آج پانچ برس بیٹ گئے، لیکن یہی وہی غم ہے جو ساتھ رہتا ہے جیسے ایک کہنے والا اپنی لڑکی کی موت پر چار سال بھی گزرے، اسی طرح 30 نومبر 2020 کو ایک خاموش مگر سرد شام میں عبدالقادر حسن ابو جہاں پہنچے اور ان کے والد کے پاس اپنی قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔
ان کی تحریریں آج بھی زندہ ہیں، ان کو پاکستان کے مشہور کالم نگاروں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ وہ نہ صرف رائے نہیں لکھتے تھے بلکہ قاری کو تہذیبی شعور، سیاسی بصیرت اور لسانی حسن کا ایک مرکب پیش کرتے تھے۔ ان کی تحریر میں خلوص، طنز اور فکری گہرائی تھی جس کو آج بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
عبدالقادر حسن ایک درویش اور قلندر صحافی تھے جنھوں نے لفظوں کو صرف قلم کی زینت نہیں بنایا بلکہ انھیں ایک تہذیب کا نمایندہ، معاشرتی نقیب اور ایک قوم کا حافظہ بنا دیا۔
ان کا کوئی سیاسی جماعت کا ترجمان نہیں تھے، کسی مکتبِ فکر کے مبلغ نہیں تھے بلکہ وہ اپنے ضمیر، بصیرت اور تجربے کے سفیر تھے۔ ان کی تحریروں میں ایک ایسی خودداری، اعتماد اور صداقت تھی جس کو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھتا تھا۔
کالم نگاری صرف خبر کے تہہ میں چھپے تجزیات نہیں ہوتے بلکہ انھوں نے نثر کو ایک نئے اسلوب سے نوازا۔ ان کے جملوں میں فارسی اور اردو کے الفاظ ایسے ملتے تھے جیسے کسی پرانی مسجد کی محراب میں روشنی چھن چھن کر آ رہی ہوتا ہے۔
ان کی تحریر میں مزاح اور طنز کا رشتہ محض ہنسی کا سامان نہیں تھا بلکہ وہ اس سے معاشرت کے زوال پر ایک گہرا نوحہ تحریر کرتے تھے۔ انھوں نے کبھی اپنی تحریر کو چیخنے نہیں دیا مگر اس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔
ان کا قلم بہت محفوظ تھا لیکن اس کا وار بہت گہرے تھے۔ وہ حکمرانوں پر تنقید کرتے تو تہذیب کی چادر اوڑھ کر اور عوام کی بات کرتے تو درد کی زبان میں تھے۔
وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے، ان کے کالموں میں امید بھی ہوتی تھی اور خبردار کرنے والی چنگاری بھی۔
کالم لکھتے وقت وہ کبھی تیزی نہیں دکھاتے تھے، ان کی رفتار گھوڑے کی نہیں اونٹ کی تھی، متین، بامعنی، گہری اور دوررس۔ ہر کالم ایک ایسا چشمہ ہوتا جیسے صحافت کے پیاسے قاری کو سیراب کر دیتاتھا۔
ان کی زبان میں شوخی تھی مگر شائستگی کا ساتھ بھی تھا۔ انھوں نے زبان کو کبھی بازاری نہیں ہونے دیا اور نہ ہی خیالات کو سطحی ہونے دیا۔ شायद اس لیے ان کا ہر جملہ آج بھی ایک حوالہ ہے۔
جب سیاست دان اپنی چالاکیوں میں الچیت ہوتے تب عبدالقادر حسن کا قلم ایک ایسا آئینہ بن جاتا جس میں ہر چہرہ بے نقاب ہو جاتا۔ ان کی زبان سادہ تھی لیکن اس کا اثر پرتاثیر تھا۔
