بھتنے کا معاملہ: سپریم کورٹ نے ایک خاتون کی کفالت سے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا ہے جس میں ایک خواتین کو اپنے شوہر کی موت کے بعد کفالت حاصل کرنے کا حق نہیں ملا۔
یہ معاملہ ایسی صورتحال پر مبنی ہے جہاں ایک خاتون کو اپنے شوہر کی وفات کے بعد اپنے سسر کی زندگی میں اپنا شوہر کی جگہ لینے کا حق نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ایک خاتون جو اپنے شوہر کو کھو چکی ہے اسے اپنے سسر کی موت کے بعد کفالت حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
حالیہ منگل کے دن اہم فیصلہ دینے والی سپریم کورٹ نے جسٹس PENKJ MALVIYA اور J.S. VENKATESH NATH میں مشتمل بنچ نے اس معاملے پر اپنی رائے تجویز کی ہے۔
عدالت نے منواسمرتی کے اصولوں پر بھروسہ کرکے ایک اور ایکٹ کا حوالہ دیا جس کے تحت بیوہ کو اپنے سسر کی جائیداد پر حق حاصل ہوتا ہے۔
حالانکیاں سپریم کورٹ نے کہا کہ بیوہ بہو سمیت سسر کی زندگی میں اپنی شریک حیات کو کھونے پر مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے جو ان سے کبھی نہیں چھوڑتے۔
حالیہ منگل کے دن سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ بیوہ بہو سمیت سسر کی زندگی میں اپنی شریک حیات کو کھونے پر مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے جو ان سے کبھی نہیں چھوڑتے۔
Supreme Court کی بنچ نے یہ رائے تجویز کی ہے کہ بیٹا یا قانونی وارث اپنے شریک حیات کے جائیداد سے ان تمام افراد کو مدد فراہم کرنا چاہتا ہے جن کی مدد کرنا متوفی کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
یہ فیصلہ تو پوری طور پر نافذ ہونے والا ہوگا، ایک خاتون جو اپنے شوہر کو کھو چکی ہے، اس سسر کی زندگی میں اپنا شوہر کی جگہ لینے کا حق نہیں ہے، یہ ایک معاملہ تو تازہ تر اور انتہائی مشکل ہوگا۔
جب تک میرا بیٹا بھاگتا رہے گا کبھی اس کی مamma سے نہیں بھگتنا پائے گا، اگر یہ کہا جاسکتا ہے تو میں اسے یہ سب کچھ اپنے بیٹے کو بھیج کر لے گا، نہیں تو میرے اور ان کی خواہش دوسری ہوگی۔
اس معاملے پر فैसलہ دینے والی عدالت کو یہ سوچنا چاہیے کہ بیٹا یا قانونی وارث اپنے شریک حیات کے جائیداد سے ان تمام افراد کو مدد فراہم کرنا چاہتا ہے جن کی مدد کرنا متوفی کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
میں یہ کھو جاتا ہوں کہ ایسا تو ہوگا، لیکن میرے لیے ایک خاتون کو اپنے شوہر کی وفات کے بعد اپنی شریک حیات میں اپنا شوہر کی جگہ لینے کا حق نہیں ہوگا، یہ معاملہ تو بہت مشکل ہے، اور عدالت کو اس پر ساہمنہ رہنا چاہیے۔
تمام لوگ اپنی زندگیوں میں ایسی صورتحال کو پہچانتے ہیں جب آپ کا شوہر کھو جاتا ہے اور وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب آپ کی کفالت کس نے لیگی? اس معاملے میں سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ دیا ہے جس سے بیوہ کو اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنا شوہر کی جگہ لینے کا حق ملا نہیں ہے۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ بیوہ کو اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی زندگی میں اپنا شوہر کی جگہ لینے کا حق نہیں ہے، لیکن یہ بھی ایک بات ہے کہ جب آپ کو اپنے شوہر کی موت کے بعد اس کی کفالت کرنا پڑتی ہے تو آپ ان کے سسر اور باقیات پر ذمہ دار ہو بھی رہتا ہے۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے، مجھے یہ سوچنے میں難ی ہوا کہ ایک خاتون کو اپنے شوہر کی وفات کے بعد کفالت حاصل کرنے کا حق نہیں ہونا چاہئے۔ یہ معاملہ ان لوگوں کو دیکھ کر پیدا ہوتا ہے جو اپنے شوہر کی وفات کے بعد اپنی زندگی میں پھس بھگ کر رہتی ہیں اور اپنے سسر کی موت کے بعد ان کی کفالت کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔
