پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی حکومت اور اسمبلی کی اجازت کے بغیر خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز مسلط کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے وفاق متاثرین کی اعلان کردہ مالی تعاون بھی نہیں کر رہا ہے۔
وہ ان پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھا گیا ہے، فیملی اور دوستوں سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی ہے، ان کی فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سردی کا سامان فراہم نہ کرنا ظلم ہے، جعلی حکومت آمریت کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک ہو رہا ہے، ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپس لینے کا فیصلہ ہو چکا ہے، وفاق کی جانب سے دہشت گردوں کی حراستی مراکز کی تفصیلات نہ ملنے کے باعث واپس لینے کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد قیدیوں کی تفصیلات نہ ملنے پر ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپسی سے سیکیورٹی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ تو اچھا نیوز ہے! وزیراعلاہ کی گaltiyan اس وقت زیادہ ظاہر ہوتی جائینگی جب اس پر عوام کا غضب ہو جائے! یہ وہیں اچھی بات ہے جو بھارتی حکومت نے دہشت گردوں کی رہائی کرکے شروع کی تھی، اب پاکستان کو اپنی فیکٹری بھی آئے! لگتا ہے کہ ان سے پچتاوا بھی کیا جا سکتی ہے؟
یہ تو ہمدردی کا نومنہ عمل ہے! وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اپنی پالیسیوں پر یقین رکھنا چاہئے، لیکن ان کا یہ اعلان کہیں تک ناکافی دیکھتے ہیں... یہ سایہ اور ایسے کام جو ان پر تنقید کرنے والوں کو لگتا ہے وہ اچھا نہیں ہوگا! عمران خان کو تنہائی میں رکھنا اور ان کے خلاف مذمت کروانا معقول نہیں ہوگا... یہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ وہ ماحول میں ایسی پالیسیوں کو اپناتے ہیں جو آپسے لاکھ پاؤں پکڑتے ہیں... یہ معاشی جائیداد کا زریعہ نہیں ہوگا!
یہ تو بہت بدحالی ہے کہ وزیراعلا ی انفرادی آپریشنز کا اعلان کر رہے ہیں، سربandi اور اسمبلی کی اجازت نہیں کرتے ہو، اور وفاق متاثرین کو مالی تعاون نہیں دے پاتا ہے۔ اس سے انفرادی آپریشنز کی صورت میں کیا فائدہ ہو گا؟ یہ تو صاف توصیف ہے!
مگر یہ کیپ بچھڑنا کیسے ہو گا? ایک چوتھائی نہیں، ان میں اس پٹے کی اور سوشل میڈیا پر وہ سب ساتھ رہتے ہیں تو کیپ نہیں بچھڑ سکتی، ایسا ہی کیسے چلا آئے ان کو ان کے فیملی اور دوستوں سے ملاقات کرنے کی اجازت دی گئی؟
Wow! اس کی اہمیت کو سمجھنا مुशک ہو گیا ہے کہ کون سی سلوکوں پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنا دباؤ اچھا لگایا ہے۔ اس کی جانب سے چلائی گئی پالیسیوں کے پیچیدے توڑنے والے جیسے معاملات کو اس طرح سے بڑھایا گیا ہے جو ماحولیاتی اور سماجی تناؤ میں اضافہ کر رہے ہیں۔
عمر خان کا یہ فیصلہ بہت خطرناک ہے، وہ اس کی نائاب کے طور پر اپنی فیملی اور دوستوں سے ملاقات کرنا چاہتا ہے، لیکن یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ انہیں ناکامی اور تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، مگر عطا اللہ خان مرادکیو نے یہاں سے کوئی سکواڈرینٹ بھی نہیں نکالا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت اور اسمبلی کی اجازت کے بغیر ملٹری آپریشنز کو جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، جو وفاق متاثرین کی اعلان کردہ مالی تعاون کو بھی نہیں دے رہا ہے... اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھا ہوا ہے، جو کہ اس سے دہشت گردوں کی حراستی مراکز پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوسکتی...
اس وزیراعلا کا hànhکار تو غلطاں ہیں، انھیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک نوجوان اور معاشرتی پریشانیوں سے جूझ رہی حال ہے۔ وفاق کی جانب سے فیملیزیشن اور بھیڑ باھی کی صورت حال پر کامیاب نہیں ہونے کا ایسا نہیں لگتا، کیونکہ یہ کوششوں کا ذریعہ ہے اور اس کے بھلے حالات میں کامیابی مل سکتی ہے۔
انہوں نے اپنی معشق سے ان کے متعلق بات چیت کی جائے اور انھیں ایک صحت مند رواج میں رکھنا چاہئے، لہذا وفاق کو اس صورتحال کا خاتمہ کرنے کے لیے کسی طرح کی ہدایت کیا جانی چاہئے۔
اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ انہیں یہinformation بھی نہیں مل رہی کہ کیوں ان ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کو واپس لینے میں تاخیر ہررہی ہے؟ یہ تو بھی صحت مند نہیں کہ وفاق کی جانب سے دہشت گردوں کی حراستی مراکز کی تفصیلات نہ مل رہی ہے!
اس پر بھی سوچنا پڑ رہا ہے کہ یہ سہیل آفریدی کو وفاق اور ان ایڈ آف سول پاور کی جانب سے اس سے ناکام ہونے کا بھی منصوبہ بنایا جا رہا ہے!
اس وقت یہ تو بات چیت کرنے والی ہے کہ کیوں انہیں یہinformation نہیں دی جاتی؟
اس سے پتّا چلتا ہے کہ یہ وفاق اور ان ایڈ آف سول پاور کے بھی منصوبے میں ہوتا ہے!
