آن لائن یار
Well-known member
لبنان کی ایک مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سابق سیکرٹری جنرل عبدالکریم نصر اللہ کے والد انتقال کر گئے۔ جس طرح انھوں نے اپنے بیٹے حسن نصراللہ کی ہلاکت کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد اسرائیلی حملوں میں اپنا ایک بڑا ساتھ چھوڑا تھا، وہیں اب ان کے والد نے اپنی جان گئی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عبدالکریم نصر اللہ گزشتہ دو دنوں سے طبی پیچیدگیوں میں مبتلا تھے، جس کے بعد وہ انتقال کر گئے۔ ان کی موت ایک ایسا خطبہ ہوئی ہے جو حزب اللہ اور ایران کے لیے ساتھ دھونے کے لئے ایک نئے جوش کو جنم دی گئی ہے۔
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عبدالکریم نصر اللہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے، اس بات کو یقینی بنانے کے لئے جو کہ ان کے بیٹے کی جانب سے اس کے خلاف پھینکا جانا تھا، اور جس پر وہ اپنے فوجی سربراہوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھے تھے۔
انحطاط سے پہلے انھوں نے اپنی زندگی ایران کی حامی تنظیم حزب اللہ میں گزری تھی، وہاں انھوں نے مختلف عہدوں پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ ایران کے لیے اپنے یقین کو بھی ایک ایسے لچک کے ساتھ اور دھارے سے بڑھایا تھا جو اب اس کی موت کے بعد نئے ہوتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عبدالکریم نصر اللہ گزشتہ دو دنوں سے طبی پیچیدگیوں میں مبتلا تھے، جس کے بعد وہ انتقال کر گئے۔ ان کی موت ایک ایسا خطبہ ہوئی ہے جو حزب اللہ اور ایران کے لیے ساتھ دھونے کے لئے ایک نئے جوش کو جنم دی گئی ہے۔
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عبدالکریم نصر اللہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے، اس بات کو یقینی بنانے کے لئے جو کہ ان کے بیٹے کی جانب سے اس کے خلاف پھینکا جانا تھا، اور جس پر وہ اپنے فوجی سربراہوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھے تھے۔
انحطاط سے پہلے انھوں نے اپنی زندگی ایران کی حامی تنظیم حزب اللہ میں گزری تھی، وہاں انھوں نے مختلف عہدوں پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ ایران کے لیے اپنے یقین کو بھی ایک ایسے لچک کے ساتھ اور دھارے سے بڑھایا تھا جو اب اس کی موت کے بعد نئے ہوتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