us 250 independence celebration pakistan cities programs | Express News

چیونٹی

Well-known member
امریکہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والی دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے امریکی سفارت خانوں نے پاکستان کی مختلف شہروں میں بھرپور سرگرمیاں منعقد کی ہیں۔ ان_program میں تعلیمی، ثقافتی، نوجوانوں اور ترقیاتی شعبوں پر توجہ دی گئی۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ایک اسپیکر سیریز شروع کی جس کا مقصد امریکی ایکسچینج اور انٹرپرینیورز روڈ میپ کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی حکومت کے اشتراک سے ایک نئی ایجوکیشن ورکنگ گروپ قائم کی گئی جو فنی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

کراچی میں امریکی قونصل جنرل نے انگریزی ایکسس پروگرام کی گریجویشن تقریب میں شرکت کی، یہ پروگرام نوجوانوں میں انگریزی زبان کی مہارت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے، جو پاکستان اور امریکہ دونوں مستفید ہوتے ہیں۔

ان program کے ساتھ ہی پنجاب میں قونصل جنرل نے یونیسف کے ایک امدادی مرکز کا دورہ کیا جس کی مدد اور انہوں نے تاریخی گھنٹہ گھر کی امریکی فنڈ سے بحالی کا افتتاح کیا، 450 انگریزی ایکسس پروگرام کے گریجویٹس کو اعزازات دیئے اور امریکی ایکسچینج ایلومنائی سے ملاقات کی جو اپنی برادریوں میں مثبت تبدیلی لا رہی ہے۔
 
امریکا کی یہ پھر انپتاشہ دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے؟
 
بھرپور سرگرمیاں منعقد کرکے امریکی سفارت خانوں نے ایک اہم قدم رکھا ہے کہ پاکستان کی دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے، مگر یہ سوال ہے کہ یہ سرگرمیاں صرف معاشی اور تعلیمی شعبوں تک محدود نہیں رہیں؟ 450 انگریزی ایکسس پروگرام کے گریجویٹس کو اعزازات دیئے، لیکن یہ یہاں پہنچتا ہے کہ انھیں کیا بنایا جا رہا ہے؟ مگر اس بات سے ایک یقین تھا کہ یہ سرگرمیاں پاکستان اور امریکہ دونوں لئے فائدہ مند ہیں، لیکن اب یہ سوال ہے کہ پاکستانی حکومت نے ان سے کیا استفادہ کرنے کا اقدامہ کیا ہے؟

ایک چارٹ بھی دیکھو جس میں اس سال پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے ریکارڈ کی معلومات لگائی گئی ہیں:
 
بھرپور سرگرمیاں منعقد کرنا بہت اچھا کہیا جا سکتا ہے، ایسی بہترین تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں کو توجہ دی جاتی ہے جو نوجوانوں کے لئے مفید ہوتی ہے! #تعلیم_بہتر

اسلام آباد میں ایک اسپیکر سیریز شروع کرنا بھی اچھا کہیا جا سکتا ہے، نئی تعلیمی کارروائیوں کو فروغ دینا اور امریکی ایکسچینج روڈ میپ کو بڑھانا #امریکہ_سے_دوسرے_لئے

کراچی میں انگریزی ایکسس پروگرام کی گریجویشن تقریب میں امریکی قونصل جنرل نے شرکت کی، یہ بہت اچھا کہیا جا سکتا ہے جو نوجوانوں کو معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کی مہارت بناتا ہے #انگریزی_زبان

پنجاب میں یونیسف کے ایک امدادی مرکز کا دورہ کرنا اور تاریخی گھنٹہ گھر کی بحالی کو افتتاح کرنا بہت اچھا ہے، یہ بھی نوجوانوں کو مفید بناتا ہے! #موسسقیت
 