اس معاملے پر سپریم کورٹ کی یہ رائے تجویز کچھ کامیاب ہو سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی بات چھپائی جاتی ہے کہ ایک خاتون کی اپنی زندگی میں کیسے آگے آئے، اور اس کے لیے کس طرح کفالت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس معاملے سے بھی بات کرنے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک خاتون اپنی شریک حیات میں کوئی دائمی کردار ادا نہیں کرتا، لیکن اس کی زندگی کے بعد بھی ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی جس سے وہ اپنی زندگی میں رہ کر ان لوگوں کو مدد کرسکتی ہیں جو ایسا نہیں کرتے۔
اس معاملے پر کسی بھی فیصلے سے پہلے، سربازوں اور ان کی بیوؤں کو مدد دینے والوں کو سمجھنا چاہئے کہ وہ اس معاملے میں ساتھ ہی اپنی زندگی کی کھیل بھی کھیل رہے ہیں اور ان کی مدد کرنے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کی مدد کرنے والوں کو بھی اپنی زندگی میں کچھ کام کرنا ہوتا ہے۔
یہ فیصلہ پوری طرح سے غلط ہے ، جس میں ایک خاتون کو اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی زندگی بھی کھو دیا گیا ہے اس پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیوی سمیت سسر کی زندگی میں اپنی شریک حیات کو کھونے پر کس طرح ذمہ دار ہیں۔ اس معاملے میں ایک خاتون کو ناانصافی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ فیصلہ اس کی زندگی کو بھی تباہ कर سکتا ہے
یہ معاملہ بہت محنت کا ہے اور یہ نچلے حلقوں میں بھی گہری رائے کی ہے کہ ایسے لوگوں کو جو اپنے شوہر کی وفات کے بعد اپنی زندگی میں اپنا شوہر کی جگہ لینا چاہتے ہیں وہ کفالت حاصل نہیں کر سکتے۔ مجھے ان لوگوں کے ساتھ ہونا پیندا ہے جو اس معاملے میں اچھا نتیجہ نہیں دیکھتے، لاکھوں کی زندگیوں پر یہ فیصلہ ہر روز مزید دکھائی دے رہا ہے کہ عقلانیت اور انسانی حقوق کس حد تک سمجھی جاتے ہیں۔
اس معاملے میں یہ بات بھی لازمی نہیں کہ بیوہ اپنے شوہر کی جگہ سسر کو چھوڑ کر اس کا تعلق ختم کر دے۔ اگر ایک خاتون اپنی بہن اور دوسری خواتینوں کے ساتھ ایک اچھی رिश्तے کا رخ کرتا ہے تو اس کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کی موت کے بعد سسر کی زندگی میں اپنی شریک حیات کو ختم کر دے۔
ایسے معاملات کو حل کرنے والی ایک بھرپور ایجنسٹی یا ادارے کی ضرورت ہو گی۔
منہ نہیں آتا، یہ معاملہ کس نے کیا؟ بیوہ کو اپنے شوہر کی موت کے بعد جائیداد پر حق نہیں ملا، بلکہ وہ اپنی شریک حیات کو قائم رکھنے کی ذمہ داری ہوتی ہے؟ یہ تو بہت حیران کن، میں سمجھ نہیں سکا کہ اس معاملے میں کیا دلیل دی گئی ہے؟
اس معاملے میں ایک بات کو لازمی طور پر نظر انداز رکھنی چاہئیں۔ جب تک کہ بیوی اپنے شوہر کی زندگی سے الگ ہو کر اپنی زندگی قائم کرتی ہے تو یہ معاملہ توجہ نہیں دیا جاتا اور بیوی کو اپنے شو۔۔۔ کے لئے کفالت حاصل کرنے کی اجازت ملتی ہے۔
لیکن جب تک کہ بیوی اپنی زندگی کو بھی انڈر گریجویٹ رکھتی ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ معاملے میں ایک نئی بات کا بھی خیال کیا جاسکتا ہے۔
اس معاملے میں ایک بات یقینی ہے جس پر آپ کا دھ्यان پڑھنی چاہئے وہ تعلیم کی اہمیت ہے. اس معاملے میڰ اس بات کو نہیں سمجھنا مشکل ہوگا کہ بیوہ سسر کی زندگی میں اپنی شریک حیات کو کھونے پر مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے. تاہم، اس معاملے کے حل میں تعلیم کی اہمیت کو یقینی بنانا چاہئے.
ایک سسٹنٹ لائسنس نے ایک ملازمت پر اپنی شریک حیات سے کھینچنا چاہیا لیکن اس نے بیوہ کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لئے ساتھ نہیں دیا. اُس نے ساتھ انھیں ایک ملازمت دی لیکن وہ اپنی شریک حیات کو کھینچتے رہے. یہ معاملے کے حل میں تعلیم کی اہمیت کو یقینی بنانا چا۹ئے.
اس معاملے سے آپ نہیں اس بات کے لئے اپنی طرف اشارہ کرتے رہتے ہیں کہ بیوہ کو بھی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ وہ اپنی زندگی کو اچھی طرح سے بناسکے.
