بھارت میں پھیلنے والے نیپا وائرس نے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا انعقاد ایک خطرناک ماحول میں ڈال دیا ہے اور اس سے ایسے افراد پر بھی اثر پڑ رہا ہے جو اس وائرس سے متعلق ہیں۔
بھارت کے مغربی بنگال میں دو نرسز اور ایک ڈاکٹر سمیت پانچ افراد میں نیپا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کی حالت بہت خطرناک ہے۔
حکومت نے کم از کم 100 افراد کو قرنطینہ میں لایا ہے اور حفاظتی تدابیر مزید سخت کردی ہیں تاکہ وائرس کے پھیلنے سے روکے جا سکئے۔
ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی تقریباتیں 7 فروری کو شروع ہونے والے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے صرف چند ہفتوں پہلے ہی پھیلنے لگا تھا اور اب یہ وائرس ان ایونٹ کی تیاریوں، لاجسٹکس اور سکیورٹی انتظامات پر بھی خطرہ پہنچا رہا ہے۔
मुझے یہ بات تھی کہ وائر اس ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی تقریباتوں میں کس طرح پھیل سکتا ہے جبکہ میری بہن نے یہ بات بتائی تھی کہ اب وائر اس سے متعلق لوگوں پر زیادہ اثر پڑ رہا ہے... مجھے لگتا ہے کہ حکومت کو ایسے انتظامات کرنے چاہیے جس سے وائر کو روکنے میں مدد ملے...
یہ ایک بڑا خطرہ ہے، ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے عروض میں لوگ آتے رہتے ہیں اور پھر ان میں وائرس پھیلتا ہے، یہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ہزاروں افراد کو یک ساتھ لایا جائے اور ان میں وائرس پھیلنا ہوتا رہتا ہے، یہ سب کو خطرہ بناتا ہے، حکومت کے عمل سے بہت کچھ نکلنے کا امکان ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ایسا ہونا چاہئے کہ کوئی بھی حد تک ٹورنامنٹ سے باہر نہیں آتے۔
میں کہتا ہوں گا کہ یہ وائرس نہ صرف ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی تقریب پر بلکہ اس میں شرکت کرنے والے تمام لوگوں کے لیے ایک خطرناک صورتحال ہو رہا ہے۔ ٹورنامنٹ سے پہلے یہ نہیں تھا کہ اس طرح کی گنجان آبادی والی تقریبات پر ایک وائرس اپنی پہچان بنائی ہو جیسا کہ اب ہوا ہے۔ یہ بھارت میں ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے اس سیزن کو ایک عظیم خطرے کا ماحول بن رہا ہے اور اب اس پر کسی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔
بھارت میں نیپا وائرس کا پھیلنا ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی تقریبات کو ایک خطرناک مقام پر لایا ہے، اور یہ نئی صورتحال اس سے زیادہ تھकAVARہ جاسکتا ہے۔ پانچ افراد میں نیپا وائرس کی تصدیق کروائی گئی ہے، اور ان حالات میں بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔
جب ایسے خطرناک صورتحال کے سامنے ہوتا ہے تو ہم نے اپنی ذاتی حفاظت کو پہلی پیشی دے دی جانی چاہئے اور ہر ممکن اس میں مدد کا احترام کرتے ہیں۔
جبکہ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی تقریباتیں اس صورتحال سے قبل ہی ہو چکی تھیں تو اب یہ وائرس ان کے منظم انتظامات پر بھی خطرہ پہنچا رہا ہے۔
بھارت میں نیپا وائرس کا ماحول خطرناک بناتے ہوئے، اس پر حکومت نے کیے گئے احتیاطات سے یہ بات پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے ہاتھ میں بھی کچھ نقصان نہ ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول کی س्थापनہ میں نہ ہونے پر انحطاط اور عدم ہم آہنگی کا مظاہر ہوا ہے جو ہمیشہ پابندوں کو خوفزدہ کر دیتے ہیں...
