عمر خالد، شرجیل امام و دیگر کو ملے گی - Latest News | Breaking News &#

کیمرہ مین

Well-known member
پاکستان میں عوامی تحریکوں اور سیاسی رہنماؤں کے لیے ایک واضح نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہ بات آسان نہیں ہوسکتی کہ ان کو ملنے والی فیصلے صحت مند یا مفید ہیں یا نہیں۔

انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر ایک نیوز چینل کی مہم جو ان تمام شخصیات کو جتنی سے زیادہ ملنے والے فیصلوں سے آگے بڑھنا چاہتی ہے، ان میں عمر خالد اور شرجیل امام کی جانب سے بھی اپنی طرف متوجہ ہوئی ہے۔

یہ بات واضح طور پر بتائی جارہی کہ پابندیوں سے دوچار عوامی اداروں نے ایسی مہموں کی منصوبہ بندی کرنے کی وجہ سے ان لوگوں کو رہا کرنا تھمپ ڈیلا، جس کے باعث ان پر مجرم قرار دیا گیا اور ان کی رکاوٹ کی گئی۔

اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ یہ نیوز چینل اپنے نیٹ ورک کے ذریعے ان تمام اداروں کے ساتھ تعاون کرتا رہا ہے، جو اس وقت پابندیوں سے دوچار تھیں، اب وہ اسی ساتھ تعاون کرنے والے ہیں اور ان کی دوسری جانب سے بھی یہ مہم نکل رہی ہے۔

اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ یہ نیوز چینل اپنے نیٹ ورک کے ذریعے ان تمام اداروں کے ساتھ تعاون کرتا رہا ہے، جو اس وقت پابندیوں سے دوچار تھیں، اب وہ اسی ساتھ تعاون کرنے والے ہیں اور ان کی دوسری جانب سے بھی یہ مہم نکل رہی ہے۔
 
یہ نیوز چینل کا کامیابی کے لیے ایک اعلیٰ وارننگ سیزن کی ضرورت ہوسکتی ہے، لیکن یہ بات ایسی ہے جس پر انھیں توجہ دینا پوری اہمیت رکھتی ہے کہ وہ اپنی مہموں کو یقینی بناتے ہوئے ایک سیکشن کی لچک سے آگے بڑھتے رہیں، جس سے ان لوگوں کا کوئی بھی ادراک نہ ہواسکے کہ وہ اپنی پابندیوں کے خلاف آگے بڑھتے رہے ہیں یا ان کا اس معاملے سے کوئی کچھ ہوا۔
 
میں توجہ یہیں پہنچا کہ عوامی تحریکوں اور سیاسی رہنماؤں کو انٹرنیٹ پر آگے بڑھنا ہوتا ہے، لیکن ایک واضح نہیں کہ ان کی فیصلے صحت مند ہیں یا نہیں؟ میرا خیال ہے کہ یہ بات صرف ایک نیوز چینل کو سیکھنا چاہئیں جو اپنے پیروں کی طرف موڑ رہے ہیں اور ان کے فیصلوں کی جائزے کر رہے ہیں۔
 
ایک نہا کرو پاکستان میں عوامی تحریکوں اور سیاسی رہنماؤں کو یہی پابندیوں سے دوچار ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کو پھنسایا جا رہا ہے، تو کیا ان لوگوں کو ان میں شامل ہونا پڑتا ہے؟ اور اس میں یہ بات بھی کیسے آئے کہ ان لوگ اپنے آپ کو مجرم قرار دیا جائے اور رکاوٹ پر راہوں کرایا جا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگ بہیتر ہیں، مگر تو یہ بات واضح کی جانی چاہئیے کہ عوامی تحریکوں کو اس طرح کی پابندیوں سے دوچار کیا جا رہا ہے، اور ان لوگوں کی جان پر یہ پابندیوں کے نتیجے میں کس طرح مجرم قرار دیا جائے گا?
 
