کرغیزستان ایک اہم عظیم ملک 31 دسمبر 2025 کو ویزا فری قیام کے قوانین میں ایک نمایاں تبدیلی کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے سے غیر ملکی شہروں کے قیام کی شرائط میں ایسے واضح تعینات کی گئی ہیں جو مائیگریشن کو منظم اور بہتر بنانے، ملک میں غیر ملکی شہروں کے قیام کی یہ شرائط میں واضح تعینات لانے اور ملکی قوانین کو ریاستی مائیگریشن پالیسی کے کلیدی اہداف کے مطابق بنانا ہے۔
ابھرملک کی جانب سے غیر ملکی شہروں کو کرغیزستان میں داخل ہونے اور قیام کرنے کے لیے 30 دنوں تک بغیر ویزا اور بغیر رہائشی اجازت نامے کے سہولت فراہم کی گئی ہے، جو ان کی آمد کی تاریخ سے شمار ہو گی۔
جب اجازت کی مدت ختم ہوجائے تو ایسے حالات میں غیر ملکیوں کو کچھ ضروری اقدامات کرنی پڑیں گے جن میں انہیں ملک کی حدود سے باہر چلنا ہوگیا، یا اس کے 대اء وہ ملکی قانون کے مطابق متعلقہ دستاویزات حاصل کرنی پڑیں گی جیسے ویزا، رہائشی اجازت نامہ، عارضی رہائشی اجازت نامہ یا دیگر قانونی اجازت نامے۔
ابھرملکی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ قوانین ان بین الاقوامی معاہدوں پر اثر انداز نہیں ہو گئیں جس میں داخلے یا قیام کی مختلف شرائط طے کی گئی ہیں، اور یہ قوانین ان لوگوں پر لاگو نہیں ہو گیں جو ملازمت، تعلیم یا دیگر ایسی سرگرمیوں کیلئے ملک میں داخل ہو رہے ہیں جن کیلئے خصوصی اجازت نامے درکار ہوتے ہیں۔
وزارت خارجہ نے غیر ملکی شہروں اور ان کی میزبانی کرنے والے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ قیام کیلئے مقررہ وقت کی سختی سے پابندی کریں اور سفر کی منصوبہ بندی کرتے وقت ان نئے ضوابط کو مدنظر رکھیں تاکہ ملک کے مائیگریشن قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو۔
ابھرملک کی جانب سے غیر ملکی شہروں کو کرغیزستان میں داخل ہونے اور قیام کرنے کے لیے 30 دنوں تک بغیر ویزا اور بغیر رہائشی اجازت نامے کے سہولت فراہم کی گئی ہے، جو ان کی آمد کی تاریخ سے شمار ہو گی۔
جب اجازت کی مدت ختم ہوجائے تو ایسے حالات میں غیر ملکیوں کو کچھ ضروری اقدامات کرنی پڑیں گے جن میں انہیں ملک کی حدود سے باہر چلنا ہوگیا، یا اس کے 대اء وہ ملکی قانون کے مطابق متعلقہ دستاویزات حاصل کرنی پڑیں گی جیسے ویزا، رہائشی اجازت نامہ، عارضی رہائشی اجازت نامہ یا دیگر قانونی اجازت نامے۔
ابھرملکی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ قوانین ان بین الاقوامی معاہدوں پر اثر انداز نہیں ہو گئیں جس میں داخلے یا قیام کی مختلف شرائط طے کی گئی ہیں، اور یہ قوانین ان لوگوں پر لاگو نہیں ہو گیں جو ملازمت، تعلیم یا دیگر ایسی سرگرمیوں کیلئے ملک میں داخل ہو رہے ہیں جن کیلئے خصوصی اجازت نامے درکار ہوتے ہیں۔
وزارت خارجہ نے غیر ملکی شہروں اور ان کی میزبانی کرنے والے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ قیام کیلئے مقررہ وقت کی سختی سے پابندی کریں اور سفر کی منصوبہ بندی کرتے وقت ان نئے ضوابط کو مدنظر رکھیں تاکہ ملک کے مائیگریشن قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو۔