خالدہ ضیا کا انتقال؛ پاکستانی عوام اس مشکل وقت بنگلہ دیشی عوام کے دکھ میں شریک ہیں اسحاق ڈار

الو

Well-known member
پاکستان نے کیا اعزاز خالدہ ضیا کی وفات پر?

بنگلہ دیشی عوام کے غم میں شریک پاکستانی عوام
اسحاق ڈار نے Islamabad میں بنگلہ دیشی اسکالری کو پیش کر کے خالدہ ضیا کی وفات پر تعزیت کی

بنگلہ دیشی اور پاکستانی دونوں کی ایک ایسی عادتیں ہیں جس میں عوام کو کسی بھی غیر ملکی سربراہ کے انتقال کا علم ملتا ہے، خاص طور پر وہ شخص جس سے وہ معاشرتی تعلقات میں گہری رشتہ دار تھے۔ اس طرح یہ عادت اب بھی قائم ہے اور عوام کو کسی بھی غیر ملکی سربراہ کے انتقال کے بارے میں علم ملتا ہے۔

خالدہ ضیا بھی ان لوگوں کی فہرست میں ہیں جن کی وفات پر عوام کو علم ملتا ہے۔ اس وقت خالدہ ضیا کی وفات کا علم Mila ہوا اور عوام نے ان کی وفات کا شکر ادا کرتے ہوئے ان کی یاد میں دھواؤں کی ساتھ ساتھ پوسٹس بھی شائع کیں اور اس وقت ان کی وفات پر تعزیت کے لئے Islamabad میں ایک مظاہرہ ہوا جس میں ہزاروں افراد نے حصہ لیا تھا

اسحاق ڈار نے بنگلہ دیشی اسکالری کو پیش کر کے خالدہ ضیا کی وفات پر تعزیت کی اور یہ کہا کہ پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

کچھ دن پہلے خالدہ ضیا نے بھارت اور وہاں موجود کئی ملکی سربراہوں سے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے بھارت میں ایک معالجہ کی اور اس دوران ان کی کثرت سے لائی گئی پوسٹس سے وہ جانتے تھے کہ انہیں بھی عوام کا غم سمجھنا ہوگا۔

اسحاق ڈار نے اسکالری کو پیش کر کے کہا کہ "بیگم خالدہ ضیا نے اپنی زندگی عوامی خدمت اور اپنی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کی تھی، مشکل اور کٹھن اوقات میں ان کی ثابت قدمی اور قیادت ایک پائیدار ورثہ چھوڑ گئی ہے۔"
 
ان خبروں سے باقیں کی نہیں ، کبھی بھی عوامی سربراہ کے انتقال کے بارے میں تو دوسرے ملکوں کے لوگوں کو علم ہی ملا جاتا ہے نا؟ اور اب خالدہ ضیا کی وفات پر بھی عوام کو علم مل رہا ہے، لیکن یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ کیا ان سب لوگوں کی وفات پر پاکستان میں ایک سے زائد مظاہرے ہوئے ہیں؟
 
ایسا نہیں ہو سکتا کہ عوام کو غم میں شریک ہونا نہیں ہوتا جب ان کی فہرست میں اُس شخص کا شمار ہوجاتا ہے جو وہ معاشرتی تعلقات میں گہری رشتہ دار تھا۔
 
بڑا دھچکا لگایا! یہ بھی ہوا کہ عوام نے ان کی وفات پر ایک مظاہرہ دیکھا، اسحاق ڈار نے اسکالری پیش کی اور سارا کچھ تو چوٹ لگایا ہے لیکن یہ ایک پاکستانی بنگلہ دیشی کو پیش کرنا کتنا عجیب ہے? اب یہ کسے پوسٹ کرنے والے ہیں؟ ہر فتوہ کا تعلق ایک شخص سے لگتا ہے، میرے خیال میں عوام نے اس وقت ان کی وفات پر اپنا غم بھی سامنے رکھ دیا ہو گا۔
 
خالدہ ضیا کے بعد کی مہمات سے پہلے انہوں نے بھارت اور اس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے بھی عوام کو گمراہ کرنا ہے؟ وہ ایسے لوگ تھے جو ان میں ایسی شخصیات کی طرف اشارہ کرتے تھے جیسے ان کے ساتھ تعلقات بھی کچھ اچھے نہیں ہوتے، لیکن پھر بھی عوام کو شکر ادا کرنا پڑتا ہے؟ یہ عادت تو خوفناک ہے!
 
