ویسٹھویسٹ۔ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو امریکا منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں آسامی عدالت میں سمجھائاجائے گا، یہ اعلان ایکس کے ذریعے سامنے آیا ہے
امریکہ نے صدر نیکولس مادورو کو نیویارک کے اسٹیورٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پھنسایا جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہوئے۔
امریکی اٹارنی جنرل پامیلا بوندی نے اعلان کیا کہ صدر مادورو کو وفاقی زعمات کے تحت فردِ جرم عائد کر دیا گیا ہے، ان پر دہشت گردی کی سازش، کوکین امریکا درآمد کرنے کی منصوبہ بندی، مشین گنزاور تباہ کن آلات رکھنے، اور امریکا کے خلاف اسلحہ استعمال کرنے کی سازش جیسے انتہائی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
علاوہ یہ کہ ایکس نے بتایا کہ صدر مادورو کو نیویارک سے فوری طور پر جنوبی فلوریڈا میں ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں آسامی عدالت میں سمجھائاجائے گا۔
ایکس نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی عدالتوں کی جانب سے لیا گیا تھا، جہاں انہیں آسامی عدالت میں سمجھائاجانے کے بعد ان کی نسل تک رسائی حاصل کرنے کا موقع ملے گا، اس سے وینزویلا کی حکومت کو پورے دنیا بھر میں اپنی نسل تک رسائی حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
یہ اعلان وینزویلا کے شہر کاراکاس سے باہر ہوا جہاں بے چینی اور تشویش کی فضا برقرار ہے، اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جنوبی فلوریڈا کے علاقوں سے وینزویلا پر تعلق رکھنے والے لوگ ان کی مدد کر رہے ہیں۔
یہ سچمچھ بھی ہے کہ مگر اس نئے اعلان کے بعد وینزویلا کی حکومت اور اس کی عوام کو یہ سوچنا پڑا ہوگا کہ اب انہیں امریکہ میں آسامی عدالت میں سمجھایا جائے گا، مگر اس کے پیچھے کیا راز ہوگا؟ کیا یہ صرف ایک نئے اعلان کے ساتھ ساتھ ایک پرانے کھیل کی جڑی ہوئی ہے؟
ایسا نہیں ہوا کہ صدر مادورو کو انہیں آسامی عدالت میں سمجھائاجانے کی ایک Fair چیلنج ہے؟ یہ صرف ایک طاقت کا استعمال ہے، جس کی وہ فخر کرتے ہیں۔ وینزویلا کے لوگ یہ لگ رہے ہیں کہ امریکا ایک عظیم طاقت ہے جو اپنی پیاری نسل کی مدد کرتی ہے۔ اور وہ اس بات پر بھی یقین کرتے ہیں کہ انہیں آسامی عدالت میں سمجھائاجانے سے ان کی نسل تک رسائی حاصل کرلی جائے گے۔ یہ ایک بے حسی اور غیر مقبول معاملہ ہے، جس کی وہ فخر کرتے ہیں۔
یہ اعلان بہت غمजनक ہے ، وینزویلا کے صدر کو اس طرح سے آسامی عدالت میں سمجھایا جائے گا؟ یہ تو اسی شخص پر دہشت گردی کی سازش، کوکین امریکا درآمد کرنے کی منصوبہ بندی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ایسے میں بھی یہ بات چھپائی نہیں جاسکتी کہ وینزویلا کے خلاف امریکا کے اساتذہ کی کتنے پیمانے پر حقداری ہو سکتی ہے؟
اس وقت تک کہ ان کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں ہے کہ وہ آسامی عدالت کی کیسز کا حامل کون سی سے رہے گا، ایکس نے یہ بات بھی بتائی کہ ان کو فوری طور پر جنوبی فلوریڈا میں ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی نسل تک رسائی حاصل کر سکیں، یہ توئٹ چلایں کیوں؟
اس میں کوئی بات نہیں کہ اس نیکولس مادورو کو یہاں پھنسایا گیا، لیکن یہ تو دیکھنا منافقت کا ماحول ہے کہ وہ آسامی عدالت میں کس کے خلاف سمجھائے جائیں گے۔ سنیے، اگر امریکی ایڈمنسٹریشن کا یہ فیصلہ وینزویلا کی حکومت کے چھٹ پھر نہیں تھا تو اس میں بھی کوئی بات ہوتی۔
