وزیراعظم شہباز شریف نے ورلڈ اکنامک فورم کے چھپنویں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں، جبکہ عالمی اجلاس کے دوران ان کی اہم ورلڈ رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ زیورخ ایئرپورٹ پر اس وقت پاکستان کے مستقل نمائندے برائے اقوام متحدہ محمد بلال، سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے سفیر مرغوب سلیم اور سفارتی عملے نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر پاکستان کی معاشی اصلاحات، بہتر ہوتے معاشی اشاریوں اور استحکام کی حکمت عملی پر روشنی ڈالیں گی، جس سے ملک کی معیشت میں ترقی ہو سکے گی۔ انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم میں بھی شرکت کیگی، جہاں وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گئیں اور پاکستان کی میزبانی اور ورلڈ اکنامک فورم کی شراکت سے منعقد ہونے والی بزنس راؤنڈ ٹیبل میں بھی شرکت کریں گئیں۔
انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم کے دوران سرمایہ کاری کے مواقع اور معاشی تعاون پر بات چیت کیگی، جس سے ملک کی معیشت میں ترقی ہو سکے گی۔ انہوں نے پاکستان کے ٹرپل او پروگرام، یعنی آرڈر، آپرچونیٹی اور آپٹیمائزیشن پر بھی اظہارِ خیال کریں گئے ہیں، جس سے ملک کی معاشی ترقی کو مزید تیز کرنے میں مدد مل سکے گی۔
اس ورلڈ اکنامک فورم کا आयोजन پچھلے عرصے میں پاکستان کے لئے ایک بڑی بھلاس ہوا ہے، ان سے ملنے والے تجربات اور فائدے پانے کا موقع پاکستان کی معاشی ترقی میں بہت اہمیت رکھتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کرنا اس معاملات کو مزید Serious بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
اس وقت کے سیاسی معاملات پر دھ्यान نہیں ڈالنا چاہئیں، بلکہ یہ بات سب کو دل چسپ کرائیگی کہ شہباز شریف نے دنیا بھر میں اپنے معاشی اقدامات کی جگہ دالی ہے اور انہوں نے سائینسی فلم 'ایئرپورٹ' کا مطالعہ کرنے کی طرح ایک واضح تجدید کے دور میں پاکستان کو بھی شامل کیا ہے، اس کے لیے انھیں کافی ترجاح ملاتا ہوا دیکھنا چاہئیں
اس وقت کے اقتصادی حالات پر ایک دیکھ بھال کا اہتمام کرنا ضروری ہے... سارے ملکوں کی طرح پاکستان بھی اپنے معاشی منظر نامے کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے... لیکن یہ بھی بات تھی کہ ایک دوسرے ملکوں سے معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع حاصل کرنا، اس کی صرف اپنی مصلحتوں پر مبنی نہیں رہنے چاہئے بلکہ سب کو ملحوظ رکھنا پڑega... یہ معاشی مشورے ملکوں کے لیے ایک اہم تجزیہ ہیں...
اس وقت کی اچھی ایسی بات ہوئی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے ملک کی معیشت میں ترقی ہونے کا امکان ہے . انہوں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات، بھیڑ تھامتی معاشی اشاریوں اور استحکام کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی ہے جس سے ملک کی معیشت میں ترقی ہوسکتی ہے اور یہ بھی بڑا کامیاب رہنا چاہیے.
