حکومت پی ٹی آئی مذاکرات: اسپیکر کی پیشکش کے باوجود اپوزیشن کا رابطے سے گریز

خرگوش

Well-known member
پی ٹی آئی کی مذاکرات کے موسم نہیں لگ رہے، جبکہ سٹیوڈینم میں بھی اس پر چلنے کو کچھ سے عذرا ہوئی ہے۔

حال ہی میں پی ٹی آئی کے اندر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرنے کی وعدوں سے جھٹکے سامنے آنے پر حکومت نے ایک بار پھر اپوزیشن کے ساتھ باتیں شروع کی ہیں، تاہم ابھی تک تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باقاعدہ رابطہ نہیں کیا ہے۔

اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست کے باوجود اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے لیے کوئی مثبت اقدام سامنے نہیں آیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کا وفد اسپیکر کی ہدایت پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور وزیراعظم نے بھی اس سلسلے میں گرین سگنل دے دیا ہے، لیکن مذاکرات صرف تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں سے ہوں گے، غیر منتخب نمائندوں کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اس حوالے سے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے براہ راست رابطہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا، تاہم حکومتی اتحادی واضح طور پر بات چیت کے حق میں ہیں اور ملک کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے مذاکرات کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔

انھوں نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے اور ایسا کوئی معاملہ نہیں جسے بات چیت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر تحریک انصاف اسپیکر چیمبر میں آتی ہے تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن لیڈر سے متعلق معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اگر تحریک انصاف اپنی報告ات اسپیکر کو دے دے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو اس وقت سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے کیونکہ پارٹی خود کنفیوژن کا شکار نظر آتی ہے۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر دو مختلف دھڑے ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد باتیں کر رہے ہیں، جس سے مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کی آشیرباد کے بغیر مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گی، جس کے باعث بات چیت میں تاخیر ہو رہی ہے۔

انھوں نے زور دیا کہ سیاسی استحکام اور ملکی بہتری کے لیے تمام فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور جمہوری طریقے سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

قبل ازیں، مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سنجیدہ مذاکرات کی خواہاں ہے اور اب فیصلہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ مذाकرات کے لیے آگے آتی ہے یا نہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان ملک میں تشدد اور انتشار کی سیاست کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کسی نئے 9 مئی جیسے واقعے کی تلاش میں ہیں اور ملک میں انارکی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے پہیہ جام ہڑتال کی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے چاہئیں اور مسائل کا حل صرف بات چیت اور سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
 
یہ بھی تو سمجھ آتا ہے کہ پی ٹی آئی کے مذاکرات ایک محتazers میں تھپکا دیتا ہے اور ابھی تک تحریک انصاف سے بات چیت نہیں ہوئی، لیکن جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں وہ مزید ٹھوس بھی ہورہا ہے کہ تحریک انصاف اپنی Party Konfession کا شکار نظر آتی ہے

ان्हوں نے بھی یہ بات کہا کہ پی ٹی آئی میں دو مختلف دھڑے ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد باتیں کر رہے ہیں، اور اس لئے مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے
 
یہ تو بھارپور معاملہ ہے، پی ٹی آئی کی مذاکرات میں کام کرنے کی بات ہوتی ہے لیکن وہ ابھی تک نہیں اٹھ پائی اور سٹیوڈینم میں بھی کچھ عذرا ہوئی ہے، اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست کے باوجود ابھی تک تحریک انصاف نے باقاعدہ رابطہ نہیں کیا ہے، یہ تو دیر سے آ رہا ہے۔

مگر پچاس وار ہوجاتے ہی یہ معاملہ حل ہو جائے گا اور لوگ اپنی زندگیوں کا بھرپور استثناء سمجھ لین گے، سوشل میڈیا پر یہ بات کیوں پھیل رہی ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر دو مختلف دھڑے ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد باتیں کر رہے ہیں، یہ تو ہندوستان میں ہال ہی میں ہونے والی گھریلو وطن خیز جنگ کو بھی اس طرح کا مشابہات نہیں لگتے، دھن دھن کرنے کی بات بھی نہیں اور کچھ لوگ جو شہرت کے لیے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے ابھی تو ایسا لگتا ہے کہ ان کی جانب سے یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔
 
ہم نے یہ پوچھا تھا کہ پی ٹی آئی کی مذاکرات کے موسم وہاں نہیں لگ رہے، جبکہ اس پر چلنے کو کچھ سے عذرا ہوئی ہے؟ اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ باتچیت میں تاخیر ہو رہی ہے؟
اس پر ہمیں یہ پوچھنا ہو گا کہ آپ اس مسئلے سے کیسے نمٹائیں گے؟
 
