عوام خوش نہیں تو ذمہ دار ہم ہیں امریکہ نہیں ایرانی صدرکااعتراف

کاکروچ

Well-known member
ایران کے اچھے شہروں میں نہیں، ملک میں مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کو بے گھری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے بعد اس پر احتجاج ہو رہا ہے۔

عوام نہیں خوش، لوگوں کو بے گھری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ اس کی وجہ سے ہے کہ وہ ہم نہیں ہیں، بلکہ امریکہ ہیں۔

ایران کا صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں معاشی بدحالی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا، عوام خوش نہیں ہیں تو اس کے ذمہ دار ہم ہیں، یہ وہ ہیں جو لوگوں کو بے گھری کا سامنا کرنے پڑتے ہیں۔

عوام کی خوشی نہیں ہو سکتی کھیل جس سے عوام کے مسائل حل ہوں گے، اس کا سلوک یہی ہے کہ لوگ بھوک سے مرتے دیکھ رہے ہیں اور یہ سب وہی ہے جو ہم نے ان کو کیا ہے۔

اعلیٰ عہدے والوں کی ناکامیوں کی وجہ سے عوام بھوکے میں مرتے دیکھ رہے ہیں اور یہ وہی ہے جو ان کا ذمہ دار ہے۔

گورنروں نے حکومت کو جتنے بھی اقدامات کیے ہیں، وہ سب کچل کر رکھ دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام ان کا اعتماد نہیں کرسکتے، مگر وہی ہے جو ان کو جیتنے کی possibility دیتا ہے۔

عوام کے مسائل کو حل کرنا لازمی ہے، لوگ بھوک سے مرتے دیکھ رہے ہیں اور یہ سب وہی ہے جو ہم نے ان کا سامنا کیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں لوگوں کا بھوک سے مرنے کا شکار ہونا ایک دیرپا مسئلہ ہے جو اس وقت تک پھیل گیا ہے جب تک اہم عہدوں والے لوگ نہیں سائے گئے، اور وہی ہے کہ جو ان کے ذمہ دار ہیں۔
 
ایران میں ہونے والی معاشی بدحالی کی صورتحال پر بات کرنے کے بعد اس پر کوئی حل نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے لوگ بھوک سے مرتے دیکھ رہے ہیں، یہ کچھ بھی نہیں ہوسکتا! 😩

عوام کی خوشی نہیں ہوسکتی جس سے لوگوں کے مسائل حل ہوں گے، پہلے ایسی منصوبے بنانے کی ضرورت ہے جو عوام کو بھوک سے نجات دیں، پھر ہی اور ہی کچھ ہوسکتا ہے! 🤔

ایران کے لوگوں کا بھوک سے مرنے کا شکار ہونا ایک دیرپا مسئلہ ہے جو اس وقت تک پھیل گیا ہے جب تک اہم عہدوں والے لوگ نہیں سائے گئے، اور وہی ہے کہ جو ان کے ذمہ دار ہیں! 😢
 
اسلامی جمہوریہ ایران میں لوگوں کا بھوک سے مرنے کا شکار ہونا ایک دیرپا مسئلہ ہے جو اس وقت تک پھیل گیا ہے جب تک اہم عہدوں والے لوگ نہیں سائے گئے، لہذا اگر انہیں سایہ دینا چاہئیے تو ایسے لوگوں کو بھی اپنی جگہ ہونے دی جا سکتی ہے جو ان مسائل کو حل کر سکتے ہیں!
 
ایران میں شہر کھوڑنا پڑا ہوگا، اس کی بجائے یہ بہت ہی گرانے والا معاملہ ہے جو عوام کے مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔ لوگوں کو بھوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ سب ان کی ناکامی کا نتیجہ ہیں جو اپنے ماحول میں سائے نہیں آئے ہیں۔
 
ابھی لوگ بھوک سے مرتے دیکھ رہے ہیں تو کیسے اور پوری دنیا میں یہ مسئلہ نہیں بنتا کہ ملک کی معاشی بدحالی کی صورتحال بھی روپ ہوئی ہے؟ اور وہی ہے جو کہا گیا ہے مگر اس پر کیا کروئے، جب لوگ ڈراپ آؤٹ ہو کر کوئی کام نہیں کر سکتے تو یہ کیسے حل ہوتا ہے?

