عشرت فاطمہ نے شہزاد رائے کے نئے گانے کی تعریف کر دی

گفتگوباز

Well-known member
عشرت فاطمہ نے شہزاد رائے کا نئا گانا عالمی یوم تعلیم پر پیش کیا ہوا، جس میں بچوں پر بڑھتی ہوئی تعلیمی دباؤ اور ان سے چھن جانے والے بچپن کو مرکزی موضوع بنایا گیا ہے۔ اس گانے نے شہزاد رائے کی جدوجہد کا محور بچوں کی تعلیم ہی کی حامل کی ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں کے چلے اٹھتے ہوئے بچوں کو اپنی معصومیت اور بچپن چھین لیا گیا ہے۔

عشرت فاطمہ نے اس گانے کی تعریف میں لکھا، ’اس کے باوجود شہزاد رائے ایک ایسے سماجی کارکن ہیں جن کی جدوجہد کا محور بچوں کی تعلیم ہے۔‘

انہوں نے اپنی پوسٹ میں ذاتی تجربات بیان کرکے لکھا، ’جب میرے بیٹے کو دو سال کی عمر میں اسکول میں داخلہ کروایا گیا تھا تو اس کے ساتھ ڈائیپر بھی دے دی گئی تھیں۔ انہیں ڈیپرونٹ نہیں سمجھنے والوں کے سامنے اٹھنا پڑا، جس کی وجہ سے ان کا بچپن چھین لیا گیا تھا۔‘

عشرت فاطمہ نے تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے لکھا، ’یہ اسکول سسٹم جھاڑتا ہے کہ بچوں کو رنگوں، جسم کے حصوں اور الفاظ کی پہچان سکھائی جائے تاکہ ان کا تعلیمی معیار بڑھ سکتا ہے۔

کسی بھی ادارے نے اس بات پر غور نہیں کیا ہوگا کہ بچوں کو کس طرح پریشان کیا جا رہا ہے اور انہیں کیسے تعلیم دی جائے۔‘

انہوں نے مزید لکھا، ’بچوں پر بھاری بستوں کا دباؤ، والدین کا بچوں کے ساتھ مسلسل تعلیمی کاموں میں جُتنا، اور پریزنٹیشنز اور پروجیکٹس نے ان کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔‘

عشرت فاطمہ نے اپیل کیا ہے کہ بچوں کا یہ حسین وقت ان کا بنیادی حق ہے، انہیں جینے دیا جائے اور انہیں مقابلے کی دوڑ میں نہ جھونکنے کے بجائے ڈگریوں کے حصول کے لیے نہیں بلکہ سمجھ اور فہم کے لیے تعلیم دی جائے۔
 
عشرت فاطمہ کا یہ گانا بہت اچھا ہوگا، اس میں شہزاد رائے کی جدوجہد کو بہت اچھی طرح ظاہر ہوتا ہے۔

جب میرے بیٹے کو دو سال کی عمر میں اسکول میں داخلہ کروایا گیا تو اس سے پہلے وہ بہت ہی کمزور تھے، اسی وجہ سے انہیں ڈپرونٹ کی ضرورت تھی لیکن ڈپرونٹ نہ سمجھنے والوں کے سامنے وہ بچھلے ہوئے۔

اس گانے سے ہمیں اسکول کے نظام پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ یہ اسکول سسٹم بچوں کو رنگوں اور جسم کے حصوں کے ذریعے تعلیمی معیار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن یہ اس بات پر غور نہیں کرتا کہ ان کو پریشان کیا جا رہا ہے اور انہیں کیسے تعلیم دی جائے۔
 
🤔 یہ بات سچ ہوگی کہ شہزاد رائے کی جدوجہد بچوں کی تعلیم میں ضروری ہے، لیکن اس طرح کا دباؤ بھی بچپن کو چھین لیتا ہے؟ یہ سیکولریسیشن کے نام پر بھی ایک اور معصومیت کی قہر تاری ہو رہی ہے۔ کیا ہم اس وقت ایک نئی روایت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں بچے اپنی زندگی کو چھننے کی اجازت دی گئی ہو؟
 
عشرت فاطمہ کو اس گانے کی تعریف کرنے سے پہلے اسکول سسٹم پر انھیں کیا غور ہوگا؟ یہ تین دہائیوں سے جاری رہ رہی ناقصیata کی مہلت کی وجہ سے بچپن چھن لیا گیا ہے اور اب ان کی تعلیم کس طرح ہوگئی ہے؟
 
بچوں پر دباؤ ہونا ایسا کہ ان کی زندگی کو مشکل بنانے والی بات نہیں ہے! انہیں اپنی زندگی بھر میں رہنے کی azadi di jaye to bhi kya faayda hai?
 
