یورپی یونین نے ایرانی پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے دیا

چمیلی محب

Well-known member
ایک غیر معمولی پیشرفت میں یورپی یونین نے ایران کے پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا ہے، یہ اعلان ہمیشہ سے طوفانی جھیل کی طرح نکلتا تھا۔ یورپی یونین کے وزیر خارجہ کاجا کالاس نے اعلان کیا ہے کہ یہ اقدامش وزرائے خارجہ کے مشورے پر عمل میں آیا ہے۔

پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے Iran کی حکومت پر جبرا لگ رہی ہے اور وہ اس بات پر پابند ہو گی، جو کہ ’دہشت گردی‘ میں ملوث ہونے پر ان کے خلاف یورپی یونین کی پابندیاں بڑھی گئی ہیں۔

خاتون کاجا کالاس نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ جبکہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف لڑائی وہاں بھی جاری ہے، اس حوالے سے کہ ’جبر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا‘، اور یہ اعلان اس کے علاوہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ایران کی حکومت کو یہ انفرادی اقدامش پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ سارے ملک کو اس ’دہشت گرد تنظیم‘ کی طرف دیکھنا پڑے گا۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے یہ اقدامش IRGC کو جہادی گروپوں کی سطح پر کھڑا کرنے کی طرف دیکھتے ہیں، اور خاتون کاجا کالاس نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کوئی بھی حکومت جس پر وہ خود مارتی ہے وہ اپنے خاتمے کی طرف کام کر رہی ہے‘، اور اس حوالے سے انھوں نے توقع کروائی ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی راستے کھلے رہیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’دہشت گردی‘ کی طرف دیکھتے ہوئے یورپی یونین کو اور برطانیہ کو مل کر کام کرنا چاہیے، اور انھوں نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ یہ پہلا قدم نہیں ہے‘، اور یہ اعلان انھوں نے اس بات پر دلالت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رہیں گے، اگرچہ اقدامش کو ”غیر منطقی، غیر ذمہ دارانہ اور دونیت پر مبنی‘ قرار دیا گیا ہے۔

یورپی یونین نے ایران میں چھ اداروں اور 15 افراد پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جیسے کہ اسکندر مومنی، محمد موحیداد زا، ایمان افشاری، یہ ان سے زیادہ طویل لائن میں بھی ادراک کیا گیا ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ یورپی یونین نے ایران کو ایک لچک دی ہو گئی ہے جس سے وہ اپنی حکومت کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہو گا۔ لیکن یہ بات जरور پتہ چلے گی کہ یہ اقدامشIran کے پاسداران انقلاب کے ماحول میں اسی طرح کے اقدامش کی واپسی کو ترغیب دیتا ہے یا نہیں? 🤔

دنیا بھر میں لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ایران کے پاسداران انقلاب کی صورت حال، اور یہ بات پتہ چلتے ہیں کہ وہ اپنی حکومت کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہو گا، لیکن اس کے لئے ان کے پاس ایسی پیداواری صلاحیت کا احاطہ نہیں ہے جو ملک کو اچھی صورت حال میں پیش کر سکے۔ 🚀

جس سے وہ اپنی حکومت کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہو گا، اس میں کافی مشکل ہوسکتا ہے۔
 
ایسے وقت کی بات کرونا چاہئے جب ایران کی حکومت کو دوسرے ملکوں سے پکڑ لینے والی پابندیاں مل رہی ہیں، یورپی یونین نے ایسا کیا ہے اور حال ہی میں انھوں نے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے تو اس پر غور کرنا چاہئے، کیونکہ اس سےIran کو اپنے اندر جس جھگڑے کو پھیلائی رہی ہے وہ باہر بھی لے آ رہا ہے ، اور یہ بات صریح طور پر کہی جانے والی نہیں، یہ انھوں نے ہمیشہ سے دکھایا ہے، اور اب بھی انھوں نے اس بات پر توجہ دی ہے کہ اقدامش کیوں نہیں کیا گیا؟
 
