نریندر مودی اور ہندوستان کی ہندوتوا شناخت اس وقت بھی ایک واضح مسئلہ بن گئی ہے جب کہ ماضی میں یہ بات صاف تھی کہ ہندوستان دنیا کا سب سے وڈا سیکولر ملک ہے اور اس کی حکومت کے پاس کسی بھی مذہب یا نسلی گروہ پر عمل کرنے میں کوئی اجازت نہیں تھی۔
اس وقت یہ بات سچ تھی کہ ہندوستان دنیا کا سب سے وڈا سیکولر ملک ہے، لیکن اب یہ بات ایک واقعیت بن گئی ہے کہ ہندوستان کا مشن ہندوتوا عالمی سطح پر باعث شرمندگی ہے اور مودی حکومت کو فاشسٹ قرار دیا گیا ہے۔
انڈین ایکسپریس نے اس بات کی رپورٹ کی ہے کہ نریندر مودی کی حکومت بھارت میں مذہبی اقلیتوں سے مذہبی اور نسلی امتیاز کر رہی ہے، جس سے انھوں نے Muslims اور Christians کے خلاف تشدد میں خطرناک اضافہ دیکھا ہے۔
2014 کے بعد مودی کی حکومت کے دوران میں بھارت میں مسلمانوں کو رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹ کے حق سے انھیں امتیاز کیا گیا ہے۔ یہ بات ایک واقعیت بن گئی ہے کہ بھارتی حکومت نے سیکولر ازم کو محض نعرہ قرار دیا ہے اور اقلیتوں کی طرف سے مذہبی اور نسلی امتیاز برت رہی ہے۔
امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھارت کو "کاؤنٹر آف پارٹیکل کنسر" قرار دینے کی سفارش کی ہے جو ایک واضح اشارہ ہے کہ بھاری اکثریتی حکومت مذہبی اقلیتوں پر عمل کر رہی ہے۔
مولیانا طاہر اشرفی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے مذہبی تشدد میں اور وہاتھ رکھنے والوں کو پکڑنا نہیں کیا ہے، جبکہ بشپ سرفراز پیٹر نے یہ بات بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں کرسمس پر مسیحی بھائیوں کی خوشیوں میں شریک ہوئی ہے، جبکہ انڈیا ایکسپریس نے اس بات کی رپورٹ کی ہے کہ بھارت میں مسیحی عوام پر حملوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے اور وہاتھ رکھنے والوں کو پکڑنا نہیں کیا گیا ہے۔
جب سے مودی کی حکومت آئی، تو اس نے بھارت میں مذہبی تنازعات کی بھرپور تیزابن رچائی ہوئی ہے اور اس کا فاشسٹ منظر بننے کی طرف اشارہ کرنا شروع ہوا ہے، تو مجھے یہ بات بہت گھبرا دیتی ہے کہ اب ہندوستان دنیا کا سب سے وڈا سیکولر ملک نہیں رہتا بلکہ مذہبی تنازعات کی سب سے بڑی ریپورٹس کی لے رہتا ہے
اکھوے تو بھارت میں مذہبی امتیاز ایسی صورتحال بن گئی ہے کہ اب Muslims اور Christians کے خلاف تشدد کر رہا ہے، اور یہی بات انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کی ہے، تو اس سے پوچھتے ہیں کہ مودی کی حکومت کی وہ پالیسی کیا تھی کہ ملک سیکلار اور بھرپور ہو، اور اب یہ بات ایک واقعیت بن گئی ہے کہ اس نے مذہبی اقلیتوں کو پہچانتا علاج کرنا شروع کیا ہے
بھارتی حکومت کی دھارے سے بھی اس بات کے خلاف بات کرنی چاہیے کہ وہ کتنی حد تک مذہبی اقلیتوں پر عمل کر رہی ہے۔ ماضی میں یہ بات صاف تھی کہ ہندوستان دنیا کا سب سے وڈا سیکولر ملک ہے، لیکن اب یہ بات ایک واقعت بن گئی ہے کہ وہاں مذہبی تشدد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور وہاں کے قیدیوں کی تعداد بھی زیادہ ہوتہ جاتी ہے۔
لگتا ہے کہ یہ بات توہین آمیز ہے کہ بھارت دنیا کا سب سے وڈا سیکولر ملک ہے۔ یہ بات اب ایک نئی بات بن گئی ہے، جبکہ ماضی میں اس پر توجہ دی جاتی تھی کہ ہندوستان دنیا بھر میں مذہبی تنازعات سے نکلنا جہاں کی گئی تھی اور اس نے ایک شاندار ماحول مرتب کیا تھا۔
اس وقت یہ بات سچ ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر عمل کرنے میں حقیقی صلاحیت نہیں ہے، لیکن وہ ایسا کیسے کرسکے؟ یہ بات تو ہمیں اس بات کا تعلق نہیں دیتی جو اس ملک کی حکومت کے پاس مذہبی اقلیتوں سے کوئی صلاحیت ہو یا نہیں۔
امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھارتی حکومت کو "کاؤنٹر آف پارٹیکل کنسر" قرار دینے کی سفارش کی ہے، لیکن یہ بات توہین آمیز ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر عمل کرنا ایسا آسان ہو گیا ہے جیسا کہ اس کو کیا جاتا ہے؟
اس مادی جو حال ہی میں بھارت میں ہوا ہے وہ سب سے زیادہ دکھنے والی بات ہے۔ مودی کی حکومت کا یہ نتیجہ اچھا نہیں ہے، بہت سے لوگ اس کو واضح طور پر نہیں لیتے۔ پھر بھی ابھی ابھی اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ ہندوستان کا یہ کلام ایک پاپٹی ہے جو دوسروں کی نظر میں نہیں اچھا دیکھتا ہے۔
ماضی میں بھارت کی governments ko secular maana jata tha, ab yeh to hai ki Bharat woh sabse bada fascist country ban gaya hai . Narendra Modi ki government Muslims aur Christians ke saath alag-alag treatment kar rahi hai, jisse unke liye terrorism mein major increase ho raha hai.