اسحاق ڈار نے بنگلہ دیشی اسکالری کو پیش کر کے تھوڑا اچھا کام کیا 🤔, لیکن یہ بات کتنی حقیقی ہے کہ عوام کی بھावनات کو محسوس نہیں کیا جا سکتا, جب تک انہیں یہ سمجھنا نہیں آتا کہ اسحاق ڈار کی ایسی دلی تعزیت کیسے کر سکتے ہیں؟
 
اسحاق ڈار نے بنگلہ دیشی اسکالری کو پیش کر کے خالدہ ضیا کی وفات پر تعزیت کی تھی اور یہ بات بھی انہوں نے کہی تھی کہ انھوں نے عوامی Service aur apni qom ki falah aur behtareef kaa liye wafiq ki thi. Khali din pehle khuda zyada janta ko pata chal gaya tha ke khudah zia ne bharat me ek majlish kiya tha aur vah samay unki kathrat se lai gayi post se unhe bhi jana tha ke unka shukrana hona hoga.
 
ਉਹ غم یہی ہے جس سے پاکستانی عوام کو خالدہ ضیا کی وفات کا علم ملتا ہے 🤕۔ میری رائے میں یہ بھی اہم ہے کہ بنگلہ دیشی عوام کے ساتھ پاکستانی عوام نے ایسا اچھا معاملہ کیا جو انہیں بھی غم میں سمجھنا چاہیے।
 
🤔 یہ بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہے کہ عوام کو کسی غیر ملکی سربراہ کی وفات پر علم ملتا ہے اور ان کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا جاتا ہے... مگر کیا یہ تو سچ؟ نہیں! عوام کو صرف اپنے معاشرتی تعلقات میں گہری رشتہ دار بھارتی سربراہوں کی وفات پر علم ملتا ہے... خالدہ ضیا کیسے ایسا نہیں تھی? 🙅‍♂️
 
اللہ یہ سچائی بھی سب کو پتہ چل جائے کہ خالدہ ضیا کا انتقال کافی تھوس میں آیا اور اس وقت کے حالات کی وجہ سے عوام کی غم گہرے میزبانوں میں ہیں، بہت سے لوگ انہیں بھارت میں دیکھتے تھے اور ان کی کثرت سے لائی گئی پوسٹس سے وہ جانتے تھے کہ انہیں عوام کا غم سمجھنا ہوگا اور اس لیے بھی عوام نے ان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
 
عشق کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ عوام نے اس وقت کچھ نہ کچھ کھل کر محسوس کیا ہے۔ خالدہ ضیا کی وفات پر بھی عوام نے اس شخص کو یاد رکھا جس سے وہ معاشرتی تعلقات میں گہری رشتہ دار تھے اور جو ان کے شریعت اور مساوج کی قیمتی علمت سے نہیں ملاzia کرتا تھا۔

اس وقت کچھ لوگ اس پر بھارosa کہتے ہیں کہ عوام کو یہ علم ملنا چاہیے۔
 
بھی مچل گیا یہ غم، عوام کی شادد دلوں سے مل کر اس غم کو سمجھنا چاہئے، خالدہ ضیا کی وفات پر ہمیں ایک بار فिर اسی عادت کا احترام کرنا چاہئے جو بھی دوسرے ملکوں میں موجود لوگوں کے ساتھ ہے، عوام نے ان کی وفات پر تعزیت کی اور اس مظاہرے میں نے بھی حصہ لیا تھا۔
 
مری نے بھی یہی سोचا تھا کہ عوام کو کسی بھی غیر ملکی سربراہ کے انتقال کا علم مل جاتا ہے اور وہ ان کی یاد میں دھونے والوں پر لگ جاتے ہیں، یہ ایک عادت ہے جو دو ممالک کے درمیان بھی قائم ہے۔ میری نظر سے اسحاق ڈار نے اچھا عمل پیش کیا ہے، انہوں نے بنگلہ دیشی اسکالری کو پیش کر کے خالدہ ضیا کی وفات پر تعزیت کی ہے۔ یہی عادت ہے جو Pakistan اور Bangladesh دونوں کی ملکی سربراہوں کی جانب سے عوام کو ان کے انتقال کا علم دیتی ہے، خالی بھرپور احترام کے ساتھ۔
 
اس وقت بھی نہیں تھا جب ملا کہ خالدہ ضیا کی وفات ہوئی، اور اب اسے پتا چل رہا ہے کہ عوام نے ان کی وفات پر شکر ادا کرتے ہوئے دھواؤں بھی کیے تھے اور پوسٹس شائع کیے تھے... اچانک ان کو معلوم ہوا تھا کہ عوام کی نیند اچانک ختم ہو گئی اور ان کی وفات پر یہ سب کچن ہوا ... اسحاق ڈار کو پتا چل رہا ہے کہ عوام کی غم میں کیسے شریک ہونا ہوتا ہے اور انھوں نے ان کی وفات پر تعزیت کے لئے اسکالری کو پیش کر کے ایک ایسا معاملہ شروع کیا جو عوام کو شکر ادا کرتے ہوئے دھونے اور پوسٹس شائع کرنے پر مجبور کردیتا... کچھ دن تھوڑی تھوڑی اور عوام نے ان کی وفات پر دھونے اور پوسٹس شائع کرنے سے ہٹ جानا شروع کر دیا... 🤔
 