بہت interessinigi hai ki وزیراعظم شہباز شریف نے ورلڈ اکنامک فورم کی ایسے موقع پر شرکت کروائی ہیں جہاں انہوں نے اپنی معاشی اصلاحات اور پلیٹ فارم پر روشنی ڈالنا ہوتا ہے
میں یہ کھل کر کہتا ہوں کہ اگر چہ اس موقع پر انھوں نے معاشی اصلاحات اور پلیٹ فارم پر روشنی ڈالی ہے لیکن اس کا کوئی tangible_result نہیں آ سکتا جس سے ملک کی معیشت میں ہی ترقی ہو سکے گے
ایسا تو محض سوئٹزرلینڈ جانے کے لیے ہی نہیں، اس موقع پر پاکستان کی معاشی اصلاحات کو دیکھنا اور دنیا سے تعلقات بڑھانے کا یہ ایک اچھا موقع ہے
پاکستان کی معیشت میں ترقی لानے کے لیے ہماری انٹرنیشنل ڈپٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے، کیونکہ ان کی تجربات اور فیکٹریسز میں سے ہمارے لیے بہت سارے مواقع ہیں جو ہمیں انٹرنیشنل مارکیٹ میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں
ابھی کوئی بات نہیں، اس لیے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا یہ ایک اچھا آغاز ہوگا اور دنیا کے ساتھ مل کر کام کرنا ہمیں کامیابی حاصل کرنے میں مدد کرے گا
میں تو یہاں تک کہ وہ انٹرنیٹ پر ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کی ہے۔ مینے پوچھا، یہ تو انٹرنیٹ پر آتا ہے، لیکن اس سے بھی کچھ نہیں ہوتا। یہ تو ایک اور فاسٹ ٹریڈ ہو گیا ہے، جس سے لوگ اپنے معاملات کو جلد سے انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں۔ مینے اس کے نتیجے کی پکڑ میں نہیں ہو سکا، کہا نہیں کہ اس سے کچھ نتیجہ ہو گا یا نہیں؟ مینے لگتا ہے کہ یہ تو انٹرنیٹ پر آتا ہے اور جاتا ہے، لیکن اس سے بھی کچھ نہیں ہوتا۔
اس وقت اور اس مقام پر، وزیراعظم شہباز شریف کی ٹرپل او پروگرام کے بارے میں بات کرنا ہمیشہ ایک اچھی ویکیشن ہوتا ہے...
انہوں نے اس کے بارے میں بہت سارے خیالات ظاہر کیے ہیں، انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں معاشی اصلاحات اور ترقی پر جोर دیا، اس سے ملک کی معیشت میں ترقی ہونی چاہیے...
لیکن انہوں نے اس کے لیے بھی گھنٹوں لگنی پئی ہو گی، انہوں نے سرمایہ کاری اور معاشی تعاون پر بھی زور دیا...
ابھی اس سے پہلے انہوں نے بھی کئی اہم وہاں کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی، اور اب انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کرنی ہے...
اس موقع پر وزیر اعظم کا پاکستان کی معیشت پر روشنی ڈالنا بہت اچھی نئی نہیں، یہ وہی بات ہے جو ہر وقت دیکھنے آتی ہے کہ میرا ملک کس طرح کام کر رہا ہے اور کیسے اپنا معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے? اس لئے یہ بھی بات کیجے تھی کہ ملک میں ترقی کے لیے پوری جدوجہد کیا جائے یا اس پر ذمہ داریاں سونپ دی جائیں؟
اس ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کرنا بھی ایک اچھا moves ہے، لیکن اس میں شامل ہونے کے لیے کوئی نئی پالیسی یا حکمت عملی کو اپنائیں تھیں جو ملک کی معیشت کو ٹھہرائے اور ترقی دی۔
یہ بھی بات بننے چاہیے کہ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع بنانے سے قبل پوری پالیسی تیار کی جانی چاہیے، نہ صرف وہ ہمیں ملک کی معیشت میں ترقی دے گی بلکہ یہ ہمیں اور ہمارے ملک کے لیے بھی ایک اچھا future بنائے گا!
بilkul! وزیراعظم شہباز شریف کو ورلڈ اکنامک فورم کے چھپنویں سالانہ اجلاس پر شرکت کرنے کا ایک بہت ہی اچھا اعلان ہے. یہ پاکستان کی معاشی اصلاحات، بہتر ہونے والے معاشی اشاریوں اور استحکام کی حکمت عملی کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہو گا. وزیراعظم شہباز شریف نے ورلڈ اکنامک فورم میں بھی شرکت کرنی ہے، جس سے ان کے ساتھ عالمی رہنماؤں کی ملاقاتیں ہوگیں اور پاکستان کی میزبانی اور ورلڈ اکنامک فورم کی شراکت سے منعقد ہونے والی بزنس راؤنڈ ٹیبل میں بھی شرکت کرنی ہوگی. یہ ایک بہت ہی اچھا موقع ہے جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے سرمایہ کاری کے مواقع اور معاشی تعاون کی بات چیت کرنے کی.
اس وقت کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ورلڈ اکنامک فورم کے لیے پاکستان کی طرف قدم رکھا ہے، اس سے ملک کی معیشت میں ترقی کا امکان زیادہ ہو گا مگر پہلے تو اُنھیں یہ کچھ سمجھنے کو ہوگا کہ ان کے ناطے بھی اس میں وہی حصہ ہوگا جس سے ملک کی معیشت ترقی کرے گا