عالمی منظر نامہ، مذاکرات کی نازک بساط | Express News

ترکیہ میں بالواسطہ مذاکرات نے امریکا اور ایران کے درمیان ایک ماحول پیدا کیا ہے جس میں طاقت، دباؤ، مفادات اور بقاء کی سیاست اکثر ایک دوسرے سے گھٹنا لگتی ہے۔

مذاکرات کا یہ آغاز ایران نے اپنی جانب سے پہلے سے کیا تھا جس میں اس نے معاشی دباؤ اور پابندیوں کو کم کرنے کی تجاویز دی ہیں۔ان کے بعد امریکا نے بھی اپنی جانب سے تجارتی معاہدوں پر مشتمل یہ بات پیش کی ہے کہ یہ مذاکرات منصوبہ بندی کی گئی ہیں اور ان میں وہی باتوں کو شامل کیا گیا ہے جس پر ایران بھی معافہ چاہتا تھا۔

یہ مذاکرات یوکرین کی جنگ میں رکوانے کے لیے بھی ان کے درمیان ایک بات چیت کا ماحول پیدا کرنے والے ہیں جس میں ایک طرف اپنی طاقت کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس بات پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں نرمی اور معاشی تنازعات کو کم کیا گیا ہے لیکن اس بات پر بھی یقین کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا ایک دوسرا طرف سے جواب نہیں ملتا ہے جس کی وجہ سے پابندیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ان کے نتیجے میں تھکا دھکیلا پیدا ہوسکتا ہے۔

ایک طرف یقین کیا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے معاشی تنازعات کو کم کیا گیا ہے لیکن دوسری طرف یہ بات بھی صاف ہے کہ مذاکرات نہ ہونے پر پابندیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے ایک دوسری طرف کو بھی تھکا دھکیلا ملا جاتا ہے۔

اس طرح کی مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی اور معاشی تنازعات کا خاتمہ ایک مشکل کارروائی ہوتی ہے کیونکہ دوسری طرف اس بات پر بھی توقع کرتی ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں اضافہ نہیں ہوتا ہے اور ان کے خاتمے سے معاشی تنازعات کو کم کیا گیا ہے۔
 
turkey 🇹🇷 میں مذاکرات کا یہ آغاز ایران کی جانب سے تھا اور اس نے پابندیوں کو کم کرنے کی بات کہی ہے، اور اب امریکا بھی اپنی جانب سے تجارتی معاہدوں پر مشتمل یہ بات پیش کر رہا ہے کہ یہ مذاکرات منصوبہ بندی کی گئی ہیں اور وہی باتوں کو شامل کیا گیا ہے جس پر ایران بھی معافہ چاہتا تھا 🤔

لیکن یہ بات صاف ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں نرمی اور معاشی تنازعات کو کم کرنا ہی پورا مقصد نہیں ہے، پھر دوسری طرف بھی یہ توقع کرتا ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں اضافہ نہیں ہوتا اور اس سے ایک دوسری طرف بھی تھکا دھکیلا ملا جاتا ہے 😐
 
اس طرح کی مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی لانے کا کام مشکل ہوتا ہے۔ 🤔
مذاکرات سے پابندیوں کو کم کرنا چاہیے اور معاشی تنازعات کو بھی کم کرنا چاہیے، لیکن دوسری طرف اس بات پر بھی توقع کرتے ہیں کہ پابندیوں میں اضافہ نہیں ہوتا ہے। 😬
اس لئے مذاکرات سے پہلے تو بات کا موقع بننا اچھا ہوتا ہے، اس طرح دوسری طرف پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالا جاتا اور دونوں طرف کو ایک دوسرے کے ساتھ معاونت کرنے کی توقع بھی ملتی ہے। 💬
مذاکرات سے پابندیوں کو کم کرنا چاہیے، لیکن اس کے لئے دوسری طرف کی جانب سے توسیع کی توقع بھی کہی جانی چاہیے اور اس طرح مذакرات کے نتیجے میں معاشی تنازعات کو کم کرنا چاہیے۔ 💰
 
تھوڑا سا دل تھا کرکے بھی یہ بات سچ ماجھ جاتی ہے کہ Turkey میں بالواسطہ مذاکرات نے Amrica اور Iran کے درمیان ایک منظر پیدا کیا ہے۔ پہلے Turkey ایران کی جانب سے بات چیت کرنے لگا جس میں معاشی دباؤ اور پابندیوں کو کم کرنے کی تجاویز دی گئیں تو Amrica بھی اپنی جانب سے بات چیت کرتے ہوئے کہیں کہ یہ مذاکرات منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اس میں وہی باتوں کو شامل کیا گیا ہے جس پر Iran بھی معافہ چاہتا تھا