ایسے حالات میں جب کسی ملک کو دہشت گردی کا شکار تھا تو اس پر یورپی یونین کا ایسا اعلان نہیں کرنا چاہئیے کہ وہ ادارے اور افراد کو اس بات سے آگہ کیا جائے کہ وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ یہ اعلان ایران کی حکومت کو دبایا گیا ہے اور اس پر یورپی یونین نے یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے خاتمے کے راستے پر چلے گا۔
 
اس اعلان کو دیکھتے ہوئی تو پورے دور پر دھلکہ لگتا ہے، اور یہ بات نکلتی ہے کہ اس کا مطلب وہی ہو گا کہ ایران کو یہ اعلان اپنی حکومت کی توجہ کے بجائے ملک بھر میں طوفانی دھلچسپ پر چھوٹا ہے۔
 
یو۔ سے ایران کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا یہ ایک دلیلا ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ ایران کی حکومت میں کتنے شکار ہیں جو انھوں نے جسمانی طور پر مار دیا ہے۔ اور یورپی یونین کو یہ دلالت کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات پتے میں آئیں گے، اس لیے یو۔ سے انھیں ہمیشہ سے دلیلا دیا چٹکایا ہے کہ اورے نے یہ اعلان جسمانی طور پر کیے تھے۔
 
ایسا محض دیکھنا ہی کافی نہیں ہے! یورپی یونین نے اس طرح کے اعلان کرنے سے پہلے سوچتے تھے? کیونکہ ایران کی حکومت کو دوسروں کی opinions پر عمل کرنا چاہیے اور اپنی آزادی حاصل کرنا چاہیے. یہ اعلان انفرادی اقدامش کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جس سے ایران کی حکومت پر بھاری فریضہ پڑے گی. 😐
 
میمے
[👀 Iran ki Pasdaran-e-Revolution ko dastgardi sanchit karne par Yeurpy union kai din se tohfsanti jheel ki tarah nikaal rahi hai 😂]
[Meme ke saath]
[Image of a person drowning in a sea of tootsies]
[یہ اعلان ہمیشہ سے طوفانی جھیل کی طرح نکلتا تھا، اب یہ تو بھارپور طور پر ہو گیا ہے! 😂]
 
یہ اعلان تو ایسے میں نہیں اچھا لگتا، یورپی یونین کی حکومت وزرائے خارجہ انھوں نے کیا، یہ صرف ان کی پابندیوں پر ہی دلالت کر رہی ہے یا اس بات پر بھی یہ جاننے کے لئے کہ ایران کی حکومت یہ اعلان کا جواب کس طرح دی گا؟ اور انھوں نے یہ کیا مقصد دیکھ رہے ہیں، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایران اس پر مایوس ہو کر اپنی حکومت کا انحصار برطانیہ اور یورپی یونین پر کر دے؟
 
یوہ اعلان اس وقت نکلتا ہے جب ایران کی حکومت یورپی ملکوں سے زیادہ مل کر کام کرتے ہوئے رہتے ہیں؟ اگرچہ انھوں نے اس بات پر بھی یقین کیا ہے کہ یہ اقدامش ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ سفارتی رشتوں میں بھی تبدیل ہوگی۔ لگتا ہے کہ یہ اعلان انھیں پورے دنیا کو ایک طوفانی جھیل کی طرح دیکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔

🤔
 
اس اعلان نے Iran کی حکومت پر ایک طوفانی اثرانداز دیکھا ہے، جب یورپی یونین نے Pasdar-e Ettela'at-e Erevan کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا ہے۔ ایران کی حکومت اس پر جبرا لگ رہی ہے اور وہ کہہ رہی ہے کہ یہ اعلان ان کے خلاف پابندیوں کو بڑھانے کی طرف دیکھتا ہے، لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ Iran کی حکومت کو ایک ایسا معاملہ تلاش کرنے میں تنگ آچنا پڑ رہی ہے جس پر وہ اپنی حکومت کی جانب سے یورپی یونین تک اتر سکے۔

یورپی یونین کا اس اعلان کا مطلبی سے انھوں نے Iran کی حکومت کو دھمکی دی ہے اور وہیں ایک طوفانی جھیل بن چکی ہے۔
 
