جنگ اور پھر ہلچل، وینزویلا کے صدر مدورو کی گرفتاری سے بڑی مہنگائی میں لپٹی ہوئی ریاستہائے متحدہ نے اپنی فوج کی ایک بڑی کارروائی میں آخिर وینزویلا کے دارالحکومت کا ماحول پھنڈر ہو گیا۔
اس وقت کو کبھی نہیں دیکھیا گیا جس پر امریکی فوج نے اپنی اقامت گاہ پر ڈال دیا تھا، اور اس وقت تک کی تاریخ میں وینزویلا کی governments کو بھی توغیر پہنچانے کا یہ کام نہیں کیا گیا تھا۔
اپنے دارالحکومت میں امریکی ڈیرھ سو جنگی طیاروں کی ایک لہر سے وینزویلا کے دارالحکومت کو اٹھا کر نیویارک کی ایک بدنام جیل میں رکھا گیا، جس پر 50 ملین ڈالرز کا بڑا نقصان پڑا۔
فوجی قوتوں نے ساتھ ساتھ ان کے اور ان کی بیوی کے لیے ایک جیل سے اور دوسرے جیل میں رونما کر دیا، بہت سے مارے گئے، ہزاروں کو وہیں لے جایا گیا۔
اس کے بعد امریکی میڈیا نے ایک ہی خبر کی فیکٹری چلی دی اور وینزویلا کے صدر مدورو کو نیویارک میں ایک بدنام جیل میں رکھا گیا، جو اس ملک کے لئے ایک نوجوان رہنما ہیں۔
اس کے بعد وینزویلا کا ایک اور اہم اہل قوت چینی نے امریکی میڈیا کی اس خبر کو دھونے لگے، انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن کو بین الاقوامی قانون کے خلاف ایک گیلے اور غیر معتبر کارروائی قرار دیا جائے۔
اس کے بعد وینزویلا کے صدر مدورو پر بے نتیجہ فائرنگ کی وجہ سے امریکی میڈیا کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوا اور ریاستہائے متحدہ کے صدر ٹرمپ نے اس کے ملک کو چلانے کا اعلان کیا جس پر وینزویلا اور وینسویلا سے تعلق رکھنے والے امریکیوں میں غم اور دھول اٹھائی گئی۔
اس آپریشن کے بعد کی گھبراہٹ نے اس ملک کو ایسا محسوس کرایا کہ وہ اپنے دارالحکومت میں لاتھا گیا تھا، جو ہر سال سے ایک یوگلا اور منفی اور رائے گرانے جبھی کو ایک بھرپور جہل کا مقام تھا۔
اس وقت کو کبھی نہیں دیکھیا گیا جس پر امریکی فوج نے اپنی اقامت گاہ پر ڈال دیا تھا، اور اس وقت تک کی تاریخ میں وینزویلا کی governments کو بھی توغیر پہنچانے کا یہ کام نہیں کیا گیا تھا۔
اپنے دارالحکومت میں امریکی ڈیرھ سو جنگی طیاروں کی ایک لہر سے وینزویلا کے دارالحکومت کو اٹھا کر نیویارک کی ایک بدنام جیل میں رکھا گیا، جس پر 50 ملین ڈالرز کا بڑا نقصان پڑا۔
فوجی قوتوں نے ساتھ ساتھ ان کے اور ان کی بیوی کے لیے ایک جیل سے اور دوسرے جیل میں رونما کر دیا، بہت سے مارے گئے، ہزاروں کو وہیں لے جایا گیا۔
اس کے بعد امریکی میڈیا نے ایک ہی خبر کی فیکٹری چلی دی اور وینزویلا کے صدر مدورو کو نیویارک میں ایک بدنام جیل میں رکھا گیا، جو اس ملک کے لئے ایک نوجوان رہنما ہیں۔
اس کے بعد وینزویلا کا ایک اور اہم اہل قوت چینی نے امریکی میڈیا کی اس خبر کو دھونے لگے، انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن کو بین الاقوامی قانون کے خلاف ایک گیلے اور غیر معتبر کارروائی قرار دیا جائے۔
اس کے بعد وینزویلا کے صدر مدورو پر بے نتیجہ فائرنگ کی وجہ سے امریکی میڈیا کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوا اور ریاستہائے متحدہ کے صدر ٹرمپ نے اس کے ملک کو چلانے کا اعلان کیا جس پر وینزویلا اور وینسویلا سے تعلق رکھنے والے امریکیوں میں غم اور دھول اٹھائی گئی۔
اس آپریشن کے بعد کی گھبراہٹ نے اس ملک کو ایسا محسوس کرایا کہ وہ اپنے دارالحکومت میں لاتھا گیا تھا، جو ہر سال سے ایک یوگلا اور منفی اور رائے گرانے جبھی کو ایک بھرپور جہل کا مقام تھا۔