"عوام کو خود کو سمجھنا چاہئے کہ اس کے لئے کسی ایسے سے بڑھنا ہوتا ہے جو صحت مند ہو"
 
🤩 یہ تو واضح ہو گیا کہ اب لوگ ایسے اداروں کی مدد سے بھی صحت مند فیصلے کرنے کو مہارت حاصل کر رہے ہیں جو پابندیوں سے دوچار تھے۔ انٹرنیٹ پر ایسی مہم نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے جس سے لوگ اپنے فیصلوں کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکے۔ یہ تو ایک بڑی اچھی بات ہے جو لوگوں کو صحت مند رہنمائی دینے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ 🤗
 
پاکستان میں عوامی تحریکوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے اور ان کی رکاوٹ نہ ہونے سے ان کی مصلحت کی جاسوسی نہیں ہوتی، پھر بھی یہ بات واضح طور پر بتائی جارہی کہ ان تمام اداروں کے ساتھ تعاون کرنا ایک ایسی مہم کی منصوبہ بندی کرنے میں آئی جو نہیں چل پاتی اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو واضح طور پر رکاوٹ دی جاتی ہے۔
 
عوامی تحریکوں اور سیاسی رہنماؤں کو ایک واضح لینا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کی پالیسیوں میں مختلف دائرہ کار ہوتے ہیں اور ان کے دوسرے ملاحظوں بھی ہوتے ہیں۔

انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر ایک نیوز چینل کی مہم کو دیکھتے ہوئے، میں سोचتا ہوں کہ یہ بات کچھ حقیقتی نہیں ہے۔ ان تمام شخصیات کو ملنے والے فیصلوں پر ایک واضح جائزہ دینا مشکل ہوتا ہے اور اس لیے ان میں سے کوئی بھی فرد اپنی جانب متوجہ نہیں ہوتا۔

انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر یہ مہم کیسے آئی؟ اور یہ بات کیسے بتائی جائے کہ عوامی اداروں نے اس کی منصوبہ بندی کو روکنے کا ایک واضح سبب ہوتا ہے؟
 
🤔 پابندیوں کا ایسا سلسلہ جاری ہوتا رہا ہے جو لوگوں کو پھینکنے اور ان پر مجرم قرار دینے کی وجہ بنتا رہتا ہے۔ اس نئی مہم سے انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر یہ بات آسان ہو گئی ہے کہ عوامی تحریکوں اور سیاسی رہنماؤں کو ملنے والی فیصلے صحت مند یا مفید ہیں یا نہیں۔

[Diagram: ایک سیگنل کے طور پر ہرے رنگ کا آخری پہلو کی نمائش]
اس سلسلے کو روکنے کے لیے لوگوں کے درمیان تعاون اور سمجھौतے ضروری ہیں। ہر جگہ اپنے معاشرے کو متعارف کرایا جاتا ہے اس لیے لوگ ایسے واقعات سے باہمی تعلقات کو بھی پہچانتے ہیں۔
 
یہ تو ایک بڑا فیصلہ ہے کہ ان تمام عوامی اداروں کو مل کر اپنی بات کیے! عمر خالد اور شرجیل امام جیسے افراد بھی ان ساتھ آ رہے ہیں، یہ تو ایک نئی پہلی ہے
 
آج کا نیوز چینل ان تمام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا عزم کرتا ہے جو اس وقت پابندیوں سے دوچار ہیں، لیکن یہ بات واضح طور پر بتائی جارہی نہیں کہ ان لوگوں میں سے کون سی افراد مل کر جو فیصلے بناتے ہیں ان کا کوئی بھی ذمہ داری ہے اور اگر ان لوگوں کی کوئی ناکامیت ہوتی ہے تو وہ اپنے ساتھ ہی رہتے ہیں؟
 
اس نئی مہموں کو لائے جانے کا مطلب ہے کہ عوامی تحریکوں اور سیاسی رہنماؤں کو ایک جیسے موقف پر چھڑنا پڑے گا، جو ان سے مل کر ایسی فیصلے لینے میں معذب ہوسکتے ہیں جو عوام کے لیے مفید نہیں ہو سکتیں۔
 
