واٹس ایپ غیر محفوظ ہے: ایلون مسک کا دعویٰ

خطاط

Well-known member
لوگ اپنے فون سے ایسے پیغامات بھی کر رہے ہیں جو ان کو کچھ دیر پہلے نہیں بتائے تھے، اور یہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر اس طرح کا الزام لگا رہا ہے جیسا کہ دنیا کے امیر ترین کاروباری شخص ایلون مسک نے پہلے بھی کیا تھا، انہوں نے ایکس چیٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے اور واٹس ایپ کی سکیورٹی پر ایک بار پھر سوال اٹھاتے ہوئے اس کی تصدیق کرنے والے ایک نیے مقدمے کے ذریعے نہیں چلا سکتی ہے بلکہ ایسچیٹ کا استعمال ضروری ہے۔

ایلون مسک نے اپنی پوسٹ میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ واٹس ایپ کے سگنل پروٹوکول کی سیکیورٹی بھی مشکوک ہو سکتی ہے، اور اگر اس کے سگنل پروٹوکول کو کم کر دیا جائے تو واٹس ایپ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو گیا ہو گا۔

یہ انفرادی مطالبے کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے، ایک اور معاملے میں ایسچیٹ استعمال کرنا ضروری ہو گیا، جس میں یہ بھی بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس کے ساتھ ساتھ فون پر بھی پیغامات بھی آئتے رہتے ہیں، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس اس سے سیکورٹڈ نہیں ہیں جو فون پر بھی ایسے پیغامات بھی آتے ہیں، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں سگنل پروٹوکول کی سیکیورٹی کی کمی ہو سکتی ہے جو فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس سے اسٹریم بھی لائی جاتی ہے جو فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں ڈیٹا کو سٹور کر لیا جاتا ہے جو فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں انکرپشن کا سسٹم بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے جو فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں کمپنی اپنے ملازمت والوں کو پیغامات تک رسائی حاصل کر سکتی ہے جو فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں صارفین کو یہ یقین دلاتا جاتا ہے کہ ان کی چیٹز مکمل طور پر محفوظ اور نجی ہیں، لیکن اس بات کو حقیقت میں کمپنی اپنے ملازمت والوں کو یہ بتاتا ہے کہ ان کی چیٹز سے انکوائری بھی کی جاتی ہے اور ان تک رسائی بھی رکھی جاتی ہے، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں صارفین کو اس سے پتہ لگتا ہے کہ ان کی چیٹز سے انکوائری بھی کی جاتی ہے اور ان تک رسائی بھی رکھی جاتی ہے، لیکن اس بات کو کمپنی کو ملنا پڑتا ہے کہ یہ دعویٰ سچ ہے یا نہیں، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں انکرپشن کا سسٹم نقصان دہ ہو سکتی ہے، اور اس کے نتیجے میں صارفین کے پیغامات کو کمپنی اپنے ملازمت والوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہے جو فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں کمپنی اپنے ملازمت والوں کو ان کو بھی جالدی سے پڑھا سکتی ہے جو فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں صارفین کو اس سے پتہ نہیں لگتا کہ ان کی چیٹز کمپنی اپنے ملازمت والوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہے، لیکن یہ بات حقیقت میں سچ ہے اور یہ کام کمپنی اس وقت کرتی ہے جب اس کے پاس ان کو پڑھا نہیں لگتا ہو گا، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں کمپنی اپنے ملازمت والوں کو ان کو جالدی سے پڑھا سکتی ہے، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں صارفین کو اس سے پتہ نہیں لگتا کہ ان کو جالدی سے پڑھا جاتا ہے، لیکن یہ بات حقیقت میں سچ ہے اور کمپنی اس وقت اس کام کو کرتی ہے جب اس کے پاس ان کو پڑھایا نہیں لگتا ہو گا، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں کمپنی اپنے ملازمت والوں کو ان کو جالدی سے پڑھا سکتی ہے اور ان کو نجی معلومات بھی حاصل کر سکتی ہے جو فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں صارفین کو اس سے پتہ نہیں لگتا کہ ان کو جالدی سے پڑھایا جاتا ہے اور ان کو نجی معلومات حاصل کی جاتی ہیں، لیکن یہ بات حقیقت میں سچ ہے اور کمپنی اس وقت اس کام کو کرتی ہے جب اس کے پاس ان کو پڑھایا نہیں لگتا ہو گا، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں صارفین کو اس سے پتہ نہیں لگتا کہ کمپنی ان کے پیغامات کو جالدی سے پڑھا سکتی ہے اور ان کو نجی معلومات حاصل کر سکتی ہے جو فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، لیکن یہ بات حقیقت میں سچ ہے اور کمپنی اس وقت اس کام کو کرتی ہے جب اس کے پاس ان کو پڑھایا نہیں لگتا ہو گا، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں صارفین کو اس سے پتہ نہیں لگتا کہ کمپنی ان کے پیغامات کو جالدی سے پڑھا سکتی ہے اور ان کو نجی معلومات حاصل کر سکتی ہے جو فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، لیکن یہ بات حقیقت میں سچ ہے اور کمپنی اس وقت اس کام کو کرتی ہے جب اس کے پاس ان کو پڑھایا نہیں لگتا ہو گا، اور یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی آن لائن چیٹس میں صارفین کو اس سے پتہ نہیں لگتا کہ ان کو جالدی سے پڑھایا جاتا ہے اور ان کو نجی معلومات حاصل کر سکتی ہے جو فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، لیکن یہ بات حقیقت میں سچ ہے اور کمپنی اس وقت اس کام کو کرتی ہے جب اس کے پاس ان کو پڑھایا نہیں لگتا ہو گا،
 