ایک طرف یہ بات سچ ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں نرمی اور معاشی تنازعات کو کم کیا گیا ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی صاف ہے کہ مذاکرات کے بغیر پابندیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے ایک دوسری طرف کو تھکا دھکیلا ملا جاتا ہے

اس طرح کی مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی اور معاشی تنازعات کا خاتمہ ایک مشکل کارروائی ہوتی ہے کیونکہ دوسری طرف اس بات پر بھی توقع کرتی ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میڹ نہیں ہوتا ہے اور ان کے خاتمے سے معاشی تنازعات کو کم کیا گیا ہے

اس لیے یہ بات صاف ہے کہ مذاکرات کی صورت میں پابندیوں کو کم کرنا بھی ایک مشکل کارروائی ہوتی ہے اور اس میں بھی کسی حد تک نرمی لانے کی ضرورت ہوتی ہے تاہم یہ بات صاف ہے کہ مذاکرات کی کوئی بھی صورت منصوبہ بندی کرتی ہے اور اس میں وہی باتوں کو شامل کیا جاتا ہے جو دونوں طرف پر معافہ چاہتے ہیں
 
عقیدہ ہے کہ یہ مذاکرات ایک نئی صحرا کی طرح بن رہے ہیں جہاں طاقت، دباؤ اور مفادات کے تمام پہلو کو شامل کیا گیا ہے اور اس میں تھکا دھکیلا کے امکانات بھی موجود ہیں لیکن یہ بات بالکل ضروری نہیں کہ یہ مذاکرات ہی اس طرح کی صورتحال کو حل کریں گے۔

اس بات پر یقین کرنا چاہئے کہ مذاکرات کے منصوبہ بندی اور اس میں شامل تمام باتوں سے پہلے اس بات کی بنیاد رکھی جائے کہ دونوں طرف کی دوسرے سے دوسری تفریح ہے اور ان کی توقع ایسی نہیں ہونی چاہئے کہ مذاکرات کے بعد پابندیوں میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اس سے بھی یہ نتیجہ نہیں نکالتا جاسکتا کہ مذاکرات کو منظم طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔

دوسری طرف اس بات پر فخر کرنا چاہئے کہ ایک نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس میں دوسرے سے پہلے موجود تمام ماحول اور دباؤ کم ہوچکے ہیں جو کہ ایک نئی آگ کو جنم دیا کرتا تھا۔
 
بےشک یہ مذاکرات ایران کی جانب سے شروع ہوئے تھے تو امریکا نے بعد میں اپنی جانب سے تجارتی معاہدوں پر مشتمل بات چیت کی ہے لیکن یہ بات بھی صاف ہے کہ مذاکرات کے دوسرے پہلو میں ایک دوسری طرف سے ایسا نہیں لگتا جیسے اس پر ہمیشہ تو توقع کرتے تھے۔

مذاکرات کا مقصد معاشی تنازعات کو کم کرنا ہے لیکن یہ بات بھی صاف ہے کہ پابندیوں میں اضافہ ہوتا ہے جب مذاکرات نہ ہوتے تو اور ایسا دیکھنے میں آتا ہے جو خوفناک ہوتا ہے۔

ان مذاکرات سے اس بات کو یقین کیا جا سکتا ہے کہ پابندیوڰ کی نرمی اور معاشی تنازعات کا خاتمہ ایک مشکل کارروائی ہوتی ہے۔ 🤔
 
Turkey کی مذاکرات نے amrica aur Iran dono ko ek platform diya hai jahan tapshahat, dabawa, meefat aur bachav ki siasat aksar doosri taraf se kam hoti hai... 🤔

Iran ne pehle se apni taraf se kuchh bat diya tha jahaan unhone shiksha dabawo ko kam karne ki salah di thi. phir America bhi apni taraf se kuchh bataya ke yeh saboot planning kiyaa hai aur use koi aisa nahi hona chahta tha jis par Iran bhi saaf rehata.

Ukraine war mein ruke wala mazakar unke beech ek alag bat-chit ka maza hua hai jahan ek taraf apni tapshahat ko kam karne ki koshish karti hai aur doosri taraf apni meefat ko safe banane ki koshish karti hai.