اس کی کھوج میں بھی اچھائی نہیں پاتی کیونکہ جس وقت لوگ کم کارگر ہو کر بھوکے میں مرتے دیکھ رہے ہیں، تو یہ سب وہی ہے کہ انہیں کیا ہوا ہے۔

جس وقت لوگ کام نہ کر سکتے، جس وقت لوگ بھوک سے مرتے دیکھ رہے ہیں تو اس پر کیا کروئے? یہ سب وہی ہے کہ انہیں پورا ملک بدل کر ایک نئا جीवन دیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے جو لگے تو یہ ہم اہم عہدوں والوں کی ذمہ داری ہے۔

انہیں اپنی ناکامیوں پر چھوجنا پڑا ہوتا ہے، انہیں اچھائیوں پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
 
بھوک سے مرتے دیکھنے والوں کی تعداد بڑھتی رہے گی، یہ ان کی خوشی نہیں ہے, مگر ایک بات صریف ہے کے بھوک سے مرتے دیکھنے والوں کو جانتے ہیں! 🤦
 
یہ بھی بھوک سے مرتے دیکھ رہے ہیں، نہ یہ کھیل اور نہ یہ اہل قیادت کی ناکامیوں کا ذمہ دار کس نہیں ہوتا؟ کچھ لوگ اچھے ہیں، لیکن وہ کیسے پانے دیتے ہیں؟ میری بات یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی معیشت اور اپنے لوگوں کی کثرت کو تھوڑا سا نظر انداز کرنا ضروری ہے۔
 
ایران میں بھوک سے مرنے والوں کی تعداد کم نہیں ہوگی، اس کی وجہ ایک ایسا معاشی نظام ہے جو وہی ہے جس کو عوام نے اپنی بھوک سے مرنے کا سامنا کر رہے ہیں۔

میری Opinion ہے کہ اہل عہدے لوگ جو ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ سب ناکام ہوتے ہیں، اس کا سلوک یہی ہے کہ لوگ ان کے سامنے بھوک سے مرتے دیکھ رہے ہیں۔

میری Opinion ہے کہ عوام کو اپنی بھوک سے مرنے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس کی وجہ ایسا معاشی نظام ہے جو وہی ہے جس کو عوام نے اپنی بھوک سے مرنے کا سامنا کر رہے ہیں۔

میری Opinion ہے کہ اہل عہدے لوگ جو ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ سب ناکام ہوتے ہیں، اس سلوک کی وجہ سے عوام بھوکے میں مرتے دیکھ رہے ہیں۔

: )
 
امریکہ کی یہ راجی توجہ ایران کو دی جاتی ہے تو ہمیں ملک میں بھوک سے مرنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور ان کے ذمہ دار یہی ہیں، جس لئے لوگ اپنی بھائیوں اور بیویوں کی جان سونپ رہے ہیں 😔
 
یہ بات تو محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کی خوشی کو پھیلانے کے لئے، خود کو بھوک سے مرنے والوں کی جگہ نہ رکھنا چاہیے۔ ہم اپنے گھروں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، جب تک ہم کوئی لازمی کام نہ کرتے تو ہر چیز اس وقت تک بدل جاتی ہے جتنا ہم اپنے اور دوسروں کے لیے اچھا ہو جاتے ہیں۔
 
عوام کو بھوک سے مرتے دیکھنا پھر سے نہیں دیکھنے دے رہا ہے۔ یہ کہا جاتا رہا ہے کہ اہل عہدے لوگ ان کے مسائل کو حل کر سکتے ہیں، لیکن وہ بھی نہیں چاہتے، اور اس کی وجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو جیتنے میں دلچسپ ہوں گے۔

عوام سے زیادہ اہل عہدے لوگوں کی بات بھی نہیں چاہتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ عوام کی خوشی کی پوری قیمت نہیں دے سکتے۔

جس لیون کو لوگ بھوک سے مرتے دیکھ رہے ہیں وہ وہی ہے کہ ان کا ذمہ دار ہے اور اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور اچھے معاملات پر غور نہیں کر رہے ہیڹ۔

عوام کو خوشی لانے کی ضرورت نہیں پڑتی، مگر اہل عہدے لوگ اپنے منفرد تعامل کا سلوک بھی کر رہے ہیں۔
 
🤯 Iran ka kuchh to bhi nahi hai, woh bhi economy ki tarah se. Log apne ghar ke andar hi rehte hain, bas khana aur pani milane ki koshish kar rahe hain. Yeh sab kuchh unki samajhdari ka matalab hai, kyunki yeh samajh nahi paate hain ki kaisa sahi tarah se aage badhna hai.

Mansik taqat ke bagay nahi soch sakte, yeh to sirf logon ke liye hai. Unkaafi thoda mazaak karte waqt kaafi dard hai, aur ab woh dard itna bada ho gaya hai ki log apne ghar se bhi khana nahi mil paye hain.

