نیویارک میئر ظہران ممدانی نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے بارے میں شگفتہ پیش کر رہے ہیں۔ انھوں نے بریفنگ دی گئی جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ Maduro اور ان کی اہلیہ کو بروکلین، نیویارک کے وفاقی ادارے میٹروپولیٹن ڈیتنسین سنٹر منتقل کر دیا جائے گا۔
انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا، "ایسےInformation کی پیداوار سے وفاقی ادارے کے لئے یہ ایک بڑا کام ہو گا جس میں صدر Maduro اور ان کی اہلیہ کو ہزاروں وینیزویلا کے مهاجرین تک رسائی ملے گی۔"
لیکن ممدانی نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی پر شدید تنقید کی اور کہا، "یہ صرف ایک خودمختار ملک پر حملہ جنگی ہے جس کے لئے وفاقی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔"
انھوں نے مزید کہا، "ریگیم چینج کی یہ کھلی کوشش صرف بیرون ملک اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ براہ راست نیویارک کے عوام کو متاثر کرتی ہے جس میں وہ ہزاروں وینیزویلا کے مهاجروں بھی شامل ہیں جو اس شہر کو اپنا گھر کہتے اور سمجھتے ہیں۔"
ممدانی نے یہ بات بھی پکارتے ہوئے کہا، "کیوں نہیں اس کی وضاحت کیا جائے گا؟"
انھوں نے مزید کہا، "ایسا لگتا ہے کہ ریاستہائے متحدہ میں بھی وہی سستہ پابندی جس کی وہ ملک میں لگا رہے تھے وہاں بھی موجود ہو گئے ہیں۔"
انھوں نے یہ بھی کہا، "ایسے کارروائیوں سے صدر Maduro اور ان کی اہلیہ کو اس ملک میں مقیم وینیزویلا کے مهاجروں کو فائدہ ہوگا جو اب بھی یہ مہم جاری رکھتے ہیں۔"
انھوں نے مزید کہا، "لیکن آپ سے پوچھنا ہوتا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے آپ کیا فائدہ ہوگا؟"
ممدانی نے مزید پوچھا، "کون سے ادارے اس کے لئے ذمہ دار ہیں؟"
انھوں نے یہ بھی کہا، "اگر یہ کارروائی انھیں ملک میں واپس لے آئے تو ایسی صورتحال کا سامنا ہوتا تھا جس سے انھوں نے ساتھ ہی خود کو بھگتایا ہوتا۔"
ممدانی نے مزید کہا، "لیکن اس میں وہ ادارہ شامل تھا جس نے انھیں ملک سے باہر جلا دیا تھا اور اب وہ انھیں ملک میں لانے کا تجویز کرتے ہیں؟"
انھوں نے مزید کہا، "اس طرح کی کارروائیوں سے آپ کو یہ واضح ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا کہ وہ ملک میں کس پالیسی پر چل رہے ہیں؟"
ممدانی نے یہ بھی کہا، "آپ سے جھوٹے بتایا گیا ہے کہ انھیں وفاقی تحویل میں مجوزہ قید کی جائے گئی۔"
انھوں نے مزید کہا، "لیکن آپ سے پوچھنا ہوتا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے آپ کیا فائدہ ہوگا؟"
ممدانی نے مزید پوچھا، "کون سے ادارے اس کے لئے ذمہ دار ہیں؟"
انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا، "ایسےInformation کی پیداوار سے وفاقی ادارے کے لئے یہ ایک بڑا کام ہو گا جس میں صدر Maduro اور ان کی اہلیہ کو ہزاروں وینیزویلا کے مهاجرین تک رسائی ملے گی۔"
لیکن ممدانی نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی پر شدید تنقید کی اور کہا، "یہ صرف ایک خودمختار ملک پر حملہ جنگی ہے جس کے لئے وفاقی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔"
انھوں نے مزید کہا، "ریگیم چینج کی یہ کھلی کوشش صرف بیرون ملک اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ براہ راست نیویارک کے عوام کو متاثر کرتی ہے جس میں وہ ہزاروں وینیزویلا کے مهاجروں بھی شامل ہیں جو اس شہر کو اپنا گھر کہتے اور سمجھتے ہیں۔"
ممدانی نے یہ بات بھی پکارتے ہوئے کہا، "کیوں نہیں اس کی وضاحت کیا جائے گا؟"
انھوں نے مزید کہا، "ایسا لگتا ہے کہ ریاستہائے متحدہ میں بھی وہی سستہ پابندی جس کی وہ ملک میں لگا رہے تھے وہاں بھی موجود ہو گئے ہیں۔"
انھوں نے یہ بھی کہا، "ایسے کارروائیوں سے صدر Maduro اور ان کی اہلیہ کو اس ملک میں مقیم وینیزویلا کے مهاجروں کو فائدہ ہوگا جو اب بھی یہ مہم جاری رکھتے ہیں۔"
انھوں نے مزید کہا، "لیکن آپ سے پوچھنا ہوتا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے آپ کیا فائدہ ہوگا؟"
ممدانی نے مزید پوچھا، "کون سے ادارے اس کے لئے ذمہ دار ہیں؟"
انھوں نے یہ بھی کہا، "اگر یہ کارروائی انھیں ملک میں واپس لے آئے تو ایسی صورتحال کا سامنا ہوتا تھا جس سے انھوں نے ساتھ ہی خود کو بھگتایا ہوتا۔"
ممدانی نے مزید کہا، "لیکن اس میں وہ ادارہ شامل تھا جس نے انھیں ملک سے باہر جلا دیا تھا اور اب وہ انھیں ملک میں لانے کا تجویز کرتے ہیں؟"
انھوں نے مزید کہا، "اس طرح کی کارروائیوں سے آپ کو یہ واضح ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا کہ وہ ملک میں کس پالیسی پر چل رہے ہیں؟"
ممدانی نے یہ بھی کہا، "آپ سے جھوٹے بتایا گیا ہے کہ انھیں وفاقی تحویل میں مجوزہ قید کی جائے گئی۔"
انھوں نے مزید کہا، "لیکن آپ سے پوچھنا ہوتا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے آپ کیا فائدہ ہوگا؟"
ممدانی نے مزید پوچھا، "کون سے ادارے اس کے لئے ذمہ دار ہیں؟"