بilkul, ان Program se amrikaa aur pakistan ke beech ki dosti mazboot ho rahi hai, lekin koi baat toh ye hai ki kuch log pehle bhi hain jo har samay yeh sab karega. 🤷‍♂️
Pakistan ko amrikaa se kuch zaroori cheezayein deni chahiye jaise ki train ka network aur paani ki supply, toh yeh sabhi programs ka mool faayda un logon ke liye hoga jo khareji naa hona pasand karte hain. 🚂
Lekin agar ye sab programs Pakistan ke poorv logon ko bhi prabhavit kar sakte hain, toh yeh ek achha naitik ghatna hogi. Agar amrikaaa ki cheezayein pakistan ke poorv logon ko bhi mil sakti hain, toh yeh ek aur achha faayda hogi. 🤝
 
امریکہ اور پاکستان کی دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کا یہ Program ہر طرح سے successful دکھای رہا ہے، پھر بھی 450 گریجویٹس کو اعزازات دینے سے پہلے انہیں ایسی چیلنجز کی پہچاننے کی जरورت ہوتی ہے جو ان کے آپریشنل لیڈر اور ٹیم کو حل کرنی پڑتی ہیں۔ انگریزی ایکسس پروگرام کا مقصد نوجوانوں میں زبان کی مهارت پیدا کرنا ہے لیکن انھیں معاشی ترقی کے لیے بھی اچھی طرح سے تربیت دی جانی چاہئیے، یہ Program صرف نوجوانوں تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئیے بلکہ تمام عمر کے لوگوں کو اپنے آپ کو ترقی دینی میں مدد فراہم کرنی چاہئیے
 
اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، میں اس بات پر اتفاق کرتی ہوں لیکن توقع کرتا ہوں کہ یہ سرگرمیاں بھی فوری نتیجہ نہ دے گئیں۔ ان پروگرام میں تعلیمی اور ثقافتی شعبوں کو اہمیت دی جانی چاہئے تاہم، یہ بات کے بارے میں توقع کرتا ہوں کہ ان پروگراموں سے پاکستان کے معاشی ترقی میں بھی کوئی واضح تبدیلی دیکھنے کی چاہیں گی؟
 
ایسا کہنا ہی نہیں کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تعلقات کو بڑھانے میں یہ سرگرمیاں ٹھیک منظر میں آنے کی رाह میں ہیں؟ پاکستانی نوجوانوں کے لئے انگریزی ایکسس پروگرام بہت اہم ہے، اس سے ان کے فٹھلے چلنا میں مدد مل سکتی ہی؟ پھر یہ سوال بھی آتا ہے کہ امریکی ایکسچینج اور انٹرپرینیورز روڈ میپ سے پاکستان کے نوجوان کون فائدہ اٹھا رہے ہیں؟
 
میری Opinion hai yeh baat koi bhi desh ya kisi bhi sahyogi desh se judne ki zaroorat nahi hai, lekin bas usi ke saath hume kuchh milna chahiye. ab Pakistan mein America ki kai programs hain jo logon ko benefits dete hain, jaise ki English access program jismein logon ko angrezi bhasha ka saman skta hai aur career banane ki shuruaat kar sakta hai. lekin yeh to America ke liye bhi zaroori hai ki wo Pakistan se kuchh mil sake, taki dono deshon ko benefit mile.
 
ایک یقیناً اس کھیل کو جیتنا ہی سچے دوستوں اور معاشرے کی نئی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے 🤝 پھر ان دوطرفہ تعلقات میں کسی بھی چیز کی بدولت منفی تبدیلی نہیں ہونی چاہئیے، جیسے ایسے پروگراموں کا انعقاد جس سے نوجوانوں کو انگریزی زبان کے مائے میں رکھنا پڑے تو وہ ہی ناکامی کی طرف بڑھتے ہیں، لیکن یہاں انچارجوں کو ہمیشہ کچھ معقول اور Positive Think karne ke liye koshish karni chahiye 💡
 