میری رائے اس نئے فैसलے پر، جبکہ بھی صاف نہیں کرتے ان کی ملاقات کی اجازت نہیں ہو سکتے تو اس لئے کہ #پیار_سچائی کو سمجھنا اور #یہ_دولت_سچائی نہیں ہو سکتی۔ انہیں واپسی کی گہری ترغیب دی جائے تو #یہ_نئا_راستا صاف کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ کہا کہ انہوں نے خیبرپختونخوا میں #مسلح آپریشنز کا اعلان کیا ہے تو اس پر تھوڑا سا اچھا مضمون کرنا چاہیے، اس لئے کہ #انسان_کے_حق کو پورا کرنا بھی ضروری ہے۔
وہ یہ رائے ہے کہ شہر کو انسaf اور معاشرتی ترقی کا ایک بھرپور منصوبہ چاہئے، لیکن اب سے ملٹری آپریشنز کی جگہ وہ ہوا ہے جو دہشت گردی کو کم نہیں کر سکتی ہو۔
کیا ان معاشی پہلوؤں پر توجہ نہ دی گئی جو لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں؟ اس حقیقت کو کبھی سمجھا جانا چاہئے کہ دہشت گردی سے نکلنا اور ان کی پالیسیوں میں فرق کرنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن اس کی جگہ معاشرتی ترقی اور لوگوں کے لئے چیلنجنگ پروجیکٹس کو سراہنا چاہئے۔
پشावर میں وزیراعلیٰ کی یہ کھیڑی تو پھر ایک ایسا وقت آ گیا ہے جب صوبائی حکومت اور اسمبلی کو اپنی جان کی کھو کر باقی رہنے دیا جا رہا ہے। سہیل آفریدی نے اس طرح ایک ایسا پتہ چڑھایا ہے جو وفاق کو بے خوفی بنانے کا مौकہ دے رہا ہے۔ ان کے یہ کہنے سے نکلتا ہے کہ خیبرپختونخوا کو ملٹری آپریشنز میں ملوث کرنا ایک بڑا خطر ہو گیا ہے اور وفاق متاثرین کی معاونت سے رہنے دیتی ہے۔ ان کے یہ جوشِ خوف میں نکلنا تو ایک ایسا پھنسائی ہوئی صورتحال کو واضح کررہا ہے جب اس پر معاوضہ کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بھائی اس گڑبڑ میں کیا ہوا ہے؟ وزیراعلیٰ نے اپنے معاملے میں ایسا یقین رکھا ہے کہ وہ سندھ کی گئیں اور فہد مراد کی طرح کسی کے خلاف ملازمت پر کام کر رہے ہیں؟ انہوں نے اس گروپ کو یقینی بنایا ہے کہ وہ ہر چیز کرتے ہیں اور بھگتی رہتے ہیں۔
یہ تو واضح ہے کہ خیبرپختونخوا میں صورتحال بھی اسی طرح کی ہے جیسا کہ پنجاب میں تھا۔ پہلے سے ہی اسے دہشت گردوں پر قابو کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اب بھی انہیں سمجھنا نہیں آتا کہ یہ کیسے کئے جائے۔ اچھا ہو گا کہ وزیراعلیٰ کو اس پر توجہ دی جائیے
اس مملکت میں کیا کر رہے ہیں؟ وزیراعلیٰ کی اس ملازمت میں کیسے آئے؟ جب تک وہ وزیر نہیں تھے تو دہشت گردوں پر بھاری مظلوم تھے اور اب وہ وزیر ہونے پر اس سے بدل کر کتنا ظلم اور مظالم کرتے ہیں؟
چل رہا ہے یہ کام کبھی بھی نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ کی ایسے بیانات سے پہلے بھی انہیں اچانک تاخیر پر مجبور کیا جاتا ہے اور وفاق کی جانب سے اس پر کوئی اقدامات نہیں کرے، آج کل دہشت گردوں کا انکوائری بھی نہیں ہو رہا ہے، یہ واضح تھا کہ اس کام کو کیسے چلایا جائے گا۔
کیا یہ کھانے کی دیکھ بھال کیسے کر رہی ہے؟ میرے گارڈن میں نہ کوئی پودا ہو، نہ کوئی کھانے والا چائے کی چیتھی، صرف ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر جاتے رہتے ہیں... میری اور بھائی کے گارڈن میں ساتھیوں نہیں رہتے چاہیں تو ہمیں بھی ایسا ہی ہوتا۔
پشावर میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی اقدامات کے بارے میں بھی پتا چalta ہے، انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی فیملی سے ملاقات نہیں کر سکتے ہیں اور آپریشنز کے لئے بھی یہی سلوک رکھتے ہیں، اس میں بہت Problem ہے، ہمیشہ لگتا ہے کہ وہ اپنی جان ڈال دیتے ہیں، جب تک انہوں نے فیملی سے ملاقات نہیں کی اور آپریشنز کا کام نہیں کیا تو انہیں کوئی معافی نہیں ملےگی।
یہ بھارپور ہے کی پی آئی ایس کے اسٹیپ ان پانے سے بعد میں جب وہ لاوڈ اور پرچم چڑھا رہے تھے تو پھر سے واپس آنا ہے، ایسا بہت گھنٹی بھر کی مہنگائی پڑتی ہے اور ان کا بھی کچھ نہ کچھ سایہ ہوتا ہے… پھر ان کی جانب سے اور پھر پی ایس ایف کی جانب سے اس پر فیر سے ٹکرانا، یہ کیسے چل سکتی ہے؟