ایسا تو بہت بڑی گہرائی ہے اس کی، یورپی یونین کو دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے، پھر بھی ایران کی حکومت پر جبرا کر رکھنا ناجازت واضح ہے اور اس میں ایسے اقدامش کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جو Iran کی سرگرمیوں کی طرف دیکھتے ہوئے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خاتون کاجا کالاس نے اس بات پر زور دیا کہ جبر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور ایران کی حکومت کو اس ’دہشت گرد تنظیم‘ کی طرف دیکھنا پڑے گا، یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین کو اور برطانیہ کو مل کر کام کرنا چاہیے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ یورپی یونین نے ایک پہلو کو دوسرے سے جڑا کر باقی سب کو مارنا شروع کردیا ہے۔Iran کی حکومت پر اب وہ توجہ دی جا رہی ہے جو کہ انھیں ساتھ لانا چاہتے ہیں، اور یہ اعلان اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ ایران کو اپنی وہی پالیسیوں پر چلنا ہے جس سے وہ محفوظ ہو۔ کاجا کالاس کی بات ہمیشہ سے طوفانی جھیل کی طرح تھی، اور اب یہ اعلان انھیں ایک نئے مقام پر چھوڑ رہا ہے۔
 
اس اعلان کو دیکھ کر مجھے خیال ہوتا ہے کہ یورپی یونین نے ایسا کیا ہے بھلے ہی، انھوں نے اپنی رائے کا اظہار کرنا ہٹا دیا ہوتا، اور اس پر تنقید کرنا نہیں بے حرمت ہے، یہ اعلان ایران کو دھमकاوات کی طرف لے جاتا ہے، جس سے وہ گراہم ہوتا ہے، اور اس پر ملوث ہونے کے باوجود انھیں کوئی پابندی نہیں دی گئی، یہ ایسا سا اعلان ہے جیسا کہ ایک خاتون اپنے بھائی کی طرف دیکھتی ہے اور انھیں دھमकاوات کر رہی ہو، اور اس پر اس نے اپنی پابندیوں کو بڑھایا ہوتا ہے
 
ایسا لگتا ہے Iran کی حکومت کو یہ اعلان ایک پہلا قدم ہے، اگرچہ یورپی یونین نے اسے ’غیر منطقی‘ اور ’زہمت پسند‘ قرار دیا ہے تاہم جب تک انھوں نے اس بات پر توجہ نہیں دی ہے کہ ایران کی حکومت اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تو یہ اعلان اس بات پر ناکام رہے گا۔

انھوں نے یورپی یونین اور برطانیہ کے مابین تعاون پر زور دیا ہے، لیکن اس میں کچھ کامیابی بھی ہوگی۔ انھوں نے یہ بات یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ ایران کو اپنی پالیسیوں میں تبدیل کرنا پیاسا رہے گا، لیکن اس پر یورپی یونین اور برطانیہ کے عمل میں آنے کی صلاحیت ہے تاہم یہ کچھ وقت پہلے ہی ہوگا
 
میری نیند ختم کر دی جاتی ہے اس طرح! یورپی یونین کی جانب سے ایران کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا ایک طاقتور move ہے، لےکن پھر کیا انھوں نے اس پر توجہ دی وہ خود؟Iran کی حکومت پر جبرا کرنا نہیں چاہیئے، بلکہ انھیں اپنے اقدامش پر ٹھہرنا چاہیئے، کیونکہ وہ ان کے لیے سب سے بہتر حل ہے! یورپی یونین کی جانب سے ایسا لگتا ہے جیسے انھوں نے اس پر توجہ دی وہ خود، اور اب Iran کی حکومت کو دھमकاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا! 😏
 
یہ اعلان اتنا بھی ناقابل فہم ہے جیسا کہ یورپی یونین کی پالیسی کا تعلقات کا ایک نیا مڈل ہے۔ دھمکیوں پر مبنی اقدامش کو اس بات کا سدباب کہتا ہے کہ وہ انفرادی طور پر ختم ہونے والی حکومت کی پابندیوں پر عمل کر رہی ہے، لेकن یہ بھی اچھا نہیں ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو اس طرح سے جبرا لگای رہی ہے۔

اس بات پر توجہ دیتے ہوئے کہ یورپی یونین کاجا کالاس کی ایک بیان میں کہتی ہے، اور اس پر انھوں نے اپنی پالیسیوں کو واضح کیا ہے۔
 
واپس
Top