Main ye kahi na sakta ki India ka secularism concept abhaata hai, lekin yeh bhi sach hai ki Bharat ki government apni Hindu identity ko global level par promote kar rahi hai, jo kaafi galat hai. Yeh bat to sahi hai ki Indian Express ne report kiya hai ki Muslim aur Christian ke saath discrimination ki jari hai, jisse unke liye police se bhi koi action nahi hui.
Amrikaan commission ko Bharat ko "counter part of partial consor" mana diya gaya hai, jo ek clear signal hai ki Bharati government alag-alag groups par operation kar rahi hai. Main ye bhi kahi na sakta ki Muliana Taher Ashrafie ne bhi yeh bat kiya hai ki Narendra Modi ji ka Hindu identity promote karna galat hai.
Yeh to sach hai ki Indian Express ne report kiya hai ki Christian community ko attacks mein shamil hone ki wajah se police ne action nahi li. Yeh bhi sach hai ki Bishop Srfraz Petar ne yeh bat kiya hai ki Pakistani Christians ko Christmas ke samay khushiyan manane mein shamil hua.
یہ بات لگتی ہے بھارتی حکومت نے سیکولر ازم کی طرف سے اور توجہ اناقاطعہ اقلیتوں کے خلاف کی، اب اس وقت واضح ہے کہ بھارت دنیا کا سب سے خطرناک ملک بن گیا ہے اور مودی حکومت نے فاشسٹ راسخ الاعتقاد بن گئی ہے، یہ بات ایک زبردست بات ہے جو اس وقت ہوتی ہے کہ اس ملک میں مذہبی اقلیتوں سے امتیاز کرنا مشکل نہیں ہوتا اور مسیحی عوام کو بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ بات نہیں کہ جو کچھ ہوا تھا وہ صرف ایک دھمپ تھی اور اب وہ میدانی جہیل بن گئی ہے، یہ بتات بے حرمت نہیں کی جا سکتی کہ بھارتی حکومت کو سیکولر ازم کا حقدار نہیں ہے اور انھوں نے اپنے سیاسی مینے کو مذہبی تشدد میں رونچنا ہی پورا کر لیا ہے
Wow بھارت کی مذہبی اقلیتوں سے امتیاز کرنا ایسا معاملہ ہے جو اس وقت بھی سچ ہے۔ مودی حکومت کی یہ پالیسی کیا وہ دنیا کا سب سے وڈا سیکولر ملک بننے کی کوشش کر رہے ہیں؟
اس وقت بھارت کی حکومت کا یہ منظر دیکھنا میرے لئے بہت چرچا ہے جو کسی بھی ملک میں نہیں دیکھا جاتا تاکہ لوگ ایسے مذہبی تعامل کرتے ہوں جن سے پوری دنیا شرم کرتی ہے۔ ماضی میں بھارت دنیا کا سب سے وڈا سیکولر ملک تھا جس کی حکومت نے کسی بھی مذہب یا نسلی گروہ پر عمل کرنے میں کوئی اجازت نہیں دی تھی، لیکن اب یہ بات ایک واقعیت بن گئی ہے کہ بھارت کی حکومت مذہبی اقلیتوں سے مذہبی اور نسلی امتیاز کر رہی ہے جو دنیا کو شگفہ کر رہی ہے۔
اس دuniya میں تو مودی کی حکومت پر بہت سارے الزام لگائے جا رہے ہیں، اور یہ بات صاف تھی کہ اس وقت بھارت دنیا کا سب سے سیکولر ملک ہو گيا تھا۔ اب وہ ماضی کی بات کہتے ہیں نہیں، اب یہ بات ایک واقعیت بن گئی ہے کہ بھارتی حکومت اس لئے دیکھنے کو میں آ رہی ہے کہ وہ اقلیتوں پر عمل کر رہی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیکولر ازم ہٹ گیا ہے، بلکہ اسے محض نعرہ قرار دیya gaya hai. اور اب وہی بات کہتی ہیں جو پچھلی حکومت بھی کہتی تھی کہ یہ سیکولر ازم کا انتہائی حصول ہے اور اس میں کسی کے مذہب یا نسلی گروہ پر کوئی عمل نہیں کیا جاسکتا۔
