ویتنام میں فوجی طیارہ گر کر تباہ

بندر

Well-known member
ویتنام میں ایک جہاز گिर کر اس پر زخمی ہونے کا واقعہ، جو ان کی جان بچانے کے بعد ہسپتال میں لگایا گیا تھا، آج تک ابھی نئی ہی رہا ہے۔ یہ واقعہ ویتنام کے وسطی صوبے ڈاک لاک کے پہاڑی علاقوں میں پیش آیا جہاں ایک فوجی جہاز نے لینڈنگ کر دی اور پائلٹ پر زخمی ہونے کے بعد اسے ہسپتال لے گئے۔

اس حادثے میں پائلٹ کو زخمی کی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کے حوالے سے اس وقت تک وائرس کے باعث مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

بھارت کے مہاراشٹر میں ایک انسداد وائرنس جہاز پر بھی لینڈنگ کرنے سے پہلے اس وقت تک وائرس کی وجہ سے 30 افراد مر چکے ہیں۔

اس حادثے میں تمام فوجی اور سیاسی رکنوں کو جان جانتے ہوئے وہ لینڈنگ کرتے رہے لیکن انہیں یقینی بنانے کے لیے اس سے پہلے ایک ایجیکٹ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس سے یہ جانا گیا تھا کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس جہاز میں رہنے والے تمام رکنوں کی جان جانتے ہوئے اس لینڈنگ کو جاری رکھا جائے گا لیکن انہیں یقینی بنانے کے لیے ایک ایجیکٹ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
 
اس وقت تک میں سوچتا ہوں کہ ویتنام کا واقعہ تو کچھ خاص نہیں ہے، اور ان لوگوں کو جو اس جہاز پر تھے وہ اپنی جان بچانے کے لیے کیوں لینڈنگ کر گئے؟ یہ تو ایک نوجوان کی جان ہارنے کے بعد ہی کسی کو پتہ چل گیا، اور اب تک میں اس کے جواب میں کچھ نہیں مل رہا، ان لوگوں کے پاس یقینی بنانے کی جگہ تو ہے لیکن وہ اس کے لیے کیسے کوشش کریں گے؟

میں ایسا لگتا ہوں کہ انہیں جاننے کو ہے کہ جہاز میں کتنے لوگوں کی جان جانتے ہوئے وہ اسے کیسے لینڈنگ کیا، اور اب تک میں یہ نہیں آئا کہ انہوں نے کس طرح مواقع کی پھرتی ہوئی اپنے جوش و جذبے کو قابو میں رکھتے ہوئے اس سے کچھ قبل اپنے کامیابی کی جان جانتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر چلے گئے تاکہ وہ اسے اپنی قیمتی جان بچا سکے۔
 
میں اس حادثے سے بہت متاثر ہوں 🤯 ویتنام میں ایسی صورتحال جہاں ان پرAttack کرنے والا فوجی جہاز اور پائلٹ کو جان بچانے کے بعد ہسپتال لے گئے گئے! یہ ایک بھی سڑک کی چلائی نہیں ہے، وہاں جان جانتے ہوئے ایسا اٹھاتے رہے اور ان کے بعد بھارت میں جو وائرنس جہاز پر لینڈنگ کرنے سے پہلے 30 افراد مر چکے ہیں! یہ سچ نہیں کہ ایسے اچھے انتظام کی وجہ سے کسی بھی جگہ کو ختم نہیں کیا جاسکتا?
 
ویتنام میں واقعہ جب فوجی جہاز نے لینڈنگ کر دی اور پائلٹ پر زخمی ہونے کے بعد اسے ہسپتال لے گئے تو اس کی واضح رہنما نہیں ہوا۔ جب انہوں نے پائلٹ کو جان جانتے ہوئے اس جہاز میں سے کھینچ لیا تو یہ بات صاف رہ گئی کہ وہ لینڈنگ کرتے رہے کیونکہ انہیں یقینی بنانے کے لیے ایک ایجیکٹ کرنا ہوگیا تھا اور اب اس نتیجے پر پہنچتے ہوئے وہ جان جانتے ہوئے اس لینڈنگ کو جاری رکھ سکتے ہیں لیکن ابھی یہ بات واضح نہیں ہو سکتی کیونکہ پائلٹ پر زخمی ہونے کے بعد اسے ہسپتال لگایا گیا تھا اور اب اس وقت تک وائرس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے.
 
اس حادثے نے مجھے اس بات پر سوچنی پڑی ہے کہ بھارت میں وائرس کا سلسلہ جاری ہو رہا ہے اور وہ لوگ کیسے جان جانتے ہوئے فوجی جہاز لینڈنگ کر رہے ہیں? پہلے میں سمجھتا تھا کہ یہ سچ چھوٹا حادثہ ہے لیکن اب وہ لوگ جو 30 افراد کو مریں دے چکے ہیں، انہیں جان جانتے ہوئے لینڈنگ کر رہے ہیں؟ یہ ایک بڑا مشق ہو رہا ہے اور لوگ اس کھیل میں پچتے دیکھ رہے ہیں، انہیں پھر وہ لوگ کیسے ہدایات لے گا جو نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار اس سلسلے میں اپنے مشورے دیتے رہتے ہیں؟
 
اس دنیا میں ہر رات نئی واقفیت ملتی ہے، جو ہمیں اچھی لگتی ہے لیکن ایسا تو بتایوں نہیں کہ اس جہاز کی لینڈنگ میں ہلچل پڑنے کا امکان بھی تھا۔ ابھی تک یہ واقعہ ویتنام میں پیش آیا ہے جو لوگوں کو اتنی دھچکہ لگا رہا ہے کیوں کہ اس جہاز نے ایسا کیا کہ پائلٹ بھی زخمی ہونے چکے ہیں، اور اب وائرس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کے مہاراشٹر میں ایک انسداد وائرنس جہاز پر لینڈنگ کرنے سے پہلے بھی 30 افراد مر چکے ہیں۔
 