امریکا کی اس وفاقیں کو دیکھتے ہوئے، ہمیں نہ صرف یہ کہی بھلے لیکن یہ بھی سوچنے لگا کہ یہ تمام منصوبوں میں اسکول اور کالج کی سٹूडینٹس کے لئے خصوصی توجہ دینی چاہیے، کیونکہ ان کے پاس مستقبل نہایت بڑی گھنٹیوں میں بنایا گیا ہے اور اس پر ان کا کوئی بھی فیصلہ مستقبل کے لیے چیلنجز لائے بغیر لینا چاہیے، یہ منصوبے نوجوانوں کو خود کا انتخاب کرنے اور اپنی زندگی کا ملاپ کرنے کی اجازت دیتے ہیں، لہذا یہ کام ان کے لئے انتہائی اہم ہوتا ہے۔
 
امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو تازگی دینے کا ایسا کام ہے جیسا کیوں نہ ہو؟ امریکی سفارت خانوں نے مختلف شہروں میں بھرپور سرگرمیاں منعقد کی ہیں، جو کہ پورا خیال ہے یہ تعلقات مزید مضبوط بنائیں گے۔ اسلام آباد میں ایک اسپیکر سیریز شروع ہونے کا مقصد ایسا ہے جیسا کہ میری پیشنगوئی تھی اس کے ساتھ ہی نئی ایجوکیشن ورکنگ گروپ قائم کی گئی جو میں بھی دیکھ رہی ہوں کی یہ کام پاکستان اور امریکہ دونوں کے لئے موثر ہوگا۔
 
امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی یہ پ्रयास بھرپور ہے، ان شعبے میں جس پر توجہ دی گئی ہے وہ تمام پاکستانیوں کے لیے اہم ہیں، خاص طور پر نوجوانین جو مستقبل کی طرف بڑھتے ہیں، اس سے انھیں دوسرے ممالک میں جاننے اور کाम کرنے کا موقع ملا۔
 
امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں سے متعلق یہ بات کہنے لگا ہوں کہ وہ کیا مقاصد ساتھ آ رہے ہیں? کیا ان Program میں پاکستان کی ترقی پر صرف توجہ دی گئی ہے یا اس کا کوئی نتیجہ دیکھنا پڑا ہے؟ یہ بات تو یقیناً ایک رہसیم ہو گی اور پوری دنیا ان Program کی سرگرمیوں سے متاثر ہوگی۔
 
امریکہ کے پاس پھر بھی کچھ نئے پروگرام شروع کرنے کی سہولت ہوتی ہے۔ اب وہ پاکستان میں اپنی ایکسچینج اور انٹرپرینیورز روڈ میپ کو فروغ دے رہے ہیں جس کی واضح خواہش پوری نہیں کرسکتی۔ 450 کھاتے اور شہرتوں پر اعزاز دینے کا یہ ساتھ دبا کر ان کو اپنے گھر لانے کے لیے بھی ہمیشہ کی ترجیح دی جاتی ہے۔ واضح طور پر ، اس طرح کے پروگراموں میں جو نوجوانوں کی مہارت پیدا کرنے اور انہیں معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے انگریزی زبان کی مہارت دی جاتی ہے وہ تعلیم کے حوالے سے بھی ایک نئی دھاری کو بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
 
امریکا کی یہ سرگرمیاں بہت جاری ہوتی ہیں اور وہاں کے نوجوانوں کو بھی انٹرنیٹ سے منسلک کرنا ایک اچھا دھندلا ہے **😊** اب یہ بات سچ ہو گئی ہے کہ پاکستان اور امریکہ دونوں ملکوں کو بہت پیار ہوتا ہے اور یہ دوسرے ملک کی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آمریکہ کی ان سرگرمیوں سے پاکستان کا ایک نئی دھندا اٹھنے لگا ہے **🚀**
 
میں یہ سوچتا ہوں کہ ان تمام پروگرامز کو کیسے پہلے سے دیکھنا ہوتا اور ان میں کیے جانے والے منصوبے کو کس طرح منٹ کرنا چاہیے؟ ایک بار اپنی سرگرمیوں کے بعد، اس بات کو یقینی بنانا ہوتا کہ وہ جو کیے گئے نتیجے کا کیا مطلب ہے اور یہ صرف پاکستان اور امریکہ کے لئے ہی نہیں بلکہ اس خطے میں دیگر ممالک کی جانب سے بھی تعاون کی کوشش کرنا چاہیے۔
 
واپس
Top