وفاقی وزیر صحت انڈونیشیا کے پرائمری ہیلتھ کیئراپنانے کے خواشمند

ڈیزائنر

Well-known member
وزیر صحت انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کیئر ٹھیک نہیں، پرائمری کیئر تو کافی اچھی ہے

انڈونیشیا کے وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اپنے سرکاری دورے کے دوران جکارتہ میں ایک پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر کو سراہتے ہوئے اسے اپنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ انڈونیشیا کا پرائمری ہیلتھ کیئر ماڈل پورے خطے کے لیے قابلِ تقلید ہے اور اس سے مریضوں کو علاج میں بڑے ہسپتالوں کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

انڈونیشیا کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کی پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنانے کیلئے پاکستان بھی اپنے معیار میں بڑھنا چاہتا ہے۔

وزیر صحت نے مزید کہا ہے کہ انڈونیشیا کی پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم میں اس کی اچائی کو کم کرنے کیلئے کافی اقدامات جاری ہیں۔

اس کے علاوہ انڈونیشیا کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھی اس سسٹم کو مضبوط بنانے کیلئے کافی اقدامات جاری ہیں اور وہ اس کی مدد کے لیے یہاں بھی موجود ہیں۔

کوئی بھی ملک اپنے لوگوں کے لیے سہولت دیتا ہے، اس کے لیے یہی معیار ہوتا ہے کہ اس سسٹم کو مضبوط بنایا جائے تاکہ لوگوں کی زندگی بہتر ہو سکے۔
 
انڈونیشیا کے وزیر صحت کے ایسے بیان پر غور کرتے ہوئے، میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ پاکستان بھی اپنے معیار میں اچھی طرح بڑھ چکا ہے۔ وہ اس پریمری ہیلتھ کیئر سسٹم جو اب انڈونیشیا نے اپنایا ہے، وہ ایک بہترین ہیں۔ یہ سسٹم مریضوں کو علاج میں بڑے ہسپتالوں کا بوجھ کم کرنے میں مدد کرتا ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی اس سسٹم کو مضبوط بنانے کیلئے کام جاری ہے۔ ابھی پچیس سال پہلے، وہاں پریمری ہیلتھ کیئر کا معاملہ آج کی طرح محفوظ تھا۔ اب یہ بھی اسی طرح کے معاملے سے نمٹ رہا ہے۔ میرے خیال میں، اس سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پاکستان کو اچھے معیار پر چلنا ہوگا، تاکہ لوگوں کی زندگی بہتر ہوسکے۔
 
اس پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر کو انڈونیشیا کا وزیر صحت سراہنے کا کہنا اچانک لگ رہا ہے، یہ سسٹم جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مریضوں کو بڑے ہسپتالوں کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملتی ہے، کیوں انڈونیشیا میں یہ معیار نہیں تھا؟
پاکستان میں اس سسٹم کو مضبوط بنانے کیلئے کافی اقدامات جاری ہیں، وہ کہتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں کہتے کہ اس سسٹم کو کیوں بنایا گیا تھا؟
انڈونیشیا کی پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بناتے ہوئے، وہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اس سسٹم کو بھی چھپانے کی کوشش کرنا ہوتا ہے تاکہ لوگوں کو پتہ نہ آئے کہ وہ کیسے جارحانہ طریقوں سے معیار بڑھاتے ہیں؟
میں یہ سوچتا ہوں کہ اس پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر کو انڈونیشیا کا وزیر صحت سراہنے سے بڑی بات نہیں ہوتی، یہ صرف ایک معاملہ ہے جس پر پابندی لگا کر اسے سراہنا چاہئے
 
نظریہ انڈونیشیا کی پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم میں تبدیلی کا یہ دور بہت اچھا ہے. پہلے بھی تھا اس سسٹم کو مضبوط بنانے کیلئے کام کیا گیا ہے، اب یہ دور بھی اسی کا حصہ ہے جو انڈونیشیا کا وزیر صحت نے بتایا ہے. اس کے لیے پاکستان کو بھی اپنے معیار میں بڑھنا چاہئیے اور یہ سسٹم پورا خطہ قابلِ تقلید بنائے۔
 
انڈونیشیا کے وزیر صحت نے ایک بڑی بات کی ہے اور میں اس کو سنجیدہ سمجھتا ہوں، انٹرنیشنل کیئر کو بہت تیز گریڈ کرنا زیادہ کا نہیں ہے، پریمیئر کیئر میں بھی اچھائی ہے مگر اس کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے، اگر انڈونیشیا کا پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم پورے خطے کے لیے قابلِ تقلید ہے تو اس کو بھی اپنی سطح پر اچھائی دیکھنا چاہئے اور اس کو مضبوط بنانے کیلئے بھی کوشش کرنی چاہئے، لیکن انڈونیشیا کے وزیر صحت نے انڈین شوس ہی نہیں کیوں دیں ؟
 
