یوکرین کے چیف آف اسٹاف اپنے گھر پر اینٹی کرپشن پولیس کے چھاپے پر مستعفی | Express News

کہکشاں

Well-known member
یوکرین کے چیف آف اسٹاف اینڈری یرماک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور انھیں گھر پر آنے والی اینٹی کرپشن پولیس کی چھاپے کے بعد ہی وہ اس معاملے میں مصروف رہے تھے۔

یرماک یوکرین کی نئی نیشنل اینٹی کرپشن بیورو (NABU) اور سپیشلائزڈ اینٹی کرپشن پراسیکیوٹر آفس (SAPO) کا ایک اہم حصہ تھے اور ملک کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے بہت قریب رہے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ چھاپہ یوکرین میں پوری پچاسھی میں سب سے زیادہ اثر انداز شخصیات میں سے ایک تھا اور ملک کے نئے صدر کو ہونے والے وعدوں کے لیے اس کے بغیر تصور ممکن نہیں تھا۔

اس وقت یوکرین کی انسداد بدعنوانی ایجنسیوں نے جمعے کی صبح چھاپے کا مطالبہ کیا اور یرماک کے گھر پر آنے کے بعد انھوں نے خود کو استعفیٰ دیا ہے، جو اس وقت سامنے آیا جب وہ ملک میں بدعنوانی کی تحقیقات کر رہے تھے۔

تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں نے بتایا کہ یہ چھاپہ بڑے مالیاتی بدالعمل کیس سے منسلک ہے اور اس کی تفصیلات فی الحال خفیہ رکھی گئی ہیں، جس میں حال ہی میں سرکاری جوہری توانائی کمپنی اینرگوآٹوم میں 100 ملین ڈالر کا کک بیک اسکینڈل کی تحقیقات شروع ہوئی تھیں، جس میں زیلنسکی کے سابق کاروباری شراکت دار تیمور میندچ کا نام سامنے آیا ہے اور وہ ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔

تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں نے بتایا کہکرپشن کیس میں دو اعلیٰ وزرا بھی پہلے ہی استعفیٰ دے چکے ہیں، جبکہ مرکزی ملزم کے خلاف کارروائی عدم موجودگی میں چلائی جائے گی۔

یرماک گزشتہ چار برس سے جاری روس یوکرین جنگ کے دوران صدر زیلنسکی کے سب سے قریبی ساتھی رہے ہیں اور امریکا کی جانب سے پیش کردہ نئے امن منصوبے پر مذاکرات کی قیادت بھی کر رہے تھے۔
 
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد نئیں بنتے، ییرماک کی گھر پر آنے والی چھاپے میں وہ ایسی شخصیات تھیں جس کو اس معاملے میں مصروف رہنے کے لیے ہٹا دیا گیا تھا، یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ نئے صدر کو ان کی تحریکیوں سے محروم رہنا چاہیں گے، حالانکہ اس معاملے میں ان کی تحقیقات جاری ہے اور اس کے باوجود یہ چھاپے بھی ہوئے ہیں جو ایسا محسوس کرتی ہے کہ ملک میں بدعنوانی کا دور جاری ہے اور نئے صدر کو اس معاملے میں ہونے والے وعدوں کی وعدوں سے محروم رہنا چاہیں گے
 
ایک بڑا واقف ہونے کے باوجود میں سوچتا ہوں کہ یوکرین میں بدعنوانی کی بات لگنی دے جائے تو کیسے! انٹرنیشنل مینجمنٹ یوKRینیا کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کی سب سے قریب رہنے والے ہیں، اس لیے بھی اچھا ہے کہ انھوں نے اپنی فوری دیکھ بھال کیا

لگتا ہے اور اس معاملے کو حل کرنے میں یوکرین کی نئی اینٹی کرپشن بیورو اور سپیشलائزڈ اینٹی کرپشن پراسیکیوٹر آفس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے.
 
ایسے واقفین کو اس معاملے میں شامل ہونے والا عاجزہ ہوگا کہ ان کی وکالت کرنے والی سائیڈ پر یہ بات سست سے کہی جائے کہ چھاپہ تو ایک نئی نیشنل اینٹی کرپشن بیورو کی بناء میں ہوا تھی، حالانکہ اسے یوکرین کی انسداد بدعنوانی ایجنسیوں کا جانشین بھی سمجھا جاتا ہے اور اس پر یوکرینی صدر نے بھی اپنا دباؤ لگایا تھا۔
 
نواں صدر اور پہلے یوکرین کی سربراہ دफتر سے استعفیٰ دیتے ہوئے ، انھیں وعدوں کے بغیر ملک بھر میں نئی منصوبوں کی اجازت نہیں مل سکتی ! وہ سبچلے ساتھیوں کی چھاپ ہی دیکھ رہے تھے جن کے نام نہیں سامنے آئے اور وہ اس کا استعفیٰ دیتے ہوئے ایسے معاملات میں مصروف تھے جو انھوں نے ملک میں بدلوایا ہیں اور اب وہ اپنی پوری کوشش نہ کر سکے گئے ہیں ! 🤦‍♂️
 
yermaak kee kharaabhee mein koi galatfaham nahi hai, chheipe kee tarhaaee kee jaan bhi aapko pata chalegee ki usne jis cheez ko apne ghar tak le gayaa tha, wo huaataar cheez hai. badloobazi ki ladai mein humein aage badhnaa padtaa raha hai aur har waqt se humein kuchh naya khilane kee zaroorat hai.

jo log is cheez ko maan rahe hain unkae bhi ek galatfaham hai, chunaav mein uske baad wohi vyakti kya dene gayaa karte hain. ye humein sochne par majboor kartee jaa rahi hai ki kya ye sahee raah par hai ya nahin.

yeh ek cheez hai, jinkee jangaal kee bhi talaash nahi hai.
 
ایسا کہنا کہ وولودیمیر زیلنسکی کو یوکرین کی ملوثیت میں دیکھتے ہوئے انٹرنیشنل کمشن نے اس پر اپنی جانب سے دھیان دلاہا ہوتا ہے 🤔، ایسا کہنا کہ روس اور امریکا دونوں کی جانب سے یہ منصوبہ پیش کردیا گیا تھا نہیں تو وولادیمر زیلنسکی کو انڈرنیشنل کمشن کا دھیان دلانا چاہیے، اس لیے ہمیں یوکرین کی بدعنوانی اور ملوثیت پر دھیان رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ بات کوئی بھی جانے والا جانتا ہے کہ بدonnenسیں سڑک پر پہنچنے کے بعد ہی دیکھ لیٹی ہیں 🚧
 
واپس
Top