Aur yeh sab ek hi tarah ka mazaak hai, humara samajhiye. Logon ko bina kisi cheez ke bhi kuchh nahi milta, aur fir unhein kya karna hai? Woh sirf apne ghar ki chot par jata hain.

Yeh to sirf ek baat hai, humara samajhiye. Aur kaisa logon ko mazaak karte waqt dard se pehle pesh aayein?
 
یہ تو ایک بڑا مسئلہ ہے، مگر اس پر بات چیت نہیں ہوئی، عوام کے مسائل حل ہونے کی بجائے لوگ بھوک سے مرتے دیکھ رہے ہیں۔ گورنروں کو ان اقداماتوں کا جواب دینا چاہئے جو وہ کیے، مگر اب پوری صورتحال اس طرح لگتی ہے جیسے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ان کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ :/

اسلامی جمہوریہ ایران میں لوگوں کا بھوک سے مرنے کا شکار ہونا ایک دیرپا مسئلہ ہے، اس پر کچھ نہیں کیا گیا، عوام اور ان کی حکومت نے بات چیت نہیں کی، عوام بھوک سے مرتے دیکھ رہے ہیں اور یہ سب وہی ہے کہ لوگوں نے ان کو ان مسائل میں ڈال دیا ہے۔
 
ایران میں بھوک سے مرنے کی صورتحال ایک دیرپا مسئلہ ہے، اور یہ سب سچ ہے کہ اس کا ذمہ دار حکومت اور اس کی عہدوں والے ہیں جنھوں نے ملک کو ایسا کر دیا ہے۔ لگتا ہے لوگوں کو اب بھی ایسی منڈی میں ملا رہا ہے جس سے وہ اپنی زندگی کی کوشش کرنے سے محروم ہیں۔
 
ایران میں بھوک سے مرنے والوں کی سنی ایک گھنٹے میں 50 لاکھ ہونے کا خبر ملا ہے، یہ تو دوسرے ملکوں میں بھی ہوتا ہے لیکن یہاں بھی اس کی واضح علامات ہیں کہ شہر تھم رہے ہیں اور لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل کر جاندے ہیں تو اس میں کچھ کام نہیں ہوتا ، یہ سب ایک دیرپا مسئلہ ہے جو ملک کی معاشی اور سیاسی Situation میں پھیل گیا ہے۔
 
ایران کی معاشی حالت بہت بدحالی ہوئی ہے، اس سے لوگ مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ اپنی خواہشوں کو پورا نہیں कर पاتے۔ اچھے شہروں میں بھی لوگ گھر پر بیٹھ کر رہتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ملک کے اندر جو بھی ناخوشی ہوتی ہے وہ سب لوگوں کو پہچان لی جاتی ہے اور یہ ایسا لگتا ہے کہ ملک کے صدر، گورنروں اور دیگر عہدوں والوں نے اس معاشی بدحالی کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔

اس میں ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام کی خوشی اور کامیابی کسی بھی شعبے سے نہیں مل سکتی، جو لوگ کچھ نا کچھ کرتے ہیں ان کی خوشی نہیں مل سکتی، اگر کچھ نا کچھ پورا کیا جائے تو یہ خوشی نہیں ہوتی بلکہ اس سے مزید مہنگائی ہوجاتی ہے اور لوگ اس شعبے میں بھی خالی پانی کھاتے رہتے ہیں۔

عوام کی بے گھری کا ایسا نتیجہ ہوتا ہے جس سے وہ لوگ اس شعبے سے بھی منسلک ہوجاتے ہیں، جو پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ مہنگائی کی وجہ سے وہیں رہنے کے لئے مجبور ہوجاتے ہیں، اس سے ملک میں بھوک سے مرتے دیکھ کر لوگ دیکھتے ہیں جو ان کے ذمہ دار نہیں دیکھتے۔

جب لوگ مہنگائی کا سامنا کر رہتے ہیں تو وہ اپنی خواہشوں کو پورا کرنے کی کوشش میں ہوجاتے ہیں اور وہ لوگ جو ان کا ذمہ دار ہوتے ہیں وہ انہیں ناکام دیکھتے رہتے ہیں اور اس سے وہ لوگ مزید مہنگائی کا سامنا کرنے پڑتے ہیں۔
 
اس وقت تک ایران کا معاشی نظام تبدیل نہیں ہوگا جتنا کہ عوام کی مشکل زندگی کو حل کیا جا سکتا ہے… 🤷‍♂️ ایران کا شعبہ فنی و بینکاری اتنا مہمات پر مشتمل نہیں ہے جس کا عوام کو فائدہ ہوگا، اگرچہ انھیں ملک کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
 
واپس
Top