میں سمجھتا ہوں کہ انڈونیشیا کے وزیر صحت نے سچ کہا ہے کہ پرائمری کیئر بہت اچھی ہے، لیکن انٹرنیشنل کیئر سسٹم کو دیکھتے ہوئے میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کا بھی اپنا معیار ہونا چاہیے۔ پاکستان نے بھی اپنے پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنانے کیلئے اچھے کامیاب منصوبوں پر کام کیا ہے، اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی بھی بہتر ہونا چاہئے।
 
اس وزیر صحت نے ایک بڑی جھوٹھ کیا ہے، انٹرنیشنل کیئر ٹھیک نہیں! پہلے تو انڈونیشیا میں بھی اس پرائمری کیئر کو اپنانے کی خواہش تھی اور اب وہ اسے اپنا رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ تو یقیناً ایسا نہیں ہو سکتا!

انڈونیشیا کی ٹیکنگ اور سروس کی معیار کئی سالوں سے ٹھوس پہلوں پر رہتی ہے، اس لیے اس نے اس کو اپنانے کی خواہش کی ہے، پھر وہ یہ کہتا ہے کہ پاکستان کو بھی اس میں بڑھنا چاہیے، لیکن وہاں کی سروس کے معیار اس طرح نہیں ہیں!

یہ انڈونیشیا کے وزیر صحت کا ایک تیز گھونٹا بھی ہے، وہ یقیناً اپنی حکومت کی سروسوں میں بہتری لانے کیلئے اس پر مبنی ہیں اور وہ اس کے لیے یہاں تک اپنا عزم چھپاتے رہتے ہیں!
 
انٹرنیشنل کیئر کو معیار چھوڑنا ایک مشکل کाम ہے، یہ وہ ہیلتھ کیریس کو محفوظ اور سہولت دینے والا بناتا ہے جو پوری زندگی میں لوگوں کی مدد کرتی رہتی ہے. جبکہ پرائمری ہیلتھ کیئر کو مضبوط بنانا، اس سسٹم میں بھی ایسے معیار لانے کا ایک اچھا طریقہ ہے جو لوگوں کو بہتر سہولت فراہم کرے اور ان کی زندگی کو بہتر بنaye.
 
انڈونیشیا کے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے بیان سے میں متاثر ہوا ہوں 🤩 انھوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل کیئر ہیلتھ سسٹم نہیں، پرائمری کیئر بہت اچھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اسے اپنانا چاہتے ہیں۔

میں اس بات پر اتفاق کرunga کہ پریمیئر کیئر سسٹم سے سسٹم کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور یہ لوگوں کی زندگی بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ پاکستان کو اس معیار پر پہنچنا چاہتے ہیں۔
 
اس کے بعد پاکستان کے لیے بھی ایسی ہیلتھ کیئر سسٹم چالو کرنا چاہئے جو انڈونیشیا کے پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کے مقابلے میں بہتر ہو۔ پاکستان کو اپنی اپنی اچائیوں کو پھینک کرنے والی ٹھیکوں پر معاف نہ رہنا چاہئے۔
 
انڈونیشیا کی سرکاری ادارے کی یہ بات کہ انٹرنیشنل کیئر کو نہیں بلکہ پرائمری کیئر کو قابل تقلید سمجھتے ہیں تو بہت سا سوال پیدا ہوتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ انٹرنیشنل کیئر کیسی زیادتی کی وجہ سے زیادہ اچائی والی ہو گئی ہے؟ اور پرائمری کیئر میں اس کی توجہ لگانا ایسا ہی کیسے کہ وہ اسے پوری دنیا کے لیے قابلِ تقلید بنائے?

لگتا ہے کہ انڈینیشیا کا وزیر صحت بہت چاقو لے رہا ہے، اور وہ بھی ٹھیک سے نہیں بات کرتا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ انڈینیشیا کی پرائمری ہیلتھ کیئر کو پوری دنیا میں ایک معیار بنایا جائے، لیکن وہ اس بات پر غور کرنے میں ناکام رہے کہ وہ اپنا معیار یوں کس طرح سٹاپ لگائے گا? 🤔
 
انڈونیشیا کے وزیر صحت نے انٹرنیشنل کیئر کے بارے میں کہا ہے کہ وہ کافی اچھی ہیں لیکن یہ بات حقیقت میں ایسی نہیں ہو سکتی جب تک ان کی پیداوار اور استعمال میں کمی نہ ہو۔ پاکستان کے صحت مند لوگ ملک بھر میں اپنی پیداواری صلاحیتوں کو استعمال کرنے والے پرائمری کیئر سینٹرز کو دیکھتے ہیں اور یہاں سے بھی سیکھنا اچھا ہوگا
 
