پاکستان کی وزیراعظم شہباز شریف نے ہالینکی بحرین میں اپنے دورے پر ملک کی کاروباری برادری سے بات کرتے ہوئے زراعت، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو ضروری قرار دیا ہے۔
اسلام آباد اور منامہ کے تعلقات ثقافتی، مذہبی، باہمی احترام پر مبنی ہیں، جبکہ میں یہاں مہمان بن کر نہیں آیا، بلکہ اپنے اہل خانہ، بحرینی بھائیوں اور بہنوں سے ملاقات کے لیے آیا ہوں۔
انہوں نے پاکستان و بحرین دونوں ملکوں کے درمیان کئی دہائیوں سے اسٹریٹجک تعاون موجود ہے، جس میں دونوں ممالک باہمی کام کر سکتے ہیں اور اپنی کوششوں، علم، تجربے اور ایک دوسرے کے لیے وابستگی کے ذریعے حقیقی ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد اور منامہ کے تعلقات ثقافتی، مذہبی، باہمی احترام پر مبنی ہیں جبکہ یہ محض مہم تھی کہ میں اپنے اہل خانہ، بحرینی بھائیوں اور بہنوں سے ملاقات کے لیے آیا ہوں، یہی ہمارے تعلقات کی اصل بنیاد ہے، اب ہمیں ان شاندار تعلقات کو اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنا ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس بڑی نوجوان آبادی موجود ہے، جس کی 60 فیصد آبادی 15 سے 30 سال کی عمر کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک اس چیلنج کو موقع میں بدلنے کے لیے پُرعزم ہے، نوجوانوں کو بااختیار بنا کر، انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تربیت دے کر، اور پیشہ ورانہ و ہنر مند تربیت فراہم کرکے تبدیلی لائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے بحرینی بھائیوں اور کاروباری افراد کے ساتھ مل کر ہم اس شعبے میں زبردست رفتار پیدا کریں گے، وقت اور حالات کسی کا انتظار نہیں کرتے، اس لیے اب آگے بڑھنے کا یہی وقت ہے۔
اسلام آباد اور منامہ کے تعلقات ثقافتی، مذہبی، باہمی احترام پر مبنی ہیں، جبکہ میں یہاں مہمان بن کر نہیں آیا، بلکہ اپنے اہل خانہ، بحرینی بھائیوں اور بہنوں سے ملاقات کے لیے آیا ہوں۔
انہوں نے پاکستان و بحرین دونوں ملکوں کے درمیان کئی دہائیوں سے اسٹریٹجک تعاون موجود ہے، جس میں دونوں ممالک باہمی کام کر سکتے ہیں اور اپنی کوششوں، علم، تجربے اور ایک دوسرے کے لیے وابستگی کے ذریعے حقیقی ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد اور منامہ کے تعلقات ثقافتی، مذہبی، باہمی احترام پر مبنی ہیں جبکہ یہ محض مہم تھی کہ میں اپنے اہل خانہ، بحرینی بھائیوں اور بہنوں سے ملاقات کے لیے آیا ہوں، یہی ہمارے تعلقات کی اصل بنیاد ہے، اب ہمیں ان شاندار تعلقات کو اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنا ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس بڑی نوجوان آبادی موجود ہے، جس کی 60 فیصد آبادی 15 سے 30 سال کی عمر کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک اس چیلنج کو موقع میں بدلنے کے لیے پُرعزم ہے، نوجوانوں کو بااختیار بنا کر، انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تربیت دے کر، اور پیشہ ورانہ و ہنر مند تربیت فراہم کرکے تبدیلی لائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے بحرینی بھائیوں اور کاروباری افراد کے ساتھ مل کر ہم اس شعبے میں زبردست رفتار پیدا کریں گے، وقت اور حالات کسی کا انتظار نہیں کرتے، اس لیے اب آگے بڑھنے کا یہی وقت ہے۔