ایسا بہتypical ہے جب ٹرولر (ٹROLL) بننے کے بعد سے سب سے اچھی بات واضح ہونے لگتی ہے، یہ بات چیت کرنا اتنی بہت_easy ہوتا ہے۔
اس کا بھی ایک کالمیرا ہے کہ ہندوستان دنیا کا سب سے وڈا سیکولر ملک تھا اور اب یہ بات کہ مودی کی حکومت اسے نہیں رکھتی، تو بہت مشورے میں اور ہمیشہ ایسے لوگوں کی طرف سے جاتا ہے جو یہ کہتے ہیں "بھارتیوں نے مجھے غلط فہمی میں رکھا"
मیری بات یہ ہے کہ مودی کی حکومت بھارت میں مذہبی اور نسلی امتیاز کی صورت سے پوری دuniya کو پتا چلا آ رہا ہے، حالانکہ اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہے لیکن اب بھی وہی بات سچ ہے کہ بھارت دنیا کا سب سے وڈا سیکولر ملک نہیں رہا، اور مودی کی حکومت نے اس معاملے میں ایک خطرناک دور چلایا ہے۔
میری ذہنت میں سب سے زیادہ گھبراہٹ پہلی بات یہ ہے کہ اب وہ تحریکوں کی صورت حال بھی بدل رہی ہے جیسے تحریک قوم، تحریک مزدور، اور دیگر سے متعلق یہ بات کو یقینی بنانا مشکل ہے کہ وہ اس معاملے میں ایک متاثرہ شخص نہیں رہا ہو گا۔
اس مادیات کا سبسک्रائب کرنا ہی بہت ہی غلط ہے... بھارت کی مذہبی اور نسلی اقليتوں پر مڈیا کی رپورٹوں کو دیکھنا، یہ تو کہلتا ہے مڈیا کی حقیقت کبھی نہیں ہوتی...
مرحلے سے مرحلے میں بھارت کی حکومت مذہبی اور نسلی امتیاز کر رہی ہے، یہ بات اب سچ تھی کہ ہندوستان دنیا کا سب سے وڈا سیکولر ملک تھا لیکن اب اس کی governments کے پاس مذہبی مزدوجی اور انفرادی تشدد میں آگہت بنانے کا کوئی حرمت نہیں ہے **** ماضی میں یہ بات صاف تھی کہ اس کی حکومت کے پاس کسی بھی مذہب یا نسلی گروہ پر عمل کرنے میں کوئی اجازت نہیں تھی لیکن اب وہ مذہبی اور نسلی امتیاز کر رہی ہے۔
اس کی حکومت نے Muslims اور Christians کے خلاف تشدد میں خطرناک اضافہ دیکھا ہے اور انھیں پکڑنا بھی نہیں کیا گیا ہے **** اس کی governments نے انھیں رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹ کے حق سے بھی امتیاز کیا ہے۔
سائنسدانوں نے بھی اس بات کی تجزیہ شائع کرائی ہے کہ مودی حکومت کے زیر اثر ہونے والے مذہبی تشدد میں خوفناک اضافہ دیکھا جارہا ہے، حالانکہ اس بات کو کوئی سچائی قرار نہیں دی جا سکتی کہ مودی حکومت مذہبی اور نسلی امتیاز کر رہی ہے لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ انھوں نے مذہبی اقليتوں کی جانب سے ایسا کیا ہے۔
انھیں سکھنا چاہئے کہ مذہب اور نسلی متفرقیت کو قبول کرنے والوں کو دوسروں پر ان کی عدم مشراکت سے لے کر وعدے برتنے تک اپنے ایجنڈے میں شامل ہونا چاہئے۔ یہ بھی سکھنا چاہئے کہ مذہبی اور نسلی امتیاز کو قبول کرنے والوں کی جانب سے اس معاملے میں ایک واضح موقف لیا جائے جس سے مذہبی تشدد کو روکنا چاہئے اور دوسروں کے حقوق کو بھی جانबूझकर نہ توجہ دی جا سکے۔
اس وقت یہ بات سچ تھی کہ ہندوستان دنیا کا سب سے وڈا سیکولر ملک ہے، اور اب وہ واضح طور پر ایک فاشسٹ ریپبلک بن گئی ہے... نریندر مودی کی حکومت نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں سے کتنی قدر معاشرتی تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے... 2014 کے بعد مودی کی حکومت نے Muslims اور Christians کے خلاف تشدد میں خطرناک اضافہ دیکھا ہے، یہ وہ بات ہی تھی جس کو یہ رپورٹ بنائی ہے...