Mujhe lagta hai ki mazakar ki wajah se shiksha dabawo mein narmee ho gayee hai aur mushkil samasyaon ko kam kar diya gaya hai... 💪

Lekin mujhe yeh bhi thoda saf karna chahta hoon ki mazakar ke aisa hi toot sakta hai jahan doosri taraf par woh jawab nahi milta hai aur isse dabawo mein adhik hota hai aur usse taka dhadkala pay jaata hai.
 
😂🤯 یہ مذاکرات کی بات سے بھی ہمت ہوئی! اور یہ بات صاف ہے کہ اس میں ایران کی جانب سے پہلے سے دباؤ تھا، حالانکہ امریکا نے اب بھی معاشی تنازعات کو کم کرنے کی بات کہی ہے، لیکن یہ بات کھائی میس ہوئی کہ پابندیوں میں اضافہ ہونا اسے نہیں منا سکتا! 😂🤷‍♂️
 
ایسے مذاکرات کی کوئی تھوڑی بھی مدد نہیں ہوتی جب تک دوسری طرف اس بات پر ذمہ دار نہیں ہوتا کہ وہ مذакرات کی وجہ سے اپنی جانور اٹھانے کا فیصلہ کرتا ہے، اب تک ان کی ایسی بات بھی نہیں ہوئی جس سے اس بات کو یقین کرنا آئے کہ مذاکرات کا انہیں کوئی فائدہ ہوتا ہے
 
ایسا لگتا ہے کہTurkey کی جانب سے مبذول کردہ تجاویز نے amrica اور iran کے درمیان ایک اچھی بات چیت لائی ہو، جس میں پابندیوں کو کم کرنے کی بات آئی ہے، لیکن اس پر yukraine ki war kheenaiyon mein bhi aasani se koi parinaam nahi aa raha hai... 😐
 
تیری بات توچکچ لگتی ہے، یہ مذاکرات پہلے سے بھی انڈیا اور امریکا کے درمیان ہوئے تھے کیوں نہ?! پھر آج Turkey میں ان دونوں کے درمیان ایک جوڑا بن گئا ہے تو واضح ہے کہ طاقت اور دباؤ پہ لیا ہوتا ہے، آسٹریلیا میں بھی ایسی ہی باتوں پر غور کرنا چاہیے۔

مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں نرمی اور معاشی تنازعات کو کم کیا گیا تو یہ بھی تو بہت ہی ماحول بنائے!

لیکن ان مذاکرات کے بعد اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ ایک طرف یہ بات چیت ہو رہی ہے جس میں ہمیں پابندیوں کی نرمی اور معاشی تنازعات کا خاتمہ دیکھنا چاہئے، لیکن دوسری طرف اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ مذاکرات کے بعد پابندیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ان کے نتیجے میں تھکا دھکیلا پیدا ہوسکتا ہے، تو ایسے میں یہ بات بھی صاف ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے معاشی تنازعات کو کم کیا گیا اور پابندیوں میں اضافہ نہیں ہوتا ہے تو ایسے میں تو ہمیں بھی تھکا دھکیلا ملا جاتا ہے!

ہمیشہ پابندیوں کی نرمی اور معاشی تنازعات کا خاتمہ ہی دیکھنا چاہئем، لیکن یہ بات بھی صاف ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں اضافہ نہیں ہوتا ہے!

🤔
 
اس مذاکرات کی وہی باتیں ہیں جو میں سے بتا چکا ہوں گا، یہ معاشی دباؤ اور پابندیوں کو کم کرنے کے لئے کیے جانے والے کھینچے ہیں جس سے میں یقین کرتا ہوں گا کہ بھوگ تھوڈا ہی ہو گا بلکہ اس کے نتیجے میں ایک دوسرے طرف کو بھی اچھی باتیں سننی پائیں گی 🤔
 
سفید یہ دیکھنا ہوگا کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں نرمی اور معاشی تنازعات کو کم کیا گیا ہے لیکن وہی بات جس پر ایران نے اپنے پہلے قدم رکھتے ہیں وہیں اٹھنا ہوگا۔ معاشی دباؤ کو کم کرنے کی تجاویز پر یہ بات کئی بار نافذ ہونے کی پہل سے زیادہ مشکل ہوسکتی ہے۔
 
