنے کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس ضروری ہے۔ امریکی طرف پر نظریاتی دشمنی کی پالیسی نے ایک بار پھر دنیا میں اضطراب پیدا کیا ہے۔ وینزویلا کی تحفظ اور خودمختاری کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وینزویلا اپنی تقدیر خود فیصلہ کر سکے اور امن اور ثبوت میں برقرار رہے۔
یہ وینزویلا کے لئے ایک مुश्कل وقت ہے، مگر انھوں نے بھی اپنے ملک کی حفاظت اور خودمختاری کو برقرار رکھا ہے۔ امریکی طرف سے یہ حملوں کا جواز اس صورتحال کو حل نہیں دے گی۔ اس پر ایک سلامتی کونسل کی اجلاس ضروری ہے تاکہ اس صورتحال کو حل تلاش کرنے کے لیے ان کا مطالبہ کیا جائے، اس میں سب کو شامل کیا جانا چاہیے۔
ایسا نہیں چاہیے کہ وینزویلا پر امریکی حملوں کو یقینی بنانے کے لیے ایک سلامتی کونسل کا اجلاس ہو جائے، اس کی بجائے یہ بات سبھی کو پتہ چلنی چاہیے کہ وینزویلا کی حکومت بھرپور اور معروضی ہے اور اس نے اپنے ملک کی سلامتی کی حقداری کے لیے ہمیشہ سے لڑنا شروع کر دیا ہے۔
امریکی حکومت کو ان کی پالیسی پر چھپنا چاہیے نہ کہ وینزویلا پر حملہ کرنے اور اس کی سلامتی کو نقصان پہنچانا چاہیے۔
یہ سچ میں کہنی چاہئیں کہ وینزویلا پر امریکی حملوں کا جواز روسی جانب سے ایسا دکھای دیا جاتا ہے جو اس صورتحال کو حل تلاش کرنے کے لیے ناقابلِ قبول ہے؟ پچیس سالوں سے وینزویلا میں پیداوار کی کمی اور معاشی تنگی کا سامنا ہوتا رہا ہے، لہذا اس صورتحال کو حل تلاش کرنے کے لیے ایک سلامتی کونسل کا اجلاس ضروری نہیں ہوگا بلکہ وینزویلا کی قومی حکومت اور اس کی صحت کو ترجیح دی جانی چاہئیے۔
اس صورتحال میں تو ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ وینزویلا کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے مفادوں کا خیال رکھتا رہے اور اس کی خودمختاری کو دوسروں کی مداخلت سے محفوظ رکھتا رہے... ہمارے پاس بھی یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے لئے سب کچھ موزوں سمجھنا چاہیے۔
عمر حسین
یہ وینزویلا پر امریکی حملوں کے جواز کو روس نے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے؟ نہیں، یہ ایک بات ہے کہ اس صورتحال کو حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ بات بھی اچھی ہوگی کہ وینزویلا کا خلاف پکڑنے والے معاشی نظام بھی اس صورتحال میں اپنی جگہ ادا کرے۔ مگر کیا وہ جواز اس لیے ناقابلِ قبول ہے کہ وینزویلا نے امریکی طاقت پر انحصار نہیں کیا ہے؟
امریکی حملوں کا وینزویلا پر جواز ابھر پہر چکا ہے اور اب یہ سوال آ رہا ہے کہ اب کس کے سامنے انصاف کونسل کی اجلاس ہوگی؟ روسی وزیر خارجہ کے اس بیان سے پتا چلتا ہے کہ وہیں امریکی اور وینزویلا کے درمیان بھی انصاف کی تلاش کی گئی ہے، جس میں اب وینزویلا کو ایک جانب اور امریکا کو دوسرے جانب سونپ دیا گیا ہے
اس صورتحال میں بھی پوری دنیا کی نظر پڑے گی اور یہ بات تو چل پئے گی کہ وینزویلا کو اس وقت کی طاقت سے ناکام کرنا پڑے گا جب وہ اپنی زندگی میں بھی ایسی ہی حالات کا سامنا نہ کر سکے