ان کی زندگی کے آخری برسوں میں جب صحافت کارپوریٹ مشین بن چکی تھی، جب سچ بولنا جرم سمجھا جانے لگا، تب بھی ان کا قلم جھکا نہیں۔ انھوں نے اپنی خودداری، فکری آزادی اور صحافتی سچائی کا سودا نہیں کیا اور ان کی تحریریں اس کی گواہ ہیں۔
ان کی تحریریں آج بھی زندہ ہیں، ان کو پاکستان کے مشہور کالم نگاروں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ وہ نہ صرف رائے نہیں لکھتے تھے بلکہ قاری کو تہذیبی شعور، سیاسی بصیرت اور لسانی حسن کا ایک مرکب پیش کرتے تھے۔ ان کی تحریر میں خلوص، طنز اور فکری گہرائی تھی جس کو آج بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
عبدالقادر حسن ایک درویش اور قلندر صحافی تھے جنھوں نے لفظوں کو صرف قلم کی زینت نہیں بنایا بلکہ انھیں ایک تہذیب کا نمایندہ، معاشرتی نقیب اور ایک قوم کا حافظہ بنا دیا۔
ان کا کوئی سیاسی جماعت کا ترجمان نہیں تھے، کسی مکتبِ فکر کے مبلغ نہیں تھے بلکہ وہ اپنے ضمیر، بصیرت اور تجربے کے سفیر تھے۔ ان کی تحریروں میں ایک ایسی خودداری، اعتماد اور صداقت تھی جس کو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھتا تھا۔
کالم نگاری صرف خبر کے تہہ میں چھپے تجزیات نہیں ہوتے بلکہ انھوں نے نثر کو ایک نئے اسلوب سے نوازا۔ ان کے جملوں میں فارسی اور اردو کے الفاظ ایسے ملتے تھے جیسے کسی پرانی مسجد کی محراب میں روشنی چھن چھن کر آ رہی ہوتا ہے۔
ان کی تحریر میں مزاح اور طنز کا رشتہ محض ہنسی کا سامان نہیں تھا بلکہ وہ اس سے معاشرت کے زوال پر ایک گہرا نوحہ تحریر کرتے تھے۔ انھوں نے کبھی اپنی تحریر کو چیخنے نہیں دیا مگر اس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔
ان کا قلم بہت محفوظ تھا لیکن اس کا وار بہت گہرے تھے۔ وہ حکمرانوں پر تنقید کرتے تو تہذیب کی چادر اوڑھ کر اور عوام کی بات کرتے تو درد کی زبان میں تھے۔
وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے، ان کے کالموں میں امید بھی ہوتی تھی اور خبردار کرنے والی چنگاری بھی۔
کالم لکھتے وقت وہ کبھی تیزی نہیں دکھاتے تھے، ان کی رفتار گھوڑے کی نہیں اونٹ کی تھی، متین، بامعنی، گہری اور دوررس۔ ہر کالم ایک ایسا چشمہ ہوتا جیسے صحافت کے پیاسے قاری کو سیراب کر دیتاتھا۔
ان کی زبان میں شوخی تھی مگر شائستگی کا ساتھ بھی تھا۔ انھوں نے زبان کو کبھی بازاری نہیں ہونے دیا اور نہ ہی خیالات کو سطحی ہونے دیا۔ شायद اس لیے ان کا ہر جملہ آج بھی ایک حوالہ ہے۔
جب سیاست دان اپنی چالاکیوں میں الچیت ہوتے تب عبدالقادر حسن کا قلم ایک ایسا آئینہ بن جاتا جس میں ہر چہرہ بے نقاب ہو جاتا۔ ان کی زبان سادہ تھی لیکن اس کا اثر پرتاثیر تھا۔
ان کی زندگی کے آخری برسوں میں جب صحافت کارپوریٹ مشین بن چکی تھی، جب سچ بولنا جرم سمجھا جانے لگا، تب بھی ان کا قلم جھکا نہیں۔ انھوں نے اپنی خودداری، فکری آزادی اور صحافتی سچائی کا سودا نہیں کیا اور ان کی تحریریں اس کی گواہ ہیں۔