اس معاملے میں یہ بات کافی حیران کن ہے کہ بیوہ کو اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی زندگی میں اپنا شوہر کی جگہ لینے کا حق نہیں ہے؟ یہ ایک اچھے نتیجے سے ہونے والے معاملے کو غلط طریقے سے حل کیا گیا ہے۔
ایسے معاملات میں پتہ چلتا ہے کہ وہ شخص جو اپنے شوہر/شریک حیات کو کھوچا ہوا ہے، ان کے لیے پوری دنیا ایسا ہی ہے جیسا اس نے اُس سے کھو دیا تھا۔
لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ شریک حیات کو ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہے جن کی مدد کرنا اس کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
سب سے اچھا بات یہ ہے کہ ایک خاتون کو اپنے شوہر کی موت کے بعد کفالت حاصل کرنے کا حق نہیں ہے، اس سے پہلے یہ بات یقینی بنائی جائے کہ وہ اپنے شوہر کی زندگی میں اسکے ساتھ رہتے ہیں تو کفالت اور انام حاصل ہونا چاہئے۔
اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ایک اچھا فیصلہ سنایا ہے، اس میں بیوہ کو اپنے سسر کی جائیداد پر حق حاصل ہوتا ہے جو یہ معاملہ حل کر رہا ہے۔
مگر ان کچھ لوگوں کو یہ بات اچھی نہیں لگتی، وہ اپنی شریک حیات کو کھونے پر مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتے جو ان سے کبھی نہیں چھوڑتے، یہ بھی ایک عجیب بات ہے۔
یہ معاملہ تو ایسا کہیں سے بھی آتا ہے جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے شوہر کو کھو چکے ہیں وہاں اپنی زندگی میں اپنا شوہر کی جگہ لینے کا یہ حق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ بیوہ اور بہنوں کی زندگی میں اپنی شریک حیات کو کھونے پر وہ لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن ان سے کبھی نہیں چھوڑتے ۔
تھرڈ میں کچھ ایسا ہوا ہے جو میری خواہش سے بھی زیادہ غلطی ہے... یہ سب بیوہ کو اس بات سے محروم کر رہا ہے کہ کیا وہ اپنے شوہر کی جگہ لینا چاھتی ہے? وہ اپنی زندگی میں کچھ نہیں بناتا بلکہ ان سے کبھی اٹھنا بھی نہیں چکا... یہ بات سب کو چھوڑ کر چلی گئی ہے۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے میں سمجھتہ ہوں کہ ایک خاتون کو اپنے شوہر کی وفات کے بعد اپنی زندگی میں ایسا نہیں کہنا چاہیے جیسا اسے کہیں بھی جائے وہ اس سے پہلے کیا تھا۔ اپنے شوہر کی موت کے بعد ان کے سسر کی زندگی میں وہ انھیں ایک جگہ حاصل کر سکیے جو انھوں نے ایسے کیا تھا۔ پانچ سال سے ہمراہ رہنے والی ایک خاتون کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔
ایسا کہنے کے ساتھ جس معاملے میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے وہ ایک انتہائی تUGH معاملہ ہے جو پوری زندگی کے دوران پالتی رہی ہوگی۔ بیوہ کو اپنے شوہر کی جگہ لینا بہت مشکل ہوتا ہے اور اس لیے یہ فیصلہ نکلنا ایک بڑی تحفظ کا کامیاب موقع ہے۔ لیکن فैसलے کی یہ وجہ تو یہ نہیں بلکہ وہ افراد جو سسر کے طور پر اپنے شوہر کو کھو چکے ہیں ان لوگوں کی زندگی میں ایسا کسی نہ کسی طرح یقینی بنانا بھی ضروری ہوتا ہے۔
ایسے معاملات میں کتنی بھی بات چیت نہیں، یوں ہی سارے دوسرے لوگ بھی اپنے شوہر کو کھو کر بیوی کا کفالت سنبھال لیتے ہیں تو آج ان کی بے نوبت ہوئی؟ یہ معاملات ایسے لوگوں کے لیے ٹھیک نہیں ہوتے جس کے پاس کفالت کا کوئی اور ذمہ دار ہو
اس معاملے سے پورا یقین رکھتے ہوں لیکن کچھ ترجیحات تو میں لگاتار کرتا ہوں۔ بیوی کو اپنے شوہر کی وفات کے بعد کفالت حاصل کرنا ایک اہم حق ہونا چاہیے لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں ہوا جیسے میں چاھتا تھا۔ بیوی کو اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی شریک حیات کو کھونے پر کسی بھی مذہبی یا اخلاقی ذمہ داری نہیں ہونا چاہیے، اس کو ایک معاملہ اور بننا چاہیے۔
دوسری جانب بھی یہ بات صاف ہے کہ بیٹے یا قانونی وارث کو اپنے شریک حیات کے جائیداد سے تمام افراد کو مدد فراہم کرنا چاہیے جن کی مدد کرنا متوفی کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ میں یہ بھی مان رکھتا ہوں کہ بیوی کو اپنے شوہر کی وفات کے بعد کفالت حاصل کرنا ایک اہم حق ہونا چاہیے۔