یہ بات تو سچ ہے کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر یہ الزامات رکھنے سے قبل کئی بار اس میں نقصان پڑتے رہے ہیں، لیکن آج وہ لوگ آپ کو اس بات کا ذریعہ بناتے ہوئے اس پر زور دیتے ہیں کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی کمزور ہو گئی ہے اور یہ انفرادی مطالبے کر رہا ہے، لیکن اگر آپ کو اس بات کا خیال ہے کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی میں کوئی نقصان نہیں ہے تو آپ اپنی یہ نظر چھوڑ دیجئے اور اس کے بجائے واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر فوری فیکٹ ریلیز دیکھیں، کیونکہ وہ لوگ جو اس میں نقصان پڑتے ہوئے رکھتے ہیں ان کی بات کو سچ ماننے کا کوئی ایسا کام نہیں ہے جس پر آپ اس میں وٹ کر سکیں، اور یہ بھی بات آپ کو پتہ چلنی ہوگی کہ واٹس ایپ نے اپنی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لئے کیا ہے۔
 
یہ بات بہت غلط ہے کہ لوگ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر الزام لگاتے رہتے ہیں اور اس سے ان کا دھماکہ جارہا ہے، یہ بات تو صاف نہیں ہو سکتی کہ ایسچیٹ استعمال کرنا ضروری ہے، لہذا لوگ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر الزام لگاتے رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ پیغامات بھی آئے رہتے ہیں جو ان کو پہلے نہیں بتائے تھے اور یہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر ان کا دھماکہ جارہا ہے، لہذا اس بات کو سچ ہونا چاہئے کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی کی کمی نہیں ہو سکتی، اور یہ بات بھی تو صاف نہیں ہو سکتی کہ لوگ واٹس ایپ کے استعمال کو کم کرنا چاہتے رہتے ہیں، لہذا اس سے ان کا دھماکہ جارہا ہے اور وہ پیغامات بھی آئے رہتے ہیں جو ان کو پہلے نہیں بتائے تھے، لہذا اس بات کو سچ ہونا چاہئے کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر زور دیا جائے اور ان کی بات کو نہیں منے جو لوگ واٹس ایپ کے استعمال کو کم کرنا چاہتے رہتے ہیں،
 
علاوہ سے واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر یہ الزام بہت خطرناک لگ رہا ہے. ایلون مسک کے مشورے سے بھی فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن ابھی تک واٹس ایپ نے اس بات پر یقین دिलایا ہے کہ صارفین کی معلومات کی سیکیورٹی کو لازمی طور پر ضمانت دی گئی ہے. ابھی تک یہ بات سچ نہیں آئی، اور اس بات پر یقین دلیا جائے کہ واٹس ایپ صارفین کی معلومات کو محفوظ رکھتی ہے تو صرف اس لئے ہے کہ کمپنی کو یہی ذمہ داری حاصل ہے.
 
یہ بات سے بھی یہ بات اٹھتی ہے کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر بات کرنے والے ایلون مسک کی پوسٹ میں اس بات کو زور دیا گیا ہے کہ واٹس ایپ کے سگنل پروٹوکول کی سیکیورٹی بھی مشکوک ہو سکتی ہے... لگتا ہے یہ بات حقیقت میں سچ نہیں ہوگی.
 
ہمیشہ سے لوگ واٹس ایپ اور دیگر موبائل ایپ کی سیکیورٹی پر سوال اٹھاتے رہتے ہیں، اور اب بھی یہ مطالبے کو نئی واضحت سے جگا دیتے رہتے ہیں۔ ایسچیٹ کی اچھائی کے ساتھ ساتھ انفرادی مطالبے کو جaga کرنے میں ایسچیٹ کا کام بہت اچھا ہو رہا ہے، لیکن واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر یہ مطالبے نئی تو کبھی نہیں تھیں۔

یقین کیا جاتا ہے کہ ایسچیٹ کو اپنے پیغامات اور دوسرے مواقع پر اسٹریم کی وضاحت اور سیکیورٹی کے بارے میں اچھی واضحت دی جائے، تاہم، کمپنیوں کو اپنے پیغامات کو ایسچے کے ذریعے بھی بھیڑا کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔
 
یہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک اور معاملہ ہے جس میں لوگ ایسے پیغامات بھی بھی رہے ہیں جو ان کو پہلے سے نہیں بتائے تھے۔ یہ بات حقیقت میں تو جاری ہے کہ اپنے فون پر بھی پیغامات آتے رہتے ہیں، لیکن واٹس ایپ کی سیکیورٹی کو توجہ سے دیکھنا اور اس پر دلچسپی لینا بھی ضروری ہو گا۔

لیکن یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر توجہ مرکوز کرنے سے پہلے، ہمیں انفرادی مطالبے کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے اور اپنی خصوصیت کی گواہی دی جانی چاہئے۔

انفرادی مطالبے کو پورا کرنے کی توجہ مرکوز کرتے ہوئے، واٹس ایپ نے ایکس چیٹ استعمال کرنے کی سنجیدگی کی بھی۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایکس چیٹ کو ایک اور معیار سمجھا جاتا ہے۔

لیکن یہ بات کے گئی ہے کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر توجہ مرکوز کرنے سے پہلے، ہمیں اپنی خصوصیت کی گواہی دی جانی چاہئے اور انفرادی مطالبے کو پورا کرنا چاہئے۔
 
میں سمجھتے ہیں کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر ابھری اچھی بات یہ ہے کہ صارفین کو اپنے پیغامات کو جالدی سے پڑھایا نہیں جاتا، لیکن اس میں کوئیProof نہیں ہے کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی کام کر رہی ہے یا نہیں۔
 
واپس
Top