یہ بات بھی تو نہیں چاہیے کہ ویتنام کا یہ جہاز پائلٹ کو زخمی کرنے لگا اور اب اسے ہسپتال میں لگایا جا رہا ہے۔ اور بھارت میں انسداد وائرنس جہاز پر بھی ایسی ہی situation پیش आई اور اب تک 30 افراد مر چکے ہیں۔ یہ سارے فوجی اور سیاسی رکنوں نے جان جانتے ہوئے لینڈنگ کیا، لیکن انہیں یقینی بنانے کے لیے ایک ایجیکٹ کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اب وہ تمام جان جانتے ہوئے لینڈنگ کو جاری رکھتے ہیں۔ یہ تو حالات بہت اچھے نہیں دیکھتے۔
 
یہ حادثے بہت ہی مصیبت کی نئی ندیوں میں شامل ہوئے ہیں، لیکن یہ بات ہمیشہ اس سے دور رہتی ہے کہ انسان کو نہ ہونے والی چیزوں کی طرف توجہ دی جائے، مگر ابھی تک ویتنام میں ایسا واقعہ آیا ہوا جیسا کہ یہ حادثہ نہیں کہا گیا تھا کہ پائلٹ کو زخمی ہونے سے پہلے اس جہاز میں کسی کی جان بچانے کے لیے اچانک ایک کارروائی ہوئی تو وہاں رہنے والوں کو یہ جان لگی کہ کیا ہوتا، مگر پائلٹ کو زخمی ہونے سے پہلے بھی ان کی جان کا اچانک خطرہ تھا جو اس وقت تک یقینی نہیں تھا۔
 
یہ سارے واقعات ایسے ہی سا رہے ہیں جیسے وہ ہر وقت ممکن تھے لیکن اس میں بھی کوئی ناکام نہیں ہوا، یہ صرف ایک بات یقینی ہو گئی ہے کہ وائرس کی وجہ سے ہم سب کا دم اٹھانے پر مجبور ہیں۔ لینڈنگ کرنے والے فوجی جہاز میں رہنے والوں کو یہ بات بھی پتہ چلی گئی ہے، اور یہ ہمیں ایک اور بارہ بتایا کہ وائرس کی وجہ سے لینڈنگ کرنے والے لوگ بھی اس میں شामل ہونے پر مجبور ہیں، یہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور ہم کو اپنی جانوں کا خطرہ بھی یقینی بنانے کے لیے اچھی طرح تیار ہونا پڈega۔
 
اس وقت تک وائرس کی وجہ سے 30 افراد مر چکے ہیں، اس کی پہلے بھی تینوں جہازوں میں لینڈنگ کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا اور ابھی تک کچھ نئے واقعات ہونے لگتے ہیں، یہ ایک بڑا خوفناک ماحول بن گیا ہے، اس سے پہلے تو کبھی یہ سوچنا نہیں تھا کہ وائرس اس طرح کے حادثات کی وجہ بن سکتی ہے، اب وہ جسمانی طور پر ایک بڑی چیلنج بن گئی ہے اور سارے لوگ اسے دور کرنے کی پوری کوشش کرتے رہتے ہیں۔
 
یہ بات بہت پریشان کن ہے کہ ان حالات میں انسانوں کی جانوں کو کس حد تک خطرہ میں لایا جاسکتا ہے؟ ویتنام اور مہاراشٹر دونوں کے لیے یہ حادثے انتہائی تباہ کن ہیں، ایک ہی وائرنس کی وجہ سے لاکھوں لوگ اس طرح بھوکم اور مرت کا شکار ہوتے رہتے ہیں؟ ان حالات میں انسان کی جان کس حد تک قیمتی ہوتی ہے، یہ سوچنا پریشان کن ہے 🤕
 
یہ بہت دیر ہے اس سے قبل لینڈنگ کرنے والوں کو ہسپتال لے جانے پر توجہ دی جائے تو وہاں 30 سے زائد لوگ مر چکے ہیں 🤕. یہ واقعات ہلچل میں ڈال رہے ہیں اور ان کے بعد کوئی بھی فیصلہ نہیں لے سکتا تو اس سے پہلے کسی ایجیکٹ کی وضاحت کی جائے. یہ سچ ہے کہ لوگ جان جانتے ہوئے لیکن کیا ان کے پاس ہسپتال لے جانے کا ایک طریقہ تھا اور کیا اسے بھی ٹھیک سے نہیں جانتا تھا؟ یہ بات کوئی جان سکتا ہے کہ اگر کسی فوجی جہاز پر لینڈنگ کرنا پڑتا ہے تو اس میں سے 30 لوگ مر چکے ہیں تو وہیں سب کو جان لے لیو.
 
یہ واقعہ بہت سچوں کو یاد دلاتا ہے کہ انسان کو اپنے سفر میں ایسے پہلے رکنا چاہیے جب تک اسے ضرورتیں نہ لگ رہیں۔ پھر یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ وقت کی دھول پتھر پر نہ رکھی جائے اور کسی بھی حادثے سے سीखے بغیر نہ چلنا چاہیے।
 
عمر ہے اس جہاز میں 30 افراد مر چکے ہیں اور ان میں بھی کوئی یقینی کرتا نہیں ہو سکا تاکہ وہ جان جانتے ہوئے لینڈنگ کریں یا نہ کریں?
 
واپس
Top