اس وقت یہ بات سبھی کی اچھی نہیں، کہ انٹرنیشنل کیئر کی کافی اچائی ہے جبکہ پرائمری کیئر میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا 😐 انڈونیشیا کے وزیر صحت کے کہنے سے یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ پوری دنیا میں پرائمری کیئر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی زندگی بہتر ہو سکے 🤔
 
یہ تو چھپا ہوا بات ہے کہ انٹرنیشنل کیئر بے معیار ہے، جواب دہ میں کیئر کو کافی اچھی ہونی چاہیے، لیکن یہ اس بات پر مشتمل ہے کہ کس طرح لوگ ان کیئروں سے لाभانے کا مقصد حاصل کریں گے? بھنک پچک کر کہا جاتا ہے کہ اس سسٹم کو مضبوط بنایا جائے، لیکن یہ سوچتا ہے کہ جو لوگ اس سے لाभ کریں گے ان کیوں نہیں؟ یہ معاملات میں ایسا ہے جیسے کہ ڈولار کا معیار نہیں ہوتا بلکہ اس کی قیمتیں بنتی رہتی ہیں جو لوگ اس سے لाभنا چاہتے ہیں ان کیوں نہیں?
 
بچوں کی صحت بھی اچھی نہیں ہوتی تو آپ کا جسم بھی ہی نہیں ہوگا؟ 🤒👶 انڈونیشیا کی پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنانے کیلئے پاکستان کا بھی اپنا مزاج ہونا چاہیے۔ 💪🌿
 
انڈونیشیا کے وزیر صحت کی بات سے یہ اچھی لگ رہی ہے کہ انڈین ہیلتھ کیئر کو بہتر بنایا جا رہا ہے، لکिन اس پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم پر دیکھیں گے کہ یہ کیا حقیقی طور پر کامیاب ہو گیا ہے یا نہیں۔

آج بھی لاکھوں لوگ پاکستان کے ناکافی ہیلتھ کیئر سسٹم میں مریضوں کو علاج کرنے کے لیے گھروں سے باہر جاتے رہتے ہیں، اس کا معینہ ایسا ہو گیا ہے کہ انہیں کافی وقت اور پریشانی کی پیداوار ہوتی ہے۔

دیکھنا ضروری ہے کہ پاکستان نے بھی اپنے ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنانے کیلئے اچھی پلیٹ فارمز پر کام کر رکھا ہے، لہٰذا پہلے اس کا معینہ دیکھنا چاہیے کہ یہ کیا کامیاب ہو گیا ہے یا نہیں۔

اس کے علاوہ، انڈونیشیا کی گھریلو ہیلتھ کیئر سسٹم میں بھی پہلے سے اچائی ہے، لہٰذا اس پر بھی دیکھنا ضروری ہے کہ یہ اچائی کیسے کم کی جائے گی۔

اس لیے یہ بات یقینی نہیں کہ انڈونیشیا کی پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم پاکستان کو ایسی ملک بنانے میں مدد دے گی جو اپنے لوگوں کے لیے سہولت فراہم کر رہی ہے، یہی معیار ہوتا ہے کہ ہمیں اس سسٹم کو دیکھنا چاہئے اور جانتے رہیں کہ یہ کیسے کام کر رہی ہے۔
 
بھی کیا، انڈونیشیا کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنانے کیلئے کام کرنا چاہیے، اور یہ واضح ہے کہ انڈونیشیا نے اپنے معیار میں بڑھنا چاہتے ہیں تو پاکستان کی بھی اس کی مدد مل سکتی ہے۔
 
ناقدین کے مطابق انڈونیشیا کی پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم میں تو اچائی کم ہوئی ہے لیکن اب اس کی چارگیاں بھی اضافی ہو گئی ہیں، یہی بات پاکستان کے ساتھ بھی ہوتی ہے۔

انڈونیشیا میں پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کی اچائی کو کم کرنے کیلئے کافی اقدامات جاری ہیں، حالاں کہ اس معاملے میں بہت کچھ لگ رہا ہے اور اب تک نتیجے سامنے نہیں آئے ہیں۔

مستند کے مطابق انڈونیشیا کی پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم میں تین اہم تبدیلیاں ہوئی ہیں جن میں سے پہلی تھی اچائی کو کم کرنا، دوسری معیار کو بڑھانا اور تیسرى مريضوں کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے۔
 
🤔 انڈونیشیا کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کیئر ٹھیک نہیں، پرائمری کیئر کافی اچھی ہے... یہ بہت ایس کو سچ ہوگا تاکہ پاکستان اس معیار کو پورا کر سکے اور ان لوگوں کی سہولتوں میں اضافہ ہوگا جو اب یہاں سبسڈیری پر رہتے ہیں...
 
واپس
Top