عسکری ٹاور حملہ کیس: خدیجہ شاہ سمیت چار ملزمان اشتہاری قرار | Express News

چاٹ محب

Well-known member
لاہور کی عدالت نے عسکری ٹاور حملے کیس میں س Salisbury شاہ کی بیٹی خدیجہ شاہ سمیت چار ملزمان کو اشتہاری قرار دیا ہے۔ ان ملzmanوں میں سے حمزہ سہیل، عثمان اسلم اور احمد مرسلین کے ایک دائمی وارنٹ گرفتاری جاری ہے، جبکہ زین الحسن کا ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ہے۔

حضور عسکری ٹاور حملے کی کارروائی میں ان ملzmanوں کو پیش کرنے سے رکاوٹ پڑی تھی کہ اس وقت خدیجہ شاہ کو ایک مقدمہ میں سزا کے بعد روپوش ہونے کے بعد اس نے دوسرے مقدموں سے بھی دور رہنے کی کوشش کی ہے، جس کی وجہ سے ان کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔
 
جب تک یہ لوگ ایک مقدمہ میں سزا پانے والے ہوتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کو ایسے سے بناتے ہیں جس سے انھیں اشتہار کا موقع ملا۔ اور اب یہ سب یوں ہوا کہ لوگ اپنے نامور مقدموں میں سزا پانے والے ہونے کی تاکید کرتے ہیں، یہ تو کیا انھیں اشتہاری قرار دینا چاہیے؟
 
یہ بھی کچھ ہوا چکا ہے! لاکھوں لوگ تھے جو شاہ کی بیٹی کو سزا ملنے سے پہلے ان کے ساتھ رہتے تھے اور اب وہاں تمام چار ہیں! میرے خیال میں یہ حقدار نہیں کہ ان سب کو اشت۰اکی قرار دیا جائے گا۔ خدیجہ شاہ کی وھلدے کیوں نہیں ہوئی؟ مگر وہ ہیں جو کچھ کرتے ہیں، میرا خیال یہ تھا کہ ان کو اشتہارے قرار کرنا بھی ایک قسم کی ناکامیا ہو گی! 😐
 
لہذا یہ بات تواضع ہے کہ کچھ لوگ اس حوالے سے غلطے کی جاتے ہیں کہ خدیجہ شاہ کو ایسا کیا گیا تھا، نا کہ اس نے کیا کہ ان سب کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خدیجہ شاہ نے کسی مقدمے میں سزا کھاتے ہوئے روپوش ہونے کی کوشش کی، لیکن یہ بات بھی تازہ ہے کہ اس نے اپنے والد س Salisbury شاہ کو ہلاک کرنے کے بعد ایسا ہی کیا ہوگا۔ اور یہ وارنٹ گرفتاریاں تو خفیہ ہوتے ہیں، مگر ان کے بھی ان شعبے سے تعلقات ہوتے ہیں جو آپ نہیں سمجھتے :)
 
اس کیس میں سب کچھ پتہ چلتا رہا ہو گا کہ خدیجہ شاہ کی بیٹی کو ایسا اشتہار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مظالم کو سمجھائیں۔ اس کیس میں س Salisbury شاہ کی بیٹی کو اس وقت اشتہاری قرار دیا گیا تھا جب انہیں روپوش ہونے والی سزا مل گئی تھی، یہ تو اس بات کو دکھاینا چاہتا ہے کہ وہ اپنے مظالم کی پابندی نہیں کر رہی ہیں اور انہوں نے ابھی تک ایسے مقدمے سے بھی دور رہنی کوشش کی ہے، اس کی वजह سے ان پر اشتہاری قرار دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے مظالم کو سمجھائیں اور پھر یہ کیس ختم ہو جائے
 
اس نئی खबर پر میری لگت ہے کہ اس وقت جب آپ ایک مقدمہ میں پناہ دینے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو انہیں اشتہاری قرار دیا جاتا ہے اس سے بچنے کے لئے آپ کو پناہ کا اور ایک گھنٹہ کا وقت چھوڑنا پڑتا ہے، یہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ اپنی زندگی کو اتنا ہی تیز کر دیں کہ اس میں ساتھ مٹی بھی لگی ہو۔
 
اس حقیقت کا ایک ایسا واقعہ تو ہوتا ہے جس پر توجہ دھیے بिनا رہنا بے فائدہ ہو گا... میرے خیال میں یہ سیزن ایک حقیقی چیلنج ہے، کیونکہ جب تک آپ کسی نہ کسی طرح کے ماحول کو دیکھتے رہیں گے تو آپ کا منظر پھر انٹریٹنگ بنتا ہے... لیکن یہ بات ضرور دوسروں سے پوچھنی چاہئے کہ وہ کیسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا... 🤔
 
اس کارروائی میں کچھ باتوں کے باوجود بھی یہ حقیقت کہ ان لوگوں نے اشتہاری قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ اس وقت تک کسی مقدمے سے جڑے رہتے ہیں جب تک ان کے معاملات کی کوئی نئی اور مؤثر فیصلہ نہ ہو جائے. یہ صرف ایک لانچ پینٹ ہو سکتا ہے.
 