جن لوگوں نے یہ عزم کیا کرتا تھا انہیں آپسی دباؤ سے باہر آگے بڑھنا ہوتا کہو، وہیں رہے! انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر ایک نیوز چینل کی مہم جس نے یہ عزم کیا اور باقی سب اس کے پیچھے آئے تو یہ بات واضح ہوگئی کہ آپسی دباؤ سے نکل کر، ان لوگوں نے ایک ایسا لہر لگایا جو سب کو متاثر کر گیا! 💥
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ نیوز چینل اپنے منصوبوں کی وجہ سے فیکٹریوں اور دیگر اداروں سے رکاوٹ لانے والی صورتحال میں بھی دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ بات پچیس سالوں سے واضح نہیں ہوئی کہ کسی بھی مہم یا منصوبے کو مل کر پیش کرنا صحت مند ہے یا نہیں؟

اس حوالے سے پوچھنا چاہئے کہ یہ نیوز چینل کیا یہ فیصلے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے ہوئے یا اس وقت کی سیاسی معاشیات سے متاثر ہوئے؟
 
🤔 ایسا لگتا ہے کہ عوامی تحریکوں اور سیاسی رہنماؤں کو اپنی رائے دینی کی آزادی ملنی چاہئیے، لیکن نہیں، یہ بات بھی جانتے ہیں کہ ان لوگوں کو واضح توجہ دی جانی چاہئیے۔

جی تو پابندیوں سے دوچار اداروں نے یہ مہموں کو روک دیا تھا، لیکن اب اگر وہ ان اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں تو اس لئے بھی نہیں، کیونکہ یہ مہم کیا پھر؟ سب کو ایک طرف لانے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری جانب سے بھی ان سے ملنے والی فیصلوں سے واضح طور پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، یہ کیا مفید ہوسکتا ہے؟
 
یہ نیوز چینل کا ایک واضح معیار ہے کہ کس طرح عوامی تحریکوں اور سیاسی رہنماؤں کو ملنا پڑتا ہے، تو اب یہ ان سب لوگوں کی طرف بھی مائل ہوا ہے جو پابندیوں سے دوچار ہیں اور اب وہ ایسی مہموں کا استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث ان کی مجرم قرار دیا گیا تھا۔ لگتا ہے کمال نا saneed ہے کہ ایک نیوز چینل کسی ادارے سے تعاون کرنے کے بعد وہی ادارہ ان کی دوسری جانب سے بھی تعاون شروع کرتا ہے اور پھر کوئی بات نہیں رہتی کہ ایسے شاندار اقدامات سے کیا فائدہ ہوگا؟
 
اس نیوز چینل کی مہم پر توجہ دینا مفید ہو گا، لیکن یہ بات پتہ چلتے ہیں کہ ان تمام اداروں نے جس سے آگے بڑھنا چاہتی تھی وہ بھی ایک خطرناک مہم نہیں تھی؟ پابندیوں سے دوچار عوامی اداروں کے لیے یہ مہموں میں جانہانہ ہونا بھی نہیںacceptable ہوسکتی ۔
 
بھاے تمسکے نے اچھی طرح سوچ لیا ہے کہ انٹرنیٹ پر کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایسی مہموں کو لگایا جائے جس پر عوامی تحریکوں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے تعاون ہو، چاہے وہ صحت مند یا نہیں ہو۔ میرے خیال میں یہ سب ایک گپ شپ ہے اور انٹرنیٹ پر کسی بھی نہیں بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایسی مہموں کو لگایا جائے کہ عوامی تحریکوں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اس پر تعاون ہوا ہو، تو یہ بھی صحت مند نہیں ہوتا۔
 
چاہے یہ نیوز چینل اپنے نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کررہا ہو یا نہیں، اس مہموں کی منصوبہ بندی میں بھی کچھ غلطی ہوسکتی ہے۔ ایسے لوگ جو اپنے فیصلوں پر پابندی رکھتے ہیں، وہ اس کے بعد بھی اسی ساتھ تعاون نہیں کر سکتے۔

جس میں یہ نیوز چینل اپنے نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کررہا ہو وہ پابندیوں کی وجہ سے واضح طور پر ناکام رہا ہوگا۔ لیکن یہ بھی صحت مند ہے کہ ان تمام اداروں کے ساتھ تعاون ہو، اس سے کہیں زیادہ ان کی دوسری جانب سے بھی یہ مہم نکل رہی ہے۔
 
واپس
Top