وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں ایک نجی دورے پر اپنا سفر شروع کیا، جس سے ان کی پاکستان آنے کی توقع تھی لیکن اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ وہ اس سفر کے دوران ہی برطانیہ میں اپنا قیام بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کی یہ نجی دورے پر لندن ایئرپورٹ پر ان کی اہلیت کے لیے ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل اور قیادت ن لیگ نے استقبال کیا، جس سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ وزیراعظم کی پاکستان آنے کی توقع بھی ختم ہو گئی ہے۔
اس سے قبل ان کا آئینہ چار روزہ دورہ تھا لیکن اب وہ ایک روز پوری طرح لندن میں قیام بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ ان کی آگے کی جارحیت کو ظاہر کر رہا ہے۔
انہوں نے لندن میں طبی معائنہ کرتے ہوئے اس فیصلے پر دستخط کیے ہیں جو اب وہ پیر کی دوپہر آئینہ بھی نہیں بناتے، بلکہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے کو آئندہ ہیں۔
ان کی یہ نجی دورے پر لندن ایئرپورٹ پر ان کی اہلیت کے لیے ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل اور قیادت ن لیگ نے استقبال کیا، جس سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ وزیراعظم کی پاکستان آنے کی توقع بھی ختم ہو گئی ہے۔
اس سے قبل ان کا آئینہ چار روزہ دورہ تھا لیکن اب وہ ایک روز پوری طرح لندن میں قیام بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ ان کی آگے کی جارحیت کو ظاہر کر رہا ہے۔
انہوں نے لندن میں طبی معائنہ کرتے ہوئے اس فیصلے پر دستخط کیے ہیں جو اب وہ پیر کی دوپہر آئینہ بھی نہیں بناتے، بلکہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے کو آئندہ ہیں۔