بانسری والا
Well-known member
لیکن تو انیسویں صدی کی زندگی میں تو غلطیاں کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ ماہرین اوورتھنکنگ (Overthinking) کہتے ہیں اور ہم اس کو زیادہ سوچنا کہتے ہیں۔
جس کی وجہ سے زیادہ سوچنا ناکافی اور بے ضرر ہوتا ہے، یہ کہ اگر ان کی گھنٹیوں پر توجہ دینی پڑتی ہے تو اس سے ٹھکاوट اور تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنی زندگی کو ایسے کیسے جینا چاہتے ہیں جہاں کچھ نہ کچھ اچھا اور بہتر ہو۔
اس وقت یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ زیادہ سوچنے سے اس کا حل بھی نہیں ملتا، تاہم یہ سوچنا ہی اس کی صورت میں مدد دیتا ہے جو آپ کو اور رکاوٹوں پر قابو پانے کا راستہ تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے، یہ سوچنا ایک ایسا طریقہ ہے جس سے آپ کو اس کے حل کو بھی بتاتا ہے اور آپ نہیں ہیں تانیہ سے گھبرا رہے، یہ سوچنا ایک ایسا طریقہ ہے جس سے آپ اپنے ذہن کو روکنے کے لیے پہلے تو آگاہی حاصل کرتی ہے اور اس کے بعد خود کو روکنا شروع کرتی ہے، یہ سوچنا ایک ایسا طریقہ ہے جس سے آپ اپنے خیالات پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور آپ کو بھی اس کی ضرورت نہیں محسوس کرنا پڑتی ہے۔
لیکن تو یہ بات کوئی نہ کوئی سمجھتا ہے کہ اگر ہم ایک ایسی زندگی جینیں چاہتے ہیں جو فوری سکون کی وجہ سے بھی ہو، تو اس لیے ہمیں اپنی سوچ پر قابو پانے کا طریقہ تلاش کرنا ہو گا اور یہ ہمیں ایک صاف ذہن اور جسمانی صحت کی طرف بڑھاتا ہے۔
پہلے تو یہ بات کوئی نہ کوئی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے اور یہ بھی سوچنی ہوگی کہ آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے اور اسے انعام دیا جائے گا، لیکن اگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہے تو آپ اپنے خیالات پر قابو پانے کے لیے ایک منٹ میں سے ایک کو بھی چھوڑ کر کچھ اور آپ کی طرف توجہ دی جائے گا۔
ایک 5 منٹ کی عادت یہ ہے کہ جب آپ کسی مسئلے پر پریشانیوں میں ڈھونڈے رہتے ہیں تو آپ کو ایک وقت دیا جائے گا جو اس کے بعد اپنی زندگی میں کچھ نئی اور بہتر چیزوں کو لانا شروع کرنا ہوگا، یہ ساتھ یہ کہ آپ اپنے خیالات پر قابو پانے کے لیے ایک منٹ کی وقت دی جائے گا اور اس کے بعد بھی آپ کو اپنی زندگی میں نئی اور بہتر چیزوں کو لانا ہوگا۔
یہ بات کوئی نہ کوئی سمجھتی ہے کہ زندگی کی گہرائیوں میں جس کچھ ہوتا ہے وہ سب اس کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن یہ بات بھی نہ پٹنی ہوگی کہ آپ کو یہ معلوم ہے کہ جس کچھ ہوتا ہے وہ سب اس کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن اگر آپ کو یہ نہیں پٹتا تو آپ اپنے خیالات پر قابو پانے کے لیے ایک منٹ کی وقت دی جائے گا۔
دنیا میں نہیں ہوتا کوئی شخص بھی جو مکمل طور پر موثر اور ناقص نہیں، اس کے لیے یہ نہایت اہم کہ آپ اپنے خیالات پر قابو پانے کے لیے ایک منٹ کی وقت دی جائے گا اور اس کے بعد بھی آپ کو نئی اور بہتر چیزوں کو لانا ہوگا۔
اس لیے ایسے کچھ کرنا چاہتے ہیں جو آپ کو مصروف رکھے گا، جیسے ورزش یا رقص اور پینٹنگ، آپ کو اس سے اپنی سوچ پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور یہ آپ کو ایسے خیالات سے دور رکھتے ہیں جیسا کہ وہ آپ کو غلطیاں کرنے اور آپ کی زندگی کو بھرپور تھکاوٹ میں ڈال دیتے ہیں۔