اس کارروائی میں شامل ہونے والی ان لوگوں کے خلاف جگہ نہیں بھنک رہی ہے، لیکن یہ بات کوئی غبہ نہیں کہ انہوں نے دوسرے لوگوں کی زندگی کو چیلنج کیا تھا۔ میٹریک میں بھی یہی بات ہوتی ہے جب کسی نے کلاس روم پر کچلنے کی کوشش کی تو اسے اشتہاری قرار دیا گیا تھا، لیکن ایسا ہو کر ان کو سزا ملتی تھی کیونکہ وہ جس کی نہیں پوری کر سکی رہے تھے وہی کامیابی حاصل کر سکتے تھے
 
تم کیا کر رہے ہو ان چار ملزمان میں سے حمزہ سہیل کے بارے میں کیا کہہ رہے ہو؟ ان کو اشتہاری قرار دیا گیا تو کیا اچھی بات ہے؟ میں نے اپنی سینیورز کو اکتفا کرکے یہ کیس دیکھا ہوں تو اس پر زیادہ تفصیلات کی جگہ نہیں ہے، مگر میں یہی بتاؤن گا کہ جس شخص کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے وہ اس کیوں؟ اسے کیاcrime کیا تھا؟
 
عجیب سی بات ہے! اس وقت خدیجہ شاہ کو ایک مقدمہ سے بھی دور رہنے کی کوشش کر رہی ہے تو ان کے چار ملزمان اشتہاری قرار دیا گیا ہو؟ یہ بات بہت غلط ہے، ابھی تک کوئی یہ نہیں سمجھ سکا کہ ان لوگوں کی ایسی تھکاوٹ تو کس لئے دیکھ رہا ہو؟ اور فوری وارنٹ کی گئی سے بھی کیا ہوا? یہ پوری صورتحال ایک واضع نتیجہ ہے کہ پاکستان کی عدالتوں میں جو غلطیوں اور عدم تلافیات ہوتا رہتا ہے وہ اچھی طرح ظاہر ہوئی ہے۔
 
اس حقیقت پر توجہ دینا چاہیے کہ خدیجہ شاہ کی بیٹی نے اپنے والد کے حملے میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے جو ابھی تک ان کے ساتھ ساتھ ہے۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے کہ جیسے جیسے thời انتہائی ترقی کی taraf توجہ دی جاتی ہے، لوگ اپنی ترقی اور ثقافت پر دباؤ ملا کر اسے اپنے حوالے کر لیتے ہیں اور کسی کی وہی صورت حال کا حقدار نہیں سمجھتے، یہ پچیس سالوں سے جاری ماحولیاتی تبدیلی اور ان لوگوں کو دیکھ کر تو گھبرا لیتے ہیں لیکن وہی اس حقیقت کو نہیں سمجھ رہے جو کہ ہم سب کی زندگی میں ایک اور حقیقت بھی ہے جو جسمانی تبدیلی سے تالاب دھارے، اور یہ وہ حقیقت ہے کہ اس وقت جب لوگ اپنی ترقی کی طرف توجہ دیں تو ان کا معاشیات اور سوشل میڈیا پر دباؤ بھی ان پر پڑتا ہے، مگر کچھ لوگوں کو یہ سب کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے جو جسمانی تبدیلی اور معاشی بدلتگی سے پہلے کا توازن برقرار رکھتا ہے، مگر یہ سب کچھ کوئی اچھا نہیں چاہتا ہے کیونکہ اس میں ایک اور گہرا حقیقت ہے جو جسمانی تبدیلی سے زیادہ گہری ہے، مگر یہ حقیقت وہی ہے کہ لوگ اپنی ترقی پر دباؤ لانے کا ایک نیا طریقہ تلاش کر رہے ہیں جو نہ صرف انھیں ماحولیاتی تبدیلی سے بچائے گا بلکہ ان کو ایسے لوگوں کی توجہ کی ضرورت ہے جو اس حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ جب لوگ اپنی ترقی پر دباؤ لاتے ہیں تو ان کو ایک دوسرے سے دور رہنے کی ضرورت پڑتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدیجہ شاہ کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے، مگر یہ حقیقت اس ہی کے ساتھ ایک دوسرے ہے جو کہ لوگ اپنی ترقی پر دباؤ لانے سے پہلے اسے سمجھنا چاہیں گے، اور یہی وجہ ہے کہ اگر اس حقیقت کو سمجھ نہیں لیا جائے تو وہی حقیقت پوری تھوڑی دیر میں اپنی طرف توجہ دی گئے، اور یہی وجہ ہے کہ اگر اس سے منعقدہ معاملات کو سمجھنا چاہئیں تو اس کی جڑیں بھی پتہ چلنے دیں گئیں، مگر یہ سب کچھ ایک دوسرے سے ہی ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی ترقی پر دباؤ لانے سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنا چاہئیں جو کہ ماحولیاتی تبدیلی اور معاشی بدلتگی کی طرف ہے، اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی ترقی پر دباؤ لانے سے پہلے ایسا نہیں کر رہے جو کہ اس حقیقت کو سمجھنا اور اس کی طرف توجہ دینا چاہیے، مگر یہ سب کچھ ایک دوسرے سے ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں ایسا نہیں کہنا چاہئیں کہ وہ جو ماحولیاتی تبدیلی اور معاشی بدلتگی کی طرف توجہ دیا جائے وہی سب کچھ بھی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک دوسرے سے ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں ایسا نہیں کہنا چاہئیں کہ لوگ اپنی ترقی پر دباؤ لانے سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنا اور اس کی طرف توجہ دینا چاہئیں، مگر یہ سب کچھ ایک دوسرے سے ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی ترقی پر دباؤ لانے سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنا چاہئیں جو کہ ماحولیاتی تبدیلی اور معاشی بدلتگی کی طرف ہے، اور یہ سب کچھ ایک دوسرے سے ہوتا ہے...
🤔
 