اس اعلان سے پہلے یہ سوچنا کافی مشکل تھا کہ امریکا نے وینزویلا کے صدر کو آسامی عدالت میں سمجھانے کے لیے ایک منظر بنایا ہو گا، اب یہ بات تو明ا ہو چکی ہے کہ وینزویلا کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ تنازعے میں آئیٹھے ہیں، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وینزویلا کو اپنی نسل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے امریکہ کا استعمال کرنا پڑے گا، اس کے ساتھ ہی یہ بھی سوچا جائے گا کہ وینزویلا کی حکومت نے امریکہ کے خلاف اپنے آئندہ کھیل کی پہلی پٹی سے ہی شروع کر دی ہو گی،
اس گمراہی کے بعد اس وقت تک نہیں پاتا کہ کیا امریکا نے وینزویلا کو ایک پھانسی کی سٹی میں تبدیل کر دیا ہے یا نہیں؟ ان کے حوالے سے اس ماجیدہ شہر میں بھی کیا ہو رہا ہے؟ ان کی نسل تک رسائی کے متعلق بات کرو تو ایسا لگتا ہے کہ وہ اسٹریٹیجی سے باہر ہیں।
ایسا سمجھنا انتہائی مشکل ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے صدر کو کتنے انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں؟ یہ اعلان ایکس کے ذریعے سامنے آیا ہے، جس میں وینزویلا کی حکومت نے بھی اپنا ہاتھ رکھا ہو گا۔ لگتا ہے کہ وہ اس وقت کو چاہتے ہیں جب وہ اپنے ملک کی نسل تک رسائی حاصل کر سکیں گے، لیکن یہ پہلے بھی ان کی مدد کرتے ہوئے جنوبی فلوریڈا کے علاقوں سے وینزویلا پر تعلق رکھنے والے لوگ اپنا قوم کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ ایسا نہیں لگتا جیسے ان کو وہ دیکھ رہے ہوں جو اس کی ملکیت ہے۔
یہ اعلان بہت خوفناک ہے، اس وقت وینزویلا کا صدر یوں نکل پڑا تھا؟ امریکہ نے اسے آسامی عدالت میں سمجھانے کا یہ فیصلہ کیا جو وہ پہلے سے ہی چاہتے تھے؟
امریکی اٹارنی جنرل کی بات تو اس حد تک ہیں کہ صدر مادورو کو ایسے الزامات عائد کر دیے گئے ہیں جو وہ بالکل نہیں چاہتے تھے، پھر بھی انہیں آسامی عدالت میں سمجھایا جا رہا ہے۔ یہ کیسے تو آئے گا؟
جن لوگ وینزویلا پر تعلق رکھتے ہیں ان کی مدد کر رہے ہیں، لیکن اس سے ان کے ساتھ ایسے مظالم پیدا ہوتے ہیں جو بالکل نہیں چاہئے۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وینزویلا کی حکومت کو اپنی نسل تک رسائی حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے، لیکن ان سے بھی ایسے مظالم پیدا ہوتے ہیں جو بالکل نہیں چاہئے۔
ویرا، یہ اعلان نہیں آسٹنی میں ایک مظاہرے کے بعد ہوا؟ وینزویلا کا صدر جھیلتا جا رہا ہے اور امریکا نے اسے اپنے ملک میں لے لیا ہے۔ یہ کیا معاشی بحران اور پیداواری کمزوری سے ہوتا ہے کہ کسی ملک کو ایسا کرنا پڑتا ہے؟
اس معاملے کی پورتی پوری فضا کچھ عجیب ہے... وینزویلا کے صدر کو امریکا میں پھنسایا گیا اور ان کے لیے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں آسامی عدالت میں سمجھائاجائے گا... یہ بات بھی نا پچتی ہے کہ امریکا نے اس معاملے کی وینزویلا سے پہلی جگہ پر ان کو جانتے ہوئے اسٹرےٹیجیکلی فیصلہ کر لیا ہے... جنوبی فلوریڈا میں ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، یہ کیا معاملہ ہے؟
ایسے تو بہت جانتے ہیں کہ امریکا نے آپ کو بھی ایسا ہی کیا ہو گا؟ یہ سب کچھ وینزویلا کی حکومت کے لیے ایک لچک دیتا ہے، اس سے انہیں اپنی نسل تک رسائی حاصل کرنے میں مدد مل جاتی ہے؟ یہ کیا ایک جھوٹ بھر دیوار ہے یا یہ حقیقت ہے؟
میری رाय میں، اس پر غور کرنا چاہیے کہ وینزویلا کی حکومت نے یہ فیصلہ کیسے لیا اور انہیں اس وقت کس نہیں دیکھا جیسے اب تک کی صورتحال میں ایک بڑا بدلाव ہوا ہو گا؟
یہ بہت ایسا صورتحال ہے جس میں وینزویلا کے صدر کو امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ امریکی عدالتوں نے اس صورتحال میں مدد کی ہے لیکن پھر بھی یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا وینزویلا کے صدر کو ایسا درجہ درجہ دیا جاسکتا ہے؟ کیا ان کی آزادیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے?
میں سोचتا ہے کہ وینزویلا کے صدر کو اپنی آزادیوں کا حق دیا جانا چاہیے نہ کی اس جگہ جہاں انھیں دھمکیوں کی پٹتھ پر رکھا گیا ہے۔