جس کی وجہ سے زیادہ سوچنا ناکافی اور بے ضرر ہوتا ہے، یہ کہ اگر ان کی گھنٹیوں پر توجہ دینی پڑتی ہے تو اس سے ٹھکاوट اور تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنی زندگی کو ایسے کیسے جینا چاہتے ہیں جہاں کچھ نہ کچھ اچھا اور بہتر ہو۔
اس وقت یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ زیادہ سوچنے سے اس کا حل بھی نہیں ملتا، تاہم یہ سوچنا ہی اس کی صورت میں مدد دیتا ہے جو آپ کو اور رکاوٹوں پر قابو پانے کا راستہ تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے، یہ سوچنا ایک ایسا طریقہ ہے جس سے آپ کو اس کے حل کو بھی بتاتا ہے اور آپ نہیں ہیں تانیہ سے گھبرا رہے، یہ سوچنا ایک ایسا طریقہ ہے جس سے آپ اپنے ذہن کو روکنے کے لیے پہلے تو آگاہی حاصل کرتی ہے اور اس کے بعد خود کو روکنا شروع کرتی ہے، یہ سوچنا ایک ایسا طریقہ ہے جس سے آپ اپنے خیالات پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور آپ کو بھی اس کی ضرورت نہیں محسوس کرنا پڑتی ہے۔
لیکن تو یہ بات کوئی نہ کوئی سمجھتا ہے کہ اگر ہم ایک ایسی زندگی جینیں چاہتے ہیں جو فوری سکون کی وجہ سے بھی ہو، تو اس لیے ہمیں اپنی سوچ پر قابو پانے کا طریقہ تلاش کرنا ہو گا اور یہ ہمیں ایک صاف ذہن اور جسمانی صحت کی طرف بڑھاتا ہے۔
پہلے تو یہ بات کوئی نہ کوئی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے اور یہ بھی سوچنی ہوگی کہ آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے اور اسے انعام دیا جائے گا، لیکن اگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہے تو آپ اپنے خیالات پر قابو پانے کے لیے ایک منٹ میں سے ایک کو بھی چھوڑ کر کچھ اور آپ کی طرف توجہ دی جائے گا۔
ایک 5 منٹ کی عادت یہ ہے کہ جب آپ کسی مسئلے پر پریشانیوں میں ڈھونڈے رہتے ہیں تو آپ کو ایک وقت دیا جائے گا جو اس کے بعد اپنی زندگی میں کچھ نئی اور بہتر چیزوں کو لانا شروع کرنا ہوگا، یہ ساتھ یہ کہ آپ اپنے خیالات پر قابو پانے کے لیے ایک منٹ کی وقت دی جائے گا اور اس کے بعد بھی آپ کو اپنی زندگی میں نئی اور بہتر چیزوں کو لانا ہوگا۔
یہ بات کوئی نہ کوئی سمجھتی ہے کہ زندگی کی گہرائیوں میں جس کچھ ہوتا ہے وہ سب اس کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن یہ بات بھی نہ پٹنی ہوگی کہ آپ کو یہ معلوم ہے کہ جس کچھ ہوتا ہے وہ سب اس کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن اگر آپ کو یہ نہیں پٹتا تو آپ اپنے خیالات پر قابو پانے کے لیے ایک منٹ کی وقت دی جائے گا۔
دنیا میں نہیں ہوتا کوئی شخص بھی جو مکمل طور پر موثر اور ناقص نہیں، اس کے لیے یہ نہایت اہم کہ آپ اپنے خیالات پر قابو پانے کے لیے ایک منٹ کی وقت دی جائے گا اور اس کے بعد بھی آپ کو نئی اور بہتر چیزوں کو لانا ہوگا۔
اس لیے ایسے کچھ کرنا چاہتے ہیں جو آپ کو مصروف رکھے گا، جیسے ورزش یا رقص اور پینٹنگ، آپ کو اس سے اپنی سوچ پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور یہ آپ کو ایسے خیالات سے دور رکھتے ہیں جیسا کہ وہ آپ کو غلطیاں کرنے اور آپ کی زندگی کو بھرپور تھکاوٹ میں ڈال دیتے ہیں۔