شہزاد رائے کی جدوجہد سے ہمت ہوتی ہے، وہ بچوں کی زندگی کو یہاں تک کھینچنا نہیں چاہتے! ان میں دباؤ اور دباؤ سے نکلنے کے بجائے، ان کے ذہن میں تعلیم کی طرف جانا ہونا چاہیے۔

🌟
 
بچوں کی زندگی ایسی ہੀ سا بھرتی ہے جو سیکھنے کی جگہ پڑھنے کی جگہ بھی نہیں چھوڑتی، اور ان کو اپنی زندگی کا ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے جو ان کو پریشان کر دیتا ہے، یہ سب اسکول سسٹم کی ذمہ داری ہے۔
یہ سوچنا مشکل ہے کہ کیا ہمارے بچوں کو یہ فہم سمجھنی ہی اہمیت ہے، انہیں پریesenٹیشنز کی دوڑ میں نہ جھونکنے کے لیے، بلکہ اس کی بجائے اسے سمجھ اور تعاون کا معاشرہ بنانے کے لیے سیکھنا چاہیئے۔
 
اس وقت بچوں کی زندگی بھر گنجان ڈپریشن اور پرेशانی ہے، ان کی زندگی میں ڈیپرونٹ کا معاملہ ہوتا ہے۔ میرے بیٹے کو دو سال کی عمر میں اسکول میں داخلہ کرنا پڑا تو وہ ڈیپرونٹ بھی دئے گئے تھے اور ان کے ساتھ لگایا گیا کھانے کا معاملہ بھی تھا۔ یہ پورا معاملہ بچوں کو بہت پرेशانی لگتا ہے، جس کی وجہ سے ان کا بچپن چھین لیا گیا ہے اور اب وہ ان کے تعلیمی معیار کے بارے میں گہرے رنجیدہ ہیں۔
 
عشرت فاطمہ کی لکھی ہوئی پوسٹ کو دیکھتے ہوئے میں سمجھ سکتا ہوں کہ وہ بچوں پر تعلیمی دباؤ کے بارے میں اپنی بات کرتے ہیں اور اس گانے میں ان کی جدوجہد کا محور ہے۔ لیکن وہ اس بات پر یقین نہیں کرتے کہ شہزاد رائے کی جدوجہد صرف بچوں کی تعلیم ہی میں محدود ہوتی ہے؟

عشرت فاطمہ کا کہنا ہے کہ اسکول سسٹم بچوں کو رنگوں، جسم کے حصوں اور الفاظ کی پہچان سکھاتی ہے لیکن یہ بات صاف نہیں کہ اس سے بچوں کا تعلیمی معیار بڑھتا ہے یا انہیں پریشان کیا جاتا ہے؟

عشرت فاطمہ نے اپیل کیا ہے کہ بچوں کو تعلیم دی جائے اور ان کی زندگی کو Challange والی دوڑ سے نہیں بلکہ سمجھ اور فہم کی دوڑ میں لے جائیے لیکن وہ اس کا یقین کرتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں؟
 
یہ بہت غنائی ہے کہ عشرت فاطمہ نے ایسا گانا پیش کیا جو بچوں کی زندگی کو سمجھتا ہو اور ان سے ہلچی مچانے والی دuniya کی حقیقت بتاتا ہے. میں اپنے بیٹے کو دو سال کے تھے جب اسکول جانے لگے تو انھیں ڈائیپر دی گئی تھی اور یہ سب ایک بھارپور مزاح کی بات نہیں ہے.
 
یہ رونق ہار رہا ہوگا جو شہزاد رائے کی جدوجہد سے پیدا ہوا ہے، یہ رونق وہی ہے جس کے لئے بچے صبر کر رہے ہیں۔ ان کا ایم ایس ایس سسٹم اسکول میں داخلہ کروانے کے بجائے انہیں وہیڈرن اور پیس کی دھوڑ پھینکتا ہے، یہ رونق بچوں کو اسکول سے باہر ڈال دیتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی میں کچھ اور بھی محسوس کر سکواں۔
 
عشرت فاطمہ کی بات سے میں متاثر ہوا 🤔، اس گانے نے مجھے اسکول کے دباؤ اور ڈیپرونٹ کے خلاف جدوجہد کا جذباً cảm و اداکاری سے بھرا ماحول پیش کیا ہے۔ اس گانے نے مجھے یہ سوچنا پڑا کہ شہزاد رائے کی جدوجہد کو تو جانتے ہیں لیکن بچوں کے لیے اسے کیسے پیش کرنے کی کوئی سہولت نہیں ہے؟ اس گانے کی لکھی ہوئی بات اسی بات پر زور دیتی ہے جس کے لیے مجھے بھی غور کرنا پڑا ہے۔
 
واپس
Top