😬 پی ٹی آئی کی مذاکرات کی صورت حال بہت گھینٹی لگ رہی ہے، اس بات کو بھی نہیں سمجھا کہ حکومت اور اپوزیشن کی دوسری پکڑ میں کس طرح گھومتی ہے؟ 🤯

اس وقت لگتا ہے کہ اس صورت حال کو حل کرنے کا ایک ایسا راستہ ہی چلا سکتا ہے جس میں تمام فریقین کو مل کر کام کرنا پڑے گا اور یہ بات سامنے آئے گی کہ مذاکرات کی راہ وہی ہے، جو سنجیدگی کے ساتھ ہوتی ہے۔

اگرچہ تحریک انصاف اپنی روایت کے مخالف اقدامات کر رہی ہے لیکن جسمانی مظاہرے اور طالعات سے لپٹی ہوئی ایسی صورت حال نہیں بنائی جا سکتی، اگر اس کے لیے سنجیدگی دکھائی جائے تو پورے ملک کو بھی یہ آگاہ کیا جا سکتا ہے اور ایسا معاملہ حل ہو سکتیا ہے، اس لیے مذاکرات کو بھی ایسا کرنا چاہئے جو یہ سمجھے گا کہ یہ معاملہ کسی ایسے ذریعے سے حل نہیں ہوتا جس میں کوئی جانبر پہچان کی جائے۔
 
پی ٹی آئی کی مذاکرات میں اس وقت کی رکاوٹوں پر نظر پڑتی ہے جیسا کہ سٹیوڈینم میں بھی تحریک انصاف کے لئے براہ راست رابطہ حاصل نہیں ہون۔

جبکہ اس وقت حکومت کو پتہ ہوتا ہے کہ ایک صحت مند سیاسی عمل میں کچھ بھی ممکن ہے جب وہ سب سے زیادہ مفید فریقوں کی طرف اپنے تعاملات کو مبذول کرائیں۔

اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر دو مختلف دھڑے ہو رہے ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد باتیں کر رہے ہیں، جس سے مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

اس لئے ہی یہ بات تازہ اور دلچسپ ہے کہ حکومت کی جانب سے تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے براہ راست رابطہ حاصل نہیں ہونے کے باوجود، وہ اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ سیاسی استحکام اور ملکی بہتری کے لیے تمام فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور جمہوری طریقے سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔
 
پی ٹی آئی کی مذاکرات میں تو نیند لے رہی ہے، مگر اس پر چلنے کا بھی کوئی عذرا نہیں ہو سکا۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ اس معاملے میں واضح لگت رہی ہے اور ابھی تک تحریک انصاف کے کسی رہنما نے سٹیڈیم میں آئے ہیں یا نہیں۔

اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست کے باوجود اپوزیشن نے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا ہے، یہ تو واضح ہے کہ وہ لوگ جو معاملات میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ ابھی تک آئے نہیں سونے۔

تعلیم پورے ملک میں کچھ نہ کچھ کی ہوئی، ابھی تک سیکھنے والے لوگ صرف انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن وہ بھی اس کا انداز نہیں سمجھتے جو دنیا کی ایسی بات ہے جس کے لئے دھمکیوں اور جھٹکاؤن سے کوئی بات نہیں ہوتی۔
 
"سچائی کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا پہلے سے پہلے ملکی ماحول کو بھی تبدیل کرتا ہے"
 
Wow 💬 پی ٹی آئی کی مذاکرات میں اس پر چلنے کو کچھ سے عذرا ہوئی ہے، لگتا ہے کہ وہ بات چیت میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں
 
میں بھی یہ سوچتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی مذاکرات کی بات کو لگام نہیں لیجانی چاہئیں، سٹیوڈینم میں بھی یہ بات نہیں کی جاسکتی کہ وہاں پر بھی کوئی بات چیت ہوسکے گی۔

تارق فضل چوہدری کے کہنے سے یہ بات اچھی طرح ٹھیک تھی کہ تحریک انصاف کا لڑا لڑائی کا ذریعہ ہے اور وہ کبھی بھی ایسا کرنے کے لیے سڑک پر آئے ہیں جو اس بات کی پہلی نہیں ہوگا کیونکہ اس کی لڑائی میں کبھی بھی ایسے واقعات نہیں دیکھے گئے جو انہوں نے اپنے خلاف دکھائے ہوں گے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک وہ سڑک پر آئے گا وہ ہیں جس کی پورتی نہیں ہوسکیگی۔
 
پی ٹی آئی کے مذاکرات کی بات کرتی وقت، مجھے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ ان کی تحریک میں اپوزیشن کے ساتھ بات چیت نہ کرنے کا سبب کیا ہوگا؟ جبکہ، ملک کے لیے بہتر صورتحال بنانے کے لیے یہ مذاکرات اچھی نتیجہ دے سکتے ہیں۔
 
واپس
Top