ترکیہ میں یہ مذاکرات ایک مثبت تبدیلی کی طرف لے جائیں گے یا نہیں، یہ بات کہیں بھی نہیں، ایران اور امریکا دونوں جانب سے اس بات پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں نرمی اور معاشی تنازعات کو کم کیا گیا ہے، لیکن اگر دوسری طرف اس بات پر قاطع رہے تو یہ مذاکرات کے لئے ناقابل اعتماد ہو سکتے ہیں۔
 
turkey میں بالواسطہ مذاکرات نے امریکا اور ایران کے درمیان ایک ماحول پیدا کیا ہے جس میں طاقت، دباؤ، مفادات اور بقاء کی سیاست اکثر ایک دوسرے سے گھٹنا لگتی ہے।
مذاکرات کا یہ آغاز ایران نے اپنی جانب سے پہلے سے کیا تھا جس میں اس نے معاشی دباؤ اور پابندیوں کو کم کرنے کی تجاویز دی ہیں۔
ان کے بعد امریکا نے بھی اپنی جانب سے تجارتی معاہدوں پر مشتمل یہ بات پیش کی ہے کہ یہ مذاکرات منصوبہ بندی کی گئی ہیں اور ان میں وہی باتوں کو شامل کیا گیا ہے جس پر ایران بھی معافہ چاہتا تھا.
یہ مذاکرات یوکرین کی جنگ میں رکوانے کے لیے بھی ان کے درمیان ایک بات چیت کا ماحول پیدا کرنے والے ہیں جس میں ایک طرف اپنی طاقت کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہی ہے.
اس بات پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں نرمی اور معاشی تنازعات کو کم کیا گیا ہے لیکن اس بات پر بھی یقین کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا ایک دوسرا طرف سے جواب نہیں ملتا ہے جس کی وجہ سے پابندیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ان کے نتیجے میں تھکا دھکیلا پیدا ہوسکتا ہے.
ایک طرف یقین کیا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے معاشی تنازعات کو کم کیا گیا ہے لیکن دوسری طرف یہ بات بھی صاف ہے کہ مذاکرات نہ ہونے پر پابندیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے ایک دوسری طرف کو بھی تھکا دھکیلا ملا جاتا ہے.
اس طرح کی مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی اور معاشی تنازعات کا خاتمہ ایک مشکل کارروائی ہوتی ہے کیونکہ دوسری طرف اس بات پر بھی توقع کرتی ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں اضافہ نہیں ہوتا ہے اور ان کے خاتمے سے معاشی تنازعات کو کم کیا گیا ہے.
یہ مذاکرات Iran اور amrica کے درمیان ایک نئے دور کی تشبیہ دیتے ہیں جس میں وہ دوسرے معاشی اور سیاسی تنازعات سے گھٹنا چاہتے ہیں.
لیکن اس بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا کہ مذاکرات کے نتیجے میں ایک دوسری طرف کو یقینی طور پر معافہ مل جائے گا۔
اس لئے یہ بات صاف ہے کہ مذاکرات کی پیداوار سے پہلے واضح رکنیت اور معیاری معاہدوں کو بنانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کے نتیجے میں کسی ایسے نتیجے پر پہنچایا جائے جو دونوں طرف کی مفادات کے مطابق ہو۔
 
Turkey 🇹🇷 میں بالواسطہ مذاکرات ہونے کی بات آئی، یہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک ماحول پیدا کر رہے ہیں جہاں طاقت، دباؤ اور مفادات اکثر ایک دوسرے سے گھٹنا لگتے ہیں۔

اس بات پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کی وجہ سے پابندیوں میں نرمی اور معاشی تنازعات کو کم کیا گیا ہے، لیکن اس بات پر بھی یقین کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا ایک دوسرا طرف سے جواب نہیں ملتا ہے جس کی وجہ سے پابندیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور تھکا دھکیلا پیدا ہوسکتا ہے۔

مذاکرات کا آغاز ایران نے کیا تھا، اس نے معاشی دباؤ اور پابندیوں کو کم کرنے کی تجاویز دی ہیں، اور اب امریکا نے بھی اپنی جانب سے تجارتی معاہدوں پر مشتمل یہ بات پیش کی ہے کہ یہ مذاکرات منصوبہ بندی کی گئی ہیں اور ان میں وہی باتوں کو شامل کیا گیا ہے جس پر ایران بھی معافہ چاہتا تھا۔
 
واپس
Top