بغیر کسی اختلافات یا تنازعہ کو زبانی یا غیر Z, دوسرے شعبے پر منتقل نہ کریں. خالدہ ضیا کی وفات پر عوام میں غم کا اہتمام پاکستان کا ایک احترامپूर्वक جواب ہے۔ وہی عادت جس سے میرے ملنے والے دو ممالک کی بھی تعلقات قائم رہتی ہیں. اس حوالے سے، خالدہ ضیا ایک اور شخص ہیں جن کی وفات پر عوام نے غم کا اظہار کیا۔
 
یہ سچ ہے کہ عوام کو کسی بھی غیر ملکی سربراہ کے انتقال کا علم ملتا ہے، یہ ایک پوری دنیا میں موجود عادت ہے، لیکن یہ بات سچ ہے کہ وہ شخص جس سے عوام معاشرتی تعلقات میں گہری رشتہ دار تھا اس کے بعد بھی ان کی وفات پر عوام کا احترام اور تعزیت ملتا ہے، اب یہ بات سچ ہے کہ عوام کو خالدہ ضیا کی وفات کا علم مل گیا تھا اور وہ لوگ ان کی یاد میں دھواؤں اور پوسٹس شائع کر رہے ہیں، لیکن یہ بات سچ ہے کہ بنگلہ دیشی عوام نے اس وقت ان کی یاد میں انعام اور تعزیت کا پیشکش کیا تھا جو یہ بات بتاتا ہے کہ وہ لوگ خالدہ ضیا سے بہت قریبا تھے، حالانکہ میں یہ سوچتا ہوں کہ اسحاق ڈار نے یہ سب کچھ ایسا کیا ہے تاکہ پاکستانی عوام کو دیکھا جائے کہ وہ بھی عوام کی طرح انھیں شادید و غمگزار ہو رہے ہیں، یہ سب کچھ ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا ہے جس پر پاکستانی عوام کو دیکھنا پڑتا ہے اور اس میں کچھ لوگ انھیں غنائی طور پر پیش کر رہے ہیں، یہ سب سچ ہے لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ عوام کو شادید و غم گزار دیکھنا پڑتا ہے۔
 
حوالہ خالدہ ضیا کی وفات پر عوام کا شکر اور تعزیت کی ایسی عادت بھی قائم ہے جو دیکھنے کو قابل ہے ، لاکہ یہ بات کبھی نہ کبھار دیکھی جاتی ہے کہ عوام کو کسی خاص شخص کی وفات میں بھی شریک کرنا پڑتا ہے ، لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت یہ عادت پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کو ملکی سربراہوں کی وفات پر ایسی ہی شریک کرتی ہے۔ 🤝
 
اسحاق ڈار نے یہ سچائی کب تک دہم دیں گی؟ عوام کی غم میں شریک ہونے کا ایک بھی اقدامہ تو نہیں کیا جاسکتا؟ ان کا یہ وعدہ تو تھا کہ وہ عوام کی غم میں شریک ہوں گے، لیکن اب یہ کس طرح کا ایک مظاہرہ کیا جاسکتا ہے؟ ہزاروں افراد کو نا ملحوظ کردینا اور ان کی وعدےوں کو توازن دینا کتنا آسان ہوگا? 🤔
 
بھانے بھانے خالدہ ضیا کی وفات کا علم مل گیا اور عوام نے ان کی یاد میں دھواؤں کی اور پوسٹس شائع کیں مگر اس بات پر فخر ہونے والی کوئی چиз نہیں کہ پاکستان کی حکومت نے بھی ان کی وفات پر تعزیت کی کے لئے ایک اعلان جاری کر دیا جس میں ان کی یاد میں دھواؤں اور پوسٹس شامل ہیں 🙏👏
 
🤗 بھرپور تعزیت کا معیار اسحاق ڈار نے تو کیا 🤓 ان کے کھنکھے ساتھ ساتھ ایک اچھا وعدہ بھی دیا ہے جس پر عوام کو دیکھنا ہوگا

خالدہ ضیا کی وفات پر بھی پوسٹس شائع ہوئیں اور ان کے غم میں عوامی مظاہرے ہوئے لکین اسحاق ڈار نے یہ سب دیکھتے ہوئے ان کی وفات پر تعزیت کے لئے ایک ایسا کامیاب معیار تلاش کیا جس کے ساتھ عوام کو بھی محفوظ رکھا جا سکا

اسحاق ڈار کی یہ وعدہ دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ انھوں نے عوام کو جب اچھی سے پکڑا ہے تو ان کی ہر بات اس پر قائم ہوجاتی ہے

خالدہ ضیا کی وفات پر پاکستان کے عوام نے دھونے کے لئے اچھی ساتھ نہیں دیکھی تو مجھے یہ چанта ہے کہ ان کو ابھی بھی دھنے کی ہار نہیں دینا چاہئے

اسحاق ڈار ہر وکالت پر کامیاب رہتے ہیں لہٰذا مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اس شعبے میں اپنی جگہ قائم کی ہے
 
واپس
Top