اگرچہ حکومت نے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا انعقاد جاری رکھنے پر اپنی نظر پوسی ہوئی ہے لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سلسلے میں بھی حکومت نے ہر صورت حال کو کم از کم ایک طرف چھوڑ دیا ہے... فوری اقدامات پر انحصار ہونے کی وجہ سے اس سے یہ بات بھی پتہ چلتا ہے کہ حکومت میں اتنی نئی پالیسی نہیں بنائی گئی ہے...
اس نیپا وائرس کو روکنے کے لیے ہمیں تو ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی، لہذا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے دوران اس سے منسوب اور اس طرح بھی نئے افراد پر اثر پڑنے سے روکنے کا کامیاب طریقہ تلاش کرنا ہوگا۔
یہ طاقت کا واقعہ بہت خوفناک ہے۔ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے اس سے قبل ایسے حالات نہیں رہتے جو اب وہ ہو رہے ہیں۔ یہ بھی ایک بات ہے کہ ایسے واقعات پر حکومت کو اٹھنا مشکل ہوتا ہے، لیکن اس سے پہلے حکومت کو ایسے اقدامات پر فोकس کرنا چاہئے جس سے لوگ یقین کرتے ہیں کہ انصاف ہو گا۔ اس میں بھی ایک بات ضرور ہے کہ لوگوں کو بھی اپنی جانپن کی ذمہ داری لینی چاہئے، نہیں تو یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔
سگنا میرے جس کے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے قریب ہو رہا تھا، اور اب یہ وائرس وہی منظر کے سامنے لایا ہے جو کوئی نہ کوئی خوف سے بھری دیکھ رہا ہے، ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی ٹائمینگ کے لیے یہ ایک خطرناک موڑ ہو گya ہے۔
یہ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کیسے منعقد ہو گا؟ اور یہ نیپا وائرس کی ایسے خطرناک ماحول میں ڈال دیا گیا ہے جس سے 100 افراد پر بھی قrnطینہ لگائی جا رہا ہے؟ یہ پورا کھیل کیسے منعقد ہو گا؟
ایک طرف یہ بتایا گیا ہے کہGovernment نے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی تقریباتیں بھی رکھ دی ہیں اور اس پر بھی پوری تاکید کی جا رہی ہے لیکن دوسری طرف یہ بتایا گیا ہے کہ نیپا وائرس نے ایسے ماحول کو خطرناک بن دیا ہے اور اب اس پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ اس سے پہلے منعقد ہو گا یا نہیں ۔
اس کے لیے وہ بھی ایک خطرناک ماحول ہیں جو کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کو ایک خطرناک ماحول میں ڈال رہا ہے۔ یہ پورا کھیل کیسے منعقد ہو گا؟ اس پر ہم کا نظر رکھنا چاہیے اور اسی وقت سے یہ سوچنا چاہیے کہ اس پر توجہ دی جا سکتی ہے یا نہیں?
اس نئے نیپا وائرس کا شکار ہونے والوں کو لگتا ہے کہ ان کی زندگی کسی بھی صورتحال میں بھی ہمیں پہچاننے کی کافی صلاحیت ہے۔ یہ وائرس اس وقت نہیں لگ رہا ہے جبکہ ہر دفعہ ہوا کی اور ایسے لوگوں کو بھی پہچانا جاسکتا ہے جو اس وائرس سے متعلق ہیں۔
یہ وائرس ان لوگوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے جو اس وائرس سے متعلق ہیں اور اس کی چپکسی کے باعث کمزوری میں مبتلا ہیں۔
ہمیں ان لوگوں کو پہچانا نہیں جس کا وائرس سے شکار ہو رہا ہے لہذا یہ سارے لوگ ٹیسٹ کرایا جاسکتا ہے اور ان پر دباؤ اور حفاظت کے درجہ کی ضرورت ہوگی تو اس لیے ہی وائرس نے یہ خطرناک ماحول پیدا کر رکھا ہے۔