یے دیکھو! لاہور عدالت نے سالfur ٹاور کیس میں س Salisbury شاہ کی بیٹی خدیجہ شاہ سمیت چار ملزمان کو اشتہاری قرار دیا ہے। یہ تو حقیقت ہے کہ انھوں نے اپنے مقدمے سے دور رہنے کی کوشش کی، لیکن قانون چلا کر انھیں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ یہ کیس ابھی بھی گہرائیوں میں جگہ جگہ اٹھ رہا ہے، اور حال ہی میں زین الحسن کو ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ملا ہے۔ یہ بھی سوچنا ہی جیسا ہے کہ ان ملزمان کی آزادی کی کیا گنجائش ہے؟ 🤔
 
لاہور عدالت نے اس صورتحال میں بھی ایک دلچسپ اہداف رکھا ہے، خاص طور پر خدیجہ شاہ کی بیٹی کو آگے بڑھانے کے لیے۔ یہ بات نہ تو معلوم ہے اور نہ ہی اس پر کوئی پابندی ہے کہ وہ اپنے والد کی طرح ایک مقدمہ میں سزا پانے کے بعد بھی دلچسپ حالات میں رہتی ہے، اور اب یہ بات دیکھنا ہر کوئی کا دباؤ اٹھانے لگا ہے کہ وہ کیس میں ملوٹی ہو جائیں گی۔
 
اس لئے کیا کرو دیتے ہیں؟ ایک سزا تھی تو اس میں پھنس کر اب ان کی زندگی بھی اشتہاری قرار دی رہی ہے! جیسا کہ میں بھی بتاتا ہوں، میری بیوی کا ایک چچا تھا جو کھانا پکانے والا تھا اور اس نے ایک بار جب وہ کھانے کی پٹی میں سوزش ہوئی تو پھر وہ انھیں اشتہاری قرار دی دیتے!
 
یہ ایک تیزابلا مضمون ہے! 😂 کہوں پہلی بار سنا تھا کہ عدالت عسکری ٹاور حملے میں دوسروں کو پیش کرنے سے رکاوٹ پڑتی ہے! اور اب ان ملزمان کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے؟ یہ کس وجہ پر ہوا? میں چاہتا ہوں کہ وہ خدیجہ شاہ کی سزا کیا گیا تھا اس کے بعد اس نے دوسرے مقدموں سے دور رہنے کی کوشش کی? میں کس کو پُوشیں؟ 😂
 
عسکری ٹاور حملے کیس میں س Salisbury شاہ کی بیٹی خدیجہ شاہ سمیت چار ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جانا تو بہت غم زار ہے! 🤕 میرے خیال میں ان لوگوں کو پھانستے وقت سزا نہیں دی جانی چاہئیے، بلکہ انہیں حق کے سامنے لایا جانا چاہئیے اور ان کے وارنٹز کو ایسا ہی تعین کیا جائے کہ وہ اپنی lives کے لیے پریشانیوں سے باہر نکل سکړے! 🙏 #JusticeForKhadija #WarrentsMatter #FairTrial
 
اس حوالے سے میں یہی سوچ رہا ہوں کہ اگر خدیجہ شاہ نے ایسا دھندلا کام کرنا بھی چاہا ہوت، تو یہ چار وارنٹ گرفتاریاں اس کی لڑکیوں کے لیے اشتہاری قرار دی جاتی تھیں! ( LOL )
 
عسکری ٹاور حملے کیس میں دھمکی لگنے والوں کو پھانٹھا کرنے کی اقدار لاہور عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہے, جس سے حالات بدل گئے ہیں. اب یہ کہتے ہیں جو ایک مقدمہ میں سزا پانے کے بعد روپوش ہونے والا بھی نہیں رہنا چاہتا تو اشتہاری قرار دیا جاتا ہے, یہ ایک غیرعادی صورتحال ہے.
 
واپس
Top